|تحریر: زلمی پاسون|
31جنوری کی صبح کا آغاز بلوچ لبریشن آرمی کی جانب سے بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سمیت تقریباً بارہ دیگر مقامات پر کیے گئے حملوں سے ہوا۔ ان حملوں کو تنظیم نے ”آپریشن ہیروف 2“ کا نام دیا، جن میں فوجی اہداف کے ساتھ ساتھ دیگر مقامات پر فدائی کاروائیاں بھی شامل تھیں۔ پولیس، ایف سی، اے ٹی ایف اور سی ٹی ڈی سمیت مختلف سیکیورٹی فورسز کے ساتھ شدید جھڑپیں ہوئیں۔ کوئٹہ، مستونگ، دالبندین، قلات، گوادر، پسنی، تمپ اور نوشکی سمیت متعدد شہروں میں بیک وقت عسکریت پسندوں نے کنٹرول سنبھال کر سیکیورٹی فورسز کے ساتھ دوبدو لڑائی کا آغاز کیا۔ ان مربوط اور فدائی حملوں کا دائرہ بلوچستان کے تزویراتی اور کلیدی مراکز تک پھیلا ہوا تھا۔
ان حملوں کے نتیجے میں ہلاکتوں کے حوالے سے ریاست اور بی ایل اے، دونوں کی جانب سے غیر مصدقہ اطلاعات سامنے آئیں، کیونکہ پورے بلوچستان میں موبائل انٹرنیٹ سروس معطل رہی۔ تاہم اتوار کے روز صوبے کے وزیرِ اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ بلوچستان میں گزشتہ چالیس گھنٹوں کے دوران کیے گئے آپریشنز میں 145 شدت پسند ہلاک ہوئے ہیں، جن کی لاشیں ریاستی اداروں کے پاس موجود ہیں۔ سرفراز بگٹی کے بیان کے مطابق ہفتے کے روز ہونے والے حملوں میں مجموعی طور پر 31 شہری اور 17 سیکیورٹی اہلکار بھی ہلاک ہوئے۔
دوسری جانب بلوچ لبریشن آرمی کے مطابق مجموعی طور پر تنظیم کے 93 ساتھی ہلاک ہوئے، جن میں پچاس فدائین مجید بریگیڈ سے، چھبیس فتح اسکواڈ سے اور سترہ ایس ٹی او ایس کے ساتھی شامل تھے۔ بی ایل اے نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ مختلف جھڑپوں، فدائی حملوں، گھات اور توپ خانے کی کاروائیوں میں سیکیورٹی فورسز کے 362 سے زائد اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔
بلوچ لبریشن آرمی کی جانب سے حالیہ حملے، ایک طرف، اس عسکریت پسند تنظیم کی تنظیمی بڑھوتری اور اس کے لائحہ عمل کی عکاسی کرتے ہیں، جہاں تنظیم کے اپنے اعداد و شمار کے مطابق سینکڑوں کی تعداد میں عسکریت پسندوں نے شرکت کی اور بیک وقت ریاستی اداروں کے ڈھانچوں کو نشانہ بنایا۔ دوسری طرف، یہ حملے ریاستی رٹ کے نام پر پورے بلوچستان کو ایک زندان میں تبدیل کرنے والی نام نہاد حکمتِ عملی کی ناکامی کو بھی بے نقاب کرتے ہیں۔ بالخصوص کوئٹہ کے ریڈ زون میں ہونے والے حملے نے سیکیورٹی انتظامات پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔
اس پوری صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم دو بنیادی نتائج اخذ کر سکتے ہیں۔ پہلا نتیجہ یہ ہے کہ ریاست ان حملوں کے تناظر میں ایک واضح طور پر دفاعی پوزیشن پر چلی گئی ہے۔ اس کا اندازہ اس حقیقت سے لگایا جا سکتا ہے کہ کوئٹہ کے ریڈ زون میں ہونے والے حملوں سے محض چند قدم کے فاصلے پر ایف سی کے دو سے تین اہم مقامات موجود تھے، مگر وہاں سے کسی قسم کا مؤثر جواب سامنے نہیں آیا۔ بعض اطلاعات کے مطابق ان مذکورہ ایف سی مقامات کو حملوں کے دوران مکمل طور پر بند کر دیا گیا تھا، جبکہ ریڈ زون میں موجود پولیس اور اے ٹی ایف کے اہلکاروں نے مزاحمت کی اور مقابلہ کیا۔
دوسرا نتیجہ جو ہم اخذ کر سکتے ہیں وہ یہ ہے کہ ریاست کا اس طرح دفاعی پوزیشن اختیار کرنا محض ایک وقتی ناکامی نہیں بلکہ ایک شعوری حکمتِ عملی بھی ہو سکتی ہے۔ بلوچستان کو مسلسل ایسی بحرانی صورتحال میں رکھنا درحقیقت نااہل صوبائی حکومت اور ان کے دم چھلوں کی سیاسی کرسیوں کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔ حالیہ برسوں میں بلوچستان میں عسکریت پسندی کی ہر نئی لہر کے دوران یہی جعلی حکومتیں اور مسلط کردہ سیاسی ڈھانچے اس جنگ سے براہِ راست مستفید ہوتے رہے ہیں۔ تصویر کے دوسرے رخ پر اگر نظر ڈالی جائے تو ریاستی اشرافیہ بھی اس جنگ سے مکمل طور پر مستفید ہو رہی ہے، کیونکہ اس مستقل عدم استحکام کی آڑ میں وسائل کی لوٹ مار کو بغیر کسی مؤثر عوامی مزاحمت کے جاری رکھا جا سکتا ہے۔ اسی لیے بلوچستان میں ایک مخصوص حد تک عسکریت پسندی ریاست اور اس کے دلالوں کے لیے قابلِ قبول بلکہ بعض اوقات کارآمد بھی ثابت ہوتی ہے۔
بلوچ عسکریت پسندی کی حالیہ لہر کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ اس کا سماجی اور تاریخی پس منظر میں جائزہ لیا جائے، تاکہ قاری مسئلے کی جڑ تک پہنچ سکے اور تحریر میں نظریاتی تسلسل اور ربط بھی برقرار رہے۔
قومی جبر کی تاریخی تشکیل، وسائل کی لوٹ مار اور ریاستی جارحیت
بلوچستان کا مسئلہ ریاستِ پاکستان کے قیام سے پہلے بھی موجود تھا۔ اس تاریخی ورثے میں ریاستِ پاکستان کو برطانوی سامراج سے بہت کچھ ورثے میں ملا، جس میں نوآبادیاتی جبر، بالادست قومیت کا تصور اور وسائل کی منظم لوٹ مار شامل ہے۔ بالخصوص 1948ء میں بلوچستان کا جبری الحاق بلوچ قومی سوال کو ایک فیصلہ کن موڑ فراہم کرتا ہے، جس کے خلاف عوامی اور مسلح مزاحمت کی ایک طویل تاریخ موجود ہے، جس پر ہم ماضی میں تفصیل سے لکھ چکے ہیں۔
تاہم ان تمام عوامی اور مسلح مزاحمتوں کے باوجود یہ مسئلہ نہ صرف آج بھی موجود ہے بلکہ سرمایہ داری کے عمومی زوال کے ساتھ اس کی شدت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ بطور کمیونسٹ یہ سوال ہمارے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے کہ ہم اس قومی جبر کو سرمایہ داری کے ساتھ کیوں جوڑتے ہیں۔ اس نکتے پر یہاں مختصر مگر جامع انداز میں روشنی ڈالنا ضروری ہے۔
