کیوبا پر امریکی سامراج کی بدترین ناکہ بندی، دنیا بھر کے محنت کشوں سے یکجہتی کی اپیل!

|تحریر: جارج مارٹن، ترجمہ: تسبیح خان|

ٹرمپ کی طرف سے مسلط شدہ تیل کی ناکہ بندی کے بعد کیوبا اس وقت تقریباً مکمل بندش کا سامنا کر رہا ہے۔ اس کا مقصد بالکل واضح ہے۔ امریکی سامراج  67 برسوں کی مسلسل یلغار کے بعد کیوبا انقلاب کو آخرکار کچلنے کا موقع دیکھ رہا ہے۔ دنیا بھر کے محنت کش طبقے کی تحریک کا فریضہ ہے کہ وہ کیوبا انقلاب کے دفاع کے لیے متحد ہو جائے۔

انگریزی میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

3جنوری کو وینزویلا پر امریکی فوجی حملے نے کیوبا کو اس کے ترین توانائی فراہم کرنے والے اہم ترین ممالک میں سے ایک سے محروم کر دیا۔ وینزویلا سے کیریبین جزیرے کو تیل کی فروخت پہلے ہی گزشتہ دہائی میں وینزویلا کے معاشی بحران کے باعث کم ہو چکی تھی۔ اب یہ مکمل طور پر بند ہو چکی ہے، کیونکہ امریکہ وینزویلا کے تیل کے بہاؤ اور اس کی تجارت پر مکمل کنٹرول رکھتا ہے۔

پھر 29 جنوری کو ٹرمپ نے ایک شرمناک ایگزیکٹو آرڈر جاری کیا، جس میں کیوبا کو امریکی قومی سلامتی کے لیے ”غیر معمولی اور گھمبیر خطرہ“ قرار دیا گیا اور کسی بھی ایسے ملک پر تعزیری محصولات عائد کرنے کی دھمکی دی گئی جو کیوبا کے جزیرے کو تیل فروخت کرے۔ اس سامراجی غنڈہ گردی کا بنیادی ہدف میکسیکو تھا، جس نے چند دن قبل ہی سرکاری کمپنی پیمیکس (Pemex) کے ذریعے کیوبا کو تیل کی ایک شپمنٹ کی منسوخ کر دی تھی۔

وینزویلا کے معاشی انہدام کے بعد میکسیکو کیوبا کو تیل فراہم کرنے والا سب سے بڑا ملک بن گیا تھا۔ میکسیکو سے کیوبا تیل کی آخری شپمنٹ 9 جنوری کو جزیرے پہنچی تھی۔

کیوبا اپنی توانائی کی ضروریات کا تقریباً 60 سے 70 فیصد درآمدی تیل پر انحصار کرتا ہے، جبکہ باقی ضروریات مقامی کیوبن تیل اور دیگر ذرائع توانائی، جن میں سولر پینل بھی شامل ہیں، سے پوری کی جاتی ہیں۔ اس طرح بقاء کے ایک اہم ذرائع سے محروم ہو کر ملک آہستہ آہستہ مفلوج ہو رہا ہے، جس کے نتیجے میں ایک مکمل انسانی بحران کے پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔

انسانی بحران

کیوبا کی حکومت کو ہنگامی اقدامات کرنے پڑے ہیں تاکہ اہم خدمات کو ترجیح دی جا سکے اور توانائی کے استعمال میں کمی کی جا سکے۔ سرکاری ملکیتی کمپنیوں کو ہفتے میں چار دن کام کرنے پر منتقل کر دیا گیا ہے اور جہاں ممکن ہو، گھروں سے کام کرنے کی ہدایات دی گئی ہیں۔ عوامی ٹرانسپورٹ میں نمایاں کمی کی گئی ہے، جن میں اندروں شہر چلنے والی بسوں، ٹرینوں اور کشتی و جہاز کی سروسز میں کمی شامل ہے۔

