|رپورٹ: گلگت بلتستان کے انقلابی کمیونسٹوں کا مؤقف|
گلگت بلتستان سمیت پاکستان کے مختلف شہروں میں اسرائیلی و امریکی سامراج کی ایران کے خلاف ننگی جارحیت اور ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کو بمباری کے ذریعے قتل کرنے کے خلاف عوام اور بالخصوص شیعہ آبادی کی طرف سے شدید احتجاج ایک فطری رد عمل تھا مگر پاکستان کے سامراجی سہولت کار حکومت اور جی بی کی کالونیل انتظامیہ نے عوامی جذبات کا احترام کرتے ہوئے پرامن طریقوں سے مظاہرین کو کنٹرول کرنے کے برعکس انتہائی وحشیانہ طریقے سے عوامی احتجاج کے خلاف ننگی طاقت کا استعمال کرتے ہوئے ماورائے آئین و قانون نہتے مظاہرین پہ فائرنگ کر کے گلگت اور سکردو میں اب تک 14 معصوم نوجوانوں کو گولیوں سے چھلنی کر کے قتل کیا ہے جبکہ درجنوں افراد زخمی حالت میں ہیں۔ کراچی، اسلام آباد اور دیگر شہروں میں بھی سیکیورٹی فورسز نے احتجاج کرنے والے عوام پہ گولیاں برسا کر متعدد معصوم افراد کو قتل اور زخمی کیا ہے۔
انقلابی کمیونسٹ پارٹی پرامن احتجاج پہ گولیاں چلا کر معصوم افراد کے قتل عام کی نوآبادیاتی پالیسی کی شدید الفاظ میں مذمت کرتی ہے اور قتل عام کے مجرموں اور اس قتل عام کی حکمت عملی بنانے والے سارے مجرموں کو سخت ترین سزائیں دینے کا مطالبہ کرتی ہے۔
گلگت بلتستان کی نگران حکومت نے عوامی احتجاج کی دباؤ میں آ کر انجمن امامیہ گلگت بلتستان کے کچھ مطالبات تسلیم کر لیے ہیں۔ اس کے تحت نگران حکومت نے بظاہر اس قتل عام کی تحقیقات کر کے ذمہ داروں کا تعین کرنے کے لیے ایک عدالتی کمیشن قائم کرنے اور اس سانحہ میں قتل ہونے والے افراد کے ورثا کو دیت کے برابر معاوضہ دینے کا اعلان کیا ہے مگر یہاں کے عوام پاکستان اور گلگت بلتستان میں اب تک بننے والی عدالتی کمیشنوں کی کارکردگی اور انجام سے بخوبی واقف ہیں۔ یہاں کے عوام جانتے ہیں کہ پاکستان کے سرمایہ دار حکمران کسی بھی سنگین مسئلے کو ٹالنے یا اسے سرد خانے میں ڈالنے کے لیے عدالتی کمیشن یا اعلیٰ سطحی تحقیقاتی کمیٹیاں تشکیل دیتے ہیں۔
گلگت بلتستان کے عوام کو ماضی کے کمیشنوں کی طرح اس نئے عدالتی کمیشن سے بھی انصاف کی کوئی امید نہیں۔ یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس عدالتی کمیشن کو عوام کے اس قتل عام کی آزادانہ تحقیقات کی مکمل آزادی دی جائے گی؟ نیز جس طرح گلگت بلتستان کے اندر ایک انتظامی حکم نامے کے تحت ناقص کنٹرولڈ عدالتی نظام چل رہا ہے ایسے ناقص عدالتی نظام سے مکمل انصاف اور قتل عام کے مجرموں اور ان مجرموں کے پشت پناہی کرنے والے کرداروں کو قانون کی گرفت میں لا کر انہیں سخت ترین سزا دینے کے کتنے امکانات ہوں گے؟ نگران حکومت نے صرف ایک جوڈیشیل کمیشن بنانے کا اعلان کیا ہے مگر اس میں یہ وضاحت نہیں کی گئی ہے کہ اس جوڈیشل کمیشن کو قتل کے مجرموں کی نشاندھی کر کے انہیں سزا دینے کا بھی اختیار ہو گا یا ماضی کی طرح محض غم و غصے سے بھرے عوام کو ٹھنڈا کر کے قتل عام کے مجرموں اور عوامی احتجاج کو کچلنے کی حکمت عملی بنانے والے کرداروں کو تحقیقاتی رپورٹ کی موٹی فائلوں پہ دبایا جائے گا، علاوہ ازیں یہ بھی ایک بہت بڑا سوال ہے کہ کیا ایک معصوم انسان کی قیمت کو روپوں پیسوں میں تولا جا سکتا ہے؟
مزید برآں یہاں یہ سوال بھی ابھرتا ہے کہ کیا انتظامیہ اور سیکیورٹی فورسز کے ذمہ داران کی نظر میں دو چار سرکاری دفتروں کے فرنیچر اور کچھ گاڑیوں کے نقصان کی قیمت ماں باپ کے لخت جگر 14 معصوم نوجوانوں کی زندگیوں سے زیادہ تھی کہ بے جان دفتروں کو بچانے کے لیے معصوم اور بے گناہ انسانوں کے خون سے ہولی کھیلنا ضروری ہو گیا تھا؟ یہاں سوال یہ بھی بنتا ہے کہ بلاآخر پاکستانی افسرشاہی اور فورسز کی نوآبادیاتی ذہنیت انگریزوں کے جانے کے آٹھ دہائیوں کے بعد بھی تبدیل کیوں نہیں ہوئی؟ آج کل تو ایک گائے/بیل کی قیمت بھی تین چار دفتروں کے فرنیچر سے زیادہ بنتی ہے مگر شاید ان جابر حکمرانوں اور کالونیل بیوروکریسی کی نظر میں زندہ انسانوں کی قدر و قیمت مال مویشی سے بھی کم ہے۔ حکمرانوں کی یہ بیمار ذہنیت صرف جی بی تک محدود نہیں بلکہ پورے پاکستان میں بھی یہی ہے۔
