|تحریر: احسان مہمند، آر سی پی بیوٹمز برانچ، کوئٹہ|

بلوچستان جیسے پسماندہ خطے میں، جہاں غربت، بے روزگاری اور استحصال کا راج ہے، وہاں 2006ء کے بعد خاص طور پر قومی جبر، لاپتہ افراد، وسائل کی لوٹ مار اور سیاسی حقوق کی مسلسل پامالی نے سماجی فضا کو پہلے سے زیادہ تناؤ کا شکار بنا دیا تھا۔ ایسے حالات میں سیاسی افق پر دو ہی طرح کے رجحانات زیادہ نمایاں رہے: ایک وہ جو پارلیمان میں بیٹھے اپنی ہی ناکام قومی قیادت پر فخر سے تالیاں بجاتے نہیں تھکتے تھے، اور دوسرے وہ جو قومیت کے نشے میں اس حد تک ڈوبے ہوئے ہیں کہ بے گناہوں کا خون بہانے سے بھی نہیں کتراتے۔ بعد ازاں جب اس خطے میں قومی حقوق کے گرد عوامی تحریکیں ابھریں تو ان کی قیادت کی قوم پرستانہ تنگ نظری ان کی مزید بڑھوتری کے راستے کی رکاوٹ بن گئی۔ نظریاتی دیوالیہ پن کے شکار انہی رجحانات نے نوجوانوں میں مایوسی کو جنم دیا، انہیں سیاست سے بدظن کیا، سیاست کو بلیک میلنگ اور ذاتی مفاد کے کھیل میں بدل دیا، اور مصنوعی تفرقات و تعصبات کے ذریعے عوام کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم رکھنے میں رکاوٹ کا کردار ادا کیا۔ ایسے ماحول میں میری جستجو ایک ایسی سچائی اور نظریے کی تلاش تھی جس کے ذریعے اس مروجہ نظام کو اس کی الٹ میں تبدیل کیا جا سکے۔
دسویں جماعت میں کوئٹہ کے ایک نجی سکول میں پہلی بار اپنے استاد سے کارل مارکس کا نام سنا۔ اُس بحث میں ہی مجھے احساس ہو گیا کہ قومیت، مذہب یا لبرل خیالات انسانیت کو اس دلدل سے نہیں نکال سکتے، نہ ہی دنیا میں پھیلی غربت اور افلاس کا کوئی حقیقی حل پیش کرتے ہیں۔ بعد ازاں، 17 سال کی عمر میں، اسی استاد کی بدولت مجھے مارکسی لٹریچر پڑھنے کا موقع ملا۔ کامریڈ ایلن ووڈز اور ٹیڈ گرانٹ کی کتاب ”مارکسی فلسفہ اور جدید سائنس“ میری پہلی مارکسی کتاب تھی۔ یہ پہلا موقع تھا جب میں نے قدرتی سائنس، انسانی سماج اور تاریخ کو ایک حقیقی سائنسی نقطہ نظر، جدلیاتی مادیت، کے ذریعے سمجھا۔

اس نظریاتی عینک نے میرے سامنے انسانی معاشرے کی تاریخ، طبقاتی رشتوں، سرمایہ داری کے ڈھانچے، عالمی بحرانوں، جنگوں، قومی سوال، اور عورتوں کے سوال کو ایک مربوط انداز میں واضح کر دیا۔ میں نے محسوس کیا کہ ان تمام مسائل کا واحد اور حقیقی حل سوشلسٹ انقلاب ہے۔ یوں میں نظریاتی طور پر تو ایک کمیونسٹ بن چکا تھا مگر عملی جدوجہد کے لیے ایک حقیقی انقلابی پارٹی بھی درکار تھی۔ مارکسزم محض ذہنی مشق یا دانشوری نہیں،یہ ایک انقلابی نظریہ ہے، اور نظریہ بغیر عملی جدوجہد کے نامکمل ہے۔ لینن نے درست کہا تھا: ”بغیر انقلابی نظریہ کے انقلابی تحریک ممکن نہیں، اور بغیر انقلابی عمل کے نظریہ بے کار ہے۔“
اس سفر میں میں نے کئی ایسے گروہ بھی دیکھے جو سوشلزم کے نام پر قومیت کا پرچار کر رہے تھے، یا مارکسزم کو کیریئر اور الیکشن بازی کا ذریعہ بنا چکے تھے۔ لیکن یہ سب دیکھ کر میری نظریاتی تلاش اور بھی مضبوط ہو گئی۔2023 ء کے اوائل میں مجھے سابقہ آئی ایم ٹی اور موجودہ انقلابی کمیونسٹ انٹرنیشنل کے کامریڈز سے ملاقات کا موقع ملا۔ میں پہلے ہی طویل عرصے سے ان کی سرگرمیوں اور نظریاتی ڈسکشنز کو دیکھتا رہا تھا، اس لیے ملاقات نے میری ساری الجھنیں دور کر دیں۔ یہاں مجھے پہلی بار ایک حقیقی بالشویک روایات رکھنے والی تنظیم نظر آئی؛ ایک ایسی پارٹی جہاں نوجوان کیڈرز خلوص، جذبے اور نظریاتی پختگی کے ساتھ جدوجہد کر رہے تھے۔
پارٹی کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ یہ عالمی سطح پر ایک کمیونسٹ انٹرنیشنل کی تعمیر کے ساتھ جڑی ہوئی تھی، اورعالمی مارکسی رجحان کے تجربے سے فائدہ اٹھا رہی تھی، جس کی نظریاتی قیادت کامریڈ ایلن ووڈز جیسے انقلابی کر رہے تھے۔ اسی سال میں، میں نے مزدوروں کی انقلابی کمیونسٹ انٹرنیشنل (RCI) کی پہلی کانگریس دیکھی اور سنی، جس نے میری پختگی کو آخری شکل دی۔ مجھے محسوس ہوا کہ میں نے لینن کے مطابق اپنے سفر کا نصف حصہ مکمل کر لیا ہے۔ چنانچہ میں نے باقاعدہ طور پر انٹر نیشنل کے پاکستان سیکشن، انقلابی کمیونسٹ پارٹی میں شمولیت اختیار کی، بطورممبر آج میں بلوچستان کی بیوٹمز یونیورسٹی برانچ (ابتدائی یونٹ) میں اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہا ہوں۔ آگے مشکلات ضرور ہوں گی، رکاوٹیں بھی آئیں گی، مگر ہماری منزل ایک ہے: سوشلسٹ انقلاب کے ذریعے سرمایہ دارانہ نظام کا خاتمہ اور ایک غیر طبقاتی سماج کی تخلیق۔ اور اسی منزل تک پہنچنے کے لیے ہم متحد، منظم اور انقلابی یقین کے ساتھ جدوجہد کر رہے ہیں۔















In defence of Marxism!
Marxist Archives
Progressive Youth Alliance