|رپورٹ: انقلابی کمیونسٹ پارٹی|
4،5 اپریل کو ایسے وقت میں جب پاکستان میں محنت کش عوام تاریخ کے بدترین معاشی و سیاسی حملوں کا شکار ہیں، جہاں محنت کش عوام کا اپنے مسائل کے حل کے لیے احتجاج کرنا تو دور اکٹھا ہونا بھی پاکستان کے حکمران طبقے نے جرم بنا دیا ہے۔ عین اسی وقت میں لاہور میں پاکستان بھر سے آئے انقلابی کمیونسٹوں کا دو روزہ اجلاس کوئی معمولی واقعہ نہیں۔ یہ اِس عام اور حاوی منطق کے خلاف ایک قدم تھا جو آپ کو ان مشکل حالات میں چپ رہنے اور مصلحت کا درس دیتی ہے۔ پاکستان کے محنت کش طبقے کے لیے تو حالات کبھی بھی اچھے نہیں رہے، موجودہ حالات نے ان کی پہلے سے موجود مشکلات اور بڑھا دی ہیں اور محنت کش تو مسلسل ایک لڑائی کے عمل میں ہیں۔ وہ ان حالات سے تھک کر یا مایوس ہو کر پیچھے نہیں ہٹتے اور نہ ہی مصلحت نام کی کوئی دوا ان کی مشکلات کم کر سکتی ہے۔ پاکستان کا محنت کش طبقہ مسلسل لڑائی لڑ رہا ہے۔ مخصوص حالات میں جب یہ لڑائی شدت اختیار کر جاتی ہے تو محنت کش طبقہ بھی آخر تک لڑتا ہے اور سیاست کے بڑے میدان میں قدم رکھتے ہی تاریخ کے دھارے کو بدل کر رکھ دیتا ہے۔ ایسے میں محنت کش طبقے کے نمائندہ انقلابی کمیونسٹ اسی عزم، جستجو اور ولولے کے ساتھ پورے پاکستان سے دو روزہ کانگریس میں شریک ہوئے اور یہ محض جذباتی لوگوں کا اکٹھ نہیں تھا بلکہ اس کا مقصد جنگوں، خانہ جنگیوں اور انقلابات سے گھِری دنیا کو سمجھنا تھا تاکہ اس کو بدلنے کے لیے کمیونزم کے انقلابی نظریات سے لیس ایک انقلابی قوت تعمیر کی جا سکے جو ایک سوشلسٹ انقلاب کے ذریعے سرمایہ داری کا ہمیشہ ہمیشہ کے لیے خاتمہ کر کے اس دنیا کو بدل کر رکھ دے۔
کانگریس کے انعقاد سے ایک دن پہلے ہی پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 42.7 فیصد جبکہ ایک ماہ میں مجموعی طور پر 70 فیصد اضافہ ہوا جس وجہ سے سفری اخراجات میں بڑے پیمانے پر اضافہ ہوا مگر اس کے باوجود بلوچستان سے لے کر خیبر پختونخوا اور کشمیر سمیت ملک کے طول و عرض سے 225 انقلابی کمیونسٹوں نے شرکت کی۔ جبکہ انقلابی کمیونسٹ انٹرنیشنل سے کامریڈ راب سیول اور ڈنمارک اور کینیڈا سے بھی انقلابی کمیونسٹ انٹرنیشنل کے وفود کانگریس میں شرکت کے لیے ایک ایسے وقت میں پاکستان تشریف لائے جب ایران پر امریکی و اسرائیلی جارحیت کے بعد پاکستان سمیت جنگ سے متاثرہ دیگر ممالک سے یورپی اپنے ممالک واپس جا رہے ہیں۔ ان وفود کی شرکت انٹرنیشنلزم کی اہمیت کا عملی اظہار تھی۔ کانگریس ایک ایسے وقت میں بھی ہو رہی تھی جب انقلابی کمیونسٹ پارٹی کے مرکزی راہنما احسان علی ایڈووکیٹ گلگت بلتستان کے عوام کی بنیادی حقوق کی لڑائی لڑنے کی پاداش میں دہشت گردی کے بے بنیاد مقدمات پر 10 مارچ سے گرفتار ہیں جبکہ گلگت بلتستان سے دیگر کامریڈز کی گرفتاریوں کے لیے بھی چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ کانگریس کے آغاز میں ان کامریڈز کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔ اس کے بعد انقلابی کمیونسٹ انٹرنیشنل کے وفود کو زبردست تالیوں کے ساتھ سٹیج پر خوش آمدید کہا گیا۔ مجموعی طور پر کانگریس پانچ سییشنز پر مشتمل تھی۔
عالمی تناظر 2026ء: جنگیں اور انقلاب
کانگریس کا پہلا سیشن عالمی تناظر پر تھا جس کا مقصد عالمی سطح پر وقوع پذیر ہونے والے حالیہ واقعات کو کمیونسٹ نقطہ نظر سے سمجھنا تھا۔ اس سیشن کو چیئر لاہور سے کامریڈ ثناء اللہ جلبانی نے کیا جبکہ اس پر لیڈ آف انقلابی کمیونسٹ انٹرنیشنل کے مرکزی راہنما کامریڈ راب سیول نے دی اور ترجمہ کامریڈ آدم پال نے کیا۔ راب نے گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے کہا ہم جس عہد میں داخل ہو چکے ہیں، ہم نے اپنی زندگیوں کے اندر اتنا تباہ کن اور اتنے بڑے اثرات مرتب کرنے والا عہد کبھی نہیں دیکھا۔ ایک بہت گہرا بحران پوری دنیا پر بدترین اثرات مرتب کر رہا ہے۔ اس وقت سب کی نظریں مشرقِ وسطیٰ خصوصاََ ایران کی صورتحال پر جمی ہوئی ہیں۔ یہ صورتحال کوئی مقامی سطح کا سوال نہیں ہے، خطے کی سطح کا سوال نہیں ہے بلکہ یہ عالمی سطح پر اثرات مرتب کر رہا ہے۔ دنیا کے ایک کونے میں ہونے والا یہ واقعہ پوری دنیا میں سرمایہ دارانہ نظام کے تضادات کو تیز رفتار کرنے کا باعث بن رہا ہے۔ ایک عمل انگیز کا کردار ادا کر رہا ہے۔ پوری دنیا اپنے الٹ میں تبدیل ہوتی جا رہی ہے۔ کہیں کوئی استحکام نہیں، ہر جگہ عدم استحکام ہے اور اب یہ ایک نیا معمول ہے۔

راب نے گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے کہا ہم جس عہد میں داخل ہو چکے ہیں، ہم نے اپنی زندگیوں کے اندر اتنا تباہ کن اور اتنے بڑے اثرات مرتب کرنے والا عہد کبھی نہیں دیکھا۔
ہر کوئی کہہ رہا ہے کہ ٹرمپ اس تمام صورتحال کو پیدا کرنے کا ذمہ دار ہے۔ ٹرمپ کا آنا کوئی حادثہ نہیں۔ ٹرمپ امریکی سرمایہ داری کے بحران کے نتیجے میں صدر بنا تھا۔ ٹرمپ سرمایہ داری کے تضادات کا مجسم اظہار ہے۔ راب نے امریکہ کی سامراجی طاقت کے زوال کو واضح کیا جو اب ایران جنگ میں مزید واضح ہو گیا ہے۔ لینن نے اپنی کتاب’’سامراج، سرمایہ داری کی حتمی منزل“ میں وضاحت کی تھی کہ جنگ سرمایہ دارانہ نظام کی ناگزیر پیداوار ہے۔ جس میں سرمایہ دار ممالک، جو اپنے ہاں پیداوار میں سرمایہ کاری سے منافع حاصل کرنے سے قاصر ہوتے ہیں اور پھر وہ دنیا کو آپس میں تقسیم کرنے اور غریب ممالک کو اپنے سرمایہ داروں کے فائدے کے لیے محکوم بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔
آج امریکہ کی بالادستی کو نئی ابھرتی ہوئی سامراجی طاقتوں، خاص طور پر چین کی طرف سے چیلنج کیا جا رہا ہے۔ منڈیوں اور اثر و رسوخ پر قبضہ حاصل کرنے کی دوڑ کے باعث ہر قسم کی پراکسی جنگیں جنم لے رہی ہیں۔ بڑی سامراجی طاقتوں کے دباؤ میں آ کر دنیا بھر کے ممالک نے دوبارہ عسکریت پسندی کے لیے اربوں ڈالر مختص کیے ہیں، جن کی قیمت اب محنت کش طبقے کو چکانا پڑ رہی ہے۔ اسی صورتحال میں ہم عالمی سطح پر طبقاتی جنگ میں اضافہ ہوتے ہوئے دیکھ رہے ہیں، نیپال، انڈونیشیا اور دیگر ممالک میں جین زی انقلابات سے لے کر اٹلی میں فلسطین کے لیے ہونے والی عام ہڑتال اس کا واضح ثبوت ہیں۔ ان تمام تحریکوں میں اتنی طاقت موجود ہے کہ یہ سرمایہ دارانہ نظام کو اکھاڑ سکتے ہیں۔ لیکن ہمیں تاریخ سیکھاتی ہے کہ انقلابات کی کامیابی کے لیے انقلابی قیادت کا ہونا ضروری ہے۔ راب نے سیشن کا اختتام اسی بات پر کیا کہ یہی وقت ہے کہ تیز تر بنیادوں پر انقلابی کمیونسٹ انٹرنیشنل کی تعمیر کی جائے۔ اس سیشن میں کینیڈا اور ڈنمارک سے شامل ہونے والے مندوبین نے بھی گفتگو کی۔
پاکستان تناظر
کھانے کے وقفیکے بعد پہلے دن کا دوسرا سیشن پاکستان میں انقلاب کے تناظر پر تھا۔ اس سیشن کو چیئر کوئٹہ سے کامریڈ کریم پرہار نے کیا جبکہ اس پر بحث کا آغاز انقلابی کمیونسٹ پارٹی کے مرکزی راہنما کامریڈ پارس جان نے کیا۔ کامریڈ پارس کا کہنا تھا کہ عالمی سطح پر جاری شدید بحران سے پاکستان بالکل بھی محفوظ نہیں۔ ایران پر امریکی و اسرائیلی جارحیت اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال پاکستان میں بھی خلفشار کی صورتحال پیدا کر رہی ہے۔ گزشتہ دنوں سے مسلسل پاکستان کی عوام پر پیٹرول بم گرائے جا رہے ہیں اور وزیراعظم بار بار ”قوم سے خطاب“ کرتے ہوئے صبر کی تلقین کرتا ہے۔ ایک خاص قسم کے ذہنی کرب، الجھن اور ہیجان کے اندر محنت کش عوام کو شکار رکھا جا رہا تھا۔ مگر پاکستان کی محنت کش عوام کے سامنے یہاں کے حکمرانوں کا چہرہ بے نقاب ہو چکا ہے۔ اس وقت پاکستانی سماج میں شدید تناؤ اور غیر یقینی پن کی صورتحال ہے جس میں حکمران طبقہ شعوری طور پر مبتلا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
پاکستان انڈیا جنگ کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ قریبی تعلقات کے بعد پاکستان کا حکمران طبقہ اس وقت ایک رعونت میں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں کی محنت کش عوام پر معاشی و سیاسی حملے کر رہا ہے۔ ہر طرح کے جمہوری و سیاسی حقوق چھینتا جا رہا ہے۔ ہر طرح کی اپوزیشن کا گلا دبانا چاہتا ہے۔

