|رپورٹ: انقلابی کمیونسٹ پارٹی|

2025ء بلاشبہ طلاطم خیز واقعات سے بھرپور ایک فیصلہ کن سال ثابت ہوا۔ یہ وہ سال تھا جس میں سرمایہ دارانہ نظام کے بڑھتے ہوئے تضادات پوری شدت کے ساتھ عالمی سطح پر پھٹ کر سامنے آئے۔ امریکی سامراج کا نسبتی زوال، امریکہ چین کے مابین تجارتی جنگ، روس یوکرین جنگ، فلسطین پر اسرائیلی جارحیت، ایران پر اسرائیلی حملہ، پاک بھارت کشیدگی۔ یہ تمام مظاہر اس حقیقت کا اعلان تھے کہ موجودہ ورلڈ آڈر ٹوٹ چکا ہے اور سرمایہ دارنہ نظام ایک بند گلی میں داخل ہو چکا ہے۔ اسی دوران یورپ اور امریکہ سمیت دنیا کے مختلف حصوں میں اسرائیلی جارحیت کے خلاف عوام کی شاندار مزاحمت، تارکین وطن محنت کشوں کے حق میں تحریکیں، نیپال، مڈغاسکر، انڈونیشیا، مراکش اور کینیا میں نسل نو یعنی جین زی کی بغاوتوں نے اس امر کو واضح کر دیا کہ نوجوان نسل شعور کی تیز ترین ریڈیکلائزیشن کے عمل سے گزر رہی ہے۔
یہ سب کچھ نئے سماج کی تشکیل کے لیے سربکف نوجوانوں کی بغاوت کا پیش خیمہ تھا۔ یہ تمام واقعات آنے والے دنوں میں شدت اختیار کرتی ہوئی طبقاتی جنگ کا واضح عندیہ ہیں۔ اگر ان عالمی جنگوں اور تحریکوں کو آنے والی عظیم طبقاتی لڑائی کی مشقیں کہا جائے تو غلط نہ ہو گا اور ہر جنگ کی طرح طبقاتی جنگ میں بھی نظریاتی اور تنظیمی تیاری فیصلہ کن اہمیت رکھتی ہے۔ اسی تناظر میں انقلابی کمیونسٹ انٹرنیشنل کے اکثریتی سیکشنز نے دنیا بھر میں محنت کش طبقے کی لڑاکا پرتوں پر مشتمل انقلابی کمیونسٹ پارٹیوں کی بنیاد رکھی۔
اسی تاریخی عمل کے تسلسل میں 2024ء کے اختتام اور 2025ء کے آغاز پر پاکستان میں بھی انقلابی کمیونسٹ پارٹی کا قیام عمل میں لایا گیا۔ گوادر سے گلگت اور کراچی سے کشمیر تک کمیونزم کے انقلابی نظریات کو بنیاد بناتے ہوئے یہ فیصلہ اکثریتی رائے سے کیا گیا۔ یہ محض ایک پارٹی کا اعلان نہیں تھا بلکہ آنے والی انقلابی طوفانی لہروں کے لیے تیاری کا عملی اظہار تھا۔
نظریات کی اہمیت
انقلابی نظریات کے بغیر کوئی انقلابی تحریک ممکن نہیں۔ (لینن)
2025ء وہ سال تھا جب پورا لبرل لیفٹ مارکسی اکیڈمک اور روایتی نام نہاد بائیں بازو کی پارٹیاں، پریکٹیکل ازم، قوم پرستی، ایشو پولیٹکس، اصلاح پسندی، فرقہ پرستی اور موقع پرستی کی دلدل میں دھنس چکی تھیں۔ ایسے میں انقلابی کمیونسٹ پارٹی کے کیڈرز نے نہ صرف انقلابی کمیونزم کے نظریات کا دفاع کیا بلکہ انہیں ان بھیڑیا نما دشمنوں سے بھی محفوظ رکھا جو اپنا پن ظاہر کر کے تحریک کے اندر زہر گھول رہے تھے۔
