|رپورٹ: انقلابی کمیونسٹ پارٹی|
گلگت بلتستان کی عوامی ایکشن کمیٹی کے چیئرمین اور انقلابی کمیونسٹ پارٹی پاکستان (RCP) کے مرکزی رہنما کامریڈ احسان علی کو 10 مارچ کی رات گلگت میں ان کے گھر پر پولیس نے دھاوا بول کر گرفتار کر لیا۔ اس کے بعد عوامی ایکشن کمیٹی کے کئی راہنماؤں کے گھروں پر چھاپے مارے جا رہے ہیں اور اب تک چار قائدین کو گرفتار کیا جا چکا ہے جن میں نصرت حسین، محبوب والی، نفیس ایڈوکیٹ اور مہر علی شامل ہیں۔ ان سب پر درج کی گئی ایف آئی آر میں الزام لگایا گیا ہے کہ انہوں نے سکوار میں ایک افطاری پر عوامی ایکشن کمیٹی کی قیادت کی میٹنگ منظم کی جس میں اسٹیبلشمنٹ کے خلاف گفتگو کی گئی اور عوام کو منظم کرتے ہوئے احتجاج کی منصوبہ بندی کی۔ RCP کے دیگر ممبران کامریڈز اصغر شاہ اور وحید حسن کو بھی پولیس کی مدعیت میں اس ایف آئی آر میں نامزد کیا گیا ہے اور انہیں بھی گرفتار کرنے کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
ان تمام قائدین پر دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے اور تعزیرات پاکستان کی دفعات 153-A اور 506 کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ یہ دفعات نقص امن میں خلل ڈالنے کی کوشش اور ترغیب سے متعلق ہیں۔ ایف آئی آر میں یہ بھی واضح لکھا ہوا ہے کہ انہیں گلگت بلتستان کے قدرتی وسائل کی لوٹ کھسوٹ کے خلاف عوام کو ایک احتجاج کے لیے منظم کرنے کی منصوبہ بندی کی بنیاد پر گرفتار کیا گیا ہے۔ سادہ الفاظ میں ان کا جرم یہ ہے کہ وہ عوام کو اپنے حقوق کی جدوجہد کے لیے منظم کر رہے ہیں اور اس لیے ان پر دہشت گردی کا الزام لگا دیا گیا ہے۔
اس گھٹیا اور غلیظ مقدمے نے ایک دفعہ پھر پاکستان اور گلگت بلتستان میں نام نہاد جمہوری حقوق کا پول کھول کر رکھ دیا ہے جہاں ایک سادہ احتجاج کو منظم کرنا بھی جرم بن چکا ہے۔ درحقیقت، پاکستانی حکمران طبقہ عوام پر تاریخی حملے کر رہا ہے اور حکمران طبقے کے جرائم کے خلاف اٹھنے والی ہر آواز کو سختی اور سفاکی سے کچلنے کی بھرپور کوششیں کر رہا ہے۔ حکمران طبقہ خطے میں جاری جنگ کو جواز بنا کر بچے کچھے کٹے پھٹے جمہوری حقوق بھی سلب کر رہا ہے۔
