|تحریر: ایلن ووڈز، ترجمہ: ولید خان|
28فروری بروز ہفتہ کی صبح تہران امریکی اور اسرائیلی میزائلوں کی شدید بمباری کے دھماکوں سے لرز اٹھا۔ تہران، قم اور دیگر ایرانی شہروں سے بھی دھوئیں کے بادل اٹھ کر جنگ کے آغاز کا اعلان کر رہے تھے۔
انگریزی میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں
ایک لمحہ میں مسلسل بے بنیاد مذاکرات کا ڈھونگ حقیقت نے تار تار کر دیا۔
عوام کے سامنے کئی مہینوں یہ بھونڈا مذاق جاری رہا جس کا مقصد جلد ایک ڈیل کا سراب قائم کرنا تھا جس کے نتیجے میں امن اور شانتی کا بول بالا ہونا تھا۔
واشنگٹن کے عزائم اور امریکی عسکری حملے کی قربت کو بھانپتے ہوئے عمان کے وزیر خارجہ بدر البوسیدی (Badr Albusaidi)، جس کا ملک ان مذاکرات میں معاونت کر رہا تھا، فوراً واشنگٹن پہنچا تاکہ موجودہ مذاکرات کو بہترین بنا کر پیش کرے۔ غیر متوقع طور پر اس نے CBS چینل پر انٹرویو دیتے ہوئے ممکنہ معاہدے کی اہم تفصیلات بیان کیں اور زور دیا کہ امن معاہدہ ہوا چاہتا ہے۔
لیکن البوسیدی کو صرف نائب صدر جے ڈی وینس سے ملاقات کا موقع ملا جہاں اس نے بحث کی کہ مذاکرات حتمی مراحل میں ہیں۔ اس نے باور کرایا کہ مجوزہ معاہدہ 2015ء کے جوہری معاہدے کو پیچھے چھوڑ دے گا جس سے ٹرمپ نے 2018ء میں دستبرداری اختیار کر لی تھی۔
البوسیدی کے مطابق ایران نے شرائط قبول کر لی تھیں جن میں انتہائی زرخیز یورینیم کا ذخیرہ ختم کرنا، ملک میں موجودہ ذخیروں کو کم زرخیز مال میں تبدیل کرنا اور انٹرنیشنل اٹامک انرجی کمیشن (IAEA) کی جانب سے وسیع نگرانی کا اجراء تھا۔ اس نے مزید کہا کہ امریکی انسپکٹروں کو ممکنہ طور پر IAEA کے ساتھ ایران میں کام کرنے کی اجازت مل سکتی ہے۔ معاہدے کے مطابق ایران اپنی یورینیم کے ذخائر کو سختی سے سویلین جوہری توانائی استعمال کی حد تک بڑھائے گا۔
یہ بالکل معقول تجاویز ہیں اور کوئی بھی شخص یہی سمجھے گا کہ انہیں امریکیوں نے قبول کر لیا ہو گا۔۔ ظاہر ہے اس یقین کے ساتھ کہ امریکی امن میں کبھی سنجیدہ بھی تھے۔
اس نے ان تمام معقول تجاویز کا جواب بموں اور میزائل کی بوچھاڑ میں دیا۔
دمیتری میدویدیف (Dmitry Medvedev) روسی سیکیورٹی کونسل کا ڈپٹی چیئرمین ہے اور اس نے ٹرمپ پر ایران حملے کے حوالے سے شدید تنقید کی ہے اور سوال کیا ہے کہ کون سا جارح قائم رہے گا کیونکہ امریکہ کی تاریخ محض 250 سالہ قدیم ہے جبکہ فارسی تہذیب 2 ہزار 500 سالہ قدیم ہے۔
میدویدیف (Medvedev) نے کہا کہ ”امن پرچارک نے ایک مرتبہ پھر اپنا چہرہ دیکھا دیا ہے۔ ایران کے ساتھ تمام مذاکرات ایک خفیہ آپریشن تھے۔ کسی کو کوئی شک نہیں ہے۔ کسی کو مذاکرات میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔“
ایک ایرانی ٹیلی گرام چینل میں تبصرہ ہوا کہ ”ایک مرتبہ پھر امریکہ نے حملہ کیا ہے جبکہ ایران سفارت کاری کر رہا تھا۔ ایک مرتبہ پھر امریکی دہشت گرد ریاست کے ساتھ سفارت کاری ناکام ہوئی ہے“۔
پرانی کارکردگی
اس طرح کا بھونڈا مذاق پہلی مرتبہ نہیں ہوا ہے۔ پچھلے سال بھی بالکل یہی سفارتی کھلواڑ کھیلا گیا تھا۔
ایک ہی سکرپٹ تھا۔ کم و بیش یہی اداکار تھے۔ اور اختتام، اپنے آغاز سے ہی واضح تھا۔
وائٹ ہاؤس کا رہائشی اب شکایت کر رہا ہے کہ مذاکرات اس لیے ناکام ہوئے کیونکہ ایرانی ”نیک نیتی“ سے مذاکرات کرنے کے لیے تیار نہیں تھے۔
یہ جھوٹ ہے۔ اگر کوئی بھی بے ایمانی سے مذاکرات کر رہا تھا تو وہ ایرانی نہیں امریکی تھے جنہوں نے دانستہ جھوٹے مذاکرات کی آڑ میں ایرانی حکومت پر حملے اور حکومت کے خاتمے کی تیاریاں جاری رکھیں۔
لیکن اس مرتبہ سفارت کاری کی اس چھپن چھپائی میں کچھ اہم فرق موجود ہے۔
پچھلے موسم گرماء میں ایرانیوں کو اس اچانک اور بغیر کسی تنبیہ کے دھوکہ باز حملے نے حیران و پریشان کر دیا تھا۔ یہ حملہ مذاکرات کے عین دوران ہوا جب کہا جا رہا تھا کہ معقول پیش رفت ہو رہی ہے۔
