|تحریر: آکاش گوچّائت، ترجمہ: نبیل خان|
23فروری کو ہریانہ میں پانی پت ریفائنری کے توسیعی منصوبے پر انڈین آئل کارپوریشن لمیٹڈ (آئی او سی ایل) کے تقریباً چالیس ہزار مزدور ہڑتال پر چلے گئے، جو دیکھتے ہی دیکھتے پورے احاطے میں پھیل گئی۔
انگریزی میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں
اس اچانک اور جرات مندانہ اقدام کا جواب ریاست نے سخت پولیس کریک ڈاؤن اور انٹرنیٹ کی بندش کی صورت میں دیا۔
حکومت نے جلد بازی میں میڈیا سے ان احتجاجوں کو مٹانے کی کوشش کی۔ حیرت کی بات نہیں کہ اپنے سرمایہ دار آقاؤں کے غلام بھارتی کارپوریٹ میڈیا نے اس واقعے کو مزدوروں کے حقوق کے لیے ایک طاقتور اور خودبخود ابھرنے والی جدوجہد کے طور پر پیش کرنے کی بجائے اسے ایک ”پرتشدد جھڑپ“ یا ”سکیورٹی کا واقعہ“ بنا کر پیش کیا۔
آخری تنکا جس نے اونٹ کی کمر توڑ دی
واقعات کا آغاز 21 فروری کو ہوا جب ریفائنری میں کام کے دوران پیش آنے والے ایک حادثے میں دو مزدور ہلاک ہو گئے جبکہ ایک تیسرا شدید زخمی ہوا جس کی ٹانگ کاٹنا پڑی۔ مزدوروں کا الزام ہے کہ نہ تو ایمبولینس کو بروقت آنے دیا گیا اور نہ ہی ٹھیکیداروں یا انتظامیہ کی جانب سے فوری طبی امداد فراہم کی گئی۔ یہی واقعہ پانی پت ریفائنری اور اس کے توسیعی منصوبے پر ہونے والی بڑے پیمانے کی ہڑتال کا فوری محرک بنا۔
یہ تصادم دراصل کوئی اچانک پیش آنے والا واقعہ نہیں تھا بلکہ ریفائنری کے مزدوروں میں برسوں سے جمع ہونے والے غصے کا نتیجہ تھا، جس کی وجہ انتہائی کم اجرتیں، کام کرنے کے خطرناک حالات اور روزانہ بارہ سے سولہ گھنٹے تک کی جان لیوا مشقت تھی۔ مزدوروں کا کہنا ہے کہ اوور ٹائم کی اجرت بھی قانون کے مطابق دوگنی شرح پر ادا نہیں کی جا رہی تھی۔
مزدوروں نے یہ بھی بتایا کہ ان کی تنخواہیں اکثر تین ماہ تک تاخیر سے دی جاتی ہیں، جبکہ پراویڈنٹ فنڈ کی بے قاعدہ ادائیگیوں اور ملازمت کے کسی بھی قسم کے تحفظ کے نہ ہونے کی وجہ سے انہیں مالی طور پر شدید عدم تحفظ کا سامنا ہے۔ مزدوروں نے یہ شکایت بھی کی کہ بیت الخلا، پینے کے پانی اور صفائی ستھرائی کی سہولیات غیر مناسب ہیں۔
یہ ہڑتال بڑی حد تک خودبخود ابھری تھی اور اس کی کوئی مرکزی قیادت موجود نہیں تھی۔ تاہم اس نے ہزاروں مزدوروں کے دلوں میں گہری گونج پیدا کی، جنہوں نے ایک متحد سیاسی قوت کے طور پر اس بڑے احتجاج کو انجام دیا جو انتظامیہ کے لیے سخت تشویش کا باعث بن گیا۔
مزدوروں کے مسلسل اور طویل عرصے سے جاری استحصال اور تذلیل کو اس احتجاج میں اظہار کی ایک آواز ملی۔ L&T (لارسن اینڈ ٹوبرو) جیسی بڑی کمپنیوں کے تحت کام کرنے والے مزدوروں نے کام بند کر دیا اور ریفائنری کے دروازے پر جمع ہو گئے اور درج ذیل مطالبات پیش کیے:
1۔ کام کے اوقات کو 12 گھنٹوں سے کم کر کے قانون کے مطابق 8 گھنٹے کیا جائے۔
