|تحریر: جارج مارٹن، ترجمہ: نبیل خان|
3جنوری کے حملے اور نیکولس مادورو اور سیلیا فلورس کے اغوا کے بعد وینزویلا میں واقعات انتہائی تیزی سے رونما ہو رہے ہیں۔
انگریزی میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں
امریکہ غیر معمولی سرعت کے ساتھ وینزویلا اور اس کے قدرتی وسائل پر اپنا کنٹرول قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ وینزویلا کی حکومت یا تو مزاحمت پر آمادہ نظر نہیں آتی یا پھر اس کی سکت نہیں رکھتی۔ فطری طور پر اس صورتحال نے کئی اہم سوالات کو جنم دیا ہے۔
امریکہ نے کھلے الفاظ میں یہ اعلان کیا ہے کہ وہ اس ملک کا نظم و نسق خود سنبھالے گا۔ ٹرمپ نے مزید کہا کہ وہ تیل کے 3 کروڑ سے 5 کروڑ بیرل تک (یعنی ایک یا دو ماہ کی مجموعی پیداوار کے برابر) اپنے پاس رکھے گا۔ اس تیل کی فروخت (جس کا ایک حصہ خشکی پر ہے، ایک حصہ امریکی بحری ناکہ بندی کے باعث ٹینکروں میں موجود ہے اور ایک حصہ ابھی تک نکالا جانا باقی ہے) امریکہ میں، منڈی کی قیمتوں پر کی جائے گی اور اس رقم کے استعمال پر بھی امریکہ ہی کنٹرول رکھے گا (ٹرمپ کے بقول: ”وینزویلا کے عوام اور امریکہ کے فائدے کے لیے“ وہ ایسا کرے گا)۔
وزیر توانائی رائٹ نے مزید کہا کہ اس طریقہ کار کو غیر معینہ مدت تک بڑھا دیا جائے گا۔ دوسرے لفظوں میں، امریکہ نے یہ اعلان کر دیا ہے کہ اب وینزویلا کے تیل کی فروخت اور اس سے حاصل ہونے والی آمدن دونوں پر اس کا کنٹرول ہو گا۔
اور ہاں ضمنی طور پر ٹرمپ نے یہ بھی اضافہ کیا ہے کہ تیل کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم سے وینزویلا صرف اور صرف امریکی مصنوعات ہی خریدے گا!
اس کے علاوہ، واشنگٹن نے یہ دھمکیاں بھی دہرائی ہیں کہ اگر کاراکاس کی حکومت مکمل طور پر تابعداری نہ کرے تو وینزویلا کے خلاف مزید فوجی کاروائی کی جائے گی۔ 3 جنوری کے فوجی چھاپے کے بعد دی جانے والی یہ دھمکیاں محض خالی دھمکیاں نہیں ہیں۔
عبوری صدر ڈیلسی رودریگز کی وینزویلا حکومت نے اس کے جواب میں ایک بیان جاری کیا جس میں اعلان کیا گیا کہ وہ تیل کی فروخت کے معاملے پر امریکہ کے ساتھ ”مذاکرات“ میں مصروف ہیں اور یہ کہ وہ ”ایسے اتحاد تشکیل دے رہے ہیں جو وینزویلا کے عوام کے حق میں قومی ترقی کو فروغ دیں“۔
مارکو روبیو نے یہ بھی کہا کہ وینزویلا کے لیے منصوبہ تین مراحل پر مشتمل ہے:
1۔ استحکام: اس مرحلے میں امریکہ ناکہ بندی برقرار رکھے گا تاکہ اپنی ”بے مثال گرفت“ (یعنی بلیک میل کرنے کی بے مثال صلاحیت) کو قائم رکھا جا سکے اور 5 کروڑ بیرل تیل فروخت کیا جائے گا؛
2۔ بحالی: اس مرحلے میں امریکی اور مغربی کمپنیوں کو وینزویلا تک ”منصفانہ رسائی“ دی جائے گی اور ”قومی مفاہمت“ کا ایک عمل شروع کیا جائے گا؛
3۔ منتقلی: بالآخر جمہوری انتخابات کی جانب پیش رفت کی جائے گی۔