یہ نظریات کی طاقت ہی تھی کہ ایران پر اسرائیلی حملہ، پاک بھارت تنازعہ، روس یوکرین جنگ، وینزویلا کا حالیہ بحران ان تمام معاملات پر قومی تعصبات اور سامراجی دلالی کے مقابلے میں محنت کش طبقے کا واضح طبقاتی موقف اپنایا گیا۔ یہ وہ فیصلہ کن موڑ تھا جہاں نام نہاد بایاں بازو ریاستی بیانیے اور سامراجی مفادات کے دفاع میں دلائل گھڑنے لگا جبکہ انقلابی کمیونسٹ پارٹی واحد رجحان کے طور پر سامنے آئی جس نے نہ صرف سامراجی جنگوں کی مخالفت کی بلکہ طبقاتی جنگ کے ذریعے ان جنگوں کے مکمل خاتمے کا انقلابی پروگرام بھی پیش کیا۔

اسی نظریاتی پختگی کے اظہار کے طور پر انقلابی کمیونسٹ پارٹی کے اشاعتی شعبے ’لال سلام پبلیکیشنز‘ نے لیون ٹراٹسکی کی شہرہ آفاق تصنیف ”انقلاب مسلسل“ کا اردو ترجمہ شائع کیا۔
پیٹی بورژوا نظریات کے خلاف نظریاتی ہتھیار کے طور پر سہ ماہی میگزین ’لال سلام‘ کا مسلسل اجرا کیا گیا جس کے ذریعے سیاسی اور نظریاتی مباحث کو منظم انداز میں محنت کش عوام تک پہنچایا گیا۔
محنت کش طبقے کا نمائندہ اور انقلابی کمیونسٹ پارٹی کا ترجمان ماہانہ ’کمیونسٹ‘ اخبار بورژوا میڈیا کی طرح اسٹیٹس کو کا ترجمان نہیں بلکہ محنت کش عوام کا نظریاتی اور سیاسی آواز بن کر سامنے آیا۔ جس کے ذریعے ملک بھر کی مزاحمتی تحریکوں کو جوڑتے ہوئے طبقاتی اتحاد کو فروغ دیا گیا۔ ”انقلاب مسلسل“ کی اشاعت کے بعد مختلف شہروں میں تقریب رونمائی، سمینارز، لیکچرز اور نظریاتی پروگرام منعقد کیے گئے۔ کیڈرز کی نظریاتی و سیاسی تربیت کے لیے برانچ میٹنگز، ریڈنگ سرکلز اور کمیونسٹ اسکولز کا انعقاد کیا گیا۔
2025ء کا پہلا ملک گیر سطح کاکمیونسٹ سکول 15، 16 اور 17 اگست کو راولاکوٹ ”آزاد“ کشمیر میں منعقد ہوا جس میں پاکستان بھر سے 300 کے قریب انقلابی کمیونسٹ شریک ہوئے۔ بدترین مہنگائی، بلوچستان اور پختونخواہ میں بدامنی، بارشوں، سیلاب اور ٹریفک کی بندش کے باوجود ملک کے طول و عرض سے کامریڈز نے کمیونسٹ سکول میں اپنی شرکت کو یقینی بنایا۔ 2025ء کا دوسرا کمیونسٹ سکول 19، 20 اور 21 دسمبر کو کراچی میں منعقد ہوا جس میں 120 سے زائد انقلابی کمیونسٹوں نے شرکت کی اور عالمی و پاکستان تناظر، داس کیپیٹل، انقلابات کی تاریخ، اخلاقیات اور طبقاتی جنگ اور پارٹی کی تعمیر جیسے موضوعات زیر بحث آئے۔
تحریکوں میں مداخلت