یہاں کے محنت کش عوام کی زندگیاں ہر گزرتے دن کے ساتھ بدترین ہوتی جا رہی ہیں۔ نوجوانوں کا کوئی مستقبل نہیں۔
یہاں کے محنت کش عوام کی زندگیاں ہر گزرتے دن کے ساتھ بدترین ہوتی جا رہی ہیں۔ نوجوانوں کا کوئی مستقبل نہیں۔ لاکھوں کی تعداد میں نوجوان بہتر روزگار کے لیے باہر خصوصاََ مشرقِ وسطیٰ جا رہے ہیں۔ مگر مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتحال نے ان کی مشکلات اور بڑھا دی ہیں۔ پاکستان میں موجود کسی بھی سیاسی پارٹی کے پاس کوئی حل نہیں۔ کوئی بھی سیاسی پارٹی تمام مسائل کی جڑ سرمایہ دارانہ نظام کا خاتمہ نہیں چاہتی۔ یہی وجہ ہے کہ ان پارٹیوں کی حمایت ختم ہو چکی ہے۔
اس سیشن میں ڈی جی خان سے آصف لاشاری، لاہور سے سلمیٰ ناظر، کے پی کے سے صدیق جان، کشمیر سے اجمل رشید اور کوئٹہ سے کامریڈ کریم پرہار نے بھی بحث میں حصہ لیا جبکہ انجمن مزارعین پنجاب کے مرکزی راہنما رانا سلیم جو کہ خصوصی طور پر کانگریس میں شرکت کے لیے آئے تھے، انہوں نے بھی اس سیشن میں پُر جوش انداز میں بات کرتے ہوئے نام نہاد گرین انیشی ایٹو پروگرام کے تحت کارپوریٹ فارمنگ کے نام پر لاکھوں کسانوں کی بے دخلی اور جنوبی پنجاب میں اس کے خلاف کسانوں کی جاری مزاحمت کو بیان کیا۔
اس سیشن کے بعد ممبر شپ کمپیئن، خواتین کے کام، انقلابی کمیونسٹ پارٹی کے ترجمان اخبار ماہانہ ’کمیونسٹ‘ اور یومِ مئی کے حوالے سے کمیشنز کیے گئے۔ جبکہ ”آزاد“ کشمیر میں پارٹی کی تعمیر کے حوالے سے ایک الگ کمیشن کا انعقاد کیا گیا۔
رات کو موسیقی کا انعقاد بھی کیا گیا تھا۔ استاد ناصر خان کی خوبصورت آواز اور طبلے پر شارون نے شرکاء کو خوب محظوظ کیا۔
سامراج کو شکست کیسے دی جا سکتی ہے؟
کانگریس کے دوسرے دن کا پہلا سیشن ’سامراج کو شکست کیسے جا سکتی ہے؟‘ کے موضوع پر تھا۔ اس سیشن کو چیئر کے پی کے سے کامریڈ صدیق جان نے کیا جبکہ اس پر لیڈ آف کامریڈ آدم پال نے دی۔ کانگریس سے پہلے انقلابی کمیونسٹ پارٹی نے ایک خصوصی دستاویز بھی شائع کیا تھا جس میں ایران کی جنگ کا تفصیلی تجزیہ، اس کے خطے پر اثرات اور محنت کش طبقہ کیسے اس سب سے لڑ سکتا ہے، پر بحث کی گئی تھی۔