لیکن اس مرتبہ چیزیں بالکل مختلف تھیں۔ ایرانیوں کو اب بالکل اعتماد نہیں تھا کہ امریکی مذاکرات نیک نیتی سے کر رہے ہیں۔
انہیں خاص طور پر ڈونلڈ جے ٹرمپ پر کوئی اعتماد نہیں تھا اور پہلے سے خبردار کر رکھا تھا کہ اس مرتبہ وہ حیران نہیں ہوں گے اور کسی بھی حملے کا دیوہیکل جواب دیا جائے گا۔
یہاں ایک اور اہم فرق موجود ہے۔
اپنی تمام تر شیخیوں اور دھمکیوں کے باوجود، ٹرمپ کی ہمیشہ کوشش ہوتی ہے کہ جنگ (یہ کئی حوالوں سے بہت مہنگا کام ہے) کی بجائے کوئی ڈیل ہو جائے (یہ سستا کام ہے)۔
پچھلے سال جون میں ایک ہفتہ کے عرصہ کے بعد جب امریکیوں اور اسرائیلیوں کو سمجھ لگ گئی کہ وہ اپنے مرکزی اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں، جو کہ حکومت کا خاتمہ کرنا تھا، تو انہوں نے طاقتوں کے توازن کا از سر نو جائزہ لیا اور نتیجہ اخذ کیا کہ وہ جنگ کو مزید طول دینے کی اہلیت نہیں رکھتے۔
ابتداء میں شدید بمباری کے باوجود ایران قائم و دائم رہا اور پھر جارحانہ جواب دینے لگا جس کے نتیجے میں اسرائیل پر میزائیلوں کی برسات کی گئی جو نام نہاد آئرن ڈوم (Iron Dome) کو پار کرنے لگے اگرچہ اسے ناقابل تسخیر سمجھا جاتا تھا۔
ایران نے طویل عرصے میں میزائیلوں کا بھاری ذخیرہ اکٹھا کر رکھا ہے جبکہ امریکہ اور اسرائیل کے پاس فضائی دفاعی میزائیل طویل جنگ برداشت کرنے کے لیے ناکافی تھے۔
اس لیے ڈونلڈ ٹرمپ نے فیصلہ کیا کہ جارحیت کو ختم کیا جائے کیونکہ انہیں جاری رکھنا خطرناک ثابت ہو گا۔ اس لیے اس نے اس جنگ کے اختتام کا اعلان کر دیا جسے بعد میں 12 دن کی جنگ سے یاد کیا جاتا ہے۔
آج کیا صورتحال ہے؟
یہ درست ہے کہ امریکہ نے خطے میں ایک قابل ذکر عسکری قوت مجتمع کر لی ہے جس کی پشت پر طاقتور امریکی بحریہ کھڑی ہے۔
لیکن اس بظاہر قوت کے پیچھے ایک کمزوری چھپی ہوئی ہے۔ یہ نئی نہیں ہے اور پورے آپریشن کے لیے زہر قاتل ثابت ہو سکتی ہے۔
حال میں امریکی صدر نے امریکی مسلح افواج اور CIA کے کلیدی نمائندوں کے ساتھ ایک ملاقات کی۔ اس نے انہیں حکم دیا کہ وہ ایران پر ایک کامیاب حملے کے لیے امکانات اور ممکنہ خطرات کا تجزیہ کریں۔
یہ ملاقات خفیہ تھی لیکن پریس میں مخصوص لیکس سے واضح ہوتا ہے کہ وہ جوابات پر خوش نہیں تھا۔ اکٹھے ہوئے عسکری قائدین میں سے کسی نے بھی فتح کی ضمانت نہیں دی۔ وہ اسے یہ بھی نہیں کہہ سکے کہ پچھلے سال کی طرح یہ جنگ بھی مختصر اور آسان ہو گی۔
انہوں نے اسے یہ بھی بتایا کہ امریکی افواج کو نقصان بھی اٹھانا پڑ سکتا ہے، ایسی جنگ میں بہت خطرناک نقصانات بھی ہو سکتے ہیں۔
ایک ایسا شخص جو پاگل پن کی حد تک رائے شماریوں میں اپنی مقبولیت پر نظر رکھتا ہے، اس کے لیے یہ سب باتیں تکلیف دہ تھیں۔ پریس نے رپورٹ کیا کہ صدر ملاقات سے غصے اور مایوسی کی کیفیت میں باہر نکل آیا۔
ان رپورٹس کی بنیاد پر ٹرمپ کو ایک لمحہ توقف کر کے سوچنا چاہیے تھا۔ مسٹر ٹرمپ وہ آخری بندہ ہو گا جو کوئی سنجیدہ سوچ بچار کرے۔ اس کے برعکس وہ ایک ایسا شخص ہے جو اچانک جذبات اور جبلت کا غلام ہے، جو کسی بھی شعبے پر آخری بندے سے ملاقات کے بعد اس کا حامی بن جاتا ہے اور سب سے بڑھ کر اس کا ہر شعبے پر انتہائی سخت گیر مؤقف ہوتا ہے۔ اس میں ایران بھی شامل ہے، ایک ایسا ملک جس کے خلاف اس نے کبھی بھی اپنی گہری اور شدید نفرت کو چھپایا نہیں ہے۔
آج ایران پر امریکی حملے پر ایک حیران کن اعلامیہ جاری کرتے ہوئے ٹرمپ نے معصوم امریکی شہریوں کے خلاف بدذات ایرانیوں کے طویل جرائم کی ایک فہرست پیش کی۔
اس نے اپنی اول فول تقریر کا آغاز ”تہران میں امریکی سفارت خانہ پر پُر تشدد قبضہ کیا جس میں درجنوں امریکی مغویوں کو 444 دن حراست میں رکھا گیا“ سے شروع کیا۔ یہ واقعہ 4 نومبر 1979ء کو رونماء ہوا جب سرگرم ایرانی طلبہ نے امریکی سفارت خانے پر دھاوا بول دیا تھا۔