دنیا بھر کی طرح پاکستانی مقبوضہ ”آزاد“ کشمیر اور گلگت بلتستان میں بھی بنیادی مسائل کے گرد عوامی ایکشن کمیٹی کے پلیٹ فارم پر ناقابلِ شکست عوامی مزاحمت دیکھنے کو ملی۔ حکمران طبقے کی جانب سے ان تحریکوں کو دبانے کے لیے ہر ممکن ہتھکنڈے آزمائے گئے۔ آنسو گیس، شیلنگ، لاٹھی چارج، فائرنگ، قیادت پر جھوٹے مقدمات اور گھروں پر چھاپوں سمیت ریاستی جبر کی تمام شکلیں استعمال کی گئیں۔
اس کے باوجود کشمیری عوام نے نہ صرف ریاستی جبر کو شکست دی بلکہ اپنے کئی بنیادی مطالبات بھی منوائے۔ ان احتجاجوں اور دھرنوں میں انقلابی کمیونسٹ پارٹی کے کارکنان نے بھرپور شرکت کی اور تقاریر، نعروں اور سیاسی مداخلت کے ذریعے ایک جراتمندانہ کردار ادا کیا۔ اسی دوران تحریک کے اندر موجود ان کالے بھیڑیوں کے خلاف بھی نظریاتی محاذ پر بھرپور جدوجہد کی گئی جو تحریک کو طبقاتی بنیادوں سے ہٹانے کی کوشش کر رہے تھے۔
2025ء پنجاب کے طول و عرض کے شہروں میں اساتذہ، کلرکس، نرسز اور دیگر محنت کش ملازمین کی ہزاروں کی تعداد میں اپنے مسائل کے خلاف احتجاجی تحریکوں میں شرکت اور ہڑتالوں کی وجہ سے ایک دھماکہ خیز سال ثابت ہوا۔ ان تحریکوں میں انقلابی کمیونسٹوں نے نہ صرف عملی شرکت کی بلکہ ماہانہ ’کمیونسٹ‘ اخبار کے ذریعے سیاسی اور طبقاتی پرچار بھی کیا۔
جنوبی پنجاب میں سیلاب کے باعث دیہات برباد ہوئے۔ انقلابی کمیونسٹ پارٹی کے کارکنان نے وہاں نہ صرف ریلیف کمپیئن چلائی بلکہ سیاسی سرکلز منعقد کیے، حکمران طبقے کے غلیظ پروپیگنڈے کو بے نقاب کیا اور طبقاتی اتحاد کا پیغام عام کیا۔
اسی دوران کارپوریٹ فارمنگ کے سامراجی منصوبے کے تحت ریاست پاکستان کی جانب سے کسانوں کی زمینوں پر قبضے کی کوششیں کی گئیں۔ پارٹی نے ان مزارعین کے ساتھ بھکر، بہاولنگر اور ملتان کے اضلاع میں پہنچ کر بھرپور اظہار یکجہتی کیا اور ’انقلاب کے تین نشان، طلبہ، مزدور اور کسان‘ کی تاریخی اہمیت کو اجاگر کیا۔
کارپوریٹ فارمنگ کے سامراجی منصوبے کے تحت نہ صرف پنجاب بلکہ سندھ کی زمینوں پر بھی قبضے کی کوشش کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ دریائے سندھ پر چھ نہریں نکال کر پانی کی بندش کا منصوبہ بنایا گیا۔ سندھ کے کسانوں اور محنت کش عوام نے اس منصوبے کو مسترد کرتے ہوئے بھرپور مزاحمت کی، جس کے نتیجے میں ریاست کو پسپائی اختیار کرنا پڑی۔
انقلابی کمیونسٹ پارٹی کے کارکنان نے ببرلو سندھ میں ہونے والے دھرنے میں شرکت کی اور قوم پرستانہ تعصبات کے خلاف مہم چلاتے ہوئے محنت کش طبقے کے اتحاد کا پیغام دیا۔
