8مارچ کی تیاریوں کے سلسلے میں انقلابی کمیونسٹ پارٹی کا آن لائن اجلاس

|رپورٹ: انقلابی کمیونسٹ پارٹی|

7نومبر بدھ کے روز انقلابی کمیونسٹ پارٹی کے نیشنل ویمن بیورو کا آن لائن ایک ملک گیر ہنگامی اجلاس منعقد ہوا جس میں حالیہ عرصے میں بلوچستان میں بالعموم اور بلوچ خواتین پر بالخصوص بڑھتے ہوئے مسلسل ریاستی جبر اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا جائزہ لیا گیا۔ مزید برآں اجلاس میں رواں برس 8 مارچ، محنت کش خواتین کے عالمی دن کی تقریبات کے حوالے سے بھی مفصل بات چیت ہوئی۔

اجلاس میں ملک بھر سے انقلابی کمیونسٹ پارٹی کے ذمہ داران نے شرکت کی۔ اس میٹنگ میں مشترکہ طور پر یہ فیصلہ کیا گیا کہ رواں برس اس تاریخی دن کو بلوچستان میں ریاستی سفاکانہ کاروائیوں میں جبری طور پر لاپتہ کی گئی خواتین کے ساتھ یکجہتی کے طور پر منایا جائے گا۔ میٹنگ میں طے پایا کہ پاکستان کے بیشتر چھوٹے بڑے شہروں، جن میں کراچی، بہاولپور، ملتان، ڈی جی خان، پشاور، لاہور، قصور، پتوکی، گوجرانوالہ، کوئٹہ، لورالائی، حیدرآباد، گلگت بلتستان، فیصل آباد راولپنڈی، راولاکوٹ اور دیگر شامل ہیں، میں انقلابی کمیونسٹ پارٹی کے کارکنان سیمینار، سٹڈی سرکلز، احتجاج اور ریلیاں منعقد کریں گے۔ ان تقریبات میں نہ صرف خواتین کے عمومی مسائل پر بحث و مباحثہ ہو گا بلکہ خاص طور پر پاکستانی ریاست کی جانب سے بلوچستان میں خواتین اور سیاسی کارکنان کی جبری گمشدگی جیسے گھناؤنے عمل کے خلاف اعلان جنگ کیا جائے گا اور بلوچستان کے عوام کی پاکستانی ریاست کے خلاف مزاحمت و جدوجہد میں یکجہتی کا پیغام پاکستان بھر کے سکولوں، کالجوں، یونیورسٹیوں اور کام کے اداروں میں محنت کشوں تک پہنچایا جائے گا۔

ان ملک گیر تقریبات کی تیاریوں کے لیے کیمپیئن کے حوالے سے بھی اس میٹنگ میں تفصیلاً بات چیت رکھی گئی اور یہ فیصلہ کیا گیا کہ انقلابی کمیونسٹ پارٹی انقلابی لیف لیٹس، مضامین اور رپورٹس شائع کر کے اس کیمپیئن کو آگے بڑھائے گی اور اس کے ساتھ ساتھ انقلابی کمیونسٹ پارٹی کے کارکنان ہر شہر سے ویڈیو پیغامات بھی جاری کریں گے جن میں محنت کش خواتین کے عالمی دن کے پیغام کے ساتھ ساتھ بلوچستان کی خواتین اور سیاسی کارکنان، جنہیں پاکستانی ریاست اور اس نام نہاد جمہوری حکومت نے جبری طور پر گمشدہ کیا ہے، کے ساتھ طبقاتی بنیادوں پر یکجہتی کا اظہار کیا جائے گا، اور ان کی آواز کو پاکستان کے کونے کونے تک پہنچایا جائے گا۔ پاکستان کی ریاست اور حکمران طبقہ اپنے مذموم عزائم کے تحت محنت کش طبقے کو رنگ، نسل، قوم، مذہب اور ذات پات کی بنیاد پر تقسیم کرتا ہے۔ ہم کمیونسٹ ’ایک کا دکھ، سب کا دکھ‘ کے نعرے کے ذریعے اور پاکستان کے محنت کش طبقے کی جڑت کے ذریعے اس تقسیم کو پاش پاش کر دیں گے اور پاکستان کے حکمران طبقے کو یہ واضح پیغام دیں گے کہ پاکستان بھر کے محنت کش، طلبہ، کسان اور خواتین ہر تقسیم کو ترک کر کے بلوچستان کے مظلوم عوام کے ساتھ کھڑے ہیں اور ہم ایک ہیں!

ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ ان غیر قانونی، غیر اخلاقی کاروائیوں کو بند کرتے ہوئے تمام لاپتہ سیاسی کارکنان خصوصاً خواتین کو فوراً بازیاب کیا جائے اور کسی نے کوئی جرم کیا بھی ہے تو اسے عوام کے ٹیکسوں پر چلنے والی عدالتوں میں پیش کیا جائے۔ ہم پاکستان بھر کے محنت کشوں، طلبہ، کسانوں اور خواتین کو بھی دعوت دیتے ہیں کہ سرمایہ داری اور سامراجیت کے خاتمے کی جدوجہد میں کمیونسٹوں کے ساتھ اس جدوجہد کا حصہ بنیں۔

ایک کا دکھ، سب کا دکھ!
بلوچستان کی تمام خواتین سیاسی کارکنان کو فی الفور رہا کرو!

Comments are closed.