گلگت بلتستان: عوامی ایکشن کمیٹی کے راہنماؤں کے لیے برطانیہ کی سب سے بڑی مزدور یونین نے قرارداد منظور کر لی، فوری رہائی کا مطالبہ!

|رپورٹ: انقلابی کمیونسٹ پارٹی|

برطانیہ کے مزدوروں کی سب سے بڑی یونین ”یونائٹ (Unite)“ کی پالیسی کانفرنس گزشتہ ہفتے برطانیہ کے شہر برائیٹن میں منعقد ہوئی۔ اس کانفرنس میں ملک بھر سے 900 سے زائد مندوبین نے شرکت کی جو پورے برطانیہ میں یونین کے بیس لاکھ سے زائد مزدوروں کی نمائندگی کر رہے تھے۔ اس کانفرنس میں یونین کی پالیسی کے حوالے سے اہم فیصلے کیے گئے اور متعدد قرار دادیں منظور کی گئیں۔ اس موقع پر کانفرنس میں موجود ایک مندوب ارسلان غنی نے گلگت بلتستان میں جاری پاکستانی ریاست کے جبر کے خلاف ایک ایمرجنسی قرار داد پیش کی جس میں احسان علی ایڈووکیٹ اور عوامی ایکشن کمیٹی گلگت بلتستان کے دیگر اسیر راہنماؤں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا گیا۔ یہ قائدین گلگت بلتستان میں عوامی مسائل کے خلاف احتجاجی تحریک منظم کر رہے تھے جس کی پاداش میں ان پر دہشت گردی کے جھوٹے مقدمات قائم کر کے پابند سلاسل کیا گیا ہے۔ اس حوالے سے مقامی عدالت نے ان کی ضمانت کی درخواست بھی مسترد کر دی ہے اور کہا ہے کہ ان لوگوں کا جرم یہ ہے کہ یہ جبر کے خلاف آواز بلند کرتے ہیں۔

اس صورتحال میں گلگت بلتستان اور پاکستان میں ان راہنماؤں کی رہائی کے لیے کمپین جاری ہے اور مختلف شہروں میں باقاعدگی سے احتجاج منظم کیے جا رہے ہیں۔ انقلابی کمیونسٹ انٹرنیشنل نے ان عوامی نمائندوں کی رہائی کے لیے پوری دنیا میں ایک کمپین شروع کر رکھی ہے جس میں درجنوں ممالک میں موجود پاکستان کے سفارت خانوں اور قونصل خانوں کے باہر مسلسل احتجاج کیے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ مختلف ممالک کی پارلیمنٹوں میں تقاریر کی جا رہی ہیں اور مزدور یونینوں سے بھی اظہار یکجہتی موصول کیے جا رہے ہیں تاکہ پاکستان کی ریاست کے اس جبر کے خلاف آواز بلند کی جا سکے اور عوامی راہنماؤں کی رہائی کو ممکن بنایا جا سکے۔

اسی سلسلے میں یہ قرارداد یونائیٹ یونین کے اس اجلاس میں بھی پیش کی گئی، جس کا متن نیچے دیا گیا ہے۔ اس قرارداد کو جمع کروانے کے لیے دس فیصد مندوبین کی حمایت کی ضرورت تھی جو کہ کانفرنس کے دوران جلد ہی موصول ہو گئے اور اس قرار داد کو پیش کرنے کی اجازت حاصل کی گئی۔

قرارداد کو تمام مندوبین کے سامنے ارسلان غنی نے پیش کیا اور ایک پر جوش تقریر کے ذریعے تمام مندوبین سے اپیل کی کہ وہ اس قرارداد کی حمایت کریں اور گلگت بلتستان میں قید عوامی ایکشن کمیٹی کے راہنماؤں کی فوری رہائی کا مطالبہ کریں۔ ووٹنگ کے دوران اس قرارداد کو تسلیم کر لیا گیا جس کے بعد پورا ہال تالیوں سے گونج اٹھا۔ کانفرنس کے اختتام پر یونین کی جنرل سیکرٹری شیرون گراہم خود احسان علی ایڈووکیٹ کی رہائی کے نعرے کے پلے کارڈ کے ساتھ دیگر قائدین کے ہمراہ اسٹیج پر تشریف لائیں اور اس نعرے کی مکمل حمایت کا اعلان کیا۔ اب یہ قرار داد اس یونین کی پالیسی کا حصہ بن چکی ہے اور یونین اس حوالے سے مزید اقدامات کرے گی۔

انقلابی کمیونسٹ پارٹی یونائٹ یونین کے اظہار یکجہتی کا خیر مقدم کرتی ہے اور گلگت بلتستان کے عوامی راہنماؤں کی رہائی کے لیے پاکستان سمیت پوری دنیا میں یکجہتی حاصل کرنے کی کمپین جاری رکھے گی۔

مزدور یکجہتی زندہ باد!