بڑے ثقافتی پروگرام منسوخ کر دیے گئے ہیں، جن میں ہوانا انٹرنیشنل بک فیئر (Havana International Bookfair) اور سگار فیئر (Cigar Fair) شامل ہیں۔ تیل کی فروخت محدود کر دی گئی ہے اور صرف امریکی ڈالر میں کی جا رہی ہے۔ سکولوں کے اوقات کم کر دیے گئے ہیں جبکہ یونیورسٹیوں کو آن لائن تعلیم کی طرف منتقل کر دیا گیا ہے۔

بجلی کی لوڈشیڈنگ، جو پہلے ہی کیوبا کے قصبوں اور شہروں کو متاثر کر رہی تھی، اب مزید طویل ہو گئی ہے اور بعض صوبوں میں 16 گھنٹے تک پہنچ گئی ہے۔ اس کا عوام کی روزمرہ زندگی پر شدید اثر پڑ رہا ہے۔ جہاں لوگ کھانا پکانے، فریج میں خوراک محفوظ رکھنے، پنکھے چلانے یا گھروں، دفاتر اور سکولوں میں روشنی سے محروم ہو رہے ہیں۔ غیر ضروری سرجریاں اور معمول کی طبی مشاورت کو مؤخر کر دیا گیا ہے۔ وہ مریض جنہیں ڈائیلسس کی ضرورت ہے، اب انہیں مجبوراً طبی مراکز میں مستقل طور پر رہنا پڑ رہا ہے کیونکہ ریاست انہیں لانے یا لے جانے کی سہولت فراہم کرنے سے قاصر ہے۔

بعض علاقوں میں بجلی کی عدم دستیابی کے باعث پانی کی فراہمی بھی منقطع ہو گئی ہے۔ دیہی علاقوں سے شہروں کی منڈیوں تک خوراک کی ترسیل تیزی سے مشکل ہوتی جا رہی ہے، جبکہ درآمد شدہ اشیاء کو بندرگاہوں سے تقسیم کاروں تک پہنچانا بھی ممکن نہیں رہا۔

فضائی سفر کے لیے ایندھن کی فروخت معطل کر دی گئی ہے۔ نتیجتاً، جزیرے کے لیے پروازیں چلانے والی تینوں کینیڈین ایئرلائنز نے اپنی تمام سروسز منسوخ کر دی ہیں اور اب وہاں موجود صرف کینیڈین سیاحوں کی واپسی کے لیے کام کریں گی۔ سپین کی ایئرلائنز نے اعلان کیا ہے کہ وہ ڈومینیکن ریپبلک (Dominican Republic) میں ایندھن بھروائیں گی۔ روسی ایئرلائنز نے بھی اپنی پروازیں منسوخ کر کے روسی سیاحوں کی واپسی کا اعلان کیا ہے۔ ظاہر ہے کہ ایندھن کی قلت سیاحت پر شدید منفی اثر ڈال رہی ہے، جو ملک کی آمدن کے اہم ترین ذرائع میں سے ایک ہے۔

ٹرمپ کیا چاہتا ہے؟

ٹرمپ کیوبا کے عوام کے گرد گھیرا اس حد تک تنگ کر رہا ہے کہ گویا ان کا دم گھٹ جائے۔ 30 جنوری کو فنانشل ٹائمز نے اندازہ لگایا کہ کیوبا کے پاس مزید صرف 15 سے 20 دن کا تیل باقی رہ گیا ہے۔

جب ٹرمپ سے میکسیکو کی صدر شین بام کی تنبیہ کہ تیل کی ناکہ بندی انسانی بحران کو جنم دے سکتی ہے، کے بارے میں دریافت کیا گیا تو ٹرمپ نے لاپرواہی سے جواب دیا:

”ایسا ہونا ممکن ہے بھی اور نہیں بھی۔ میرا خیال ہے کہ انسانی بحران کی نوبت آنے سے پہلے وہ بات کرنا چاہیں گے، وہ کوئی معاہدہ کرنا چاہیں گے۔“

ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ کیوبا ”پہلے ہی بات چیت کر رہا ہے“، حالانکہ کیوبا کے حکام نے کسی بھی باضابطہ مذاکرات کی تردید کی ہے۔