سندھ ایمپلائز الائنس کے پلیٹ فارم سے صوبے بھر میں محنت کش ملازمین نے احتجاج، ہڑتالیں اور دھرنے دیے۔ اس تحریک پر نام نہاد ”جمہوریت“ کی علمبردار پیپلز پارٹی نے نہ صرف ریاستی جبر کیا بلکہ قوم پرست، لبرل اور تنخواہ دار دانشوروں کے ذریعے گھٹیا پروپیگنڈہ بھی کروایا۔ انقلابی کمیونسٹ پارٹی کے کارکنان نے گرفتاریوں اور تشدد کے باوجود نہ صرف تحریک میں شرکت کی بلکہ تمام تر ریاستی غلیظ پروپیگنڈے کا سیاسی جواب بھی دیا۔
بلوچستان میں انقلابی کمیونسٹ پارٹی کے کارکنان نے ملک کے دیگر حصوں کی طرح ریاستی جبر کے خلاف صفِ اول میں کھڑے ہو کر جدوجہد کی۔ فیک انکاؤنٹرز، جبری گمشدگیوں اور بلوچ عوام پر ڈھائے جانے والے مظالم کے خلاف بلوچ یکجہتی کمیٹی کی تحریک کے شانہ بشانہ کھڑے رہے۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی کے قائدین کو پابندِ سلاسل کیا گیا، جن کی رہائی کے لیے کوئٹہ میں احتجاجی مظاہرہ بھی کیا گیا۔ اسی طرح بلوچستان ایمپلائز گرینڈ الائنس کے پلیٹ فارم سے صوبے بھر میں محنت کش ملازمین نے احتجاج اور ہڑتالیں منظم کیں۔ ان تحریکوں میں انقلابی کمیونسٹ پارٹی کے کارکنان نے شرکت کی، ماہانہ ’کمیونسٹ‘ اخبار فروخت کیا اور جدوجہد کو آگے بڑھانے کے لیے سیاسی لائحہ عمل پیش کیا۔
گلگت بلتستان میں عوامی ایکشن کمیٹی کے پلیٹ فارم سے بنیادی سہولیات کے حصول کے لیے ایک جراتمندانہ تحریک چلائی گئی۔ ریاست نے اس تحریک کو جھوٹے مقدمات، گرفتاریوں، بدترین تشدد، دھمکیوں، گھروں پر چھاپوں اور قتل جیسے ہتھکنڈوں کے ذریعے کچلنے کی کوشش کی۔
اس پورے عمل میں انقلابی کمیونسٹ پارٹی کے کارکنان نے نہ صرف قائدانہ کردار ادا کیا بلکہ ریاستی جبر کا ڈٹ کر مقابلہ بھی کیا۔ اس کے نتیجے میں کئی کارکنان پابندِ سلاسل رہے، جیل میں ان پر بدترین تشدد ڈھایا گیا، ان کے خاندانوں کو ہراساں کیا گیا اور سوشل میڈیا پر الزام تراشی اور کردار کشی کی منظم مہم چلائی گئی۔
ان تمام رکاوٹوں کے باوجود انقلابی کمیونسٹوں نے تحریک کو آگے بڑھایا، طلبہ اور محنت کشوں میں انقلابی کمیونزم کے نظریات کا پرچار کیا اور بغاوت کے پرچم کو سرنگوں نہیں ہونے دیا۔
کمپینز
عوامی ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں کی رہائی
2025ء کی سب سے اہم کمپیئن گلگت بلتستان میں گرفتار عوامی ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں اور انقلابی کمیونسٹ پارٹی کے کارکنان کی رہائی کی تھی۔ ریاست پاکستان نے منظم جبر کے تحت جھوٹے مقدمات، قانونی پیچیدگیاں، تشدد اور عقوبت خانوں میں اذیت کے تمام ہتھکنڈے آزمائے۔
