ملاکنڈ: ملاکنڈ یونیورسٹی انتظامیہ کی بدمعاشی کی وجہ سے ایک طالب علم جاں بحق

|رپورٹ: نمائندہ ماہانہ ورکرنامہ، ملاکنڈ|

 

ملاکنڈ یونیورسٹی کو انتظامیہ نے ایک جیل خانے میں تبدیل کر دیا ہے۔ یونیورسٹی میں طلبہ سیاست پر مکمل پابندی ہے اور طلبہ کو مختلف حیلے بہانوں سے تنگ کیا جاتا ہے اور ان پر بھاری جرمانے عائد کیے جاتے ہیں۔ یونیورسٹی انتظامیہ کے طرف سے طلبہ کے لیے کسی بھی قسم کے تفریحی پروگرامات پر پابندی عائد ہے اور طلبہ کو سخت ذہنی اذیت میں رکھا جاتا ہے۔

چند روز پہلے کچھ طلبہ کی طرف سے اپنے سینئرز کے لیے ایک الوداعی پروگرام رکھا گیا تھا۔ اس پروگرام میں موسیٰ خان نامی ایک طالب علم اپنے ساتھ رباب لایا جسے یونیورسٹی کے پرووسٹ نے یونیورسٹی کے گیٹ پر ہی اس سے چھین لیا۔ اس کے ساتھ ساتھ اس طالب علم کو زد و کوب کیا گیا، گالیاں دی گئیں اور حتیٰ کہ یونیورسٹی کے سیکیورٹی اہلکاروں اور پولیس کے ذریعے تشدد بھی کروایا گیا۔ اس کے بعد اس طالب علم کو شو کاز نوٹس جاری کر دیا گیا۔

 

گزشتہ رات پرووسٹ نے اس طالب علم کو ہاسٹل سے نکال دیا۔ جب وہ اپنے دوستوں کے ساتھ ایک موٹر سائیکل پر آدھی رات کے وقت رہائش تلاش کرنے باہر نکلا تو راستے میں ہی اس کا ایکسیڈنٹ ہو گیا اور وہ موقع پر ہی جاں بحق ہو گیا جبکہ اس کے باقی دو دوست ہسپتال میں ہیں اور ان کی حالت تشویشناک ہے۔

ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ اس واقعے میں ملوث پرووسٹ، چیف پراکٹر اور انتظامیہ کے ایک اہلکار کو فوری طور پر معطل کرتے ہوئے ان کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کیا جائے۔

اس وقت تعلیمی ادارے صرف پیسے بنانے والی فیکٹریاں بن چکے ہیں جو بیرزگاروں کی فوج تیار کر رہے ہیں۔ تعلیم پاکستان میں سب سے بڑا کاروبار بن چکا ہے۔ آئے روز فیسوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اسی طرح طلبہ کو ہراسمنٹ، رہائش سمیت دیگر کئی مسائل کا سامنا ہے۔ ہر یونیورسٹی کے طلبہ میں انتظامیہ کے خلاف غم و غصہ موجود ہے جو کوئی پلیٹ فارم نہ ہونے کی وجہ سے اپنا اظہار نہیں کر پا رہا۔ طلبہ میں پنپتے اس غصے کا خوف اور اپنی کرپشن اور لوٹ مار کو جاری رکھنے کے لیے ہر یونیورسٹی کی انتظامیہ طلبہ کو ڈسپلن اور سیکیورٹی کے نام پر ڈرا دھمکا کر رکھتی ہیں۔ اس کے جواب میں طلبہ کو بھی منظم ہو کر جدوجہد کرنا ہو گی۔

یونیورسٹیوں میں سخت ڈسپلن قائم رکھنے کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ اس وقت طلبہ کی اکثریت سیاسی بحثوں میں شامل ہو رہی ہے اور حکمرانوں کو خوف ہے کہ کہیں ان تعلیمی اداروں سے ان کے ظلم و جبر اور لوٹ مار کے خلاف طلبہ کی کوئی بغاوت نہ جنم لے لے۔ ابھی حال ہی میں ’آزاد‘ کشمیر کے نوجوانوں کی عظیم الشان اور کامیاب جدوجہد نے حکمرانوں کو اور بھی خوفزدہ کر دیا ہے۔

ہم کمیونسٹ، ملاکنڈ یونیورسٹی سمیت ملک میں موجود تمام یونیورسٹیوں کے طلبہ سے اپیل کرتے ہیں کہ ابمحض سوشل میڈیا پر اپنا غصہ نکالنا چھوڑیں اور عملی انقلابی سیاسی جدوجہد میں شامل ہوں۔ ملکی معاشی بحران مستقبل میں مزید شدت اختیار کرے گا جس کے نتیجے میں فیسوں میں اضافے سمیت بیروزگاری میں بھی اضافہ ہو گا۔ اس لیے آج اگر جینا ہے تو پھر لڑنا ہو گا! تمام مسائل کا مستقل حل سرمایہ دارانہ نظام کے خاتمے کی صورت میں ہی ممکن ہے۔

لہٰذا آج ہمیں ایک سوشلسٹ انقلاب کے ذریعے سرمایہ دارانہ نظام کے خاتمے کی جدوجہد کرنا ہو گی۔ مگر یہ لڑائی محض حکمرانوں کے خلاف نفرت کے جذبے تک محدود رہ کر کامیابی سے نہیں لڑی جا سکتی۔ آج ہمیں سائنسی اور انقلابی نظریات کی ضرورت ہے جو ہمیں موجودہ نظام کو سمجھنے اور اسے تبدیل کرنے کی جدوجہد میں مدد فراہم کریں۔ یہ نظریات صرف ایک انقلابی کمیونسٹ پارٹی ہی فراہم کر سکتی ہے۔ ایک انقلابی کمیونسٹ پارٹی ہی آج طلبہ، نوجوانوں اور محنت کشوں کو آپس میں متحد کر سکتی ہے اور مزدوروں کی قیادت میں ایک سوشلسٹ انقلاب کو کامیاب بنا سکتی ہے۔

جینا ہے تو، لڑنا ہو گا!

Comments are closed.