ظاہر ہے، اگر کوئی آپ کا گلا گھونٹ رہا ہو اور آپ اپنی قیمتی چیزیں اس لیے اس کے حوالے کر دیں کہ وہ آپ کو چھوڑ دے، تو اسے کسی طور ”معاہدہ“ نہیں کہا جا سکتا۔ مگر سوال یہ ہے کہ وائٹ ہاؤس میں بیٹھا شخص کیوبا سے آخر کیا مطالبہ کر رہا ہے؟

واضح ہے کہ ٹرمپ کے حالیہ حملے کا ایک پہلو امریکی قومی سلامتی کی حکمتِ عملی میں بیان کیا گیا ہے، جس کا مقصد مغربی نصف کرّے سے امریکہ کے مخالفین کو نکال باہر کرنا ہے۔ 29 جنوری کے ایگزیکٹو آرڈر میں خاص طور پر کیوبا میں مبینہ روسی انٹیلی جنس مرکز کا ذکر کیا گیا ہے۔ واشنگٹن چاہتا ہے کہ کیوبا مکمل طور پر امریکی سامراج کے زیرِ اثر آ جائے اور روس اور چین کے ساتھ اپنے معاشی، سیاسی اور فوجی تعلقات منقطع کرے۔

کیوبا کے بارے میں حالیہ بیانات میں ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ میں بہت سے کیوبن نژاد امریکی ہیں جن کے ساتھ“بہت برا سلوک کیا گیا”۔ یہ دراصل Helms-Burton Act کی طرف اشارہ ہے، جس میں ان افراد اور کمپنیوں کا ذکر ہے جن کی جائیدادیں انقلاب کے بعد ضبط کر لی گئی تھیں۔ یہ طویل عرصے سے کیوبا کے خلاف امریکی سامراجی حملوں کا ایک جواز بنا ہوا ہے۔

واضح طور پر میامی کی دائیں بازوں سے تعلق رکھنے والے کیوبن جلاوطن لابی (Miami gusano mafia) امریکی سیاست (چاہے ڈیموکریٹ ہوں یا ریپبلکن) میں غیر معمولی اثر و رسوخ رکھتی ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ میں ان کی نمائندگی بنیادی طور پر مارکو روبیو کرتا ہے۔

حقیقت میں ہم جو کچھ دیکھ رہے ہیں وہ دراصل کیوبا کے خلاف کئی دہائیوں پر محیط امریکی ناکہ بندی کا تسلسل ہے، جسے صدر کینیڈی (Kennedy) نے 3 فروری 1962ء کو باضابطہ شکل دی تھی۔

1960ء میں ناکہ بندی کے لیے ”جواز“ فراہم کرتے ہوئے نائب وزیرِ خارجہ میلوری (Mallory) نے لکھا تھا کہ کیوبا انقلاب اتنا مقبول ہے کہ ”اندرونی حمایت کو کمزور کرنے کا واحد قابلِ تصور طریقہ معاشی بدحالی اور مشکلات کے ذریعے مایوسی اور بے دلی پیدا کرنا ہے۔“ اس مقصد کے لیے اس نے ایسی حکمتِ عملی تجویز کی جو ”کیوبا کو پیسہ اور سامان کی فراہمی میں زیادہ سے زیادہ رکاوٹ ڈالے، مالی اور حقیقی اجرتوں میں کمی کرے، بھوک اور مایوسی پیدا کرے اور حکومت کا تختہ الٹ دے۔“

اس کا مقصد واضح ہے یعنی کیوبا انقلاب کا خاتمہ۔ اس کا طریقہ بھی واضح ہے؛ بھوک اور مایوسی کو جنم دے کر سماجی بے چینی کو بھڑکانا، تاکہ حکومت کا تختہ الٹ دیا جائے یا کیوبا حکومت کو مجبور کیا جائے کہ وہ مذاکرات کے ذریعے انقلاب سے دستبردار ہو جائے۔

