Post Tagged with: "State Crisis"

عمران خان کا فلاپ شو اور حکمران طبقے کی بڑھتی لڑائی

عمران خان کا فلاپ شو اور حکمران طبقے کی بڑھتی لڑائی

|تحریر: آدم پال| گزشتہ چند دنوں میں اس ملک کے حکمران طبقے کی ہونے والی لڑائی پورے ملک کے عوام کے سامنے کھل کر نظر آئی جس میں مزدور طبقہ محض تماشائی بنا رہا۔ عمران خان اور اس کی پشت پر موجود اسٹیبلشمنٹ کا دھڑا اقتدار کی ہوس میں پاگل […]

May 26, 2022 ×
پاکستان: برباد سماج، ظالم حکمران اور انقلاب کے لیے بے چین محنت کش طبقہ

پاکستان: برباد سماج، ظالم حکمران اور انقلاب کے لیے بے چین محنت کش طبقہ

|تحریر: ولید خان| پاکستانی ریاست، سیاست اور اس کے ذرائع ابلاغ میں موجود چاپلوس نوکر مل کر ایک ایسا تعفن زدہ کچرے کا ڈھیر بن چکے ہیں کہ حقیقت اور سچائی کی تلاش ایک روز مرہ کی اعصاب شکن محنت بن چکی ہے۔ پچھلے کچھ عرصے سے پریس کانفرنسوں، ٹی […]

June 13, 2021 ×
پشتون بہار۔۔آگے کیسے لڑا جائے؟

پشتون بہار۔۔آگے کیسے لڑا جائے؟

|تحریر: پارس جان| مملکت خداداد میں گزشتہ عشرے میں کئی نام نہاد ’انقلابی تحریکیں ‘ عوامی شعور پر مسلط کرنے کی کوشش کی گئی مگر ہر بار پالیسی سازوں کو شکست سے دوچار ہونا پڑا۔ یہ سلسلہ پرویز مشرف کے اقتدار کے اختتام کے دنوں سے شروع ہوا تھا جب […]

April 3, 2018 ×
اداریہ ورکرنامہ: گماشتہ ریاست اور سامراجی آقا!

اداریہ ورکرنامہ: گماشتہ ریاست اور سامراجی آقا!

پاکستانی ریاست کا بحران نئی انتہاؤں کو چھو رہا ہے جبکہ سامراجی طاقتوں کی لڑائی ہر گزرتے دن کے ساتھ شدت اختیار کرتی جا رہی ہے۔ یکم جنوری کو ٹرمپ کی ٹویٹ اور دو جنوری کو اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے چین کے ساتھ یوآن(چینی کرنسی) میں تجارت کا فیصلہ ریاست کے نامیاتی بحران اور اس پر سامراجی طاقتوں کے دباؤ کی شدت کا تھوڑا بہت اندازہ دیتے ہیں

January 6, 2018 ×
نئے سال پر لال سلام! انقلابی اور ردِانقلابی تحریکوں سے بھرپور سال کی آمد!

نئے سال پر لال سلام! انقلابی اور ردِانقلابی تحریکوں سے بھرپور سال کی آمد!

تیزترین بدلتی ہوئی صورتحال میں ایسے قنوطیت پسندوں کے لیے کوئی جگہ نہیں۔ سالِ نو ان کو ہی خوش آمدید کہے گا جو انقلابی تحریکوں اور تیز ترین تبدیلیوں سے عہدہ برآ ہونے کی جرات اور حوصلہ رکھتے ہیں۔

January 1, 2018 ×
پاکستان: ریاستی بحران کی انتہا کیا ہے؟

پاکستان: ریاستی بحران کی انتہا کیا ہے؟

ریاست کا بحران تیزی سے شدت اختیار کرتا چلا جا رہا ہے۔ معیشت، سیاست سمیت سماج کے ہر حصے کا بحران انتہاؤں کے قریب پہنچ رہا ہے اور یوں محسوس ہوتا ہے جیسے بہت سی مقداری تبدیلیاں اب ایک معیاری تبدیلی کی جانب بڑھ رہی ہیں

November 10, 2017 ×