اس مرحلہ انتقال کے اختتام پر وہ ایک ایسے ملک کا تصور پیش کرتا ہے جو ”امریکہ کے لیے دوستانہ ہو، ہمارے دشمنوں کے لیے کوئی ٹھکانہ نہ بنے اور ہمارے مفادات کی خدمت کرے“۔ دوسرے لفظوں میں، یہ امریکہ کی ایک نوآبادی یا سرپرستی میں چلنے والی ریاست ہو گی۔
مارکو روبیو نے قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ وینزویلا کی حکومت نے اعلان کیا تھا کہ وہ بڑی تعداد میں قیدیوں کو رہا کرے گی (اطلاعات کے مطابق 88 قیدیوں کو)، لیکن اب تک صرف 13 قیدیوں کو رہا کیا گیا ہے، جن میں پانچ ہسپانوی شہری اور چند ایسے افراد شامل ہیں جو اینریک مارکیز (Enrique Marquez) کے قریبی سمجھے جاتے ہیں (اینریک مارکیز 2024ء کے صدارتی انتخابات میں امیدوار تھا، جو اگرچہ سرمایہ دار طبقے کا امیدوار تھا، تاہم اسے وینزویلا کی کمیونسٹ پارٹی، PCV، کی حمایت حاصل تھی)۔ اب تک ماریا کورینا ماچادو کے گرد موجود رد انقلابی اپوزیشن کے کسی بھی نمایاں قیدی کو رہا نہیں کیا گیا ہے۔
اس کے ساتھ ہی، وینزویلا میں امریکی سفارت خانے کو دوبارہ کھولنے کے لیے تیزی سے اقدامات کیے جا رہے ہیں، جو بلاشبہ ملک میں امریکی نوآبادیاتی اقتدار کی حفاظت کا کردار ادا کرے گا۔ وینزویلا نے ایک بیان میں کہا کہ یہ اقدام ”جارحیت اور صدر کے اغوا کے نتائج سے نمٹنے“ اور ”باہمی مفاد کے حامل ایک عملی ایجنڈے“ کے تحت کیا جا رہا ہے۔
یعنی امریکہ نے فوجی طور پر ملک پر حملہ کیا، صدر کو اغوا کیا اور جواب یہ نکلا کہ سفارتی تعلقات بحال کیے جائیں تاکہ نتائج اور باہمی مفاد کے ایجنڈے پر بات کی جا سکے۔ جارح اور متاثرہ ملک کے درمیان کیا باہمی مفاد ہو سکتا ہے؟!
سچ پوچھیں تو میں واقعی غصے میں ہوں۔ 3 جنوری سے پہلے وینزویلا کی قیادت کے جو بیانات تھے، وہ کہاں گئے؟ وزیر دیوسدادو (Diosdado) نے کہا تھا کہ اگر فوجی جارحیت ہوئی تو وینزویلا امریکہ کو ”ایک قطرہ بھی تیل نہیں دے گا“۔ مادورو نے ”انقلابی عام ہڑتال“ کا اعلان کیا۔ ڈیلسی نے کہا کہ وہ بلیک میل کے سامنے نہیں جھکیں گے اور تیل وینزویلا کا ہی ہے۔
امریکہ وینزویلا کے تیل کی نیلامی کر رہا ہے
جمعے کے دن، 9 جنوری کو ٹرمپ نے امریکی اور مغربی تیل کی کمپنیوں کے اعلیٰ حکام کے ساتھ اجلاس / پریس کانفرنس کی صدارت کی، جو اپنی نوعیت میں کم تاریخی حیثیت رکھتی ہے، خاص طور پر دن دہاڑے کیے جانے کی وجہ سے۔ یہ منظر 1884ء کی برلن کانفرنس کی یاد دلاتا ہے جب یورپی طاقتوں نے افریقہ کو بانٹ دیا تھا۔
جو کچھ یہاں ہوا وہ یہ تھا کہ امریکی جارح حکومت نے وینزویلا کے تیل کو سب سے زیادہ بولی لگانے والے کے لیے نیلامی پر رکھ دیا۔ حقیقی طور پر، ٹرمپ نے ایکسن کو کہا: ”اگر تم نہیں جانا چاہتے تو بتا دو، کیونکہ میری فہرست میں 25 اور کمپنیاں ہیں۔“
کچھ کمپنیاں (جن کی قیادت ایکسن کر رہا ہے) زیادہ دلچسپی نہیں دکھا رہیں۔ وہ ضمانتیں چاہتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ انہیں وہ رقم دی جائے جس کے وہ مستحق ہیں (تقریباً 2 ارب سے 12 ارب ڈالر کے درمیان) اور سب سے بڑھ کر، وہ واضح طور پر چاہتے ہیں کہ قانونی ڈھانچہ ان کے حق میں ہو، جس میں شاویز کے ہائیڈروکاربن قانون کی منسوخی بھی شامل ہے۔