اس کے باوجود انقلابی کمیونسٹوں نے نہ صرف یہ اذیت کا ڈٹ کر مقابلہ کیا بلکہ اپنے نظریاتی اور سیاسی مؤقف پر بھی چٹان کی طرح ثابت قدم رہے۔ دوسری جانب پاکستان سمیت دنیا بھر میں انقلابی کمیونسٹوں نے اپنے ساتھیوں کی رہائی کے لیے مہم چلائی، جو حقیقی پرولتاریہ بین الاقوامیت کا واضح ثبوت تھی۔
کوئٹہ سے لاہور تک احتجاجی مظاہرے کیے گئے، جبکہ 30 جولائی کو 15 سے زائد ممالک کے 25 کے قریب شہروں میں ’ڈے آف ایکشن‘ منظم کیا گیا۔ ان تمام جدوجہدوں کے نتیجے میں بالآخر ریاست کو جھکنا پڑا اور عوامی ایکشن کمیٹی کے کارکنان کو رہا کیا گیا۔
یومِ مئی
2025ء میں محنت کشوں کے عالمی دن یوم مئی کے سلسلے میں انقلابی کمیونسٹ پارٹی کے کارکنان نے ہر بڑے شہر میں پوسٹر کمپیئن چلائی، جس میں ملک گیر عام ہڑتال کے پیغام کو نمایاں کیا گیا۔ یہ پوسٹرز صنعتوں، کارخانوں اور سرکاری دفاتر تک لگائے گئے۔ اس کے بعد 24 کے قریب شہروں میں انقلابی کمیونسٹ پارٹی کے پلیٹ فارم سے اپنی سرگرمیاں منعقد کی گئیں اور مختلف مزدور تنظیموں کے پروگراموں میں بھرپور شرکت کی گئی۔

8 مارچ، محنت کش خواتین کا عالمی دن
انقلابی کمیونسٹ پارٹی نے 14 سے زائد شہروں میں محنت کش خواتین کے عالمی دن کے حوالے سے 20 فروری سے 8 مارچ تک ملک گیر سرگرمیوں کا انعقاد کیا۔ ان سرگرمیوں میں ہراسمنٹ، ریپ، پدرشاہی، گھریلو غلامی، غربت، مہنگائی اور بے روزگاری کے خلاف واضح نظریاتی و سیاسی مؤقف پیش کیا گیا۔ اس کی تیاری کے سلسلے میں ہسپتالوں، فیکٹریوں اور تعلیمی اداروں میں لیف لیٹس تقسیم کیے گئے۔

اس کے علاوہ ”کیا آپ کمیونسٹ ہیں؟“ کمپیئن، کمیونسٹ فیسٹیولز اور میمبرشپ کمپیئن بھی منظم کی گئی۔ پہلا کمیونسٹ فیسٹیول لاہور میں کیا گیا جس کاپیغام سوشل میڈیا پہ لاکھوں لوگوں تک پہنچا تھا اور زبردست پذیرائی ملی۔ کراچی کے علاقے ملیر میں منعقد ہونا والا فیسٹیول کراچی کی تاریخ کا بہت بڑا فیسٹیول تھا۔
اس فیسٹیول کے بعدنوجوانوں کی بڑی تعداد نے انقلابی کمیونسٹ پارٹی کا حصہ بننے میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔
2026ء میں انقلابی تحریکیں پوری دنیا میں مزید شدت کے ساتھ ابھریں گی۔ انقلابی کمیونسٹوں کا فریضہ ہے کہ وہ ان تحریکوں کو ان کی حتمی منزل، یعنی سرمایہ داری کے مکمل خاتمے اور کمیونسٹ سماج کی تعمیر تک پہنچائیں۔
ہم آپ کو دعوت دیتے ہیں کہ صدیوں سے مسلط بھوک، بدحالی، جنگ اور طبقاتی نظام کے خاتمے کے لیے انقلابی کمیونسٹ پارٹی کا حصہ بنیں۔















In defence of Marxism!
Marxist Archives
Progressive Youth Alliance