اگر قومی جبر کی معاشی بنیادوں کو کمیونسٹ نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ بلوچستان میں جاری وسائل کی لوٹ مار دراصل ”سرمائے کے ارتکاز“ کا عمل ہے۔ اس عمل کے تحت مقامی آبادیوں کو ان کی اپنی زمین سے بے دخل کر کے ان کے قدرتی وسائل پر ایک مخصوص طبقے اور ریاستی مشینری کا کنٹرول قائم کیا جاتا ہے۔ یہی عمل آج بلوچستان میں پوری شدت کے ساتھ جاری ہے۔
یہ صورتحال ولادیمیر لینن کے بیان کردہ اس بنیادی اصول کی تصدیق کرتی ہے کہ، ”سرمایہ داری کا اعلیٰ ترین مرحلہ سامراج ہے“، جہاں طاقتور اقوام کمزور اقوام کے قدرتی وسائل کی لوٹ مار کو اپنا پیدائشی حق سمجھتی ہیں۔ ہمارے مارکسی اساتذہ نے اس حوالے سے واضح طور پر خبردار کیا تھا کہ کسی قوم کی اپنی آزادی کا سوال، دوسری اقوام کے ساتھ اس کے سلوک سے گہرا تعلق رکھتا ہے۔ یہ خیال، جسے اکثر لینن سے منسوب کیا جاتا ہے کہ ”جب تک کوئی قوم دوسری قوم پر ظلم کرتی ہے وہ خود کبھی آزاد نہیں ہو سکتی“، درحقیقت مارکس اور اینگلز کے بنیادی دلائل سے پھوٹتا ہے۔
بلوچستان میں سوئی گیس سے لے کر ریکوڈک، سیندک اور گوادر کے ساحل تک پھیلی ہوئی محرومیاں اسی قومی جبر کا شاخسانہ ہیں، جن کی جڑیں سرمایہ داری اور سامراجیت میں پیوست ہیں۔ اس معاشی استحصال کو برقرار رکھنے کے لیے سیاسی حقوق کو بزورِ طاقت دبایا جاتا ہے، جس کے جواب میں مزاحمت ایک ناگزیر سماجی عمل بن جاتی ہے۔ مارکسزم-لیننزم کے مطابق اس مسئلے کا واحد حل یہی ہے کہ مظلوم اقوام کو اپنے وسائل اور اپنی سیاسی تقدیر پر مکمل اختیار دیا جائے۔
قومی جبر کو سرمایہ داری سے جوڑنے کی ایک اور وجہ یہ ہے کہ سرمایہ داری کی فطرت ہی یہ ہے کہ وہ منافع کی تلاش میں پوری دنیا کو کھنگالتی ہے اور اس عمل میں مقامی عوام کی خودمختاری کو روند ڈالتی ہے۔ بلوچستان میں گوادر کے نام پر نام نہاد ترقی اور سامراجی منصوبہ ”سی پیک“ اس کی واضح مثال ہے، جہاں ترقی کے نام پر مقامی آبادی کو ساحلوں سے بے دخل کیا جا رہا ہے، جبکہ ریکوڈک اور سیندک سے سونا اور تانبا نکال کر مقامی لوگوں کو دھول، آلودگی اور غربت کے سوا کچھ نہیں ملتا۔ یہی وہ خونی عمل ہے جس کے ذریعے ریاستی اشرافیہ اپنے سرمائے میں اضافہ کرتی ہے۔
جیسا کہ ہم بارہا واضح کر چکے ہیں، سرمایہ داری اور سامراجیت کے ان جرائم کے خلاف مزاحمتوں کا ابھرنا ایک ناگزیر تاریخی عمل ہے۔ مگر ان مزاحمتوں کو سبوتاژ کرنے، عوامی آوازوں کو دبانے اور لوٹ مار کے اس نظام کو برقرار رکھنے کے لیے ریاستی جبر کو ایک منظم ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ جبر محنت کش عوام کو ان کے حقوق سے محروم رکھنے اور خوف کی فضا قائم رکھنے کے لیے بروئے کار لایا جاتا ہے۔
بلوچستان میں قومی جبر کی طویل تاریخ کے دوران ریاستی اشرافیہ نت نئے ہتھکنڈے آزماتی رہی ہے۔ فوجی آپریشنز اور مستقل عسکری موجودگی یہاں ایک معمول بن چکی ہے۔ جبری گمشدگیاں، ماورائے عدالت قتل، فیک انکاؤنٹرز اور حالیہ برسوں میں خواتین کی جبری گمشدگی کو بھی معمول کا حصہ بنایا جا رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ نام نہاد جمہوریت کے تحت جعلی نمائندگی، مسلط شدہ صوبائی حکومتیں اور ایک پلانٹڈ ریاستی بیانیہ، یہاں کے عوام کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔
ریاستی جبر بلوچستان میں ایک مستقل ریاستی پالیسی کی حیثیت رکھتا ہے، جہاں فوجی چھاؤنیوں کی بھرمار کو سیکیورٹی کے نام پر جواز فراہم کیا جاتا ہے، جبکہ انہی چھاؤنیوں کی موجودگی کی بنیاد پر نام نہاد ترقیاتی منصوبوں اور لوٹ مار کے پروجیکٹس کو سیاسی و سماجی کنٹرول کے آلے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔
بلوچ عسکریت پسندی کی شدت
گزشتہ چار برسوں کے دوران بلوچ مسلح تنظیموں کے حملوں میں تقریباً 63 فیصد اضافہ اس حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے کہ بلوچستان کا بحران محض وقتی جذباتی ردِعمل یا چند گروہوں کی انفرادی کاروائیوں کا نتیجہ نہیں، بلکہ سرمایہ دار ریاست کے جابرانہ ڈھانچے، قومی و طبقاتی استحصال اور سیاسی قیادت کے فقدان سے جنم لینے والے گہرے سیاسی و سماجی بحران کی پیداوار ہے۔ دہائیوں سے جاری ریاستی جبر، وسائل کی منظم لوٹ مار، جبری گمشدگیاں اور جمہوری حقوق کی مسلسل پامالی نے قومی سوال کو سیاسی بنیادوں پر حل کرنے کی بجائے سکیورٹی کا مسئلہ بنا دیا ہے، جس سے مزاحمت کے رجحانات مزید شدت اختیار کرتے گئے ہیں۔
تاہم ایک کمیونسٹ تجزیہ اس ابھار کو اس کے طبقاتی سیاق و سباق میں دیکھتا ہے۔ موجودہ مسلح جدوجہد بنیادی طور پر اپنے آغاز سے پیٹی بورژوا قوم پرست پرتوں کی قیادت میں آگے بڑھ رہی ہے، جبکہ اس میں شامل ہونے والے نوجوان بڑی حد تک وہ ہیں جو بیروزگاری، سماجی گھٹن اور مزدور تحریک سے کٹاؤ کا شکار ہیں۔ چونکہ محنت کش طبقے کی کوئی منظم، انقلابی اور طبقاتی قیادت موجود نہیں جو قومی جبر کے خلاف جدوجہد کو سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف وسیع تر تحریک سے جوڑ سکے، اس لیے مزاحمت بکھری ہوئی اور عسکری شکل اختیار کر لیتی ہے۔ مگر پیٹی بورژوا عسکریت پسندی، اپنی جرات مندی کے باوجود، سرمایہ دار ریاست کے ڈھانچے کو اکھاڑنے کی سکت نہیں رکھتی اور اکثر ریاستی جبر کو مزید شدت اختیار کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔
بلوچستان کا مسئلہ بندوق کے ذریعے آزادی اور ریاستی بندوق کے درمیان توازن کا نہیں، بلکہ محنت کش طبقے کی آزاد، انقلابی اور طبقاتی سیاست کی تعمیر کا سوال ہے، ایسی سیاست جو قومی جبر کے خاتمے کو سرمایہ دارانہ استحصال کے خاتمے سے جوڑ دے۔ آگے چل کر ہم اس سوال پر تفصیل سے بحث کریں گے کہ عسکریت پسندی اور سیاسی عمل کا آپس میں کیا تعلق ہے اور بطور کمیونسٹ ہم کیوں اندھی عسکریت یا انفرادی تشدد کی بجائے عوامی، منظم اور طبقاتی بنیادوں پر استوار مزاحمت کے قائل ہیں۔ بلوچ عسکریت پسندی میں اس شدت کو مزید ٹھوس بنیادوں پر سمجھنے کے لیے ہمیں ایک بار پھر ماضی قریب کی طرف رجوع کرنا ہو گا، جہاں بالخصوص سال 2018ء ایک اہم موڑ کی حیثیت رکھتا ہے۔
سال 2018ء ایک اہم موڑ کیوں؟
2018ء تک بلوچ سماج ایک سطحی اور عارضی جمود کا شکار رہا۔ بالخصوص 2013ء میں بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (آزاد) پر پابندی عائد کی گئی، جبری گمشدگیوں میں اضافہ ہوا اور ماورائے عدالت قتل معمول بن گئے۔ ان عوامل نے مجموعی طور پر بلوچ سماج پر ایک وقتی خاموشی اور خوف طاری کر دیا۔ تاہم نومبر 2018ء میں بی ایس او آزاد کے سیکرٹری اطلاعات شبیر بلوچ کی جبری گمشدگی کے خلاف ان کے لواحقین کی جانب سے شروع کیا گیا احتجاج اس جمود کو توڑنے میں فیصلہ کن ثابت ہوا۔ اس کے بعد احتجاجی تحریکوں، دھرنوں اور مظاہروں نے دوبارہ بلوچ طلبہ، نوجوانوں اور سیاسی کارکنوں میں بیداری پیدا کی۔
اسی دوران بلوچ مسلح تنظیموں میں بھی ایک نیا جوش اور تنظیمی استحکام دیکھنے میں آیا۔ وہ اندرونی تضادات اور اختلافات جو ماضی میں ان گروہوں کی کارکردگی کو متاثر کر رہے تھے، خاصی حد تک کم ہو گئے۔ بالخصوص بلوچ لبریشن آرمی میں پھوٹ اور قائدانہ خلا کی صورتحال میں نمایاں تبدیلیاں آئیں۔ بلوچ کمانڈر استاد اسلم اچھو کے قندھار میں قتل کے بعد بشیر زیب نے قیادت سنبھالی، جس کے بعد تنظیم کے مختلف محاذ تقریباً بیک وقت زیادہ فعال ہونے لگے۔
عوامی مزاحمت کی نئی شکلیں اور سماجی بیداری
2019ء میں کورونا وبا کے باعث احتجاجی عمل میں وقتی تعطل آیا، مگر مئی 2020ء میں تربت کے علاقے میں ڈیتھ اسکواڈ کے کارندوں نے ایک گھر پر دھاوا بولتے ہوئے ملک ناز نامی خاتون کو بے دردی سے قتل کیا۔ اس واقعے کے بعد ملک ناز کی بیٹی (کم عمر برمش جو کہ اس حملے میں زخمی ہوئی تھی) کے نام سے برمش یکجہتی کمیٹی قائم کی گئی۔ اگست 2020ء میں ضلع کیچ کے مضافاتی علاقے میں کھیت پر کام کرنے والے کراچی یونیورسٹی کے طالب علم حیات بلوچ کو ایف سی کے اہلکاروں نے والدین کے سامنے بے رحمی سے شہید کر دیا، جس کے بعد مذکورہ بالا کمیٹی کا نام تبدیل کر کے حیات بلوچ کمیٹی رکھا گیا۔
ان تمام تنظیموں سے قبل جولائی 2018ء میں بلوچ یکجہتی کمیٹی تشکیل دی جا چکی تھی، جس کا بنیادی مقصد جبری گمشدگیوں، جمہوری حقوق پر قدغنوں اور ماورائے عدالت قتل کے خلاف آواز بلند کرنا تھا۔ تاہم حیات بلوچ کے قتل کے بعد اس کمیٹی کو نئی تقویت ملی اور یہ رفتہ رفتہ بلوچ سماج کی ایک نمایاں نمائندہ آواز بننے لگی۔
2021ء اور 2022ء کے دوران بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے خلاف قابلِ ذکر عوامی احتجاج سامنے آئے، جن میں طلبہ اور لاپتہ افراد کے اہلِ خانہ پیش پیش تھے۔ 2021ء میں بلوچستان یونیورسٹی کے طلبہ نے اپنے ساتھیوں کی بازیابی کے لیے احتجاجی مظاہرے کیے، جبکہ 2022ء میں کوئٹہ کے ریڈ زون کے سامنے لاپتہ افراد کے اہلِ خانہ نے تقریباً 52 روز تک طویل دھرنا دیا۔ اس دھرنے کا بنیادی مطالبہ جبری گمشدگیوں کا خاتمہ، لاپتہ افراد کی بازیابی اور ریاستی اداروں کی جوابدہی تھا۔
دسمبر 2023ء میں بالاج بلوچ کے ریاستی قتل کے بعد اسلام آباد تک لانگ مارچ، ایک ماہ سے زائد عرصے پر محیط احتجاجی دھرنا اور پھر کوئٹہ سمیت بلوچستان کے طول و عرض میں ہونے والے احتجاجی جلوسوں، جلسوں اور دھرنوں نے بلوچ سماج میں عوامی شعور کی ایک نئی لہر پیدا کی۔ یوں بلوچ یکجہتی کمیٹی ایک طاقتور عوامی آواز کے طور پر ابھری۔
یہاں اس بات کی نشاندہی ضروری ہے کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کی قیادت نے بھی پشتون تحفظ موومنٹ کی قیادت کی طرح واضح تنظیمی اور سیاسی لائحہ عمل اختیار کرنے سے گریز کیا۔ اس کے باوجود، اس تحریک نے بلوچ سماج پر مسلط ریاستی جبر کے نتیجے میں پیدا ہونے والے خوف کو توڑا اور بالخصوص نوجوانوں میں ایک نئی امید اور اعتماد کی فضا قائم کی۔
عوامی تحریکیں اور مسلح جدوجہد
اگر بلوچ عسکریت پسندی کی موجودہ شدت کو حالیہ صورتحال کے تناظر میں دیکھا جائے تو ایک بنیادی حقیقت کو واضح کرنا ضروری ہے کہ بلوچ نوجوان عوامی جدوجہد کو اپنے مسائل اور قومی جبر کے خلاف ایک اہم اور مؤثر آلہ سمجھتے ہیں۔ مگر پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ عوامی تحریکوں اور مسلح جدوجہد کے باہمی تعلق کو زیرِ بحث لانا کیوں ضروری ہے؟ اس حوالے سے ریاست جس انداز میں اس بحث کو پیش کرتی ہے وہ نہ صرف گمراہ کن ہے بلکہ سراسر پروپیگنڈا بھی ہے، جس کی ہم واضح الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔
پہلا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ عوامی جدوجہد وہ واحد آلہ ہے جس کے ذریعے ریاست کو ہر محاذ پر حقیقی معنوں میں چیلنج کیا جا سکتا ہے۔ عسکریت پسندی کے برعکس، عوامی تحریک ریاست کے لیے سب سے مشکل اور خطرناک مرحلہ ثابت ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ریاست کی کوشش ہوتی ہے کہ بلوچ نوجوان عوامی جدوجہد کے میدان میں منظم ہونے کی بجائے پہاڑوں کا رخ کریں۔ یہاں یہ بات بھی بارہا واضح کی جا چکی ہے کہ ریاست کے لیے عسکریت پسندی ایک مخصوص اور محدود پیمانے پر نہ صرف قابلِ برداشت بلکہ بعض اوقات موزوں بھی ہوتی ہے۔
دوسری اہم حقیقت یہ ہے کہ جو بلوچ نوجوان پہاڑوں کی طرف رخ کرتے ہیں، اس کے پس منظر میں محض جذبات یا رومانویت نہیں بلکہ ریاستی جبر، پُرامن عوامی جدوجہد کا کچلا جانا، سیاسی عمل کی بندش اور مسلسل غیر انسانی رویے کارفرما ہوتے ہیں۔ یہ تمام عوامل نوجوانوں کو ایک ایسے موڑ پر لا کھڑا کرتے ہیں جہاں ان کے سامنے مزاحمت کا واحد منظم راستہ مسلح جدوجہد ہی رہ جاتا ہے۔
تاہم اس پوری بحث میں سب سے اہم اور بنیادی پہلو یہ ہے کہ بلوچ سماج میں جو عوامی تحریک بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) کی شکل میں ابھری، اس کی قیادت متبادل نظریات، واضح سیاسی پروگرام اور مربوط تنظیمی لائحہ عمل فراہم کرنے میں ناکام رہی۔ وہ نوجوان جو اس تحریک سے بڑی توقعات وابستہ کیے ہوئے تھے، جب اپنی سیاسی و جذباتی تسکین اس پلیٹ فارم پر حاصل نہ کر سکے تو ان کے سامنے ایک معروضی حقیقت کے طور پر عسکریت پسندی کا محاذ موجود تھا، جسے انہوں نے مزاحمت کی ایک شکل کے طور پر اختیار کرنا شروع کیا۔ اگرچہ عوامی تحریک کی قیادت کی خواہش یہی تھی کہ جذباتی نعروں اور وقتی دباؤ کے ذریعے نوجوانوں کو اپنے ساتھ جوڑے رکھا جائے، مگر حالات کے جبر، سماجی تبدیلیوں اور معروضی بحران کو سمجھنے اور ان کا سیاسی جواب تشکیل دینے کی صلاحیت یا تو موجود نہیں تھی، یا پھر دانستہ طور پر اسے نظرانداز کیا گیا۔ نتیجتاً قیادت حالات کو ایک واضح اور انقلابی سیاسی پروگرام کے ساتھ جوڑنے میں ناکام رہی۔
یہ محض ایک تجزیاتی دعویٰ نہیں بلکہ ایک ٹھوس حقیقت ہے کہ 2022ء سے 2025ء کے دوران ہونے والے حملوں میں جان دینے والے بلوچ نوجوانوں کی اکثریت گزشتہ تین سے چار برسوں میں ریکروٹمنٹ کا حصہ بنی۔ یہ عمل محض ماضی تک محدود نہیں رہے گا بلکہ مستقبل میں بھی اپنے اثرات کا اظہار کرے گا۔
اس پوری بحث کے ذریعے ہم یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ سرمایہ داری کے زوال نے ایک طرف محنت کش طبقے سے اس کی بنیادی معاشی ضمانتیں، روٹی، روزگار اور تحفظ چھین لیا ہے، جبکہ دوسری طرف اسی بحران زدہ اور بوسیدہ نظام کے اندر نوجوان طبقہ شدت کے ساتھ تبدیلی کا خواہاں بن کر ابھرا ہے۔ نوجوان درحقیقت محنت کش طبقے کا سب سے متحرک، بے چین اور غیر مستحکم حصہ ہوتے ہیں، جو سرمایہ دارانہ بحران کے اثرات کو سب سے پہلے اور سب سے زیادہ شدت کے ساتھ محسوس کرتے ہیں۔
جب محنت کش عوام کی اجتماعی جدوجہد، منظم عوامی تحریکیں اور انقلابی سیاسی متبادل یا تو غائب ہوں یا کمزور پڑ جائیں، تو یہی نوجوان پرت جبر، محرومی اور بے بسی کے ماحول میں مزاحمت کے متبادل راستوں کی تلاش میں عسکریت پسندی کی طرف مائل ہو جاتا ہے۔ اس تناظر میں عسکریت پسندی کوئی اخلاقی یا نفسیاتی مسئلہ نہیں بلکہ ایک معروضی سماجی ردِعمل کے طور پر جنم لیتی ہے، جو عوامی جدوجہد کی عدم موجودگی یا شکست کا نتیجہ ہوتی ہے۔
ہم اس مؤقف پر قائم ہیں کہ ریاست دانستہ یا نادانستہ بلوچ نوجوانوں کو عسکریت پسندی کے دائرے میں دھکیل رہی ہے لیکن واضح نظریاتی بنیادوں، انقلابی سیاسی پروگرام اور منظم تنظیمی ڈھانچے پر استوار عوامی تحریکیں نہ صرف نوجوانوں کو اپنے ساتھ جوڑنے کی صلاحیت رکھتی ہیں بلکہ انہیں یہ شعوری ادراک بھی فراہم کرتی ہیں کہ وقتی قربانیوں کے ذریعے وہ اپنے اجتماعی مستقبل کو شعوری، منظم اور پائیدار بنیادوں پر تعمیر کر سکتے ہیں۔ یہی راستہ نوجوانوں کی توانائی کو تباہ کن بند گلیوں کی بجائے سماجی نجات اور انقلابی تبدیلی کی سمت موڑنے کی واحد سنجیدہ بنیاد فراہم کرتا ہے۔
مسلح جدوجہد پر مارکسی تنقید
مارکسی نقطہ نظر میں دہشت گردی کو کسی اخلاقی، مذہبی یا نفسیاتی انحراف کے طور پر نہیں بلکہ ایک مخصوص سماجی و تاریخی مظہر کے طور پر دیکھا جاتا ہے، جو طبقاتی جبر کے ساتھ ساتھ قومی جبر اور سیاسی گھٹن سے جنم لیتا ہے۔ مارکسزم کے مطابق عسکریت پسندی ایسے حالات میں ابھرتی ہے جہاں نہ صرف محنت کش طبقے کی طبقاتی جدوجہد کو کچل دیا گیا ہو بلکہ محکوم اقوام کی عوامی اور جمہوری تحریکوں کے تمام راستے بھی بند کر دیے گئے ہوں۔ اس تناظر میں عسکریت پسندی سماج کی عمومی، منظم اور اجتماعی جدوجہد کا متبادل نہیں بلکہ سیاسی تعطل، مایوسی اور شکست خوردگی کا اظہار ہوتی ہے۔ اسی سلسلے میں ہم اپنے مارکسی اساتذہ کے نظریاتی مؤقف کا مفہوم پیش کرتے ہیں۔
کارل مارکس کے نزدیک سماجی تبدیلی کا بنیادی محرک عوام کی اجتماعی جدوجہد ہے، خواہ وہ طبقاتی استحصال کے خلاف ہو یا قومی جبر کے خلاف۔ مارکس نے واضح طور پر اس بات پر زور دیا کہ انقلاب عوامی شعور، تنظیم اور تحریک کے بغیر ممکن نہیں۔ اسی بنیاد پر وہ ان تمام رجحانات کے مخالف تھے جو سماجی تبدیلی کو چند افراد یا خفیہ گروہوں کی جرات مندانہ مگر عوام سے کٹی ہوئی کاروائیوں سے وابستہ کرتے ہیں۔ مارکس کے نزدیک انقلاب سازشوں کے ذریعے نہیں بلکہ عوام کی منظم اور شعوری حرکت سے جنم لیتا ہے۔