لیکن دیگر کمپنیاں خوش دلی سے شامل ہوئیں، جن میں شیورون (Chevron) بھی شامل ہے، جو ان تمام سالوں کے دوران وینزویلا میں کام کرتی رہی ہے اور اس لمحے کا انتظار کر رہی تھی، دیگر کمپنیاں جو ملک میں کم پیداوار کے ساتھ موجود ہیں (جیسے سپین کی ریپ سل (Repsol))۔ انہوں نے کہا کہ پیداوار چند سالوں میں دگنی ہو سکتی ہے۔
نیلامی/پریس کانفرنس کے دوران جب ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ کیا وہ ڈیلسی کی حکومت کو ایک حلیف سمجھتا ہے، تو اس کا جواب تھا: ”وہ حلیفوں کی طرح عمل کر رہے ہیں اور مجھے یقین ہے کہ وہ ایسا کرنا جاری رکھیں گے۔“
اب تک (میری معلومات کے مطابق) وینزویلا کی حکومت کی طرف سے ٹرمپ کی اس شرمناک نیلامی، جس میں اس نے ایسے وسائل کو بیچنے کی بات کی جو اس کے ملک کے نہیں ہیں، پر کوئی مؤثر جواب نہیں آیا۔ اسی دن وینزویلا کے دو عہدیداران واشنگٹن میں تیل کے بارے میں بات چیت کرنے بھی گئے تھے۔
رکیں۔ یہ معاملہ یہیں پہ ختم نہیں ہوتا ہے!
اسی دن جب امریکہ نے عوامی طور پر وینزویلا کے تیل کی نیلامی کی، امریکی بحریہ نے ایک نئے قزاقانہ اقدام میں ٹینکر Olina (جو پہلے Minerva کے نام سے جانا جاتا تھا) پر قبضہ کر لیا، جسے وینزویلا سے ”ایشیا کے گاہکوں“ کے لیے لوڈ کیا گیا تھا، اور اسے واپس وینزویلا بھیج دیا گیا۔
ظاہر ہے سوشل میڈیا پر اس معاملے پر شدید غم و غصّے کا اظہار ہوا۔ وینزویلا کے سرکاری ذرائع ابلاغ (La Iguana) اور کیوبا کے سرکاری میڈیا (Cubadebate) نے اسے چوری اور سمندری قزاقی کا عمل قرار دیا ہے۔
لیکن ایک تفصیل بھی سامنے آئی۔ ٹرمپ نے عوامی اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اس کاروائی کو ”وینزویلا کے عبوری حکام کے ساتھ ہم آہنگی میں انجام دیا گیا“۔
اس کے فوراً بعد، PDVSA نے ایک شرمناک بیان جاری کیا جس میں دعویٰ کیا گیا کہ یہ امریکی حکام کے ساتھ ایک ”کامیاب مشترکہ کاروائی“ تھی تاکہ وہ جہاز ”واپس لایا جا سکے“، جو کہ ”بغیر اجازت یا ادائیگی کے روانہ ہوا تھا“۔
لیکن اگر ہم بات کے درمیان چھپی حقیقت کو دیکھیں، تو اس کی صرف ایک ہی ممکنہ تشریح ہے۔ تیل کی ناکہ بندی وہی ”بے مثال گرفت“ ہے جس کا ذکر مارکو روبیو نے کیا۔ اگر امریکہ تیل کی برآمدات پر کنٹرول رکھتا ہے، تو وہ اس کی فروخت اور اس سے حاصل ہونے والی رقم کے مقصد کا بھی کنٹرول کر سکتا ہے۔
لیکن اب پتہ چلتا ہے جو ڈیلسی کی حکومت کہتی ہے کہ یہ سب ایک مشترکہ معاہدے کا حصہ ہے۔ دوسرے لفظوں میں، وہ تعاون کر رہے ہیں، لیکن برابر کے شراکت دار کے طور پر نہیں، بلکہ نوآبادیاتی ماتحتوں کی طرح۔ یہ ایسا ہے جیسے آپ کو گلی میں ایک چور نے روکا، آپ کی قیمتی چیزیں چرا لیں اور پھر آپ پریس کانفرنس کر کے اعلان کریں کہ آپ کی قیمتی چیزیں ’چور کے گھر ایک کامیاب مشترکہ کاروائی کے تحت منتقل کی گئی ہیں‘!