یعنی ایک ایسا واقعہ جو تقریباً نصف صدی پہلے رونماء ہوا! لیکن وائٹ ہاؤس کا رہائشی اس کو ایسے پیش کر رہا ہے جیسے یہ کل کا واقعہ ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ واقعہ اس وقت سے اس کے ذہن میں پھنسا ہوا ہے جیسے گلے میں ہڈی پھنس جاتی ہے۔
پھر اپنی فہرست کے اختتام پر اس نے فاتحانہ انداز میں کہا کہ: ”اور یہ ایران کی پراکسی حماس تھی جس نے اسرائیل پر 7 اکتوبر کا وحشیانہ حملہ کیا تھا۔“
وہ یہ بھول رہا ہے کہ خود CIA نے ایک رپورٹ جاری کی ہے جس کے مطابق اس حملے کا ایران سے کوئی تعلق نہیں ہے، اسے اس حملے کی کوئی خبر نہیں تھی اور اس میں اس کا کسی قسم کا کوئی کردار نہیں تھا۔
لیکن ہمیں کبھی بھی حقائق کے ذریعے ایک اچھی کہانی کو خراب نہیں کرنا چاہیے! امریکی صدر کے بیمار دماغ میں ایران دنیا کی سب سے بڑی برائی بن چکا ہے، ایک دہشت گرد ریاست، جس کے ناقابل ذکر جرائم کی ایک طویل فہرست ہے، جو مشرق وسطیٰ میں تمام مسائل اور انتشار کا ذریعہ ہے اور خود امریکی سیکیورٹی (بلکہ وجود) کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔
یہ اچھی کہانی ہے اور ایک ایسے ٹیلی وژن ڈرامہ کے لیے بہت موزوں ہے جو وائٹ ہاؤس کے رہائشی کو پسند ہیں۔
لیکن حقیقت میں اس قسم کے زیادہ تر ڈراموں میں سچائی کے ساتھ تعلق انتہائی کمزور ہوتا ہے بلکہ سچائی سر کے بل کھڑی ہوتی ہے۔
اگر ہم نے ایک ایسی ریاست کی نشاندہی کرنی ہی ہے جو پچھلی چند دہائیوں میں پوری دنیا میں سب سے زیادہ جنگ و جدل، انتشار، اموات اور تباہی کا موجب ہے تو پھر انگلی ایران کی جانب نہیں، بلکہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی جانب اٹھتی ہے۔
یہ کہہ کر ہم تہران میں موجود ملا ریاست کے اپنے جرائم کی پردہ پوشی نہیں کر رہے۔ لیکن اگر موازنہ کیا جائے تو امریکی سامراج کے وسیع پیمانے پر دہشت گردانہ، مجرمانہ جنگوں، جارحیت، قتل و غارت گری اور تباہی کے ریکارڈ کے سامنے یہ انتہائی ہیچ اور معمولی سے بھی کم تر ہے۔
اگر ہم مشرق وسطیٰ میں سب سے زیادہ انتشار، جنگوں اور دہشت گرد سرگرمیوں کا مرکزی مجرم تلاش کرنا چاہتے ہیں تو وہ یقیناً خطے میں امریکہ کا مرکزی اتحادی اور پراکسی اسرائیل ہے۔
کئی سالوں سے واشنگٹن نے اسرائیلی ریاست کو کھلی چھوٹ دے رکھی ہے کہ وہ مشرق وسطیٰ میں اپنی جارحانہ توسیع پسند پالیسیوں کو لاگو کرے۔
امریکہ نے اسے جنگی ہتھیاروں سے لیس کر رکھا ہے اور اس کی معیشت کو سبسڈیاں دے رہا ہے تاکہ وہ اپنے اہداف بلا توقف اور بغیر رکاوٹ کے حاصل کر سکے۔
اگر ہم غزہ میں اسرائیل کی جانب سے مسلط کردہ نسل کش جنگ اور مغربی کنارے میں فلسطینیوں پر وحشیانہ تشدد کو ایک طرف رکھ دیں تو بھی اسرائیل نے ہمسایہ ممالک کے خلاف مسلسل بلا اشتعال جارحیت کی پالیسی جاری رکھی ہے جن میں لبنان، شام، یمن، عراق اور ایران بھی شامل ہیں۔
یہ واضح ہے کہ ایران پر یہ جنگ امریکہ اور اس کے مجرم ساتھی اسرائیل نے مسلط کر رکھی ہے۔ یہ جنگی جنونی بنیامین نتن یاہو کی وحشیانہ پالیسیوں کا براہ راست تسلسل ہے جو پاگل ہو چکا ہے کہ کسی طرح اسرائیل کی مسلسل عدم اطمینان کی شکار عوام پر کنٹرول جاری رہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ نتن یاہو کی جانب سے ٹرمپ پر مسلسل دباؤ تھا جس پر اس نے ایران کے خلاف اعلان جنگ کیا ہے جب اس کی تمام بدمعاشیوں کے باوجود یہ حقیقت سب پر واضح ہے کہ امریکہ کو ایران سے کوئی خطرہ نہیں ہے۔
درحقیقت اس وقت ایران سے اسرائیل یا مشرق وسطیٰ کے کسی بھی ملک کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔ ایک دہشت گرد ریاست ہونے کے برعکس، جس کا مقصد جنگ و جدل ہو، ایران ہر ممکن کوشش کر رہا ہے کہ جنگ سے بچا جائے اور امریکہ کے ساتھ امن قائم ہو۔ یہ واضح ہے کہ تہران کے برعکس واشنگٹن اور یروشلم موجودہ جنگ کے موجب ہیں۔