فریڈرک اینگلز نے ان نظریات کو مزید واضح کرتے ہوئے بلانکی ازم جیسے رجحانات پر سخت تنقید کی، جو یہ سمجھتے تھے کہ ایک منظم اقلیت طاقت کے زور پر اقتدار پر قبضہ کر کے سماج کو تبدیل کر سکتی ہے۔ اینگلز کے مطابق خفیہ تنظیمیں اور انفرادی تشدد، خواہ وہ قومی جبر کے ردِعمل میں ہی کیوں نہ ہوں، بالآخر انقلاب کو ایک وقتی بغاوت میں بدل دیتے ہیں۔ ایسی سیاست عوامی تحریکوں کو مضبوط کرنے کی بجائے انہیں غیر فعال اور کمزور بنا دیتی ہے۔
لینن نے عسکریت پسندی، بالخصوص انفرادی دہشت گردی، کو محنت کش طبقے اور محکوم اقوام دونوں کی جدوجہد کے لیے نقصان دہ قرار دیا۔ لینن نے قومی سوال پر یہ واضح کیا کہ محکوم اقوام کو حقِ خود ارادیت حاصل ہے، مگر اس حق کی جدوجہد بھی عوامی تحریک، طبقاتی اتحاد اور سیاسی تنظیم کے بغیر کامیاب نہیں ہو سکتی۔ لینن کے نزدیک انفرادی تشدد دراصل سیاسی کمزوری اور بے بسی کی علامت ہوتا ہے، کیونکہ یہ نہ ریاستی ڈھانچے کو توڑتا ہے اور نہ ہی عوامی شعور کو بلند کرتا ہے۔
لیون ٹراٹسکی نے انفرادی تشدد پر سب سے جامع اور گہری تنقید پیش کرتے ہوئے واضح کیا کہ جب عوامی طبقاتی اور قومی تحریکوں کی جگہ چند مسلح افراد یا گروہ لے لیتے ہیں تو جدوجہد سماج کی عمومی حرکت سے کٹ جاتی ہے۔ ٹراٹسکی کے مطابق عسکریت پسندی عوام کی اجتماعی قوت کی جگہ چند افراد کی مرضی کو مسلط کرنے کی کوشش ہوتی ہے، جو بالآخر ریاستی جبر کو مزید تقویت دیتی ہے اور عوامی تحریکوں کے لیے موجود گنجائش کو تنگ کر دیتی ہے۔
انقلابی کمیونسٹ انٹرنیشنل کے قائد ایلن وڈز کے مؤقف کا نچوڑ بھی یہی ہے کہ وہ دہشت گردی کو سرمایہ داری کے عالمی بحران، سامراجی مداخلت اور محنت کش طبقے سمیت محکوم اقوام کی عوامی تحریکوں کی شکست یا قیادت کی غداری سے جوڑتے ہیں۔ ان کے مطابق عسکریت پسندی مایوسی کی سیاست ہے، جو وہاں جنم لیتی ہے جہاں طبقاتی اور قومی جدوجہد کو یا تو ریاستی طاقت سے کچل دیا گیا ہو یا پھر اصلاح پسند اور موقع پرست قیادتوں نے تحریکوں کو بے راہ روی کا شکار بنا دیا ہو۔ اسی لیے دہشت گردی کو جدوجہد کا راستہ نہیں بلکہ اس کی ناکامی کا اظہار سمجھا جانا چاہیے۔
مختصراً، مارکسی نقطہ نظر میں عسکریت پسندی نہ تو طبقاتی نجات کا ذریعہ ہے اور نہ ہی قومی آزادی کی کوئی مؤثر شکل۔ یہ ریاستی جبر کو مضبوط کرتی ہے، عوامی اور قومی تحریکوں کو کمزور کرتی ہے اور جدوجہد کو محدود اور تنگ دائروں میں قید کر دیتی ہے۔ اس کے برعکس مارکسزم اس بات پر زور دیتا ہے کہ بلوچستان جیسے خطوں میں حقیقی پیش رفت اسی وقت ممکن ہے جب قومی جدوجہد کو محنت کش طبقے کی منظم، شعوری اور اجتماعی عوامی تحریک سے جوڑا جائے اور اسے ایک واضح انقلابی اور سوشلسٹ پروگرام کے ساتھ ہم آہنگ کیا جائے۔
مسلح جدوجہد: حدود اور تضادات
آج کے عہد میں، جب سرمایہ داری کا بحران عالمی شکل اختیار کر چکا ہے، بلوچستان کا عام نوجوان، مزدور، ماہی گیر اور عوامی اداروں کا محنت کش شدید معاشی و سماجی دباؤ کا شکار ہے۔ مہنگائی، بے روزگاری، نجکاری اور ریاستی جبر کے خلاف روزانہ کی بنیاد پر احتجاج، جلسے، جلوس، دھرنے اور ہڑتالیں اس بحران کا واضح اظہار ہیں۔ حالیہ عرصے میں بلوچستان گرینڈ الائنس کے پلیٹ فارم سے محنت کشوں کی ایک وسیع جدوجہد ابھری ہے، جس نے بلوچستان میں طبقاتی استحصال کے سوال کو ایک بار پھر مرکزِ بحث بنا دیا ہے۔
ان حالات میں جب ہم بلوچ عسکریت پسندی کا تجزیہ کرتے ہیں تو اس کی حدود اور تضادات پوری شدت کے ساتھ سامنے آتے ہیں۔ یہ تضادات محض عسکری میدان تک محدود نہیں بلکہ بنیادی طور پر اس تحریک کی نظریاتی بنیادوں میں پیوست ہیں۔
طبقاتی تضادات کی نظراندازی
مارکسی نقطہ نظر کے مطابق کوئی بھی تحریک اس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتی جب تک وہ اپنے سماجی طبقے کی درست شناخت اور اس کی نمائندگی نہ کرے۔ بلوچ عسکریت پسندی کا سب سے بنیادی تضاد یہی ہے کہ وہ قومی سوال کو تو شدت سے اٹھاتی ہے، مگر بلوچ قوم کے اندر موجود طبقاتی تضادات کو یا تو مکمل طور پر نظرانداز کرتی ہے یا غیر سائنسی انداز میں انہیں ثانوی بنا دیتی ہے۔
ٹھوس بنیادوں پر دیکھا جائے تو بلوچ عسکریت پسند تحریک ریاست سے تو برسرِ پیکار ہے، مگر اپنی ہی قوم کے اندر موجود استحصالی عناصر، سردارانہ ڈھانچے اور مڈل کلاس موقع پرست قیادت کے خلاف خاموش رہتی ہے۔ اس تضاد کا ناگزیر نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ تحریک کی حدود تنگ سے تنگ تر ہوتی چلی جاتی ہیں۔ جب تک جدوجہد محض ”بلوچ بمقابلہ ریاست“ کے فریم میں قید رہے گی اور ”مظلوم بمقابلہ ظالم“ کو طبقاتی بنیادوں پر نہیں جوڑے گی، نہ یہ ملک کے دیگر حصوں کے محنت کشوں کی حمایت حاصل کر سکتی ہے اور نہ ہی خود بلوچ محنت کشوں کی مکمل اور پائیدار تائید جیت سکتی ہے۔ یوں تحریک جغرافیائی اور عوامی دونوں حوالوں سے محدود ہو کر رہ جاتی ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ، بعض مواقع پر بلوچ عسکریت پسندی کا دہشت گردی اور قومی شاونزم کی طرف جھکاؤ، خصوصاً غیر بلوچ مزدوروں، بالخصوص پنجابی محنت کشوں کو محض ”ایجنٹ“ قرار دے کر نشانہ بنانا، اسے مزید مزدور دشمن قوتوں کی صف میں لا کھڑا کرتا ہے۔
مہم جوئی بمقابلہ عوامی تنظیم کاری