ان سب امریکی گستاخانہ بیانات اور ذلیل کرنے والی کاروائیوں کے جواب میں، جنہوں نے وینزویلا کو نوآبادیاتی ماتحتی کی حالت میں ڈال دیا ہے، ڈیلسی کی حکومت نے کہا کہ وہ ”انتقام“ نہیں چاہتی بلکہ ”امن پر مشتمل بولیواری ڈپلومیسی“ کے ساتھ جواب دے گی، جس کے بارے میں اس نے کہا، یہ انہوں نے ایل لیبرٹیڈر (یعنی سائمن بولیور) سے سیکھا ہے۔
یہ بات سن کر آپ کے آنسو نکل آئیں گے۔ سائمن بولیور (Simon Bolivar) نے ہسپانوی نوآبادیات کے خلاف اسلحہ اٹھایا! اس نے ”امن کی ڈپلومیسی“ کا استعمال نہیں کیا بلکہ موت تک جنگ کا فرمان جاری کیا، اور کہا: ”ہسپانویو اور کینیریو، موت کا انتظار کرو اگر تم غیر جانبدار رہو گے اور اگر تم امریکہ کی آزادی کے لیے فعال طور پر کام نہ کرو گے!“
اب اس سب کی وضاحت کیا ہے؟
کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ سب دراصل ”بیانیے کے لیے جدوجہد“ ہے۔ اس نظریے کے مطابق، ٹرمپ دعویٰ کرتا ہے کہ وہ وینزویلا پر کنٹرول رکھتا ہے، لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہے، کیونکہ کاراکاس میں سیاسی اور فوجی قیادت اب بھی وہی ہے۔ دوسرے لفظوں میں، ٹرمپ نے صرف ایک ”تباہ کن فتح“ (Pyrrhic victory) حاصل کی ہے جس نے مادورو کو تو ہٹا دیا ہے، لیکن وینزویلا کی حکومت کا رخ تبدیل نہیں کیا ہے۔
دوسرے لوگ اس سے بھی آگے جاتے ہیں اور دعویٰ کرتے ہیں کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ دراصل ’مادورو کا منصوبہ تھا، جو اس نے اسی صورت میں نافذ کیا تھا اگر اس کے ساتھ کچھ ہو جاتا‘۔ وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ جو ’خوشحالی ملک حاصل کرے گا وہ اسی منصوبے کی وجہ سے ہے جو صدر نے منظور کیا تھا‘۔ کہ جو کچھ ٹرمپ تیل کے حوالے سے پیش کر رہا ہے وہ ”شیورون لائسنس ماڈل“ کے مطابق ہے۔ اور یہ کہ امریکی سفارت خانے کا کھلنا دراصل ضروری تھا تاکہ صدر اور پہلی خاتون کی، جو نیو یارک میں قید ہیں، مدد کی جا سکے۔
یہ تو ایسے معلوم ہوتا ہے جیسے وینزویلا کے سرکاری حلقے نے جادوئی حقیقت پسندی کی دنیا میں گہرہ غوطا لگایا ہے، جہاں ایک شے بذات خود اور اس کے متضاد شے بیک وقت وجود رکھتی ہیں۔
جارج آریاسا (Jorge Arreaza) کا دعویٰ ہے کہ ”عوام حالات کو سمجھتے ہیں اور بڑے قومی مقاصد کے حصول کے لیے کیے جانے والے ضروری حکمتِ عملی کے اقدامات کی حمایت کرتے ہیں۔“
درحقیقت، وہ سمجھتے نہیں اور یہی تو مسئلہ ہے۔ کوئی کچھ سمجھ نہیں پا رہا کیونکہ کچھ بھی واضح طور پر بیان نہیں کیا گیا۔
3جنوری کے دھماکے کی وضاحت کیسے کی جائے؟