امریکہ کے جنگی اہداف کیا ہیں؟
کسی بھی جنگ میں جارح قوتوں کو دو باتیں ذہن نشین ہونی چاہیے؛ ان کے اہداف کیا ہیں اور ممکنہ حتمی نتیجہ کیا ہے؟
ان واضح اہداف کے بغیر جنگ مسلسل پیچیدگیاں، تضادات اور حتمی طور پر شکست ہے۔
ایسا لگتا ہے ڈونلڈ ٹرمپ نشے میں دھت ایک شرابی ہے جو اس جنگ میں لڑکھڑا رہا ہے اور اسے کچھ سمجھ نہیں آ رہی کہ کونسی گلی میں وہ کس سمت میں بڑھ رہا ہے۔
اس شخص کا طریقہ واردات من موجی ہے۔ لیکن ایک جنگ میں یہ طریقہ کار جان لیوا ثابت ہوتا ہے۔
اس کو لگتا ہے کہ بے تحاشہ عسکری قوت چڑھا کر وہ قلیل مدت میں درکار نتیجہ حاصل کر سکتا ہے۔ ہم بعد میں بات کریں گے کہ کچھ وجوہات کی بنیاد پر وہ جارحیت میں طوالت سے ہر ممکن بچنا چاہتا ہے۔
لیکن مرکزی ہدف کیا ہے؟ اس کی کبھی وضاحت نہیں کی گئی۔ زیادہ درست بات یہ ہے کہ مختلف اوقات پر مختلف اہداف بتائے جاتے رہے ہیں۔
ریاست کے خلاف حالیہ عوامی احتجاجوں میں اس نے دھمکی دی کہ اگر ریاست مظاہرین پر کوئی تشدد کرے گی تو وہ عسکری قوت استعمال کرے گا۔
توقعات کے مطابق تشدد ہوا اور کئی مظاہرین قتل ہوئے۔ ڈونلڈ ٹرمپ جو تعداد بتا رہا ہے وہ یقینا مبالغہ آرائی ہے کیونکہ وہ یا کوئی بھی یقین سے نہیں بتا سکتا کہ حقیقی اعداد و شمار کیا ہیں۔
بہرحال، یہ کوئی اتنا اہم نہیں ہے کیونکہ احتجاجوں کے دوران یا فوری بعد کوئی اقدامات نہیں لیے گئے۔ آج اس سوال پر بات نہیں ہوتی یا پھر محض اشاروں میں تذکرہ ہو جاتا ہے۔
بظاہر مظاہرین کی قسمت کا مسئلہ صدر کی ترجیحاتی فہرست میں کافی نیچے ہے۔ اب وہ انہیں بتا رہا ہے کہ وہ سڑکوں پر نہ آئیں اور گھروں میں رہیں ورنہ وہ قتل ہو جائیں گے، ریاست کے ہاتھوں نہیں بلکہ امریکی بموں سے، جنہیں انہی کی مدد کے لیے برسایا جا رہا ہے!
دیگر اہداف میں ایران کے دور ہدف نشانہ بانے والے میزائلوں (Long-range missile) کا خاتمہ شامل ہے جن میں حالیہ سالوں میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے۔
لیکن سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ ایرانی اس قسم کا کوئی مطالبہ مذاکرات کے دوران مانیں گے کیونکہ اس کا مطلب اسرائیلی جارحیت کے سامنے غیر مسلح ہونا ہے۔ یعنی ایرانیوں کو خود کشی کرنے کا کہا جا رہا ہے۔
کیونکہ ایرانی کبھی یہ مطالبہ نہیں مانیں گے اور امریکی اور اسرائیلی انہیں کبھی بھی عسکری ذرائع سے ختم نہیں کر سکتے، اس لیے یہ ایک حقیقی جنگی ہدف نہیں ہو سکتا۔
اسی طرح مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ ایران خطے میں اپنے اتحادیوں جیسے غزہ میں حماس، لبنان میں حزب اللہ اور یمن میں حوثیوں کی معاونت ختم کرے۔ وہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ ایرانی مشرق وسطیٰ میں اپنے اتحادیوں کو تنہاء چھوڑ دے، ایک ایسے وقت میں جب ان اتحادیوں کی معاونت واضح طور پر ایک اہم عنصر بن رہی ہے۔ یہ بھی نہیں ہو سکتا۔
یہ مطالبہ کہ ایران اپنا جوہری پروگرام مکمل طور پر ختم کر دے، ناقابل عمل ہے۔
در حقیقت دنیا کی کوئی خودمختار ریاست یہ مطالبہ نہیں مانے گی جو بنیادی ترین حق کا ناقابل برداشت رد ہے۔
اس لیے حتمی طور پر ہمارے سامنے ایک ہی ہدف بچا ہے، اور جسے اب امریکہ کا صدر کھلے عام پیش کر رہا ہے: امریکہ کا ایک ہی ہدف ہے یعنی ملا ریاست کا خاتمہ۔
درحقیقت اس ریاست کا خاتمہ ہی اول و آخر مقصد تھا۔ یہ اسرائیلیوں اور امریکی سامراجی اسٹیبلشمنٹ کا عرصہ دراز سے ہدف ہے۔
12روزہ جنگ میں ایران کے خلاف پہلا اسرائیلی حملہ تہران میں حکومت کے اکابرین کو قتل کر کے خاتمے کی ایک کوشش تھی۔ وہ کئی ممتاز ایرانی عسکری قائدین کو قتل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ لیکن اپنا مقصد حاصل نہیں کر سکے۔
