پیٹروگراڈ سوویت کی میٹنگ کے موقع ٹراٹسکی کی تقریر
یہ تقریر لیون ٹراٹسکی نے روس پہنچنے کے ایک دن بعد 5 مئی 1917ء کو پیٹروگراڈ سوویت کی میٹنگ کے موقع پر کی
یہ تقریر لیون ٹراٹسکی نے روس پہنچنے کے ایک دن بعد 5 مئی 1917ء کو پیٹروگراڈ سوویت کی میٹنگ کے موقع پر کی
اس ایک کتاب کی اہمیت کو کم کرنے اور اس کو غلط ثابت کرنے کیلئے جتنی کتابیں لکھی گئی ہیں، انسانی تاریخ میں کسی اور کتاب کے خلاف ایسا نہیں ہوا۔ انکی تعداد ہزاروں میں ہے. آج ان تمام کتابوں اور مصنفوں کا کوئی نام بھی نہیں جانتا جن پر داس کیپیٹل کا ’’رد‘‘ لکھنے کی وجہ سے داد و تحسین کے ڈونگرے برسائے گئے تھے
|تحریر: عدیل زیدی| انسان دنیا کا وہ واحد جاندار ہے جو اپنے وجود کا باقی دنیا سے الگ ایک شعور رکھتا ہے اور اسی وجہ سے اپنے وجود کی بنیاد کو جاننے کی جستجو نے انسان کو صدیوں سے لاتعداد توجیہات پیش کرنے پر مجبورکیا ہے۔ انسان نے مختلف علاقوں […]
|تحریر: پارس جان| ’’کسی تاریخی عہد کی تبدیلی کا تعین ہمیشہ عورت کی آزادی کی طرف ترقی سے ہی کیا جا سکتا ہے کیونکہ عورت کے مرد کے ساتھ تعلق میں، کمزور کے مضبوط کے ساتھ تعلق میں ہی وحشت کے اوپر انسانی فطرت کی برتری سب سے زیادہ واضح […]
ہم سماج کی پرامن تبدیلی کے حامی ہیں اور ایسی تبدیلی کے لئے جدوجہد کرنے کے لئے تیار ہیں، لیکن ساتھ ہم یہ تنبیہ بھی کرتے ہیں کہ حکمران طبقہ اپنے اقتدار اور مفادات کے تحفظ کے لئے لڑے گا۔ یہی مارکسزم کا روایتی موقف ہے
اکتوبر انقلاب نے پرولتاریہ کی فتح کا اعلان کیا۔ عالمی سرمایہ داری کو پہلی عظیم شکست روس کی سرزمین پر ہوئی۔ زنجیر اپنی کمزور ترین کڑی سے ٹوٹ گئی۔ لیکن یہاں صرف کڑی نہیں ٹوٹی تھی بلکہ زنجیر ٹوٹی تھی
طبقاتی سماج سے عورت کے کردار کی تعیین اس کے طبقہ سے ہوتی ہے۔ اگر وہ وزیراعظم کے گھر یا پھروہ سرمایہ دار کے گھر پیدا ہوتی ہے تو وہ صنف نازک ٹھہرائی جاتی ہے جس کو محض قادر مطلق نے پیدا ہی اس لئے کیا ہوتا ہے تاکہ اس کی پرورش کسی مہارانی کی طرح کی جائے۔ لیکن اگر اس کا جنم پرولتاریہ کے ہاں ہوتا ہے تو دنیا کی تمام نعمتیں تو کیا بنیادی ضروریات تک اس کے لئے شجرِ ممنوع ٹھہرائی جاتی ہیں۔
جب مادے کے وجود سے فزکس والے خود انکار کر دیتے ہیں تو کیا ’’فزکس‘‘ اپنی حیثیت میں ’’میٹا فزکس‘‘ نہیں رہ جائے گی؟ اس طرح کی کوانٹم مکینکس کی تشریح کو اگر مان لیا جاتا ہے تو فزکس جسے ہم آج تک جانتے رہے ہیں اس کا خاتمہ ہو چکا ہے
عمومی طور پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ دیہاتوں کی اکثریتی آبادی چھوٹی موٹی زرعی ملکیت رکھتی ہے اور دیہات میں رہنے والا ہر شخص ’کسان‘ ہے۔ حقیقی صورتحال اس سے خاصی مختلف ہے۔ زرعی پیداوار کے مکمل طور پر منڈی سے منسلک ہو جانے اور بورژوا رشتوں کے زرعی ڈھانچے میں گہری سرائیت کے نتیجے میں دیہی علاقوں کا سماجی ڈھانچہ معیاری طور پر تبدیل ہو چکا ہے
پرائیویٹ اداروں کے خصوصاً اور سرکاری اداروں کے عموماً، اساتذہ کا علم سے قطعی تعلق نہیں ہوتا، تعلیم صرف روزگار کا مسئلہ ہے۔ اس سلسلے میں قدیم فقرے اب اپنی چمک دمک کھو چکے ہیں اگرچہ ان پر بہت دفعہ تقدس اور جذباتیت کی خوشبو چھڑکی جاتی ہے اور اس کو قدیم دور کے استادوں کی مثالوں سے سجانے کی کوشش کی جاتی ہے جو جدید دور کے منافع کی ہوس سے مل کر بالکل بے معنی گفتگو بن جاتی ہے
قوم پرستی کے ارتقا اور اہمیت و افادیت کوتاریخی واقعات کی کسوٹی پر پرکھتے ہوئے ہی جدید عہد میں قومی سوال کے کردار کا تجزیہ اور تناظر کو تشکیل دیا جا سکتا ہے
فلسفے کا ذکر کریں تو آج سائنسدانوں اور بہت سے دیگر لوگوں کا عمومی رویہ انتہائی بے حسی والا بلکہ سچ کہیں تو تحقیر آمیز ہے۔ ویسے جدید فلسفے کے حوالے سے تو یہ سلوک درست ہی لگتا ہے۔ پچھلی ڈیڑھ صدی سے فلسفے کی قلمرو کو ایک ایسے بنجر اور بے آب و گیاہ بیابان کی مانند دیکھا جا سکتا ہے جس میں شاید ہی کہیں کوئی زندگی کی رمق ملے۔
انسان کا مستقبل ایک انجانے خوف میں ڈوبا ہوا گھٹا ٹوپ اندھیرا نہیں بلکہ ہر طرح کے استحصال، ظلم اور جبر سے آزاد بالآخر امن اور نشاط آمیز ہے۔ اور یہ سب کچھ تبھی ممکن ہے اگر ہم اپنے اردگرد کی دنیا کو جان سکتے ہیں۔ اس لئے کانٹ کے فلسفے کو جاننا اور اس کے خاتمے کا جاننا ضروری تھا۔
تحریر: |صبغت وائیں| فلسفہ سچائی سے محبت کا نام ہے۔ فلسفہ سچائی کو جاننے کا نام ہے۔ فلسفہ ہر چیز کی سچائی کو جاننے کا نام ہے۔ فلسفہ کسی بھی سچائی کی تلاش کا نام ہے۔ اور یقیناً فلسفہ کسی بھی سچائی کو جاننے کے طریقے کا نام ہے۔ یا […]