3جنوری کے حملے کو ایک ہفتہ گزر گیا ہے اور وینزویلا کی سیاسی یا فوجی قیادت میں سے کسی نے بھی اس دن کیا ہوا، اس کی وضاحت کرنے کی جرات نہیں کی۔ نہ کوئی وضاحت موجود ہے، بلکہ اب یہ بھی لگتا ہے کہ سوال پوچھنا بھی ممنوع ہے۔ قیادت کا نیا نعرہ یہ ہے: ”شک کرنا یعنی غداری کرنا“۔
وضاحت کا فقدان ہی افواہوں کو ہوا دیتا ہے، کیونکہ وینزویلا کی جارحیت کے سامنے مزاحمت نہ کرنے کی بظاہر وجہ کے بارے میں کوئی منطقی یا معقول وضاحت نظر نہیں آتی سوائے صدراتی گارڈ کی بہادری کے اقدامات کے۔
وہ 5000 Igla MANPADS (ہینڈ ہیلڈ اینٹی ایئر کرافٹ میزائل لانچرز) جو پورے ملک میں تقسیم کیے جانے تھے، ان کا کیا ہوا؟ روسی اینٹی ائیر ڈیفنس؟ چینی ریڈارز؟
میں فوجی ماہر نہیں ہوں۔ میں نے مختلف نظریات سے کچھ تجزیے پڑھے ہیں۔ میرا نتیجہ خیز خلاصہ یہ ہے:
1۔ امریکہ نے برقیاتی جنگ (electromagnetic warfare) کا استعمال کیا تاکہ وینزویلا کے ریڈار اور ہوا سے دفاعی نظام کو دبایا جا سکے، جس کی نشاندہی ہفتوں قبل Growler (یہ الیکٹرک وارفیئر طیارے ریڈار کو سگنلز دینے پہ مجبور کرتے ہیں جس سے ان کا پتہ لگایا جا سکے) طیاروں کے ساتھ ایک طویل آپریشن میں ہوئی تھی۔
2۔ وینزویلا کا اینٹی ایئر کرافٹ کے دفاعی نظام جزوی طور پر پرانے ہیں (یہ روسی S300 کا ایک ورژن ہیں، جو بنیادی طور پر بیلسٹک میزائلز کے لیے بنائے گئے ہیں، نہ کہ کم ارتفاع پر اڑنے والے طیاروں کے لیے)۔
3۔ وینزویلا کی فوج میں کچھ حد تک نااہلیت کا عنصر بھی موجود ہے (ایسی اینٹی ائیر کرافٹ بیٹریاں جو دفاع یا حفاظت کے بغیر، مستقل جگہوں پر نصب ہیں)، جس کے ساتھ ممکنہ طور پر ضرورت سے زیادہ خود اعتمادی کا خطرناک عنصر بھی جڑا ہوا تھا (’ٹرمپ پہلے ہی تیل کی ناکہ بندی پر مرکوز ہے، حملہ ناممکن ہے‘)
4۔ کاتیا لا مر (Catia La Mar) میں ایک (ناکام) BUK بیٹری سے کم از کم ایک میزائل لانچ کیا گیا تھا اور بظاہر کاراکاس میں بھی ایک Iglaفائر کیا گیا تھا۔ امریکی دعویٰ ہے کہ ایک ہیلی کاپٹر کو نشانہ لگایا گیا لیکن وہ غیر فعال نہیں ہوا۔ یہ ہیلی کاپٹر برقیاتی نظاموں (electromagnetic systems) سے لیس ہوتے ہیں جو ایسے پروجیکٹائلز کو موڑ دیتے ہیں جو ان پر حملہ کرتے ہیں۔
5۔ یہ قیاس آرائی کی جاتی ہے کہ فوجیوں کو ان کی کرسمس، نئے سال کی چھٹیوں کی اجازت دے دی گئی تھی، باوجود اس کے کہ خطرے کی سطح بڑھ گئی تھی۔
کیا یہ تمام عوامل فیصلہ کن تھے اور کیا یہ سب کچھ واضح کرتے ہیں؟ کچھ کہنا مشکل ہے۔ ابھی بھی کئی جائز سوالات باقی ہیں۔ مثال کے طور پر، وینزویلا کی فضائیہ نے ماراکے (Maracay) سے جواب کیوں نہیں دیا ایک ایسا اڈہ جو حملے کا نشانہ نہیں بنا؟ ہیلی کاپٹروں پر مزید حملے کیوں نہیں کیے گئے، جو کم ارتفاع، سست رفتاری سے اور کافی دیر تک پرواز کر رہے تھے؟
کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ فضائیہ اس لیے جواب نہیں دے سکی کیونکہ ریڈار اور کمانڈ سینٹر ناکارہ بنا دیے گئے تھے، اور وینزویلا کی افواج عملاً ’اندھی‘ ہو چکی تھیں۔
کچھ فوجی ماہرین امریکہ اور وینزویلا کی مسلح افواج کے درمیان ایک غیر علانیہ (tacit) معاہدے کی طرف اشارہ کرتے ہیں، جو کسی نہ کسی صورت دونوں قوتوں کے درمیان عدم توازن کی عکاسی کرتا تھا: ’ہم تم پر وسیع پیمانے پر حملہ نہیں کریں گے بلکہ صرف مخصوص مقامات کو نشانہ بنائیں گے اور تم بھی ایسی ہمہ گیر مزاحمت نہیں کرو گے جو بالآخر تمہاری مکمل تباہی پر منتج ہو۔‘
کم از کم ایک بات تو واضح ہے: سی آئی اے کے پاس مادورو کی ٹھیک جگہ اور جس رہائش گاہ میں وہ ٹھہرا تھا اس کے بارے میں ایک مخبر سے درست معلومات تھیں۔ اس بات کی تصدیق ٹرمپ نے بھی کی ہے اور یہ حقائق سے مطابقت رکھتی ہے۔ صدراتی گارڈ آف آنر اور فوجی خفیہ ادارے (DGCIM) کے سربراہ میجر جنرل جاویر مارکانو ٹاباٹا (Javier Marcano Tabata) کو برطرف کر دیا گیا ہے (بعض کا کہنا ہے کہ اسے گرفتار کیا گیا ہے)۔
لیکن اس کا بڑا حصہ قیاس آرائی پر مبنی ہے، کیونکہ کوئی سرکاری وضاحت موجود نہیں ہے اور یہی وہ چیز ہے جو افواہوں کو ہوا دیتی ہے: ’ڈیلسی نے مادورو کو حوالے کر دیا۔‘ ’مادورو نے خود کو ایک منصوبے کے تحت حوالے کیا۔‘
وینزویلا کی قیادت کے لیے ان افواہوں کا خاتمہ کرنے کا سب سے آسان طریقہ یہ ہو گا کہ وہ واضح طور پر بتائے کہ آخر ہوا کیا تھا۔ بعض ساتھیوں کا کہنا ہے کہ ’ہم اپنی کمزوریاں ظاہر نہیں کر سکتے۔‘ لیکن دشمن تو ہماری تمام کمزوریوں کے بارے میں جانتا ہے! جو نہیں جانتے، وہ ہم ہیں یعنی عام سامراج مخالف عوام۔
اطاعت پر مبنی ایک حکمت عملی
جو بات ہم یقینی طور پر جانتے ہیں وہ یہ ہے کہ وینزویلا اور امریکا کے درمیان رابطے اور سفارتی چینلز موجود تھے، خاص طور پر تیل کی صنعت سے وابستہ شخصیات کے ساتھ اور ان میں سے بعض رابطے قطر کے ذریعے ہوئے۔ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ تیل کے شعبے کی سربراہ ہونے کے ناطے ڈیلسی روڈریگز (Delcy Rodriguez) ان بہت سے رابطوں کے میں مرکز حیثیت رکھتی تھی۔ ہم میں سے بعض کو یاد ہے کہ 2017ء میں امریکا میں قائم پیٹرولیم کمپنی CITGO (جو PDVSA کی ذیلی کمپنی ہے اور اس وقت وینزویلا کے کنٹرول میں تھی) نے ٹرمپ کی حلف برداری کی تقریب کے لیے پانچ لاکھ ڈالر کا چندہ دیا تھا اس وقت ڈیلسی روڈریگز وزیر خارجہ تھی۔
