بلوچستان: ریاستی اداروں کی جانب سے خواتین کی جبری گمشدگیاں، ملک بھر کے محنت کشوں سے یکجہتی کی اپیل!

|رپورٹ: انقلابی کمیونسٹ پارٹی، بلوچستان|

بلوچستان میں جاری ریاستی جبر اپنے عروج کو پہنچ گیا ہے، جہاں جبری گمشدگی، مسخ شدہ لاشیں، فیک انکاؤنٹرز، ماورائے عدالت قتل عام اور دیگر ریاستی جرائم کی ایک نہ ختم ہونے والی کہانی موجود ہے اور روزانہ کی بنیاد پر شدت اختیار کر رہی ہے۔ سال 2025ء میں ریاستی اداروں کی بوکھلاہٹ اور ریاستی جبر میں شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ خواتین اور بچیوں کی جبری گمشدگی کو معمول بنانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ اس کے پیچھے بنیادی مقصد بلوچ سماج کو خوفزدہ کرنا اور اجتماعی سزاؤں کے ذریعے عوامی مزاحمت کو کمزور کرنا ہے۔ یاد رہے کہ 2025ء میں خواتین کی جبری گمشدگیوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ تادم تحریر، 12 خواتین کو جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا گیا، جن میں پنجگور میں 28 اکتوبر کو نازیہ شفیع بلوچ کو اپنی والدہ پری بلوچ کے ساتھ گرفتار کیا گیا۔ 29 اکتوبر کو نازیہ شفیع بلوچ تشدد کی حالت میں ہسپتال منتقل کی گئیں جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہو گئیں، جبکہ ان کی ماں پری بلوچ کو تشدد کے بعد رہا کر دیا گیا۔ 12 خواتین میں سے 4 خواتین بعد میں رہا ہو گئیں۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی کی رہنما گلزادی بلوچ کو 17 اپریل 2025ء کو ان کے گھر سے CTD نے جبری طور پر گرفتار کیا اور ان پر تھری ایم پی او کے تحت 16 ایف آئی آرز کے ذریعے جھوٹے مقدمات درج کیے گئے۔ اس کے علاوہ دیگر 5 خواتین اور ایک 15 سالہ بچی اب تک لاپتہ ہیں، جن کے حوالے سے اہل خانہ کو کوئی اطلاع نہیں ملی۔ ان میں ہانی بلوچ شامل ہیں، جنہیں 20 دسمبر 2025ء کو حب چوکی سے جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا گیا۔ ہانی بلوچ 27 سال کی تھیں اور آٹھ ماہ کی حاملہ تھیں۔ اسی دن 15 سالہ نسرین بلوچ کو بھی حب چوکی سے جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا گیا۔ مختصراً، اس وقت چھ خواتین جبری گمشدگی کا شکار ہیں، جن کی تفصیل درج ذیل ہے:

1) ماہ جبین بلوچ، 29 مئی 2025، سول ہسپتال کوئٹہ۔
2) نسرین بلوچ، 22 نومبر 2025، حب چوکی۔
3) فرزانہ زہری، یکم دسمبر 2025، خضدار۔
4) رحیمہ بلوچ، 9 دسمبر 2025، دالبندین۔
5) حائر نساء، 20 دسمبر 2025، حب چوکی۔
6) ہانی بلوچ، 20 دسمبر 2025، حب چوکی۔

ہیومن رائٹس کمیشن بلوچستان کے مطابق، سال 2024ء میں مجموعی طور پر 830 جبری گمشدگیاں رپورٹ ہوئیں جن میں 257 بازیاب ہوئے اور 27 افراد کی مسخ شدہ لاشیں ملی۔ اس کے علاوہ 480 افراد ماورائے عدالت قتل کا شکار ہوئے۔ سال 2025ء میں دسمبر کے بغیر 1356 جبری گمشدگیاں رپورٹ ہوئیں، جن میں 171 بازیاب ہوئے اور 357 افراد ماورائے عدالت قتل کا شکار ہوئے۔ اسی اثناء میں گزشتہ ہفتے انقلابی کمیونسٹ پارٹی کے نیشنل ویمن بیوروکی آن لائن ایک ملک گیر ہنگامی اجلاس منعقد ہوا جس میں حالیہ عرصے میں بلوچستان میں بالعموم اور بلوچ خواتین پر بالخصوص بڑھتے ہوئے مسلسل ریاستی جبر اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا جائزہ لیا گیا۔ مزید برآں اجلاس میں رواں برس 8 مارچ، محنت کش خواتین کے عالمی دن کی تقریبات کے حوالے سے بھی مفصل بات چیت ہوئی۔ اس میٹنگ میں مشترکہ طور پر یہ فیصلہ کیا گیا کہ رواں برس اس تاریخی دن کو بلوچستان میں ریاستی سفاکانہ کاروائیوں میں جبری طور پر لاپتہ کی گئی خواتین کے ساتھ یکجہتی کے طور پر منایا جائے گا۔