ہم سمجھتے ہیں کہ پرامن احتجاج اور جلسہ جلوس جی بی کے عوام کا بنیادی انسانی حق ہے، لہٰذا یہ مسئلہ مذہبی سے زیادہ سیاسی نوعیت رکھتا ہے۔ اس لحاظ سے ماضی میں ہونے والے عوام کا قتل عام ہو یا حالیہ قتل عام ہو، اس کے پس پشت گلگت بلتستان پہ گزشتہ آٹھ دہائیوں سے مسلط ایک بدترین نوآبادیاتی نظام کارفرما ہے، جس کا واحد مقصد اپنے مطالبات کے لیے پر امن احتجاج کرنے والے عوام کو ننگی طاقت کے ذریعے دباتے ہوئے عوام پہ سرمایہ دار ریاست کے حکمرانوں کی مرضی مسلط کی جائے اور یہاں کے عوام سے متعلق سارے فیصلے، سارے اقدامات اور تمام معاشی و سیاسی و انتظامی پالیسیاں براہ راست اسلام آباد سے لا کر یہاں کے عوام پہ مسلط کی جائیں۔
اس نوآبادیاتی تسلط کو طوالت بخشنے کے لیے ریاست کی حکمران اشرافیہ نے نہ صرف ماضی میں اس خطے کو مذہبی فرقہ واریت کی آگ میں دھکیل کر کئی انسانی بستیاں اجاڑ دی ہیں بلکہ آج بھی اس خطے میں عوامی اتحاد کو ضرب لگانے کے لیے مذہبی فرقہ واریت کو ایک اہم اور مؤثر ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے، گلگت اور سکردو میں ہونے والے حالیہ واقعات میں بھی جی بی کے محنت کش عوام کے اتحاد کو توڑنے کے لیے بھرپور کوشش کی جا رہی ہے۔ ایسے حالات میں عوامی اتحاد اور اکٹھ کو فروغ دینا اب پہلے سے کہیں زیادہ ناگزیر ہو چکا ہے۔ لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ عوامی اتحاد کو برقرار رکھنے کا یہ فریضہ بھی اس خطے میں ایک عوامی مزاحمتی تحریک ہی سر انجام دے سکتی ہے۔
ہم شدت سے محسوس کر رہے ہیں کہ اب وقت آ گیا ہے کہ گلگت بلتستان کے عوام کو پرامن احتجاج پہ قتل عام کرنے، سنگین مقدمات میں ملوث کر کے جیل میں ڈالنے، پر امن سیاسی کارکنان کو دہشت گرد ٹھہرانے، عوامی مسائل و مشکلات میں مسلسل اضافہ کرنے، اندرونی ذرائع دولت و روزگار کو ڈنڈے کے زور پہ چھیننے اور اپنے اندرونی معاشی، سماجی اور سیاسی فیصلے خود طے کرنے کے بنیادی حق سے محروم کرنے والے اس غیر انسانی نو آبادیاتی استحصالی نظام کو ایک انقلابی تبدیلی کے ذریعے فوری طور بدلنے کی ضرورت ہے اور موجودہ دم توڑتے ہوئے مصنوعی نظامِ حکومت کی جگہ عوامی کمیٹیوں کے جمہوری طور پر منتخب نمائندوں پر مشتمل ایک با اختیار آئین ساز اسمبلی کے قیام کی ضرورت ہے، تاکہ اس کی بنیاد پر حقِ حکمرانی اور حقِ ملکیت کو گلگت بلتستان کے محنت کش عوام کے حقیقی نمائندوں کے حوالے کیا جا سکے۔
اس مقصد کے لیے موجودہ انتظامی حکم نامے کی جگہ عوامی کمیٹیوں کے جمہوری طور پر منتخب نمائندوں پر مشتمل ایک آئین ساز اسمبلی کے ذریعے بااختیار آئینی حکومت قائم کی جاسکتی ہے۔ اس کے لیے گلگت بلتستان کے محنت کش عوام، نوجوانوں اور خواتین کو ہر سطح پر عوامی ایکشن کمیٹیاں تشکیل دیتے ہوئے ان کمیٹیوں کے ذریعے ایک منظم سیاسی جدوجہد کا حصہ بننا ہو گا۔
حکمران طبقے کے ان تمام جرائم کی بنیاد سرمایہ دارانہ نظام ہے اور اس تحریک کی حتمی منزل اس نظام کا خاتمہ کرنے کے لیے سوشلسٹ انقلاب برپا کرنا ہے تاکہ ہر قسم کے ظلم، جبر، ناانصافی کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ کیا جا سکے۔



















In defence of Marxism!
Marxist Archives
Progressive Youth Alliance