ڈیلسی روڈریگز کی وینزویلا کی حکومت کی حالیہ دنوں میں باتوں اور اقدامات کو صرف دو طریقوں سے سمجھا جا سکتا ہے:
1۔ یا تو انہیں مجبوراً امریکہ کے دباؤ کے تحت ایسے عمل کرنے پر مجبور کیا گیا ہے، لیکن حقیقت میں وہ کچھ کھیل کا میدان تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں (سپین، کولمبیا اور برازیل سے بات چیت کر کے)؛
2۔ یا پھر وہ ملک کے تیل اور قومی خودمختاری کو بیچ رہے ہیں کیونکہ انہوں نے فیصلہ کیا ہے کہ یہ ان کے ذاتی مفادات (اقتدار برقرار رکھنا اور جمع شدہ مراعات) کے نقطہ نظر سے کم سے کچھ بہتر آپشن ہے۔
دونوں صورتوں میں حقیقت یہ ہے کہ ملک کے قدرتی وسائل اور قومی خودمختاری پر امریکہ قابض ہو رہا ہے اور بیانیے کی جدوجہد اس حقیقت کو بدل نہیں سکتی۔ یہ اطاعت کی حکمت عملی ہے، جس پر معمولی سا بے خوف دکھانے کا پردہ چڑھایا گیا ہے، جو بنیادی طور پر عوامی سطح کو متاثر کرنے کے لیے ہے۔
یہ حکمت عملی، میرے خیال میں، وینزویلا کی قومی خودمختاری کے دفاع اور سامراج کے خلاف جدوجہد کے نقطہ نظر سے بالکل تباہ کن ہے (یہ وہ چیز ہے جو صرف وینزویلا تک محدود نہیں بلکہ خطے کے دیگر ممالک پر بھی اثر انداز ہوتی ہے)۔
یہ ایسی حکمتِ عملی ہے جو عوام کو مزاحمت کے لیے متحد نہیں کرتی، بلکہ انہیں تذبذب میں مبتلا کرتی ہے۔ الفاظ اور اعمال کے درمیان کوئی مطابقت نہیں ہے۔ ٹرمپ اور روبیو بڑے ہی مغرور اور مکروہ انداز میں جیسے گھر کے مالک بن کر پالیسی بنا رہے ہیں، اور کاراکاس ’بولیواری امن‘ اور ’باہمی مفاد کے معاہدات‘ کے بیانات کے ساتھ جواب دے رہا ہے۔ یہ سب صرف بدظنی، حوصلہ شکنی اور سب سے بڑھ کر مادورو کے حامیوں کو قیادت سے توڑنے کا باعث بن سکتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ کیا کوئی دوسرا راستہ اختیار کرنا ممکن ہے؟
میرا جواب ہے: ہاں۔ اس کی ابتدا حقائق کو تسلیم کرنے سے ہوتی ہے۔ ایک ایسی قیادت جو یہ کہے: ’ہم پر سخت حملہ ہوا ہے (اور یہ بھی واضح کرے کہ کیسے)، اس وقت لڑائی کے حالات سازگار نہیں ہیں، ہم اپنی قوتوں کو ازسرنو منظم کریں گے،‘ اور جدوجہد کے لیے ایک واضح لائحہ عمل پیش کرے وہ سیاسی اتھارٹی حاصل کر سکتی ہے اور اگلے مرحلے کی تیاری کر سکتی ہے۔
سامراج کے خلاف جدوجہد سب سے پہلے ایک سیاسی مسئلہ ہے۔ بلاشبہ، اس کا ایک اہم تکنیکی اور فوجی پہلو بھی ہے، لیکن بغیر سیاسی وضاحت کے فوجی پہلو زیادہ کام کا نہیں۔
بنیادی طور پر، ویتنام نے امریکہ کو اور الجزائر نے فرانس کو صرف اس لیے شکست نہیں دی کہ ان کے متعلقہ نیشنل لبریشن فرنٹ کے پاس فوجی مہارت موجود تھی (جو کہ تھی بھی)، بلکہ سب سے زیادہ اس لیے کہ یہ دونوں قومیں سامراج کے جبر سے آزادی کے لیے لڑ رہی تھیں۔