ریاست قائم رہی اور اس نے میزائل حملوں کا ایسا جواب دیا جس نے اسرائیل کو انتہائی خطرناک پوزیشن میں لا کھڑا کیا۔ صرف اس وجہ سے ٹرمپ نے جنگ بندی کا فیصلہ کیا تھا۔
اب ایسا لگ رہا ہے کہ تاریخ اپنے آپ کو دوہرا رہی ہے۔ لیکن اب صورتحال مکمل طور پر مختلف ہے اور اس کا نتیجہ بھی شاید مختلف ہو گا۔
ایرانی قائدین کو ہدف بنانا
سیٹلائیٹ تصاویر سے معلوم ہو رہا ہے کہ ایران کے عظیم قائد علی خامنہ ای کا کمپاؤنڈ مکمل طور پر تباہ و برباد ہو چکا ہے اگرچہ اس تحریر کے وقت کوئی تصدیق نہیں ہے کہ وہ کمپاؤنڈ میں موجود تھا یا نہیں۔ یہ واضح ہے کہ امریکی اور اسرائیلی ایرانی حکومت کے کلیدی قائدین کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
اس دوران سرکاری اسرائیلی ذرائع دعویٰ کر رہے ہیں کہ پاسداران انقلاب کا قائد محمد پاکپور، ایرانی انٹیلی جنس چیف اور وزیر دفاع آج صبح حملوں میں مارے جا چکے ہیں۔
لیکن فی الحال ان میں سے کوئی دعویٰ تصدیق شدہ نہیں ہے۔
اس دوران ایران میں شہریوں کی ہلاکتوں کی رپورٹیں آ رہی ہیں۔
جنوبی ایران کے ہورموزگان (Hormozgan) صوبے کے ایک شہر میناب (Minab) میں بچیوں کے ایک سکول پر اسرائیلی حملے کے نتیجے میں 80 سے زیادہ طالبات ماری جا چکی ہیں۔ ہلاکتوں میں اضافے کے ساتھ عوام میں غم و غصہ مسلسل بڑھتا جائے گا۔
اس حقیقت کے پیش نظر اس بات میں کوئی دم نہیں ہے کہ امریکی حملوں کے نتیجے میں حکومت تبدیل ہو رہی ہے۔ اگرچہ عوام کا ایک بڑا حصہ اس ریاست سے نفرت کرتا ہے لیکن امریکی سامراج اور اسرائیل سے ان کی نفرت کئی گنا زیادہ ہے۔
اس لیے ان کو ممکنہ طور پر نجات دہندہ کے طور پر دیکھنا فضول ہے۔ اور ایسا ہو گا بھی نہیں۔
ایرانی ردعمل
ایرانی پارلیمنٹ کے قومی سیکیورٹی کمیشن کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے خبردار کیا ہے کہ ایران ایک ”کچلنے والا“ ردعمل دے گا۔ اس نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ ”ہم نے تمہیں خبردار کیا تھا! اب تم نے وہ راستہ چنا ہے جس کا اختتام تمہارے کنٹرول میں نہیں ہے“۔
جب ایران پر حملے شروع ہوئے تو انہوں نے ایک گھنٹہ سے بھی کم وقت میں میزائل داغنے شروع کر دیے۔ پورے اسرائیل میں تل ابیب، یروشلم اور حیفہ سمیت دھماکے ہوئے جبکہ اسرائیلی فضائی دفاعی نظام میزائیلوں کو مار گرانے کی کوشش کرتا رہا۔
رپورٹیں ہیں کہ ایرانی میزائل امریکی عسکری اڈوں پر بھی مارے گئے ہیں جو پورے خطے میں موجود ہیں۔ ان میں قطر میں العدید ائر بیس، کویت میں السالم ائر بیس، عرب امارات میں الدافرہ ائر بیس اور بحرین میں امریکی پانچویں فلیٹ کا ہیڈکوارٹر شامل ہیں۔ ریاض، سعودی عرب میں دھماکے سنے جا سکتے ہیں۔
یمن میں حوثیوں نے اعلان کیا کہ وہ اسرائیل پر جلد ہی حملے شروع کریں گے۔ اس دوران عراق میں ایران کی ایک اتحادی ملیشیاء نے اعلان کیا ہے کہ وہ ”امریکی اڈوں پر جلد حملے شروع کریں گے“۔
یورپ کی لاچارگی
ان واقعات نے عالمی سطح پر یورپ کی لاچارگی مکمل طور پر واضح کر دی ہے۔ یورپیوں سے کوئی مشورہ نہیں کیا گیا اور نہ ہی انہیں امریکہ کے منصوبوں کے بارے میں مطلع کیا گیا۔ ون در لین (Von der Leyen) نے واویلا کیا کہ:
”ایران میں صورتحال بہت تشویشناک ہے۔ ہم خطے میں اپنے رفیقوں کے ساتھ قریبی رابطے میں ہیں۔ ہم علاقائی سیکیورٹی اور استحکام کے لیے اپنے ثابت قدم عزم کا اعلان کرتے ہیں۔ انتہائی اہم ہے کہ جوہری تحفظ کو یقینی بنایا جائے اور ایسے کسی اقدام کو روکا جائے جو تناؤ کو مزید بڑھائے یا عالمی جوہری عدم پھیلاؤ کو خطرے میں ڈال دے۔ ہم تمام فریقین سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ بھرپور ضبط کا مظاہرہ کریں، شہریوں کی حفاظت کریں اور عالمی قانون کی عزت کریں۔“
یہ فضول، لایعنی الفاظ کی مسلسل چگالی ہے!