کیا کیوبا میں کوئی ’ہوانا کی ڈیلسی روڈریگز‘ ہوگی؟

؎بین الاقوامی سرمایہ دارانہ میڈیا وہی کردار ادا کر رہا ہے جس کی اس سے توقع کی جا سکتی ہے، یعنی ہر قسم کی افواہیں پھیلانا۔ میڈرڈ (Madrid) سے شائع ہونے والے دائیں بازو کے رجعتی اخبار ABC نے الزام لگایا کہ کیوبا اور امریکہ کے درمیان اعلیٰ سطحی کے روابط پہلے ہی میکسیکو میں شروع ہو چکے ہیں، جن میں Alejandro Castro Espín شامل ہے، جس نے 2014ء میں اوباما کے دور میں ہونے والی خفیہ بات چیت میں کردار ادا کیا تھا۔

اسی طرح میڈرڈ کا ’لبرل‘ اخبار El País کیوبا کی حکومت میں ایسے شخص کی تلاش میں مصروف ہے جو جزیرے پر ”ہوانا کی ڈیلسی روڈریگز“ بن سکے۔ یعنی ایسا فرد جس کے ساتھ امریکہ ”کاروبار“ کر سکے۔ اس نے اس م قصد کے لیے Óscar Pérez-Oliva Fraga پر نظر جمائی ہے، جو فیڈل اور راؤل کاسترو کے بھتیجے کا بیٹا ہے۔ اخبار میں صاف لکھا گیا ہے:

”کئی تجزیہ کاروں کے مطابق، وہ کیوبا میں وہی کردار ادا کر سکتا ہے جو وینزویلا میں ڈیلسی روڈریگز نے ادا کیا۔ وہ ایک ٹیکنوکریٹ ہے اور اس کے پاس یہ اہلیت موجود ہے کہ واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات کی صورت میں وہ کیوبا کا صدر بن سکے۔“

ایسا لگتا ہے کہ El País کے ’لبرلز‘ کے ذہن میں یہ بات نہیں آتی کہ امریکہ کو یہ فیصلہ کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں کہ کیوبا کا صدر کون ہو گا اور یہ کہ ڈیلسی روڈریگز صرف اس وقت وینزویلا کی قائم مقام صدر بنی جب واشنگٹن کی جانب سے ایک وحشیانہ فوجی حملہ کیا گیا، جس میں ملک کے سربراہ کو اغوا کر لیا گیا تھا!!

کیوبا کی حکومت کا باضابطہ مؤقف یہ ہے کہ وہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہیں، بشرطیکہ یہ بات چیت ”دباؤ یا پیشگی شرائط“ کے بغیر، ”برابری کی بنیاد“ پر، کیوبا کی خودمختاری کے مکمل احترام اور ”اندرونی معاملات میں مداخلت“ کے بغیر ہو۔

لیکن واضح ہے کہ واشنگٹن ایسا نہیں چاہتا۔ وہ اطاعت کا مطالبہ کر رہا ہے اور اسے حاصل کرنے کے لیے تیل کی مکمل ناکہ بندی جیسے اقدامات پر آمادہ ہے، چاہے اس کے کیوبا کے عوام کی زندگیوں پر کتنے ہی سنگین اثرات کیوں نہ پڑیں۔ اس سے یہ تاثر بھی ملتا ہے کہ اگر وہ اس طریقے سے کیوبا حکومت کو اپنا ماتحت نہ کر سکا تو امریکی سامراج براہِ راست فوجی جارحیت کا راستہ اختیار کرنے کے لیے بھی تیار ہے۔ امریکی بحریہ کے جہاز کیوبا کے شمالی ساحل کے قریب منڈلا رہے ہیں اور الیکٹرانک نگرانی کرنے والے فوجی طیارے کیریبین کے اس جزیرے کے گرد چکر لگا رہے ہیں۔

موجودہ فوجی دباؤ اور دھمکی آمیز کشیدگی کے دوران، امریکی ترجمانوں، جن میں مارکو روبیو اور ٹرمپ شامل ہیں، نے کہا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ کیوبا اپنی معیشت کو ”کھولے“ اور ایسی ”اقتصادی اصلاحات“ نافذ کرے جن کے ذریعے امریکی کمپنیاں سیاحت، بینکاری اور ٹیلی کمیونیکیشن جیسے شعبوں میں سرمایہ کاری کر سکیں۔