دنیا بھر میں مظلوم عوام پر غالب سامراجی قوت امریکی سامراج کے خلاف جدوجہد کی فطری خواہش موجود ہے۔ جنگ کے حالات میں عوام پر شدید دباؤ ہوتا ہے کہ وہ اپنی اپنی قومی حکومتوں کے پیچھے صف آرا ہو جائیں۔ کمیونسٹوں کو یہ بات واضح کرنی چاہیے کہ کوئی بھی سرمایہ دارانہ حکومت مکمل طور پر امریکی سامراج کا خاتمہ نہیں کر سکتی۔ صرف دنیا بھر کے محنت کش ہی امریکی سامراج سے مقابلہ کرنے کی طاقت رکھتے ہیں جن میں امریکی محنت کش بھی شامل ہیں، وہ اپنی اپنی سرمایہ دارانہ حکومتوں اور سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف جدوجہد کریں اور ایک عالمی سوشلسٹ انقلاب کے لیے متحد ہوں۔ صرف اسی صورت میں سامراجیت کا ہمیشہ ہمیشہ کے لیے خاتمہ کیا جا سکتا ہے۔
اس سیشن میں انقلابی کمیونسٹ انٹرنیشنل کے مرکزی راہنما کامریڈ راب سیول، انقلابی کمیونسٹ پارٹی کینیڈا سے ہرمیس، لاہور سے ثاقب اسماعیل، کشمیر سے یاسر ارشاد اور بہاولپور سے عرفان منصور نے بحث میں حصہ لیا۔
انقلابی کمیونسٹ پارٹی کی تعمیر
دوسرے دن کا دوسرا اور مجموعی طور پر کانگریس کا چوتھا سیشن پارٹی کی تعمیر پر تھا۔ جسے چیئر کشمیر سے کامریڈ یاسر ارشاد نے کیا جبکہ اس پر کامریڈ آفتاب اشرف نے بات کی۔ کامریڈ آفتا ب نے ماضی میں کیے گئے کام جن میں پاکستان بھر میں تحریکوں میں پارٹی کی مداخلت، نئے نوجوانوں کی نظریاتی تربیت کے لیے منعقد کیے گئے کمیونسٹ سکولز اور پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار منعقد کیے گئے کمیونسٹ فیسٹیولز، محنت کش خواتین کے عالمی دن کے حوالے سے ملک گیر سطح کی تقریبات اور دیگر سرگرمیوں کا بتایا کہ پاکستان میں کوئی بھی اس پیمانے پر سیاسی سرگرمیاں نہیں کر رہا۔ نہ صرف ایکٹیوزم بلکہ ماہانہ بنیادوں پر ’کمیونسٹ‘ اخبار کے ساتھ ساتھ انقلابی کمیونسٹ پارٹی کا نظریاتی رسالہ سہ ماہی ’لال سلام‘ بھی تسلسل سے شائع کیاجا رہا ہے۔ اس کے علاوہ لال سلام پبلیکشنز کی طرف سے بہت سا مارکسی لٹریچر شائع کیا جا رہا ہے۔ کانگریس سے ایک ماہ قبل ہی خواتین کے عالمی دن کے موقع پر خواتین کے حقوق کی جدوجہد کے سوال پر ایک تفصیلی کتابچہ شائع کیا گیا۔ ہم نے جو کچھ بھی کیا ہمیں اس پر فخر ہے مگر ابھی یہ آغاز کا بھی آغاز ہے۔

سماج میں بڑی تعداد میں ایسی نوجوان نسل موجود ہے جو اس دنیا کو بدلنا چاہتی ہے۔ ہمیں اس نسل تک پہنچنا ہے اور ان کی کمیونزم کے انقلابی نظریات پر تربیت کرتے ہوئے تیز تر بنیادوں پر پارٹی میں شامل کرتے ہوئے اپنی تعداد بڑھانے کی ضرورت ہے۔
سماج میں بڑی تعداد میں ایسی نوجوان نسل موجود ہے جو اس دنیا کو بدلنا چاہتی ہے۔ اس نسل کو کسی بھی مروجہ پارٹی پر اعتماد نہیں ہے۔ ہمیں اس نسل تک پہنچنا ہے اور ان کی کمیونزم کے انقلابی نظریات پر تربیت کرتے ہوئے تیز تر بنیادوں پر پارٹی میں شامل کرتے ہوئے اپنی تعداد بڑھانے کی ضرورت ہے۔ ہمارا پہلا ٹارگٹ ہزار کی ممبر شپ کو حاصل کرنا ہے اور ہمیں یقین ہے کہ ہم یہ کر سکتے ہیں۔