لیکن ناروے کے وزیر خارجہ نے الگ پوزیشن لی ہے کیونکہ اس نے کہا ہے کہ ایران پر حملے عالمی قانون کی خلاف ورزی ہیں اور ایک سفارتی حل کا مطالبہ کیا ہے۔
لیکن لندن سے آنے والے پُر تضاد اعلامیوں نے واضح کر دیا ہے کہ یورپ ان واقعات پر اپنا رد عمل دینے کے حوالے سے مکمل طور پر انتشار کا شکار ہے۔
ایک گمنام برطانوی حکومتی نمائندے نے کہا ہے کہ ”ہم جنگ میں مزید وسعت کے نتیجے میں علاقائی پھیلاؤ نہیں دیکھنا چاہتے۔“
لیکن بعد کے ایک اعلامیے میں وزیراعظم کیئر سٹارمر نے کہا ہے کہ برطانیہ خطے میں جنگی ہوائی جہاز بھیجے گا، اگرچہ اس کا مقصد کیا ہو گا، یہ نہیں بتایا گیا۔
بہرحال یہ واضح ہے کوئی بھی اس بات پر کان نہیں دھرتا کہ یورپی کیا بک بک کر رہے ہیں۔
اب کیا ہو گا؟
نپولین نے کہا تھا کہ جنگ سب سے زیادہ پیچیدہ گتھی ہے۔ کسی بھی جنگ کے نتائج کی پہلے سے پیش گوئی کرنا ہمیشہ انتہائی مشکل رہا ہے کیونکہ کئی نامعلوم عناصر کو پہلے سے جاننا اگر ناممکن نہیں تو انتہائی مشکل ضرور ہے۔
موجودہ جنگ بھی مختلف نہیں ہے۔ اس کے کئی نتائج برآمد ہو سکتے ہیں، جن کا انحصار حقیقی قوتوں کا توازن ہو گا اور یہ اپنے آپ کو جنگ کے دوران ہی واضح کرے گا۔
ان نتائج کا جنگ میں ملوث فریقین کی مرضی منشاء کے مطابق رونماء ہونا لازم نہیں ہے۔ درحقیقت یہ دونوں چیزیں اکثر اوقات ایک دوسرے کے متضاد ہی ہوتی ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا واضح ہدف ہے کہ ایران میں ریاست تبدیل ہو۔ لیکن اب وہ یقیناً کسی خوش فہمی کا شکار نہیں ہو گا کہ یہ کام آسان ہے۔ اس کے جرنیل اسے خبردار کر چکے ہیں کہ یہ نتیجہ قطعی طور پر یقینی نہیں ہے۔
پھر انہوں نے اسے کہہ رکھا ہے کہ ایک قلیل مدت میں یہ کام تو بالکل بھی نہیں ہو سکتا۔ لیکن وقت ہی تو وہ اصل شے ہے جو امریکیوں کے پاس بڑی مقدار میں موجود نہیں ہے۔
مغرب میں عمومی سوچ کے برعکس کہ امریکی معاشی اور عسکری وسائل لامحدود ہیں، حقائق اس کے بالکل منافی ہیں۔
حالیہ سالوں میں مسلسل جنگ و جدل میں شرکت نے امریکی ہتھیاروں کا ذخیرہ خطرناک حد تک کم کر دیا ہے۔ کئی قلتیں موجود ہیں جن میں خاص طور پر پیٹریاٹ (Patriot) جیسے فضائی دفاعی میزائل موجود ہیں۔
یوکرین جنگ نے خاص طور پر امریکی وسائل، مالیاتی اور عسکری، دونوں پر دیوہیکل دباؤ ڈالا ہے۔
اب نتیجہ واضح ہے۔ کچھ اندازوں کے مطابق، امریکہ ایران کے ساتھ جنگ پانچ سے دس دنوں تک ہی لڑ سکتا ہے، اس سے زیادہ نہیں۔
چند دن پہلے، فنانشل ٹائمز نے ایک مضمون ”دفاعی اسلحہ کی قلت ایران پر حملے کو واضح کرے گی“ شائع کیا۔
مضمون کے آغاز میں ہمیں بتایا جاتا ہے کہ ”امریکہ اور اسرائیل پچھلے سال کی 12 روزہ جنگ میں غیر معمولی رفتار سے انٹرسیپٹر (دفاعی) میزائل ختم کر چکے ہیں“۔ مضمون میں تجزیہ ہے کہ:
”اہلکاروں اور تجزیہ کاروں کے مطابق تہران کے میزائلوں سے امریکی فورسز اور اتحادیوں کے تحفظ کے لیے کلیدی دفاعی اسلحہ کی قلت ایران کے خلاف جارحیت کو حتمی شکل دے گی۔“
12روزہ جنگ کے دوران ایران نے اسرائیل پر 500 سے زیادہ میزائل داغے تھے۔ 35 اسرائیل کے کثیر سطحی فضائی دفاعی نظام کو چیرنے میں کامیاب ہو گئے تھے۔ یہ کئی اسرائیلوں کے لیے بہت بڑا ذہنی صدمہ تھا جنہیں یہی سیکھایا گیا ہے کہ نام نہاد آئرن ڈوم فضائی دفاعی نظام ناقابل تسخیر ہے۔