’معیشت کھولنے‘ سے ان کی مراد صرف امریکی سرمایہ کاری کی اجازت دینا نہیں ہے۔ اگر امریکی کمپنیاں کیوبا میں سرمایہ کاری نہیں کر رہیں، جیسا کہ یورپ، کینیڈا اور دیگر ممالک کی کمپنیاں کر رہی ہیں تو اس کی وجہ دہائیوں پرانے امریکی ناکہ بندی کے قوانین ہیں!!

در حقیقت ’اصلاحات‘ اور ’کھولنے‘ سے ان کی مراد صرف اور صرف منصوبہ بند معیشت کا خاتمہ ہے، جس پر انقلاب کی کامیابیاں قائم ہیں۔

کیوبا اپنے بورژوا ’اتحادیوں‘ کی جانب سے تنہا چھوڑ دیا گیا

ایسے فوری اور سنگین خطرے کے پیش نظر یہ سوال لازماً اٹھتا ہے کہ کیوبا انقلاب کا دفاع کیسے کیا جائے؟

حکومتی ڈھانچوں کے تناظر میں دیکھا جائے تو کیوبا کبھی بھی اتنا تنہا نہیں تھا جتنا آج ہے۔ انقلابی بائیں بازو کے کیوبا اخبار La Tizza کے ایک اداریے میں صورتحال کو یوں بیان کیا گیا ہے:

”تقریباً تمام ’غیر وابستہ‘ حکومتیں، یا وہ جو ’ترقی پسند‘ بیانیہ رکھتی ہیں، دوسری طرف منہ موڑ لیا ہے؛ نام نہاد انضمامی بلاکس، اتحاد، فورمز، مشترکہ کمیشن اور کانگریسیں کیوبا کے لیے عملی اور مادی عزم سے گریز کرتی ہیں اور زیادہ سے زیادہ افسوس اور بے بسی کے بیانات تک محدود رہتی ہیں۔“

یہ کیوبا انقلاب کی موجودہ حالت کی درست عکاسی ہے۔ وینزویلا کی حکومت، جس کی نمائندگی Delcy Rodríguez کرتی ہے، خودمختاری کے دعوؤں کے باوجود واشنگٹن ڈی سی کے سامنے نیم نوآبادیاتی تابعداری کی پوزیشن میں ہے۔ اس کا واضح ثبوت یہ ہے کہ اس نے کیوبا کو تیل کی فراہمی مکمل طور پر بند کر دی ہے، جو جزیرے کی توانائی کی درآمدات کا تقریباً 34 فیصد تھا۔ کاراکاس (Caracas) نے نہ تو سرکاری طور پر اس بندش کا اعتراف کیا ہے اور نہ ہی کوئی عوامی وضاحت پیش کی ہے۔

میکسیکو میں کلاؤڈیا شینبام (Claudia Sheinbaum) کی حکومت نے بھی ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایات اور دھمکیوں پر عمل کرتے ہوئے کیوبا کو تیل کی فراہمی روک دی ہے، جو اس کی خام تیل کی درآمدات کا مزید 44 فیصد تھا۔ اگرچہ ان کی حکومت نے انسانی امداد (زیادہ تر خوراک) بھیجی ہے، لیکن سرِعام کہا ہے کہ وہ تیل کی فراہمی جاری رکھ کر ”میکسیکو کے مفادات کو خطرے میں“ نہیں ڈال سکتی۔

اس وقت کیوبا کو سب سے بڑھ کر جس چیز کی ضرورت ہے وہ تیل ہے۔ خوراک یقیناً خوش آئند ہے، لیکن ایندھن کے بغیر خوراک کی ترسیل ممکن نہیں اور بجلی کے بغیر اسے محفوظ نہیں رکھا جا سکتا۔ اس اہم معاملے پر شینبام میکسیکو کے خودمختار حقِ تجارت کو ایک دوسرے خودمختار ملک کے ساتھ استعمال کرنے پر آمادہ نہیں۔ اس طرح بورژوا قوم پرستی کی حدود بے رحمی سے عیاں ہو جاتی ہیں۔