میٹنگ میں طے پایا کہ پاکستان کے بیشتر چھوٹے بڑے شہروں، جن میں کراچی، بہاولپور، ملتان، ڈی جی خان، پشاور، لاہور، قصور، پتوکی، گوجرانوالہ، کوئٹہ، لورالائی، حیدرآباد، گلگت بلتستان، فیصل آباد، راولپنڈی، راولاکوٹ اور دیگر شامل ہیں، میں انقلابی کمیونسٹ پارٹی کے کارکنان سیمینار، سٹڈی سرکلز، احتجاج اور ریلیاں منعقد کریں گے۔ ان تقریبات میں نہ صرف خواتین کے عمومی مسائل پر بحث و مباحثہ ہو گا بلکہ خاص طور پر پاکستانی ریاست کی جانب سے بلوچستان میں خواتین اور سیاسی کارکنان کی جبری گمشدگی جیسے گھناؤنے عمل کے خلاف اعلان جنگ کیا جائے گا اور بلوچستان کے عوام کی پاکستانی ریاست کے خلاف مزاحمت و جدوجہد میں یکجہتی کا پیغام پاکستان بھر کے سکولوں، کالجوں، یونیورسٹیوں اور کام کے اداروں میں محنت کشوں تک پہنچایا جائے گا۔ ان ملک گیر تقریبات کی تیاریوں کے لیے کیمپیئن کے حوالے سے بھی اس میٹنگ میں تفصیلاً بات چیت رکھی گئی اور یہ فیصلہ کیا گیا کہ انقلابی کمیونسٹ پارٹی انقلابی لیف لیٹس، مضامین اور رپورٹس شائع کر کے اس کیمپیئن کو آگے بڑھائے گی اور اس کے ساتھ ساتھ انقلابی کمیونسٹ پارٹی کے کارکنان ہر شہر سے ویڈیو پیغامات بھی جاری کریں گے جن میں محنت کش خواتین کے عالمی دن کے پیغام کے ساتھ ساتھ بلوچستان کی خواتین اور سیاسی کارکنان، جنہیں پاکستانی ریاست اور اس نام نہاد جمہوری حکومت نے جبری طور پر گمشدہ کیا ہے، کے ساتھ طبقاتی بنیادوں پر یکجہتی کا اظہار کیا جائے گا اور ان کی آواز کو پاکستان کے کونے کونے تک پہنچایا جائے گا۔ پاکستان کی ریاست اور حکمران طبقہ اپنے مذموم عزائم کے تحت محنت کش طبقے کو رنگ، نسل، قوم، مذہب اور ذات پات کی بنیاد پر تقسیم کرتا ہے۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی کی قیادت کے جھوٹے مقدمات میں ٹرائل

بلوچ یکجہتی کمیٹی کی قیادت میں تین خواتین رہنما (ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ، گلزادی بلوچ اور بیبود بلوچ) اور دو مرد (صبغت اللہ اور بیبرگ بلوچ) مارچ 2025ء سے جیل میں ہیں۔ انہیں 22 مارچ 2025ء کو  3MPOکے تحت گرفتار کیا گیا۔ گرفتاری کے بعد متعدد تھانوں میں ایف آئی آرز درج کی گئیں، جن میں احتجاج میں مبینہ بدامنی، پولیس پر حملے، املاک کو نقصان اور دیگر الزامات شامل ہیں۔ پیشیاں مختلف عدالتوں میں ہوئیں اور بعض مقدمات میں ضمانتیں بھی دی گئیں، لیکن 3MPO کی گرفتاری اور ریاستی دباؤ کی وجہ سے مشکلات کا سامنا رہا۔ سیشن کورٹ میں عوامی حمایت کے باوجود مقدمات جاری رہے اور ریاست نے جیل ٹرائل شروع کیا۔ دوسری جانب بلوچستان ہائی کورٹ میں ضمانت کے لیے اپیلیں دائر کی گئیں، جن میں کچھ مقدمات میں رہائی کے احکامات بھی دیے گئے، جبکہ دیگر مقدمات میں قانونی پیچیدگیوں کے باعث سماعتیں جاری رہیں اور بعض اپیلیں سپریم کورٹ تک پہنچائی گئیں۔ انقلابی کمیونسٹ پارٹی بلوچستان واضح مؤقف کے ساتھ مطالبہ کرتی ہے کہ جبری گمشدگی کی شکار خواتین اور دیگر سیاسی کارکنان نے اگر کوئی جرم کیا ہے تو انہیں عدالت میں پیش کیا جائے، بصورت دیگر ان کی غیر مشروط رہائی ضروری ہے۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی کی قیادت کے خلاف جھوٹے مقدمات اور جیل ٹرائل کی شدید مذمت کرتے ہوئے ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ انہیں فی الفور غیر مشروط طور پر رہا کیا جائے۔ ہم پورے پاکستان کی ٹریڈ یونینز، محنت کشوں، کسانوں، طلبہ، نوجوانوں اور انسانی حقوق کے علمبرداروں سے پرزور اپیل کرتے ہیں کہ وہ جبری گمشدگی کے خلاف اور خاص طور پر خواتین و بلوچ یکجہتی کمیٹی کی قیادت کی رہائی کے لیے آواز بلند کریں۔

ایک کا دکھ، سب کا دکھ!
بلوچستان کی تمام خواتین سیاسی کارکنان کو فی الفور رہا کرو!

Comments are closed.