ایران کے پاس کئی ہزار میزائل ذخیرہ ہیں جن سے وہ اسرائیل پر امریکیوں اور اسرائیلیوں کے دفاعی مقابلے سے کہیں زیادہ شدت سے دیر تک بمباری کرنے کی اہلیت دے گا، اگر امریکہ میں اسلحہ سازی کے مسئلے کو مدنظر رکھا جائے۔
اس لیے ٹرمپ امید لگائے بیٹھا ہے کہ جنگ چھوٹی ہو گی اور پچھلے سال کی طرح وہ اسے جلدی ختم کر دے گا۔ لیکن اب یقینی نہیں ہے کہ وہ یہ کام کر سکتا ہے۔
اب وہ ایک ”محدود حملہ“ کی بات اس امید پر کر رہا ہے کہ ایرانی پچھلے سال کی طرح کچھ ضبط کا مظاہرہ کریں گے۔
لیکن ایرانیوں نے خبردار کر رکھا ہے کہ اس مرتبہ ٹرمپ جنگ شروع کر سکتا ہے، اسے ختم نہیں کر سکتا۔ یہ فیصلہ ایرانی کریں گے جنہیں اب وائٹ ہاؤس کے رہائشی کو خوش کرنے کی جلدی نہیں ہو گی۔ آخر وہ ایسا کیوں کریں؟
جنگ کی طوالت اور امریکہ اور اسرائیل کے پاس میزائیلوں کی فوری قلت ان کے لیے شدید مسائل پیدا کرے گی۔
جلد یا بدیر ٹرمپ ایک شرمناک اور بدنام شکست سے دوچار ہو گا۔
امریکہ میں اس کی ساکھ تار تار ہو جائے گی جو نومبر میں ہونے والے انتخابات کے تناظر میں اس کے لیے اہم ترین مسئلہ ہے۔
ٹرمپ ایک شدید مسئلے میں پھنس چکا ہے۔ اس کی معاشی پالیسی متوقع نتائج حاصل کرنے میں ناکام ہو چکی ہے اور اس کی حامی MAGA تحریک میں مسلسل بے چینی بڑھ رہی ہے۔
اسی وجہ سے وہ مشرق وسطیٰ میں اس مہم جوئی میں گھسا ہے جس کے بارے میں اس نے وعدہ کیا تھا کہ وہ ایسا کبھی نہیں کرے گا۔
وہ ایک جواری ہے اور اس نے سوچا کہ ایران کے ساتھ آسان اور فوری جنگ ہو گی جس کا اختتام فتح ہو گا، حکومت گر جائے گی اور ایک امریکہ نواز حکومت تہران میں تعینات ہو جائے گی۔
لیکن عادی جواریوں کے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ ہر بار ان کا جواء کامیاب نہیں ہوتا۔ اکثر اوقات بربادی ان کا مقدر ہوتی ہے۔
مشرق وسطیٰ میں ایک تباہ کن جنگ کا مطلب ڈونلڈ ٹرمپ کے عزائم کی موت ہے اور اس کے ساتھ ایک شرمناک شکست، اقتدار کا خاتمہ، عزت کا خاتمہ، اس کو محبوب ہر چیز کا خاتمہ۔
نتائج
اب متبادل نتائج کیا ہو سکتے ہیں؟ سب سے پہلے ڈونلڈ جے ٹرمپ کو جس کی امید ہے وہ چھوٹی، کامیاب جنگ، حکومت کا خاتمہ، ایک عوامی بغاوت اور ایران میں ایک امریکہ نواز حکومت کا قیام ہے۔
اگرچہ ایسے امکان کو مکمل طور پر رد نہیں کیا جا سکتا لیکن موجودہ حالات میں اس کے امکانات بخارات بن کر اڑ رہے ہیں۔ میں کہوں گا کہ یقینی طور پر ایسا کچھ نہیں ہو گا۔
اتفاق سے اگر امریکی موجودہ حکومت کو ختم کرنے میں کامیاب ہو بھی جاتے ہیں تو ضروری نہیں کہ نتیجہ ان کی مرضی کا ہو۔ ہمیں یاد ہونا چاہیے کہ حکومت کو تبدیل کرنے کی تمام امریکی کوششوں کے تباہ کن نتائج برآمد ہوئے ہیں۔ عراق، شام اور لیبیا کی مثالیں موجود ہیں۔
ایران میں موجودہ حکومت کے خاتمے کے بعد زیادہ امکان ہے کہ انتشار پھیلے جس میں ایرانی سماج میں موجود تمام تضادات سطح پر آ کر تشدد، قومی اور فرقہ وارانہ جنگ و جدل میں اپنا بھرپور اظہار کریں گے اور وہ سب کچھ ہو گا جو ہم نے دیگر ممالک میں امریکہ کی مداخلت کے نتیجے میں ہوتا دیکھا ہے۔
اس کے نتیجے میں پورے مشرق وسطیٰ میں خوفناک انتشار، جنگیں اور بحران پیدا ہو گا جو عوام کے لیے ایسی خوفناک صورتحال پیدا کرے گا جو کئی دہائیاں جاری رہ سکتی ہے۔
یہ کوئی اچھا تناظر نہیں ہے!