دیگر لاطینی امریکی ممالک نے زبانی حمایت کی پیشکش کی ہے اور عوامی سطح پر ٹرمپ کی تیل کی ناکہ بندی پر تنقید کی ہے، لیکن کسی نے بھی اسے توڑنے کے لیے کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا۔ چین اور روس نے بھی احتجاج کیا ہے، مگر تاحال یہ محض الفاظ تک محدود ہے۔ وہ کثیر قطبی دنیا جس کا بہت چرچا تھا اور جس سے امید تھی کہ وہ چھوٹے ممالک کی خودمختاری کے لیے بہتر حالات پیدا کرے گی، US Southern Command کی کیریبین میں جمع افواج کی طاقت کے سامنے کھوکھلا نعرہ ثابت ہوئی ہے۔

روسی اخبار Izvestia کی ایک رپورٹ کے مطابق ہوانا میں روسی سفارت خانے کے ذرائع نے بتایا کہ، ”مستقبل قریب میں روس کیوبا کو انسانی امداد کے طور پر تیل اور پیٹرولیم مصنوعات فراہم کرنے والا ہے۔“

روس پہلے ہی سخت امریکی پابندیوں کا شکار ہے، اس لیے ٹرمپ کی تعزیری ٹیرف کی دھمکی کا اثر نسبتاً کم ہے۔ تاہم سوال یہ باقی ہے کہ اس تیل کی ترسیل کیسے ہو گی، جب کہ روسی بحری بیڑا امریکی پابندیوں کی زد میں ہے اور روس سے منسلک ٹینکروں کو کیریبین، بحرِ ہند، شمالی بحرِ اوقیانوس اور بحیرہ روم میں ضبط کیا جا رہا ہے۔

جیسا کہ La Tizza لکھتا ہے:

”چین اور روس اپنی حمایت اور مذمت کا اظہار بیانات کی حد تک کرتے ہیں، لیکن ان میں سے کسی نے بھی براہِ راست جارحیت کا سامنا کرتے ہوئے کیوبا کے عوام کی تقدیر میں شریک ہونے کی آمادگی نہیں دکھائی۔ علامتی حمایت، تزویراتی حساب کتاب اور ایک ایسا جزیرہ جو سوچے سمجھے طور پر بھڑکائی گئی جنگی کشیدگی کا تقریباً تنہا مقابلہ کرنے پر مجبور ہے۔ ہم بیرونی طاقتوں سے کچھ توقع نہیں رکھتے۔ جیسا کہ انتونیو ماسیؤ (Antonio Maceo) نے کہا تھا: ’ایسے طاقتور ہمسایوں کے احسان کا قرض لینے سے بہتر ہے کہ بغیر مدد کے اٹھ کھڑے ہوں یا گر جائیں۔‘ ہم بہت پہلے سیکھ چکے تھے کہ فیصلہ کن گھڑیوں میں کیوبا صرف اپنے ہی عوام پر بھروسا کر سکتا ہے۔“

دنیا بھر کے محنت کش ہی کیوبا کو بچا سکتے ہیں!

اس نازک گھڑی میں کیوبا انقلاب مدد کے لیے آخر کس پر بھروسا کرے؟ La Tizza کے اداریے نے درست سمت کی نشاندہی کی ہے۔ اس کی سرخی اعلان کرتی ہے: ”دنیا بھر کے محنت کشو، کیوبا کے ساتھ اٹھ کھڑے ہو!“ وہ پوچھتے ہیں: ”اگر لوگوں کی طرف رجوع نہ کریں تو اور کس کی طرف جائیں، تاکہ اس سامراجی محاصرے کا مقابلہ کیا جا سکے جو کیوبا خود کو تنہا اور چھوڑا ہوا محسوس کرتا ہے، اس قدر یہ محاصرہ شدت اختیار کر رہا ہے؟“