2۔ اوور ٹائم کے اوقات کی ادائیگی دوگنی شرح کے مطابق کی جائے۔
3۔ تنخواہوں کی بروقت ادائیگی کی جائے (ہر ماہ کی پہلی سے سات تاریخ کے درمیان)۔
4۔ پراویڈنٹ فنڈ (PF) باقاعدہ اور درست طور پر جمع کرایا جائے (دھوکہ دہی یا غیر قانونی کٹوتیوں کے الزامات عام ہیں)۔
5۔ بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں؛ صاف بیت الخلا، پینے کا پانی، صفائی ستھرائی اور کام کی جگہ پر طبی سہولت۔
6۔ استحصال کے خلاف وسیع احتجاج، جن میں چھٹی کے لیے بہتر پالیسی بھی شامل ہے (اس وقت مزدوروں کو مہینے میں صرف دو دن کی چھٹی ملتی ہے، جبکہ اتوار کو بھی زبردستی کام کرایا جاتا ہے)۔
ان احتجاجوں نے مختلف شکلیں اختیار کیں، جن میں دھرنے، کام کی بندش، بڑے اجتماعات اور سرکاری اہلکاروں اور ٹھیکیداروں کے ساتھ ملاقاتیں شامل تھیں۔ ایک مرحلے پر احتجاج ریفائنری کے احاطے سے باہر بھی پھیل گیا، جب مزدور توسیعی منصوبے کے داخلی دروازے کے قریب جمع ہو گئے۔ صورتحال اس حد تک کشیدہ ہو گئی کہ بعض مظاہرین پر الزام لگایا گیا کہ انہوں نے پتھراؤ کیا اور ممکنہ طور پر جائے وقوعہ کے قریب موجود سکیورٹی اہلکاروں کی کچھ گاڑیوں کو نقصان پہنچایا۔
اس کے جواب میں سنٹرل انڈسٹریل سکیورٹی فورس (CISF) کے اہلکاروں نے ہجوم کو منتشر کرنے کی کوشش میں مبینہ طور پر ہوا میں دو بار انتباہی فائرنگ کی۔ اس کے علاوہ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج بھی کیا یعنی اپنے حقوق کے لیے جدوجہد کرنے والے مزدوروں کے خلاف کھلی طاقت استعمال کی گئی۔
حکام نے احتجاج میں شامل تقریباً 2500 مزدوروں کے خلاف فرسٹ انفارمیشن رپورٹس (FIRs) درج کیں اور پولیس تحقیقات کا آغاز کیا، جبکہ پانچ افراد کو گرفتار بھی کیا گیا جن میں دو کارکن اور تین مزدور شامل تھے۔ گرفتاریوں اور لاٹھی چارج کے علاوہ یہ بھی بتایا گیا کہ ریفائنری کے اطراف موبائل نیٹ ورک جیمر نصب کیے گئے تھے تاکہ احتجاج کی تصاویر اور ویڈیوز کو آن لائن پھیلنے سے روکا جا سکے۔ تاہم شدید بلیک آؤٹ کے باوجود مزدور اس بڑے پیمانے کی ہڑتال کی ویڈیوز سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر شیئر کرنے میں کامیاب ہو گئے۔
اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اس احتجاج کے اثرات دوسرے مقامات تک بھی پھیل گئے اور 26 فروری کو گجرات کے اندر ہزیرہ میں آرسلور مٹل نپون سٹیل (AM/NS) کے پلانٹ پراجیکٹ پر ایک بڑی ہڑتال پھوٹ پڑی۔ تقریباً دو ہزار سے پانچ ہزار مزدور، جو بھارت کے بڑے ای پی سی (EPC) ٹھیکیدار (انجینئرنگ، خریداری اور تعمیرات) ادارے L&T کے تحت کام کر رہے تھے، پانی پت کی ہڑتال کی ویڈیوز دیکھنے کے بعد اجرتوں اور کام کے اوقات اور اسی طرح کے اپنے دیگر مسائل پر بات چیت کرنے لگے اور ہزیرہ کے مقام پر مزدوروں کے بڑے گروہ ازخود جمع ہو گئے۔