دوسرا نتیجہ یہ ہو سکتا ہے کہ حکومت پہلا حملہ برداشت کر لے گی۔ اگرچہ بمباری شدید تباہی اور نقصان پھیلائے گی جس کے اثرات سنجیدہ تو ہوں گے لیکن فیصلہ کن نہیں۔
سادہ الفاظ میں امریکہ اور اسرائیل فوری فتح حاصل کر لیں ورنہ جنگ کی طوالت کے ساتھ انہیں شدید مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا۔
ویتنام جنگ میں ہنری کسنجر (Henry Kissinger) نے کہا تھا کہ ”ہم ہار رہے ہیں کیونکہ ہم جیت نہیں رہے۔ اور وہ (ویتنامی) جیت رہے ہیں کیونکہ وہ ہار نہیں رہے۔“
یہی دلیل ایران کے حوالے سے اور بھی زیادہ ٹھوس ہے۔ حکومت کو اپنے آپ کو قائم رکھنا ہے، اپنا ڈھانچہ برقرار رکھتے ہوئے انتظار کرنا ہے۔ اس کے ساتھ ان اہداف کو تباہ و برباد کرنا ہے جن سے امریکہ کو شدید نقصان ہو اور ایرانی صلاحیت کے عین مطابق ہو۔
سب سے واضح ہدف تو آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) ہے جو عالمی تجارت کے لیے اہم ترین شاہراہوں میں سے ایک ہے۔ اس کی بندش کا عالمی معیشت پر تباہ کن اثر پڑے گا۔
حتمی طور پر امریکہ کو شکست مانتے ہوئے کسی قسم کا سمجھوتہ کرنا پڑے گا۔
درحقیقت یہ بعید القیاس نہیں کہ درپردہ امریکیوں اور ایرانیوں کے درمیان خفیہ مذاکرات جاری ہوں کہ مکمل تباہی و بربادی سے بچا جا سکے۔
اس وقت ایسا لگتا ہے کہ یہ ممکن نہیں ہے۔ ایک دوسرے پر الزامات، گالم گلوچ، عسکری قوتوں کا دیوہیکل اکٹھ اور سب سے بڑھ کر وائٹ ہاؤس میں ایک ڈھیٹ انسان، ان سب کا امتزاج اشارہ دے رہا ہے کہ لڑائی میں شدت آئے گی۔
یہ سب سے زیادہ ممکنہ نتیجہ ہے۔ لیکن کیا کہا جا سکتا ہے؟ عالمی خفیہ سفارت کاری کی دھندلی دنیا کا وجود بند دروازوں کے پیچھے ہے جس میں مخصوص حالات میں ناقابل یقین معاہدے ہو جاتے ہیں۔
ہمیں یہ سوال کھلا چھوڑنا ہے کیونکہ یہ کہنا ناممکن ہے کہ اس جنگ کا نتیجہ کیا ہو گا۔
جنگ کی طرف ہمارا رویہ
جنگ کی طرف کمیونسٹوں کا رویہ ہمیشہ ٹھوس ہوتا ہے۔ اس کی بنیاد اخلاقیات یا جذباتی لگاؤ پر نہیں ہوتی بلکہ ہر موقع پر عالمی پرولتاریہ انقلاب کے عمومی مفادات ہوتے ہیں۔
ہمارا رویہ کبھی بھی اس طرح کے فضول سوالات کی بنیاد پر نہیں ہوتا کہ پہلے کس نے حملہ کیا۔ اکثر جو ممالک ایک دفاعی جنگ لڑتے ہیں انہیں مجبوراً پہلا جارحانہ قدم اٹھانا پڑتا ہے۔
لیکن ہمیں ایک چیز پر بالکل واضح ہونا چاہیے۔ امریکا دنیا کی سب سے وحشی، رجعتی اور رد انقلابی قوت ہے۔
اور بطور انٹرنیشنل اسٹ یہ ہمارا فرض ہے کہ ہم اس رد انقلابی وحشی اور اس کی اسرائیلی پراکسیوں کے خلاف اپنی قوتوں کے مطابق ایک غیر مصالحانہ جنگ لڑیں۔
اگر کبھی کسی ایک ملک کے خلاف بلااشتعال جارحیت کی مثال دی جائے گی تو یقینا موجودہ مثال سرفہرست ہو گی۔
انقلابی کمیونسٹ انٹرنیشنل اپنی پوزیشن بغیر ابہام کے مکمل طور پر واضح کرتی ہے:
ہم امریکی سامراج اور اس کی اسرائیلی پراکسیوں کے جارحانہ اقدامات کے خلاف ایران کے حق دفاع کی غیر مشروط حمایت کرتے ہیں۔
اس کا مطلب یہ ہر گز نہیں ہے کہ ہم تہران میں موجود حکومت کی حمایت کرتے ہیں۔ لیکن اس حکومت کا مقابلہ کرنے کا حق ایرانی عوام اور صرف ایرانی عوام کو حاصل ہے۔ وہ کسی صورت امریکی سامراج سے اس مسئلے کے حل کی امید نہیں کر سکتے۔
سب سے بڑھ کر ہم رجعتی سامراجی جنگوں کے مخالف ہیں اور تمام استحصال زدہ عوام کے حقیقی دشمن کے خلاف اتحاد کے حامی ہیں۔ حقیقی دشمن وحشی سامراجیت اور اس کی پشت پر کھڑا سرمایہ دارانہ نظام ہے۔




















In defence of Marxism!
Marxist Archives
Progressive Youth Alliance