وہ درست طور پر امریکہ کے عوام سے اپیل کرتے ہیں:

”کیوبا کو کیریبین کا غزہ بنانے جیسے منصوبے کا مقابلہ کرنے کے عزم کے ساتھ، ہم سب سے پہلے آپ سے مخاطب ہیں، امریکہ کے عوام!!، آپ کی لامحدود تنوع کے ساتھ، ہر اُس شہری سے جو وائٹ ہاؤس میں حکمرانی کرنے والی آمرانہ جنونیت کو مزید برداشت نہیں کر سکتا۔ آپ سے، جو ایک ایسے معاشرے کے لاتعداد مسائل میں گھرے ہوئے ہیں جو ’دوبارہ عظیم‘ ہونے سے کوسوں دور ہے۔ ہم آپ سے مخاطب ہیں، جو ان تمام جنگوں کو یاد رکھتے ہیں جن میں امیر مزید امیر ہوئے اور غریب مزید غریب تر اور جن میں اگر کچھ واپس آیا بھی تو وہ آپ کے بچوں کی بے جان لاشیں تھیں۔ وہ جنگیں جو آپ کی نہیں تھیں، جو دفتروں میں طے کی گئیں اور جنہیں ان نوجوانوں نے لڑا جو روزگار کمانے کے لیے دوسروں کو تباہ کرنے پر مجبور تھے۔“

ان الفاظ میں بہت سچائی بیان کی گئی ہے۔ کیوبا انقلاب کی تقدیر کا فیصلہ بالآخر بین الاقوامی طبقاتی جدوجہد کے میدان میں ہو گا۔ موجودہ صورتحال اس بات کی تصدیق ہے کہ سوشلزم ایک ہی ملک میں تعمیر نہیں کیا جا سکتا، خصوصاً ایک چھوٹے کیریبین جزیرے میں جو دنیا کی سب سے طاقتور سامراجی قوت سے صرف 90 میل کے فاصلے پر ہو۔ 1959ء کے بعد تقریباً تین دہائیوں تک کیوبا انقلاب کو سوویت یونین کے ساتھ انتہائی سازگار معاشی تعلقات کا سہارا حاصل تھا۔ یقیناً اس تعلق کے ساتھ سیاسی سمجھوتے بھی تھے اور اس نے کیوبا کی معیشت میں سنجیدہ بگاڑ بھی پیدا کیے، لیکن اس کے باوجود اس نے انقلاب کو سانس لینے کی مہلت فراہم کی۔

جب سوویت یونین اپنی بیوروکریٹک سٹالنزم کی بگاڑوں کے نتیجے میں منہدم ہوا تو کیوبا انقلاب انتہائی کٹھن ”خصوصی دور“ میں تنہا رہ گیا۔ بعدازاں وینزویلا کے انقلاب نے اسے معاشی اور سیاسی طور پر ایک نیا سہارا فراہم کیا۔ لیکن جب وینزویلا کا انقلاب حکمران طبقے کی ملکیت کو ضبط کرنے میں ناکامی کے باعث بحران کا شکار ہوا تو کیوبا دوبارہ تنہا ہو گیا اور سرمایہ داری کی بحالی کا دباؤ بڑھنے لگا۔

یہ دونوں مثالیں واضح کرتی ہیں کہ کوئی بھی انقلاب جو سرمایہ داری کو ختم کرتا ہے، طویل مدت تک تنہائی میں زندہ نہیں رہ سکتا۔

آج پھر کیوبا صرف اپنے عوام پر ہی نہیں بلکہ دنیا کے عوام یعنی عالمی مزدور طبقے، غریب کسانوں اور انقلابی نوجوانوں پر بھروسا کر سکتا ہے۔ یہ کوئی محض جذباتی نعرہ نہیں بلکہ ایک ٹھوس عملی سوال ہے۔

