سندھ: خواتین پر تشدد، ریپ اور قتل کے متعدد واقعات کی پُر زور مذمت!

|رپورٹ: انقلابی کمیونسٹ پارٹی، حیدرآباد|

ریاستِ پاکستان خواتین کے لیے ایک قبرستان میں تبدیل ہو چکی ہے۔ ہر روز ریپ، قتل، کاروکاری، ہراسانی، گھریلو تشدد اور جبری مذہبی تبدیلی کے واقعات سوشل میڈیا پر نشر ہونا معمول بن چکا ہے۔ یہ صورتِ حال بلاشبہ انسانی سماج میں جنگل کے قانون کی حکمرانی کا واضح عکس ہے۔ رواں سال سندھ میں ایسے ہی غیر انسانی واقعات مسلسل ”بریکنگ نیوز“ کے طور پر گردش کرتے رہے ہیں۔ 21 جنوری کو سانگھڑ کے ایک قصبے میں 16 سالہ شادبانو ملاح کو ایک وڈیرے نے محض اس لیے بلیڈ سے سر تا پا زخمی کر کے بسترِ مرگ تک پہنچایا کیونکہ اس نے اس کے حکم نامے کو مسترد کرتے ہوئے وڈیرے کی ہوس کی تسکین کا کھلونا بننے سے انکار کر دیا تھا۔ اسی طرح 23 جنوری کو نوشہرو فیروز میں ثوبیہ بتول نامی خاتون کے بھائی، چچا اور باپ نے اس کے دونوں پاؤں کاٹ دیے تاکہ وہ ہمیشہ کے لیے چلنے سے محروم ہو جائے، کیونکہ انہیں شبہ تھا کہ وہ زمین میں اپنا حصہ مانگ سکتی ہے۔ فروری کے پہلے ہفتے میں جامشورو میں ایک محنت کش پختون (اور بعض غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق افغان) خاتون صابرہ کو تین دن تک تشدد اور جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد اس کی لاش کو مسخ کر کے ویرانے میں پھینک دیا گیا۔ یہ محض وہ واقعات ہیں جو کسی نہ کسی طرح سوشل میڈیا پر وائرل ہوئے ہیں۔ نہ جانے ایسے کتنے جرائم کیمپسوں کے بند کمروں میں، وڈیروں کے اوطاقوں میں، کھیتوں میں یا چار دیواری کے نام نہاد تقدس کی آڑ میں ہر روز ہوتے رہتے ہیں۔

29نومبر 2025ء کو دی ٹریبیون میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق 2025ء میں جنوری تا جون ریپ، تشدد اور غیرت کے نام پر قتل کے 20698 واقعات منظرِ عام پر آئے تھے یعنی اوسطاً ہر روز 14 ایسے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں مگر ان میں سے صرف 0.3 فیصد کیسز میں ملزمان کو سزا سنائی گئی۔ ان مذکورہ واقعات میں بھی بالکل اسی طرح ہی ہوا ہے جس طرح سانگھڑ کا ظالم وڈیرہ اپنی مالی حیثیت کے بل بوتے پر آزاد گھوم رہا ہے۔ صابرہ کے قاتلوں کو پیپلز پارٹی کے مقامی وڈیرے نے جیل سے رہا کروا کر اپنے اوطاق میں پناہ دی ہوئی ہے۔ جو حکمران طبقے کی درندگی کا واضح عکس ہے۔ یہی نہیں اس واقعے پر نام نہاد ”فیمینسٹ چمپیئن“ اور پروفیسر مافیا (جو اتفاقاً اسی علاقے کے قریب واقع سندھ یونیورسٹی میں شعبہ تدریس سے وابستہ ہیں) کی خاموشی محنت کش طبقے کی خواتین پر جبر کی حمایت اور غیر ضروری مسئلہ سمجھنے کا عندیہ ہی ہے کیونکہ ان محنت کش طبقے کی ان خواتین کے پاس گاڑی ہے اور نہ ان کا اپنا گھرہے، لہٰذا فیمنسٹوں کے مطالبات ان کے مسائل سے میل ہی نہیں کھاتے یعنی فیمنزم ماسوائے مڈل کلاس شگل میلے کے کچھ نہیں ہے۔ جبکہ دوسری جانب پختون قوم پرست جماعتوں کی جانب سے اس دکھ اور اذیت کو ”پختون روایات“ کا لبادہ اوڑھا کر اپنی سیاست کی دکان کو چمکانے کے جتن بھی جاری ہیں۔

انقلابی کمیونسٹ پارٹی ان تمام واقعات کی شدید مذمت کرتی ہے اور ملزمان کو فوری اور سخت سزا دینے کا مطالبہ کرتی ہے۔ ہم واضح کرتے ہیں کہ فیمنزم ہو یا قوم پرستی، روایتی سیاسی پارٹیاں ہوں یا مذہبی منافقین، کسی کے پاس ان مسائل کا کوئی بنیادی اور سنجیدہ حل موجود نہیں ہے۔ بلکہ سرمایہ دارانہ نظام میں موجود عدل و انصاف کے ادارے بھی ہمیشہ جابر اور طاقتور کا تحفظ کرتے ہیں اور پدرشاہی کو ہی تقویت بخشتے ہیں جبکہ کمزور اور مظلوم انصاف سے محروم رہتا ہے۔