تیز ہو تیز ہو، جدوجہد تیز ہو!

احسان علی اور دیگر اسیران کو رہا کرو!

دنیا بھر کے محنت کشو ایک ہو جاؤ!

انقلابی کمیونسٹ انٹرنیشنل، زندہ باد!

قرارداد کا متن
پالیسی کانفرنس 2025ء کے لیے ایمرجنسی موشن
عوامی ایکشن کمیٹی گلگت بلتستان کے گرفتار راہنماؤں کے ساتھ اظہار یکجہتی

کانفرنس انتہائی سنجیدگی سے یہ نوٹ کرتی ہے:

عوامی ایکشن کمیٹی گلگت بلتستان کے گرفتار راہنماؤں، بشمول چئیرمین احسان علی ایڈووکیٹ، میڈیا انچارج وحید حسن، وائس چئیرمین محبوب ولی اور یوتھ انچارج اصغر شاہ۔
ان کارکنان اور مزدور راہنما ؤں پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنے منظم ہونے کے جمہوری حق پر قدغنوں کے خلاف پر امن احتجاج کر کے ”امن عامہ کو خراب“ کیا ہے۔
احسان علی کو پاکستان کے بدنام زمانہ ”فورتھ شیڈول“ میں شامل کیا گیا ہے تاکہ ان کی سرگرمی کو محدود کیا جا سکے۔
یہ گرفتاریاں اس وقت ہوئیں جب عوامی ایکشن کمیٹی گلگت بلتستان کے قدرتی وسائل پر عوامی کنٹرول کے حوالے سے ایک اجلاس منعقد کرنے جا رہی تھی۔
اس کمیٹی نے پہلے بھی آٹا سبسڈی، بجلی، صحت اور تعلیم کی فراہمی کے حوالے سے کامیاب عوامی تحریکیں منظم کی ہیں۔

کانفرنس سمجھتی ہے کہ:

یہ گرفتاریاں جمہوری حقوق اور ٹریڈ یونین کو منظم کرنے کے حق پر ایک واضح حملہ ہے۔
پر امن سیاسی سرگرمی کو جرم قرار دینے سے مزدور تحریک کے لیے ایک خطرناک روایت قائم کی جا رہی ہے۔
جبر اور استحصال کے خلاف منظم ہونے کے حق کا دفاع کرنے کے لیے انٹرنیشنل یکجہتی لازمی ہے۔
گلگت بلتستان میں غربت اور وسائل کی لوٹ مار کے خلاف مزدوروں کی جدوجہد عالمی مزدور طبقے کی تحریک کا ہی حصہ ہے۔

کانفرنس فیصلہ کرتی ہے کہ:

1۔ سیاسی انتقام کے لیے کی جانے والی گرفتاریوں کی مذمت کرتی ہے اور عوامی ایکشن کمیٹی گلگت بلتستان کے قائدین اور کارکنان کی فوری اور غیر مشروط رہائی کا مطالبہ کرتی ہے۔
2۔ احسان علی کو فورتھ شیڈول سے نکالنے اور اس کے تمام جمہوری حقوق مکمل طور پر بحال کرنے کا مطالبہ کرتی ہے۔
3۔ متعلقہ ایگزیکٹو اداروں کو مینڈیٹ دیتی ہے کہ وہ پاکستان کے ہائی کمشنروں اور سفارت کاروں کو خط لکھیں جس میں تمام گرفتار کامریڈز کی رہائی اور گلگت بلتستان میں ریاستی جبر کے خاتمے کا مطالبہ کیا جائے۔
4۔ پاکستان میں جاری تمام ٹریڈ یونین اور مزدور تحریکوں اور یکجہتی کمپین کی حمایت کرتی ہے۔
5۔ یونین کی تمام برانچیں اور ریجنز اس حوالے سے آگاہی مہم کی حوصلہ افزائی کریں۔

Comments are closed.