میکسیکو کی حکومت کو سامراجی احکامات کے سامنے جھکنے سے روکنے والی واحد قوت میکسیکو کے عوام، ان کی ٹریڈ یونینوں، عوامی تنظیموں، نوجوانوں اور کسانوں کی ایک وسیع عوامی تحریک ہو سکتی ہے۔ یہی بات کولمبیا اور برازیل پر بھی لاگو ہوتی ہے۔ تیل پیدا کرنے والے دو ممالک جن کی حکومتیں مزدوروں اور غریبوں کے ووٹ سے منتخب ہوئیں۔ برازیل کی طاقتور فیڈریشن آف آئل ورکرز نے Lula کی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ کیوبا کو تیل بھیجا جائے۔ ریوولوشنری کمیونسٹ انٹرنیشنل کے برازیلی سیکشن نے بھی اسی نعرے کے ساتھ ایک مہم شروع کر دی ہے۔

یقیناً ڈونلڈ ٹرمپ نے کیوبا کو تیل فروخت کرنے والے کسی بھی ملک پر تعزیری محصولات عائد کرنے کی دھمکی دی ہے، لیکن اگر میکسیکو، کولمبیا اور برازیل جیسے ممالک اس دھمکی کو مسترد کریں اور ایسا سامراج مخالف ایک طاقتور عوامی تحریک کے ذریعے کریں تو یہ امریکی سامراج کو مشکل صورتحال میں ڈال سکتا ہے۔ ایسی تحریک کی بازگشت خود امریکہ کے اندر بھی سنائی دے گی، ان ہزاروں نوجوانوں میں جو غزہ میں نسل کشی کے خلاف متحرک ہوئے، ان لاکھوں لوگوں میں جو مہاجرین کے خلاف ICE کے ظالمانہ چھاپوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے اور ان لاکھوں مزدوروں میں جنہوں نے ٹرمپ کو اس امید پر ووٹ دیا تھا کہ وہ ہمیشہ کے لیے ”جنگوں کا خاتمہ“ کرے گا لیکن اب مایوس ہو چکے ہیں۔

اس کے برعکس متبادل یہ ہے کہ اگر پورے براعظم اور اس سے باہر مزدور عوام کی طاقتور تحریک نہ اٹھی تو کیوبا انقلاب اور اس کی تمام کامیابیاں تباہ ہو سکتی ہیں۔

یہ صرف مادی کامیابیوں خاص طور پر رہائش، تعلیم اور صحت کے شعبوں کی بات نہیں، جو دہائیوں کی ناکہ بندی، تنہائی اور بتدریج سرمایہ دارانہ اصلاحات سے شدید متاثر ہوئی ہیں۔ یہ قومی خودمختاری اور سامراجی تسلط سے آزادی کا سوال بھی ہے۔

جیسا کہ La Tizza کے کامریڈ کہتے ہیں: ”انقلاب کو قومی آزادی کا انقلاب بننے کے لیے سوشلسٹ ہونا ضروری تھا۔“ کیوبا صرف اسی صورت امریکہ سے آزاد ہو سکتا تھا جب سرمایہ داروں اور جاگیرداروں کی ملکیت ضبط کی جاتی۔ کیوبا میں سرمایہ داری کی بحالی کا مطلب ہو گا جزیرے کو دوبارہ امریکی نیم نوآبادی بنا دینا، جیسا کہ وہ 1959ء سے پہلے تھا۔

کیوبا میں امریکی کامیابی کا مطلب نام نہاد Donroe Doctrine کی مزید پیش رفت اور پورے براعظم پر امریکی نیم نوآبادیاتی غلبے کی بحالی ہو گا۔ دنیا بھر کے محنت کش تحریک کے تناظر میں سب سے اہم نقطہ صرف یہ نہیں کہ کیوبا کا انقلاب داؤ پر ہے بلکہ امریکی سامراج کی وہ یلغار بھی ہے جس کا مقصد پورے خطے کو اپنے ”ذاتی خطے“ کے طور پر تابع بنانا ہے۔

اسی لیے ہم کیوبا کے ساتھیوں کی آواز میں آواز ملاتے ہیں: دنیا بھر کے محنت کشو، کیوبا کے انقلاب کے دفاع میں کھڑے ہو جاؤ۔

Comments are closed.