اس سیشن میں کامریڈ احسان علی ایڈووکیٹ کا پیغام پڑھ کر سنایا گیا جو اس وقت بے بنیاد مقدمات پر قید ہیں اور سوشلسٹ انقلاب کے نعروں کے ساتھ کامریڈ احسان علی کی رہائی کے مطالبے پر اور گلگت بلتستان میں جاری ریاستی جبر کے خلاف قرارداد منظور کی گئی اور اس جبر کے خلاف جدوجہد تیز کرنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔
انقلابی کمیونسٹ انٹرنیشنل کی تعمیر
کانگریس کا اختتام انقلابی کمیونسٹ انٹرنیشنل کی رپورٹس کے ساتھ ہوا، جو اس وقت پوری دنیا میں ہر حوالے سے آگے بڑھ رہی ہے۔ کامریڈ راب سیول نے بتایا کی اس وقت برطانوی اور امریکی سیکشنز کی ممبرشپ ہزار کی تعداد سے آگے بڑھ گئی ہے۔ اس کے علاوہ نئے سیکشنز تعمیر ہو رہے ہیں اور ہماری انٹرنیشنل کا خاصہ یہ ہے کہ اس میں نئے نوجوان شامل ہو رہے ہیں جو اس کی قیادت سنبھال رہے ہیں۔ کینیڈا اور ڈنمارک سے بھی کامریڈز نے اپنے اپنے سیکشنز کی رپورٹس رکھیں۔ کینیڈا میں ہماری ممبر شپ 800 سے بڑھ چکی ہے جبکہ ڈنمارک جیسے چھوٹے سے یورپی ملک میں ہم تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔

کانگریس کا اختتام انقلابی کمیونسٹ انٹرنیشنل کی رپورٹس کے ساتھ ہوا، جو اس وقت پوری دنیا میں ہر حوالے سے آگے بڑھ رہی ہے۔
اسی کے ساتھ کامریڈز نے محنت کشوں کا عالمی گیت ’انٹرنیشنل‘ گا کر کانگریس کا اختتام کیا۔ کانگریس کے بعد تمام کامریڈز نے کامریڈ احسان اور عوامی ایکشن کمیٹی، گلگت بلتستان کے راہنماؤں کی رہائی کے مطالبات پر نعرے لگائے اور اس کے ساتھ ساتھ پاکستان میں حکمران طبقے کی جانب سے محنت کش طبقے پر کیے جانے والے شدید معاشی اور سیاسی حملوں کے خلاف اور مہنگائی، بے روزگاری، جنگوں، لاعلاجی، اور بھوک ننگ کے خلاف بھی احتجاج کیا۔
کانگریس میں شرکا کی طرف سے ’کمیونسٹ بک سٹال‘ کی طرف گہری دلچسپی کا اظہار کیا گیا جہاں سے 87 ہزار روپے کا کمیونسٹ لٹریچر خریدا گیا۔ یہ اس امر کو ثابت کرتا ہے کہ کامریڈز میں نظریات کو سمجھنے کی شدید خواہش موجود ہے۔

کانگریس میں شرکا کی طرف سے ’کمیونسٹ بک سٹال‘ کی طرف گہری دلچسپی کا اظہار کیا گیا جہاں سے 87 ہزار روپے کا کمیونسٹ لٹریچر خریدا گیا۔
محنت کش طبقے کے لیے، نوجوانوں کے لیے آنے والے عہد میں نجات کا واحد راستہ انقلابی لڑائی کے ذریعے سرمایہ دارانہ نظام کو اکھاڑتے ہوئے سوشلسٹ انقلاب برپا کرنا ہے۔ انقلابی کمیونسٹ پارٹی ایسے ہر محنت کش اور نوجوان کو اس پارٹی کا حصہ بننے کی دعوت دیتی ہے جو یہ انقلابی لڑائی لڑنے کو تیار ہے۔


















In defence of Marxism!
Marxist Archives
Progressive Youth Alliance