سال 2018ء: تہہ و بالا ہوتی دنیا!
بیتا سال سیاسی زلزوں کا سال تھا۔ اور وائٹ ہاؤس کے نئے مکین کی گیدڑ بھبکیوں کے باوجود، 2018ء کا سال عالمی سرمایہ داری کے لئے اور بھی کٹھن ثابت ہو گا
بیتا سال سیاسی زلزوں کا سال تھا۔ اور وائٹ ہاؤس کے نئے مکین کی گیدڑ بھبکیوں کے باوجود، 2018ء کا سال عالمی سرمایہ داری کے لئے اور بھی کٹھن ثابت ہو گا
اس واقعے پر اتنے بڑے احتجاج اور ملک گیر سطح پر پھیلے غم و غصے میں ہمیں اجتماعی شعورمیں آگے کی جانب سفر بھی نظر آتا ہے۔ جس میں بہت سے لوگوں کو زینب اور اس کے والدین اپنے جیسے نظر آئے۔ یہ انفرادیت سے اجتماعیت کی جانب سفر ہے گو کہ یہ ابھی ابتدائی مرحلے پر ہے
درحقیقت اس جعلی پروگرام کے ذریعے نجکاری کے عمل کو ایک نئے بہانے کے تحت آگے بڑھایا جائے گا اور بڑے پیمانے پر ینگ ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکس کو نوکریوں سے جبری برطرف کیا جائے گا۔ یہ ریاست نئے روزگار پیدا کرنے کی بجائے پہلے سے موجود روزگار ختم کر رہی ہے جس کے باعث بیروزگاری کی شرح ایک رپورٹ کے مطابق 49فیصد سے تجاوز کر چکی ہے
ریڈ ورکرز فرنٹ کی مرکزی بیورو کا ہنگامی اجلاس بلایا گیا جس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ اگر تھل انجینئرنگ کی انتظامیہ نے کل تک محنت کشوں کے مطالبات پورے نہ کیے تو ملک گیر احتجاجی مظاہرے کیے جائیں گے
پہلے روز صرف تھرمل ڈیپارٹمنٹ کے مزدور ہی ہڑتال پر تھے اور اس انتقامی کاروائی کے بعد دیگر ڈیپارٹمنٹ کے محنت کشوں نے بھی کام نہ کرنے کا اعلان کر دیا۔ جن محنت کشوں کو اندر داخل ہونے سے روک دیا گیا تھا وہ بھی گیٹ کے سامنے دھرنا دے کر بیٹھ گئے
|تحریر: جارج مارٹن، ترجمہ: ولید خان| قریباً سات سال قبل 2011ء میں بن علی کی حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد پچھلے چند دنوں سے تیونس کے نوجوانوں نے ایک نئی تحریک کا آغاز کر دیا ہے۔ اس مرتبہ، آئی ایم ایف کے ایما پر مسلط ہونے والے مجوزہ بجٹ […]
تھل انجینئرنگ، محنت کشوں کا ہار ماننے سے انکار، فیکٹری کے تھرمل ڈیپارٹمنٹ کے محنت کش دھرنے پر بیٹھ گئے، مطالبات مانے جانے تک ڈٹے رہنے کا عزم، آج سے فیکٹری کے دیگر ڈیپارٹمنس کے محنت کش بھی دھرنے میں شامل ہوں گے
دہائیوں سے امریکہ اور یورپی طاقتوں نے ایران پر ظالمانہ (معاشی و اقتصادی) پابندیوں کی پالیسی اپنائے رکھی جو کہ 2012ء میں شدت اختیار کرتے ہوئے مکمل تجارتی پابندیوں تک پہنچ گئی، ایسی صورتحال میں مغربی لیڈروں کی حمایت کی بیان بازیاں کسی کام نہ آئیں گی بلکہ ایران کی سراپا احتجاج عوام کو مزید اشتعال دلانے کا سبب بنیں گی
یوں جینا تو مشکل ہے آسان لا دو
مجھے میری زینب کی مسکان لا دو
سال 2017ء کے آخری ماہ میں گلگت بلتستان کونسل کی جانب سے مسلط کیے جانے والے براہ راست ٹیکسوں کیخلاف ایک تحریک نے جنم لیا جو ابھی تک جاری ہے۔ اس سے قبل بھی گلگت بلتستان کے عوام ان براہ راست ٹیکسوں کے خلاف سراپا احتجاج تھے
پاکستانی ریاست کا بحران نئی انتہاؤں کو چھو رہا ہے جبکہ سامراجی طاقتوں کی لڑائی ہر گزرتے دن کے ساتھ شدت اختیار کرتی جا رہی ہے۔ یکم جنوری کو ٹرمپ کی ٹویٹ اور دو جنوری کو اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے چین کے ساتھ یوآن(چینی کرنسی) میں تجارت کا فیصلہ ریاست کے نامیاتی بحران اور اس پر سامراجی طاقتوں کے دباؤ کی شدت کا تھوڑا بہت اندازہ دیتے ہیں
ملا ریاست کی تاریخ میں ان احتجاجوں کی مثال نہیں ملتی۔ اس سے قبل ریاست نے کبھی اتنے وسیع پھیلاؤ کی حامل تحریک نہیں دیکھی اور پہلے کبھی کسی تحریک کا اتنا ریڈیکل اور غیر متزلزل موڈ نہیں رہا۔ ہمدان جیسے انتہائی قدامت پسند شہر میں لوگوں کے نعرے تھے: ’’خامنہ ای ایک قاتل ہے، اس کی حکومت ناجائز ہے!‘‘
|رپورٹ: خالد جمالی| آل پاکستان واپڈا ہائیڈرو الیکٹرک ورکرز یونین، دادو کی جانب سے 3جنوری بروز بدھ ’یوم مطالبات‘ منایا گیا جس کی قیادت نظیر احمد پنہور، محمد وریل میرانی کر رہے تھے۔ اس سلسلے میں آپریشن ڈویژن سیپکو دادو سے پریس کلب دادو تک ریلی نکالی گئی جس میں […]
|رپورٹ: ریڈورکرزفرنٹ، کوئٹہ| بی ڈی اے کے محنت کشوں کا ملازمین کی عدم مستقلی اور تنخواہوں کی عدم ادائیگی کیخلاف گذشتہ روزمورخہ 2جنوری کو کوئٹہ پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ مظاہرین بی ڈی اے کے دفتر سے ایک منظم اور پرجوش نعروں کیساتھ ریلی کی شکل میں […]