مادورو کے تحت بولیواری انقلاب کی تباہی
وینزویلا میں سامراج کے خلاف مزاحمت کی اہم رکاوٹ فوجی نہیں، بلکہ سیاسی ہے۔ شاویز کی موت کے بعد، بولیواری قیادت نے بولیواری انقلاب کو سیاسی طور پر ختم کرنے کا واضح راستہ اپنایا ہے۔
شاویز کے Golpe de Timon میں دی گئی تنبیہ (کہ ہمیں ”ایک سوشلسٹ معیشت تعمیر کرنی ہو گی“ اور ”بورژوا ریاست کو چکنا چور کرنا ہو گا“) کے برعکس عمل ہوا۔ انقلابی بین الاقوامیت کی بجائے ’کثیر قطبی‘ جیوپولیٹکس کو ترجیح دی گئی۔
محنت کشوں کا کنٹرول ختم کر دیا گیا، کمپنیاں نجی ملکیت میں دی گئیں، زمینیں کسانوں سے چھین لی گئیں، شراکت کے تمام ڈھانچے بیوروکریٹک بنا دیے گئے، وغیرہ۔۔۔
معاشی بحران، تیل کی قیمتوں میں کمی اور پابندیوں کے پیش نظر، قیادت نے مانیٹری توسیع اور مارکیٹ ریگولیشن کی کینزین پالیسیوں کو ترک کر کے ایک سخت مانیٹراسٹ پیکج نافذ کیا، جس نے بحران کا بوجھ محنت کش طبقے پر ڈال دیا۔ اجتماعی مذاکرات (collective bargaining) ختم کر دیے گئے اور وہ ٹریڈ یونین رہنما جو حاصل شدہ حقوق کے دفاع کے لیے لڑے قید کر دیے گئے۔ لاکھوں افراد کو مجبوراً ملک چھوڑنا پڑا۔
یہ سب شاویز، بولیوارین ازم، انقلاب اور سوشلزم کے نام پر انتہائی مزاحمت آمیز انداز میں کیا گیا، جبکہ حقیقت میں یہ بالکل الٹ سمت میں جا رہا تھا۔
یہی مادورو کی قیادت میں ہونے والی تھرمیڈورین (Thermidorian) رد انقلاب تھا جس نے بولیواری انقلاب کو اس کے جوہر سے خالی کر دیا اور 2024ء کی تباہی کی طرف لے گیا۔
جو لوگ اس عمل کو نہیں سمجھ پائے، ان کے لیے اب بہت سے حیرت انگیز واقعات آنے والے ہیں۔ اور سب سے بڑھ کر، جب کہ قیادت نے پہلے ’سامراج کے خلاف مزاحمت تک موت‘ کا وعدہ کیا تھا، 3 جنوری کو جب یہ حملہ کیا گیا تو قیادت خاموش رہی اور ہنگامی منصوبے فعال نہیں کیے گئے۔ جب آخر کار خاموشی ٹوٹی تو پیغام سکون اور امن کے لیے تھا۔
آج کمیونسٹوں اور انقلابیوں کا سب سے اہم فریضہ یہ ہے کہ وینزویلا، لاطینی امریکہ سمیت پوری دنیا میں سامراجی جارحیت کے خلاف اپنی طاقت کو متحرک کریں۔ وینزویلا کو واشنگٹن کے شکنجے سے آزاد کرانے کے لیے ہم جو بھی کر سکتے ہیں، وہ کریں۔ یہی ہمارا بنیادی فریضہ ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ اگر ہم اس سیاسی بحث کا آغاز نہیں کرتے کہ ہم کیوں اور کیسے اس نتیجے پہ پہنچے ہیں اور کیسے سامراج سے لڑا جا سکتا ہے، تو ہم اپنا فریضہ سرانجام نہیں دے پائیں گے۔




















In defence of Marxism!
Marxist Archives
Progressive Youth Alliance