لینن اور ٹراٹسکی نے بارہا اس بات پر زور دیا کہ انفرادی دہشت گردی اور عسکری مہم جوئی انقلابی تحریکوں کا قبرستان ثابت ہوتی ہے۔ بلوچستان میں اگرچہ ریاست نے سیاسی میدان کو دانستہ طور پر تنگ کر رکھا ہے، جہاں نوجوانوں کے لیے طویل، صبر آزما اور شعوری تنظیم کاری کی بجائے فوری اور جذباتی مسلح کاروائی ایک بظاہر آسان راستہ بن جاتی ہے، مگر اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ جب بندوق سیاست پر حاوی ہو جاتی ہے تو سیاست خود ختم ہو جاتی ہے۔
عوام کو منظم کرنا، انہیں ایک واضح سیاسی پروگرام کے تحت متحد کرنا اور شعوری جدوجہد کی طرف لانا ایک کٹھن اور مسلسل عمل ہے، جو اکثر مڈل کلاس کے بے چین نوجوانوں کو ناقابلِ برداشت محسوس ہوتا ہے۔ چنانچہ مسلح جدوجہد ایک شارٹ کٹ کے طور پر اپنائی جاتی ہے، جو بالآخر ریاست کو تحریک کو کچلنے کا بہانہ اور آسانی فراہم کرتی ہے۔ نتیجتاً ریاست نہ صرف مسلح گروہوں بلکہ عوامی تحریکوں کے کارکنوں کے ساتھ بھی دہشت گردوں جیسا سلوک کرتی ہے، جس سے عوام میں خوف اور پسپائی کی فضا جنم لیتی ہے۔
دشمن کی شناخت کا تضاد یا قوم پرستی کا زوال
مارکسزم بین الاقوامیت کی تعلیم دیتا ہے، جہاں ایک قوم کا مزدور دوسری قوم کے مزدور کا فطری اتحادی ہوتا ہے۔ مگر آج کی قوم پرستی دنیا بھر میں بتدریج نسل پرستی اور قومی شاونزم میں تبدیل ہو چکی ہے۔ بلوچ عسکریت پسند تحریک میں بھی یہ زوال واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے، جہاں دوسرے صوبوں سے آئے ہوئے غریب محنت کشوں کو بغیر کسی ٹھوس ثبوت کے ریاستی ایجنٹ قرار دے کر نشانہ بنایا جاتا ہے۔
یہ طرزِ عمل تحریک کو اخلاقی اور نظریاتی دونوں حوالوں سے کمزور کرتا ہے اور ایک قومی جدوجہد کو نسلی تصادم میں بدل دیتا ہے۔ اس کا فائدہ براہِ راست حکمران اشرافیہ کو پہنچتا ہے، جبکہ نقصان ان عوامی تحریکوں کو ہوتا ہے جو طویل جدوجہد کے بعد دیگر اقوام کے محنت کشوں سے یکجہتی اور حمایت حاصل کرتی ہیں۔ عسکریت پسندوں کی ایسی ایک بڑی کاروائی برسوں کی محنت سے بنی اس یکجہتی کو لمحوں میں سبوتاژ کر دیتی ہے۔
سیکیورٹی سٹیٹ اور جغرافیائی تنہائی
پاکستان ایک سیکیورٹی ریاست ہے، جس کے پاس وسیع عسکری وسائل، جدید ٹیکنالوجی اور لاکھوں اہلکاروں پر مشتمل جبر کے ادارے موجود ہیں۔ اس حقیقت کے اعتراف کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ریاست ناقابلِ شکست ہے؛ تاریخ ہمیں اس سے کہیں زیادہ طاقتور ریاستوں کے انہدام کی بے شمار مثالیں فراہم کرتی ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ ان ریاستوں کا خاتمہ کن حالات میں ممکن ہوا؟ کہیں بھی محض ایک تنہائی کا شکار عسکریت پسندی، عوامی حمایت اور وسیع عوامی جدوجہد کے بغیر، کسی جدید سیکیورٹی سٹیٹ کو شکست نہیں دے سکی۔
یہاں ایک بنیادی سوال ابھرتا ہے: کیا آج کے عہد میں عسکریت پسندی کسی دوسرے سامراجی ملک یا علاقائی طاقت کی مادی، سیاسی یا عسکری مدد کے بغیر کامیاب ہو سکتی ہے؟ تاریخی اور موجودہ تجربات اس سوال کا جواب نفی میں دیتے ہیں۔ ایسی صورت میں عسکریت پسند تحریکیں یا تو سامراجی طاقتوں کے مفادات کی محتاج بن جاتی ہیں یا پھر طویل فوجی تعطل اور انسانی نقصان کا شکار ہو جاتی ہیں۔
اسی طرح یہ سوال بھی فیصلہ کن ہے کہ کیا محض عسکری کاروائیوں کی بنیاد پر، عوامی حمایت اور عوامی جدوجہد کے بغیر، پاکستان جیسی سیکیورٹی ریاست کو شکست فاش دی جا سکتی ہے؟ مارکسی نقطہ نظر سے اس کا جواب بھی واضح ہے: طاقت کا اصل سرچشمہ بندوق نہیں بلکہ منظم عوام ہوتے ہیں۔ جب تک محنت کش عوام منظم ہو کر ریاستی جبر کے ڈھانچوں کو اندر سے متزلزل نہ کریں، اس وقت تک مسلح جدوجہد ایک دباؤ تو پیدا کر سکتی ہے، مگر فیصلہ کن فتح ممکن نہیں۔
لہٰذا، بلوچ سوال کو کسی تنہائی زدہ عسکریت پسندی کی بنیاد پر حل کرنا ایک نظریاتی وہم سے زیادہ کچھ نہیں۔ بلوچ مسئلے کا حقیقی اور پائیدار حل صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب یہ جدوجہد بلوچستان کی عوامی تحریکوں کو ملک گیر طبقاتی جدوجہد سے جوڑے، جہاں بلوچ، پشتون، پنجابی، سندھی اور دیگر اقوام کے محنت کش ایک مشترکہ دشمن سرمایہ دارانہ ریاست اور اس کی اشرافیہ، کے خلاف متحد ہوں۔ اس کے بغیر ہر مسلح مہم جوئی، چاہے وہ کتنی ہی جرات مند کیوں نہ ہو، بالآخر شکست، تنہائی اور تباہی پر منتج ہوتی ہے۔
بلوچستان پہلے ہی متحارب سامراجی طاقتوں کا اکھاڑہ بنا ہوا ہے اور موجودہ عالمی و علاقائی صورتحال میں کوئی ایسی معروضی کیفیت موجود نہیں جہاں سامراجی طاقتیں بلوچستان کی آزادی میں سنجیدہ دلچسپی رکھتی ہوں۔ یہ حقیقت قوم پرست نقطہ نظر سے بھی اس وقت ایک ناقابلِ عمل منظرنامہ دکھاتی ہے۔ مزید یہ کہ بلوچ عسکریت پسندی کی عوامی مقبولیت کی بنیاد اس کا کوئی واضح سیاسی پروگرام نہیں، بلکہ ریاستی جبر، معاشی استحصال اور ریاست کے خلاف عمومی نفرت ہے۔ کوئٹہ میں 31 جنوری کے حملے کے بعد پشتون نوجوانوں میں پائی جانے والی ہمدردی بھی اسی پس منظر کا اظہار تھی۔ مگر اس کے باوجود تحریک شہروں میں مزدور طبقے کی فعال شرکت، مضبوط سیاسی نیٹ ورک اور منظم عوامی ڈھانچے سے محروم ہے۔ نتیجتاً پہاڑوں سے لڑی جانے والی یہ جنگ نہ صرف انسانی المیے میں بدل جاتی ہے بلکہ بغیر واضح سیاسی قیادت کے ایک ناکارہ اور طویل تنازع کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔
نظریہ، سیاست اور عسکریت
دنیا کی تاریخ میں جتنی بھی نظریاتی بنیادوں پر ابھرنے والی عسکریت پسند تحریکیں رہی ہیں، ان کے پیچھے محض ہتھیار نہیں بلکہ واضح سیاسی چہرے، منظم ڈھانچے اور نسبتاً متعین نظریات موجود تھے۔ چاہے وہ مارکسزم کی مختلف شکلیں ہوں یا سٹالنزم، ان تحریکوں میں نظریہ فیصلہ کن حیثیت رکھتا تھا اور عسکریت کو سیاست کے تابع سمجھا جاتا تھا، نہ کہ اس کا متبادل۔
اس کے برعکس بلوچستان کے تناظر میں موجودہ عسکریت پسندی بنیادی طور پر قوم پرستانہ بنیادوں پر استوار ہے، جہاں نظریاتی ابہام اور سیاسی افق کی محدودیت نمایاں ہے۔ اگر بلوچ سماج میں منظم سیاسی جدوجہد پر ریاستی پابندیاں عائد ہیں، تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ سیاست کا میدان ہمیشہ کے لیے بند ہو جاتا ہے۔ تاریخ یہ بتاتی ہے کہ ایسے حالات میں متبادل نظریاتی بنیادوں پر، متبادل طریقہ کار کے ساتھ، نئے سیاسی چہرے اور سیاسی اظہار کی شکلیں ابھر سکتی ہیں۔ اصل سوال عسکریت کو مقدس ماننے کا نہیں بلکہ اسے ایک عبوری کیفیت سمجھتے ہوئے سیاست اور نظریے کی ازسرِ نو تعمیر کا ہے۔
مزدور تحریک اور قومی سوال
بلوچستان میں جاری قومی تحریک اور پاکستان بھر میں مزدور تحریک کی کمزوری کا باہمی تعلق ایک ایسا سوال ہے جو انقلابی کمیونسٹوں کے لیے کلیدی اہمیت رکھتا ہے۔ اس تعلق کو سمجھنے کے لیے لازم ہے کہ ہم قوم پرستی کے فرسودہ اور روایتی سحر سے باہر نکلیں اور اس مسئلے کا تجزیہ سائنسی سوشلزم کی بنیادوں پر کریں، نہ کہ جذباتی یا رومانوی نعروں کی سطح پر۔
مارکسی نقطہ نظر سے قومی جبر کوئی مابعدالطبیعاتی یا ازلی مظہر نہیں، بلکہ سرمایہ دارانہ نظام کی ایک ٹھوس مادی ضرورت ہے۔ بلوچستان میں قومی جبر کی مادی بنیاد معدنی وسائل، ساحلی پٹی اور خطے کی اسٹریٹجک میزائل جغرافیائی حیثیت کی وہ منظم لوٹ مار ہے جسے سرمایہ دارانہ ریاست اپنی بقا کے لیے ناگزیر سمجھتی ہے۔ ایک بلوچ محنت کش دوہرے بلکہ اکثر اوقات تہرے جبر کا شکار ہوتا ہے: ایک طرف وہ بطور مزدور اپنی محنت کے استحصال کا سامنا کرتا ہے، دوسری جانب بطور ایک مظلوم قوم کا فرد اپنی زمین، وسائل اور سیاسی حقِ حکمرانی سے محرومی جھیلتا ہے اور تیسری طرف قبائلی سماج کی پسماندگی اور سرداری نظام کے جبر میں بھی پسا رہتا ہے۔ لہٰذا قومی سوال کو طبقاتی سوال سے الگ کرنا ایسا ہی ہے جیسے کسی جسم سے اس کا سایہ الگ کرنے کی کوشش کی جائے۔
پاکستان بھر میں مزدور تحریک کی موجودہ کمزوری کے اسباب کو سمجھے بغیر قومی تحریکوں کی موجودہ سمت کو بھی نہیں سمجھا جا سکتا۔ اس کمزوری کی جڑیں سوویت یونین کے انہدام کے بعد عالمی مزدور تحریک کی تاریخی پسپائی میں پیوست ہیں۔ اس شکست نے محنت کش طبقے کو عالمی سطح پر دفاعی پوزیشن میں دھکیل دیا، جس کے بعد سرمایہ دار اشرافیہ نے نجکاری، ٹھیکیداری نظام اور ٹریڈ یونین دشمن پالیسیوں کے ذریعے محنت کشوں پر بھرپور یلغار کی۔ یوں مزدور تحریک، جو کبھی ایک متبادل عالمی نظام کا خواب دیکھتی تھی، محض چند مراعات کے دفاع تک محدود ہو کر رہ گئی۔
جب طبقاتی سیاست کمزور پڑتی ہے تو سماج میں ایک سیاسی خلاء جنم لیتا ہے اور اس خلا کو سرمایہ دارانہ ریاستیں لسانیت، فرقہ واریت اور بورژوا قوم پرستی کے ذریعے پُر کرتی ہیں۔ بلوچستان جیسے خطے میں، جہاں قومی جبر پہلے ہی موجود تھا، مزدور تحریک کی عدم موجودگی نے نوجوانوں کو ایک محدود اور تنگ نظر قوم پرستی کی طرف دھکیلا، ایسی قوم پرستی جو طبقاتی سوال کو پسِ پشت ڈال دیتی ہے۔ مگر آج کی بورژوا قوم پرستی تاریخی طور پر متروک ہو چکی ہے۔ سامراجی نظام کے اندر رہتے ہوئے اس کے پاس مظلوم اقوام کے مسائل کا کوئی حقیقی حل موجود نہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ قوم پرست قیادتیں یا تو غیر ملکی سامراج کی گود میں بیٹھ کر ”آزادی“ کا سودا کرتی ہیں یا اقتدار میں آ کر اپنی ہی عوام کے لیے ایک نیا استحصالی ٹولہ بن جاتی ہیں۔ بنگلہ دیش سے لے کر افریقی ریاستوں تک، بورژوا قوم پرستی نے صرف آقاؤں کے چہرے بدلے ہیں، نظام وہی خونخوار برقرار رہا ہے۔
اگر بلوچستان کی عوامی مزاحمتی تحریکیں بورژوا قوم پرستی کی بجائے مارکسزم کے انقلابی نظریات کو اپنا متبادل بنائیں، تو اس کے نتائج محض مقامی نہیں بلکہ عالمگیر ہوں گے۔ طبقاتی بنیادوں پر استوار بلوچ تحریک کا ہدف صرف ”ریاست سے علیحدگی“ نہیں بلکہ سرمایہ دارانہ نظام سے نجات ہو گا۔ ایسی صورت میں بلوچ جدوجہد کے فطری اتحادی کسی دوسرے ملک کی حکمران اشرافیہ یا نام نہاد عالمی سامراجی ادارے نہیں، بلکہ پاکستان بھر کے محنت کش، کسان، طلبہ، نوجوان اور دنیا بھر کا محنت کش طبقہ ہو گا۔ جب قومی تحریک طبقاتی رنگ اختیار کرتی ہے تو وہ نہ صرف ریاستی جبر کے خلاف کھڑی ہوتی ہے بلکہ سرداری نظام اور مقامی اشرافیہ کے خلاف بھی اتنی ہی بے رحم ہو جاتی ہے۔ یہی وہ واحد راستہ ہے جو قومی نجات کو طبقاتی آزادی سے جوڑتا ہے اور یہی مارکسزم کی فیصلہ کن برتری ہے۔