احسان علی اور عوامی ایکشن کمیٹی کے دیگر قائدین کو پچھلے سال بھی گرفتار کیا گیا تھا اور انہیں کئی مہینوں ذلت آمیز حالات میں رکھتے ہوئے ٹارچر کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ انقلابی کمیونسٹ انٹرنیشنل (RCI) کے کامریڈز کی قیادت میں گلگت بلتستان، پاکستان اور پوری دنیا میں ایک بہت بڑی یکجہتی تحریک کے نتیجے میں ان کی آزادی ممکن ہوئی تھی۔ اس تحریک کے نتیجے میں پاکستان کے حکمران طبقے کو انہیں آزاد کرنا پڑا تھا۔
پچھلے سال بھی حکمران طبقے نے انڈیا کے ساتھ جنگ کو جواز بنا کر پورے پاکستان میں جاری عوامی تحریکوں پر تابڑ توڑ حملے کیے تھے۔ آج ایک مرتبہ پھر مشرق وسطیٰ میں امریکی سامراج کی ایران پر مسلط کردہ جنگ، جس میں خلیجی ممالک بھی لپیٹ میں آ چکے ہیں، کا بہانہ بنا کر پاکستان کا حکمران طبقہ عوام کے بنیادی حقوق کو پامال کر رہا ہے۔
حکمران طبقے نے پاکستان کی تاریخ میں ایندھن کی قیمتوں میں سب سے بڑا اضافہ عوام پر مسلط کر دیا ہے اورپیٹرول کی قیمت میں 55 روپیہ فی لیٹر اضافہ کر دیا ہے۔ اس اضافے کے نتیجے میں آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو ایک رات میں تقریباً 113 ارب روپیہ منافع ہوا ہے۔ تیل کی قیمتوں میں اضافے کا بوجھ بڑے کاروباروں پر ٹیکس بڑھا کر ڈالا جا سکتا تھا لیکن سارا بوجھ عام عوام پر لاد دیا گیا ہے جو کئی خاندانوں کو مزید غربت اور ذلت میں دھکیل رہا ہے۔ عام عوام کے روزگار پر اثر کے ساتھ غربت، بیروزگاری اور لاعلاجی میں بے پناہ اضافہ ہو گا۔
ان حالات میں حکمران طبقہ ملک میں جاری ناانصافی کی مخالفت میں اٹھنے والی ہر آواز یا سیاسی مزاحمت کو کچلنے کی کوششیں کر رہا ہے۔ تمام روایتی سیاسی پارٹیاں سرنگوں ہیں اور حکمران طبقے کی حمایت کر رہی ہیں۔ ان میں سے کوئی بھی محنت کش طبقے کی نمائندہ نہیں ہے اور نہ ہی کوئی متبادل پیش کر رہی ہے۔ اس صورتحال میں RCP ایک متبادل پروگرام پیش کر رہی ہے اور زمین پر وہ قوتیں تعمیر کر رہی ہے جو پاکستان میں جاری جبر اور استحصال کے خلاف اپنی قوتوں کو منظم کر رہی ہے۔ RCP امریکی سامراج کی غلامی کے خلاف بھی جدوجہد کر رہی ہے۔
اس لیے 8 مارچ کو لاہور میں RCP کے مرکزی دفتر پر مقامی پولیس کی بھاری نفری نے دھاوا بول دیا۔ دفتر کو پورا دن سیل رکھا گیا تاکہ محنت کش خواتین کے عالمی دن کا اعلان کردہ پروگرام منعقد نہ کیا جا سکے۔
یہ میٹنگ پارٹی کے دفتر میں منعقد کی جا رہی تھی اور اس کے لیے کسی قسم کی اجازت درکار نہیں تھی۔ لیکن انتظامیہ نے زبردستی پاکستان میں محنت کش خواتین کو درپیش مسائل پر بحث مباحثے کو اس جواز پر روک دیا کہ انتظامیہ سے اجازت نہیں لی گئی!