ان سانحات کی جڑیں سرمایہ دارانہ نظام کی بنیادوں میں پیوست ہیں۔ خواتین کی غلامی کی تاریخ دراصل طبقاتی نظام، نجی ملکیت کے ظہور پذیر ہونے اور سماجی پیداوار کے عمل سے ان کے بے دخل ہونے کی تاریخ کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔ عورت کو چار دیواری میں قید کر کے ”غیرت“ کے نام پر اس کی معاشی و سماجی آزادی سلب کی گئی جبکہ دوسری جانب سرمایہ داری نے نام نہاد آزادی کے نعرے کے تحت اسے محض منافع کمانے کا اشتہاری آلہ بنا دیا۔ مختصراً، خواتین کی حقیقی آزادی کا سوال اس امر کا تقاضا کرتا ہے کہ عورت کو ایک شے کی بجائے ایک مکمل انسان سمجھا کیا جائے۔ اس کے لیے سرمایہ داری کا نظام اور اس میں موجود ان تمام بنیادوں کا خاتمہ ضروری ہے جو طبقاتی نظام اور نجی ملکیت کے وجود سے جڑی ہوئی ہیں اور یہ ایک سوشلسٹ انقلاب کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

لہٰذا، انقلابی کمیونسٹ پارٹی تمام محنت کش عوام، طلبہ، کسانوں اور خواتین کو دعوت دیتی ہے کہ اس سال محنت کش خواتین کے عالمی دن کو درج ذیل پروگرام کے گرد منظم ہوتے ہوئے نہ صرف صنفی جبر بلکہ جبر کی ہر شکل سے نجات کی جدوجہد کو تیز کیا جائے:

1۔ ہر فرد کو مستقل روزگار، مفت و معیاری تعلیم، صحت، رہائش، ٹرانسپورٹ، بجلی، گیس اور پانی جیسی بنیادی ضروریاتِ زندگی کی فراہمی؛ یہ سب ایک مزدور ریاست کی منصوبہ بند معیشت کے تحت فراہم کیا جائے گا۔
2۔ نجی صنعتوں اور بڑی تجارت کو بغیر معاوضہ قومی تحویل میں لے کر مزدوروں کے جمہوری کنٹرول میں دیا جائے گا۔
3۔ کام کی جگہوں، سکولوں اور دیگر تعلیمی اداروں میں ہراسانی کے خلاف محنت کشوں اور طلبہ کی کمیٹیوں کے ذریعے سخت قوانین اور ان پر مؤثر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے گا؛ خواتین کی بھرپور شرکت کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں گے۔
4۔ بچوں کی دیکھ بھال اور گھریلو کاموں کو اجتماعی اور سماجی ذمہ داری بنایا جائے گا تاکہ خواتین کو گھریلو غلامی سے نجات ملے اور وہ سماجی و سیاسی سرگرمیوں میں بھرپور شرکت کر سکیں۔
5۔ زچگی سے قبل اور بعد مکمل تنخواہ کے ساتھ رخصت دی جائے گی۔
6۔ ہر قسم کے صنفی امتیاز اور تشدد کا خاتمہ کیا جائے گا؛ سماجی اور معاشی سطح پر مکمل برابری کو یقینی بنایا جائے گا۔
7۔ سرمایہ داری اور اس سے منسلک نجی ملکیت کا خاتمہ کرتے ہوئے آئی ایم ایف اور دیگر سامراجی اداروں کے قرضوں کو مسترد کیا جائے گا؛ محنت کشوں کی پیدا کردہ دولت کو پورے سماج کی فلاح و بہبود پر خرچ کیا جائے گا۔
8۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ بلوچستان میں جبری طور پر لاپتہ کیے جانے والے تمام خواتین و مرد حضرات کو فی الفور بازیاب کیا جائے اور جبری گمشدگیوں کا سلسلہ بند کیا جائے۔ جبری طور پر گمشدہ کیے جانے والوں نے اگر کوئی جرم کیا ہے تو ریاست اپنی ہی بنائی ہوئی عدالتوں میں ان کو پیش کرے، بصورت دیگر ان کو فی الفور رہا کیا جائے۔
9۔ انقلابی کمیونسٹ پارٹی سوشلسٹ انقلاب کے ذریعے محنت کشوں، کسانوں، نوجوانوں اور مظلوم اقوام کے استحصال کے خاتمے کے لیے پاکستان بھر میں جدوجہد کر رہی ہے۔ ہم آپ کو اس جدوجہد میں شمولیت کی اور انقلابی کمیونسٹ پارٹی کا ممبر بننے کی دعوت دیتے ہیں۔

Comments are closed.