اس پیچیدہ اور متضاد صورتحال میں بطور انقلابی کمیونسٹ ہماری پہلی اور بنیادی ذمہ داری مظلوم بلوچ قوم کی حقِ خود ارادیت کی جدوجہد کی اصولی اور غیر مشروط حمایت ہے۔ لیکن یہ حمایت کسی مسلح یا عسکریت پسندی کی بنیاد پر نہیں ہے۔ ہمارا مؤقف اصولی ہے اور عوامی جدوجہد، سیاسی شعور اور انقلابی متبادل کے فروغ پر مبنی ہے۔ ہم لینن کے اس بنیادی اصول پر کاربند ہیں کہ جب تک کسی قوم کو بزورِ طاقت اپنے ساتھ باندھ کر رکھا جاتا ہے، اس وقت تک مختلف اقوام کے محنت کشوں کے درمیان حقیقی طبقاتی جڑت ممکن نہیں ہو سکتی۔ تاہم، اس اصولی حمایت کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ قومی تحریکوں کی اندھی تقلید یا غیر تنقیدی حمایت کی جائے۔ انقلابی کمیونسٹوں کا فریضہ یہ ہے کہ قومی تحریکوں میں شامل نوجوانوں اور کارکنان کو یہ شعوری ادراک دیا جائے کہ حقیقی آزادی محض قومی ریاست کے قیام سے حاصل نہیں ہوتی، بلکہ وسائل کی عوامی ملکیت اور محنت کش طبقے کے جمہوری کنٹرول کے بغیر قومی نجات نامکمل اور کھوکھلی رہتی ہے۔ اسی لیے قومی آزادی کی جدوجہد کو عالمی سوشلسٹ انقلاب کی ایک ناگزیر کڑی کے طور پر سمجھنا اور پیش کرنا ناگزیر ہے۔
اسی کے ساتھ پاکستان کے دیگر حصوں میں محنت کش طبقے کو متحرک کرنا بھی ہماری فوری ذمہ داری ہے، تاکہ وہ بلوچ قوم پر ڈھائے جانے والے قومی جبر کے خلاف کھل کر آواز بلند کریں۔ مظلوم اقوام اور محکوم طبقات کا باہمی اتحاد ہی وہ واحد مادی قوت ہے جو اس ریاستی ڈھانچے کو پسپا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ کسی ایک قوم یا خطے کی تنہائی میں لڑی جانے والی جدوجہد نہ صرف محدود ہو جاتی ہے بلکہ بالآخر شکست یا تعطل کا شکار ہو جاتی ہے۔
سرمایہ داری کے زوال کے ساتھ ساتھ پاکستانی ریاست مزید کمزور ہوتی جائے گی اور تاریخ یہ بتاتی ہے کہ ریاستیں جتنی کمزور ہوتی ہیں اتنی ہی زیادہ خونخوار ہو جاتی ہیں۔ بلوچستان میں مزاحمت کی شدت میں اضافہ، جو خود سرمایہ دارانہ نظام کے دیوالیہ پن کا اظہار ہے، اسی تناسب سے ریاستی جبر کے وحشیانہ استعمال کو جنم دے گا، کیونکہ حکمران طبقہ اپنی لوٹ مار اور اقتدار کو بچانے کے لیے ریاستی اوزار کو پہلے سے کہیں زیادہ بے رحمی کے ساتھ بروئے کار لائے گا۔
جیسا کہ پہلے واضح کیا جا چکا ہے، بلوچستان پہلے ہی سامراجی طاقتوں کے باہمی تصادم اور مفادات کی کشمکش کا ایک سرگرم میدان بن چکا ہے۔ ایسے حالات میں آنے والے عرصے میں عسکریت پسندی میں اضافے کے امکانات کو رد نہیں کیا جا سکتا۔ یہ اضافہ محض ایک عارضی کیفیت نہیں بلکہ اس وقت تک برقرار رہ سکتا ہے جب تک بلوچ سماج کے اندر ایک منظم، وسیع البنیاد اور عوامی انقلابی تحریک ایک حقیقی متبادل کے طور پر ابھر کر سامنے نہیں آتی۔
ریاست کی جانب سے کسی نہ کسی سطح پر مفاہمت یا سیاسی سیٹلمنٹ کی کوششیں بھی خارج از امکان نہیں، مگر زمینی حقائق یہ بتاتے ہیں کہ ایسی کوششیں انتہائی تاخیر سے کی جائیں گی۔ حالات ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں جسے بجا طور پر ”پوائنٹ آف نو ریٹرن“ (Point of No Return) کہا جا سکتا ہے، جہاں روایتی مفاہمتی فارمولے نہ عوام کا اعتماد بحال کر سکتے ہیں اور نہ ہی قومی جبر کی بنیادی ساخت کو چیلنج کرنے کی سکت رکھتے ہیں۔
اسی طرح موقع پرست قیادتوں کو ایک بار پھر آزمانے کی گنجائش بظاہر موجود رہ سکتی ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ بلوچ سماج میں ان کی عوامی بنیادیں تقریباً ختم ہو چکی ہیں۔ انہیں نہ صرف سیاسی طور پر ناکام سمجھا جاتا ہے بلکہ وسیع عوامی حلقوں میں انہیں کھلے عام مسترد کیا جا رہا ہے۔ اگرچہ مستقبل کے کسی موڑ پر انہیں دوبارہ آزمانے کی کوششیں ہو سکتی ہیں، مگر وہ اب بلوچ سماج کے بنیادی سوالات کا کوئی سنجیدہ جواب دینے کی پوزیشن میں نہیں رہیں۔
مجموعی طور پر یہ تمام عوامل اس حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بلوچستان کا قومی سوال ایک فیصلہ کن موڑ پر کھڑا ہے، جہاں پرانے راستے تقریباً بند ہو چکے ہیں۔ اب یا تو ایک عوامی، طبقاتی اور انقلابی متبادل ابھرے گا، یا پھر بحران مزید گہرائی، شدت اور تباہ کن شکل اختیار کرے گا۔
دوسری جانب یہ بھی واضح ہے کہ عسکریت پسندی ایک سیدھی لکیر میں آگے نہیں بڑھتی۔ ماضی کی طرح مستقبل میں بھی یہ نشیب و فراز، شدت اور مریض عارضی پسپائیوں کا شکار ہو سکتی ہے۔ مگر اس پورے تناظر میں فیصلہ کن عنصر بلوچستان سمیت پورے پاکستان کی مزدور تحریک ہے۔ خطے کے دیگر ممالک، بالخصوص ایران، انڈیا، چین اور وسطی ایشیا میں بھی سرمایہ داری کے زوال نے ملتے جلتے تضادات کو جنم دیا ہے، جہاں محنت کش طبقے کا لاوا کسی بھی لمحے پھٹ سکتا ہے۔ ایسے میں پاکستان کی مزدور تحریک اگر بلوچ قومی سوال کے ساتھ جڑتی ہے تو یہ نہ صرف بلوچستان بلکہ پورے ملک کی محکوم اقوام کے لیے ایک نئے باب کا آغاز ثابت ہو سکتی ہے۔
لیکن اس تمام تر صورتحال میں سب سے فیصلہ کن عنصر موضوعی عمل ہے۔ جب تک بلوچستان سمیت پورے پاکستان میں ایک واضح، منظم اور انقلابی متبادل تعمیر نہیں کیا جاتا، تب تک ان تمام سوالات کو آپس میں جوڑنا، انہیں حل کرنا اور ایک سوشلسٹ سماج کی تعمیر کا خواب ادھورا ہی رہے گا۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ہم بلا تاخیر اس انقلابی متبادل کی تعمیر کے لیے عملی جدوجہد کا آغاز کریں، تاکہ حکمران طبقے کے ہاتھوں محکوم اور مظلوم محنت کش عوام کی معصوم جانوں کا تحفظ کرتے ہوئے ایک انسان دوست، برابری پر مبنی اور استحصالی نظام سے پاک معاشرے کی بنیاد رکھی جا سکے۔
کوئٹہ
9فروری 2026ء





















In defence of Marxism!
Marxist Archives
Progressive Youth Alliance