ان ہتھکنڈوں سے ریاست کا آمرانہ اور مزدور دشمن کردار بے نقاب ہوتا ہے جس میں عوام کے بنیادی جمہوری حقوق کو کچلا جا رہا ہے۔ یہ ایک ایسے وقت ہو رہا ہے جب لاہور میں تاریخ کی پہلی خاتون وزیر اعلیٰ اقتدار پر براجمان ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ مرد ہو یا عورت، جب حکمران طبقے کے مفادات کا سوال ہو تو محنت کش طبقے پر ہر قسم کا جبر اور استحصال ان حکمرانوں کے لیے جائز ہے۔
RCPنے اعلان کر رکھا تھا کہ اس سال کا محنت کش خواتین کا عالمی دن بلوچ خواتین کے لیے وقف کیا جا ئے گا جو پاکستانی ریاست کے شدید ترین جبر کا مقابلہ کر رہی ہیں۔ پاکستان میں مسنگ پرسن کا ایشو نیا نہیں لیکن اب اس فہرست میں خواتین بھی شامل ہو چکی ہیں۔ اس کے ساتھ بلوچ یکجہتی کمیٹی کی خواتین، جن میں نوجوان خواتین شامل ہیں، ایک سال سے انتظامیہ کی قید میں ہیں اور انہیں آزاد نہیں کیا جا رہا۔
اس جابرانہ اور رجعتی فضا کے باوجود RCP محنت کش خواتین کے عالمی دن کے حوالے سے پورے ملک میں ایک درجن سے زیادہ شہروں میں تقریبات منعقد کرنے میں کامیاب رہے تھے۔ اس کے ساتھ سرکاری ملازمین اور مزدوروں اور کسانوں کی دیگر تحریکوں کے ساتھ یکجہتی بھی جاری ہے۔
احسان علی ایڈووکیٹ اور عوامی ایکشن کمیٹی کے دیگر راہنماؤں کی رہائی کے لیے گلگت بلتستان میں آواز بلند کی جا رہی ہے اور مختلف احتجاج منظم کیے گئے ہیں۔ 13 مارچ کو القدس ریلیوں کے دوران بھی ان اسیران کی رہائی کے لیے آواز بلند کی گئی اور حتجاج کیے گئے۔ آنے والے دنوں میں احتجاج کا یہ سلسلہ مزید وسعت اختیار کرے گا۔ دوسری جانب حکمران طبقہ اپنی عدالت کے ذریعے ان اسیران کی قید کو طویل کرنے کی کوشش کریں گے اور پچھلے سال کی طرح مختلف حیلے بہانوں سے عدالتی کاروائی کو طول دیا جائے گا۔ پہلے ہی بغیر کسی مناب کاروائی کے چودہ دن کا جسمانی ریمانڈ حاصل کر لیا گیا ہے جبکہ کُل نوے دن کا ریمانڈ حاصل کرنے کی کوشش جاری ہے۔ اس کے علاوہ اسیران کو جیل میں طبی سہولیات فراہم نہیں کی جا رہیں اور ان پر جسمانی اور ذہنی دباؤ بڑھایا جا رہا ہے تاکہ وہ ریاستی جبر کے سامنے گھٹنے ٹیک دیں۔ اسیران کے خاندانوں پر بھی بد ترین دباؤ ڈالا جا رہا ہے اور انہیں ریاستی اہلکاروں کی جانب سے ہراساں کیا جا رہا ہے۔
RCPاس جبر کے خلاف جدوجہد کے لیے پُرعزم ہے اور گلگت بلتستان کے علاوہ پورے پاکستان میں اپنے کامریڈوں کی بازیابی کے لیے احتجاج جاری رکھے گی۔ ہم اس جبر اور تشدد کی بنیاد سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف بھی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ انسانیت کے لیے ایک ہی راستہ بچا ہے۔۔ ایک سوشلسٹ انقلاب کے ذریعے اس نظام کا خاتمہ!
ہم پاکستان سمیت پوری دنیا کے محنت کشوں سے اپیل کرتے ہیں کہ پاکستانی ریاست کے وحشیانہ جبر کے خلاف ہماری جدوجہد اور احتجاج کی حمایت کریں جس نے ہمارے کامریڈز کو جبراً قید کر رکھا ہے اور ان پر شدید جبر کر رہے ہیں۔
ایک کا دکھ سب کا دکھ!
دنیا بھر کے محنت کشو، متحد ہو جاؤ!
احسان علی اور عوامی ایکشن کمیٹی کے گرفتار قائدین کو فوری رہا کرو!
تمام سیاسی قیدیوں کو رہا کرو!
















In defence of Marxism!
Marxist Archives
Progressive Youth Alliance