یہ اس لیے بھی ممکن ہوا کہ مختلف منصوبوں اور مقامات پر کام کرنے والے ٹھیکے کے مزدور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے ایک دوسرے سے قریبی رابطے میں رہتے ہیں۔ یہاں بھی ہڑتال ابتدا میں صرف ایک اجتماع کی صورت میں شروع ہوئی، جو بعد ازاں اس حد تک بڑھ گئی کہ پولیس پر پتھراؤ ہوا، کچھ گاڑیوں کو نقصان پہنچایا گیا اور کم از کم ایک گاڑی کو آگ لگا دی گئی۔ مزدوروں کو منتشر کرنے کے لیے پولیس نے آنسو گیس کے گولے پھینکے اور متعدد افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔ املاک کو نقصان پہنچانے اور ہنگامہ آرائی کے الزامات کے تحت FIRs بھی درج کی گئیں۔
ان دونوں پھیلتے ہوئے احتجاجوں کو شدید ریاستی جبر، بلیک آؤٹ اور پولیس کی گرفتاریوں کے ذریعے روک دیا گیا۔ چونکہ افرادی قوت کی اکثریت مہاجر مزدوروں پر مشتمل ہے اور وہ انتہائی کم اجرتوں پر کام کرتے ہیں، اس لیے ان میں سے بیشتر کو اگلے ہی دن دوبارہ کام پر جانا پڑا۔ تاہم کوئی مسئلہ حل نہیں ہوا ہے، اور یہ ناگزیر ہے کہ مزدوروں کا غصہ دوبارہ کسی نہ کسی شکل میں پھوٹ پڑے گا۔
سرمایہ داری ذمہ دار ہے
آئی او سی ایل (IOCL) بھارت کی سب سے بڑی سرکاری تیل و گیس کمپنی ہے، جس کی CPSE (سینٹرل پبلک سیکٹر انٹرپرائز) کے طور پر درجہ بندی کی گئی ہے۔ بھارت کی حکومت اس کے تقریباً 51 سے 52 فیصد حصص کی مالک ہے، جبکہ باقی حصص مختلف کمپنیوں اور نجی مالکان کے پاس ہیں۔ یہ ادارہ پٹرولیم کی پیداوار، ریفائننگ، ترسیل اور فروخت میں مرکزی کردار ادا کرتا ہے۔
ایک سرکاری کمپنی ہونے کے باوجود یہاں ملازمین کو تیسرے فریق کے ٹھیکیداروں کے ذریعے بھرتی کیا جاتا ہے۔ یہ اس کے لیے ایک کثیر سطحی ٹھیکیداری نظام کو استعمال کرتے ہیں، سب سے اوپر منصوبے کا مالک خود IOCL ہوتا ہے، جو منصوبوں کے ٹھیکے EPC ٹھیکیداروں جیسے کہ L&T کو دیتا ہے۔ EPC ٹھیکیدار خود مزدوروں کی براہ راست بھرتیاں نہیں کرتے بلکہ منصوبے کو مزید چھوٹے حصوں یا ”پیکجز“ میں تقسیم کر کے ذیلی ٹھیکیداروں کو دے دیتے ہیں۔ ان ذیلی ٹھیکوں میں مختلف نوعیت کے کام شامل ہو سکتے ہیں، مثلاً سول تعمیرات، پائپ لائن ویلڈنگ، اسٹرکچرل اسٹیل کا کام، برقی کام، عارضی ڈھانچوں کی تعمیر، انسولیشن اور اسی طرح کے دیگر کام۔
ہر ذیلی ٹھیکیدار سینکڑوں یا ہزاروں مزدوروں کو ملازم رکھتا ہے اور بہت سے ذیلی ٹھیکیدار مزید لیبر ٹھیکیداروں کی خدمات حاصل کرتے ہیں جو براہ راست دیہاتوں یا دیگر ریاستوں سے مزدور بھرتی کرتے ہیں، ان کی رہائش اور آمدورفت کا انتظام کرتے ہیں اور ان مہاجر مزدوروں کو روزانہ اجرت یا ماہانہ تنخواہ ادا کرتے ہیں۔ اس مزدور بھرتی کے نظام میں عام طور پر مزدوروں کا IOCL کے ساتھ کوئی براہ راست ملازمت کا تعلق نہیں ہوتا۔ درحقیقت یہ نظام ریاستی کمپنیوں سے پس پردہ نجکاری کو ممکن بنانے کا ایک ذریعہ بن جاتا ہے۔
