|تحریر: فرحان، چنیوٹ|
انسان کی فکری زندگی محض حادثات کا مجموعہ نہیں ہوتی بلکہ وہ مشاہدات، تجربات اور داخلی کشمکش کے ایک مسلسل عمل سے جنم لیتی ہے۔ میرا نام فرحان ہے، میں کالج کا طالبِ علم ہوں اور میری عمر سولہ برس ہے۔ میری اپنی زندگی بھی اسی اصول کی آئینہ دار ہے۔ میں کسی موروثی نظریاتی پس منظر کا حامل نہ تھا، نہ ہی ابتدا میں سیاست یا فلسفے سے کوئی خاص شغف رکھتا تھا، مگر وقت کے ساتھ ساتھ حالاتِ زمانہ نے میرے شعور کو جھنجھوڑا اور مجھے اس راہ کی جانب مائل کیا جسے آج میں اپنی فکر کا مرکز تصور کرتا ہوں۔
ابتدائی طور پر میں نے اپنے اردگرد ایک ایسا سماج دیکھا جو شدید طبقاتی تضادات کا شکار تھا۔ ایک طرف چند افراد کی بے پناہ دولت اور اختیار تھا جبکہ دوسری جانب محنت کش عوام اپنی بنیادی ضروریات سے بھی محروم دکھائی دیتے تھے۔ یہ ناہمواری میرے ذہن میں سوالات کو جنم دینے لگی کہ آخر ایسا کیوں ہے۔ کیا یہ محض تقدیر کا کھیل ہے یا اس کے پیچھے کوئی منظم نظام کارفرما ہے۔
انہی سوالات کی تلاش میں میں نے مختلف نظریات کا مطالعہ شروع کیا۔ سرمایہ داری کے اصولوں کو سمجھنے کی کوشش کی مگر جلد ہی یہ حقیقت مجھ پر عیاں ہو گئی کہ یہ نظام بنیادی طور پر استحصال پر قائم ہے جہاں محنت کش کی محنت کا پھل چند سرمایہ داروں کی جھولی میں جا گرتا ہے۔ اس ادراک نے میرے اندر ایک بے چینی پیدا کی ایک ایسی بے چینی جو محض فکری نہ تھی بلکہ اخلاقی بھی تھی۔
اسی دوران میرا تعارف کمیونزم کے نظریے سے ہوا۔ میں نے جب اس کے اصولوں، برابری، اجتماعی ملکیت اور استحصالی ڈھانچوں کے خاتمے کا مطالعہ کیا تو مجھے یوں محسوس ہوا جیسے میرے ذہنی سوالات کو ایک واضح اور مدلل جواب مل گیا ہو۔ یہ نظریہ محض ایک سیاسی مؤقف نہ تھا بلکہ ایک مکمل فلسفہ حیات کے طور پر میرے سامنے آیا۔
تاہم محض نظریاتی ہم آہنگی کافی نہ تھی۔ میں نے عملی میدان میں بھی اس نظریے کے اثرات اور اس کے لیے جدوجہد کرنے والوں کی زندگیوں کا مشاہدہ کیا۔ ان کی قربانیاں، ان کا عزم اور ان کا انسان دوستی پر مبنی نظریہ میرے لیے نہایت متاثر کن تھا۔ میں نے محسوس کیا کہ اگر میں واقعی اس ناانصافی کے خلاف آواز بلند کرنا چاہتا ہوں جسے میں روز دیکھتا ہوں تو مجھے محض ایک مبصر کا نہیں بلکہ ایک فعال کردار ادا کرنا ہو گا۔
چنانچہ میں نے انقلابی کمیونسٹ پارٹی میں شمولیت اختیار کی۔ یہ فیصلہ کسی جذباتی جوش کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ ایک طویل فکری سفر، عمیق مطالعے اور ذاتی تجربات کا نچوڑ تھا۔ میں نے اس جماعت میں شامل ہو کر نہ صرف اپنے نظریات کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش کی بلکہ ایک ایسے معاشرے کے قیام کی جدوجہد کا حصہ بننے کا عہد کیا جو انصاف، مساوات اور انسانی وقار پر مبنی ہو۔
آج جب میں اپنے اس سفر پر نظر ڈالتا ہوں تو مجھے یقین ہوتا ہے کہ یہ راستہ آسان نہیں مگر درست ضرور ہے۔ یہ محض ایک سیاسی وابستگی نہیں بلکہ ایک اخلاقی ذمہ داری بھی ہے، ایک عہد کہ ہم ایک بہتر منصفانہ اور مساوی دنیا کے قیام کے لیے اپنی تمام تر توانائیاں وقف کریں گے۔
اس وقت کالج کے طلبہ کے لیے بے حد ضروری ہے کہ وہ اپنے عہد کے سماجی و معاشی حقائق کا گہرا شعور حاصل کریں اور خاموش تماشائی بننے کی بجائے ایک فعال کردار ادا کریں، کیونکہ آج کی یہی نوجوان نسل دراصل مستقبل کی معمار ہے۔ چنانچہ انقلابی کمیونسٹ پارٹی میں شمولیت ان کے لیے محض ایک سیاسی انتخاب نہیں بلکہ ایک بلند پایہ اخلاقی و فکری عہد کی حیثیت رکھتی ہے، جو انہیں ظلم و استحصال کے خلاف منظم جدوجہد کا شعور عطا کرتی ہے اور ایک ایسے عادلانہ و مساوی معاشرے کے قیام میں عملی شرکت کا موقع فراہم کرتی ہے، جہاں انسانی وقار، برابری اور اجتماعی فلاح کو بنیادی حیثیت حاصل ہو اور یوں وہ نہ صرف اپنی فکری تکمیل کا سامان کرتے ہیں بلکہ پوری انسانیت کے بہتر مستقبل کی تعمیر میں بھی مؤثر کردار ادا کرتے ہیں۔ طلبہ کو چاہیے کہ زمانے کو بدلنے کے لیے اپنے حقوق کا ادراک حاصل کریں اور تمام مسائل کی بنیاد یعنی سرمایہ دارای کو ایک سوشلسٹ انقلاب کے ذریعے کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں۔
















In defence of Marxism!
Marxist Archives
Progressive Youth Alliance