ٹھیکیداروں کی ان متعدد پرتوں کی وجہ سے حکام اکثر ٹھیکیداروں کے اقدامات کی ذمہ داری سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں، یعنی وہ مزدوروں کی شکایات کے لیے خود کو جواب دہ نہیں سمجھتے۔ صرف IOCL ہی نہیں بلکہ بیشتر سرکاری شعبے کے ادارے بھی اسی طریقے سے ملازمین بھرتی کرتے ہیں۔ اس طرح مزدوروں کو چھوٹے چھوٹے گروہوں میں تقسیم کر دیا جاتا ہے اور انہیں ان طفیلی، غیر ذمہ دار اور بدعنوان ٹھیکیداروں اور ذیلی ٹھیکیداروں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جاتا ہے، جو کم سے کم اجرت ادا کرتے ہیں اور مزدوروں کا زیادہ سے زیادہ استحصال کرتے ہیں۔
حالیہ عرصے میں مزدور قوانین کو کمزور کرنے کے اقدامات بھی دراصل انہی ٹھیکیداروں اور نجی کمپنیوں کے مفادات کے لیے کیے گئے ہیں۔ یہ ایک المیہ ہے کہ بھارت کی بڑی ٹریڈ یونین فیڈریشنز کی قیادتوں نے اس رجعتی قانون سازی کے خلاف حالیہ عام ہڑتال کے اثرات کو خود ہی کمزور کر دیا، کیونکہ انہوں نے جدوجہد کو ایک دن تک محدود رکھا، بجائے اس کے کہ مودی حکومت کے خلاف ایک طویل اور مسلسل جدوجہد کی تیاری کی جاتی۔ تاہم جیسا کہ ان دو خود رو احتجاجوں سے ظاہر ہوتا ہے، مودی حکومت کے حملے مزدوروں کو اپنے حقوق اور مفادات کے دفاع کے لیے جدوجہد پر مجبور کریں گے چاہے اوپر سے کوئی قیادت میسر ہو یا نہ ہو۔
ہم IOCL کے احتجاج کرنے والے مزدوروں کے ساتھ اپنی مکمل حمایت کا اعلان کرتے ہیں اور اس بات پر زور دیتے ہیں کہ جن حالات کا وہ سامنا کر رہے ہیں وہ ایک ایسے نظام کا نتیجہ ہیں جو لازمی طور پر مزدوروں کے لیے غیر انسانی اور استحصالی حالات ہی پیدا کرتا ہے۔ لہٰذا، IOCL کے مزدوروں کی جدوجہد آنے والے مستقبل کی لڑائیوں کی ایک نشانی ہے۔
ایک حقیقی انقلابی قیادت کو چاہیے کہ وہ ان مسائل کی جڑ کو بے نقاب کرے: سرمایہ داری، جو بھارتی معیشت کے رسمی اور غیر رسمی دونوں شعبوں میں انتہائی استحصال کی جڑ ہے۔ ایک لڑاکا حل کی ضرورت ہے، ایسا حل جو مقامی اقدامات اور قومی ہڑتالوں سے آگے بڑھ کر مزدوروں کی جدوجہد کو مودی کی ہندوتوا حکومت اور اس کے نمائندہ بورژوا چوروں کے خلاف متحد لڑائی میں بدل دے۔
یہ چھوٹے اور خود رو احتجاج بھارتی مزدوروں کی غیر معمولی طاقت کا مظاہرہ کرتے ہیں، جن میں اپنے ماحول کو بدلنے کی تمام ضروری صلاحیت موجود ہے۔ مزدوروں کو یہ سادہ مگر طاقتور سوال ضرور پوچھنا چاہیے: اگر ہم اپنی اجتماعی محنت کے ذریعے معاشرے کو چلاتے ہیں، تو پھر معاشرے کو چلانے کا حق کس کا ہے؟ کیا یہ ہم ہیں، یا سرمایہ دار اور ان کی غلام انتظامیہ؟
خاص طور پر اب، ریفائنری کے مزدوروں کے پاس معاشرے میں زبردست طاقت موجود ہے۔ امریکہ عارضی طور پر روسی تیل کی خریداری پر پابندی میں رعایت دے رہا ہے تاکہ اسے بھارت میں ریفائن کیا جا سکے، جس سے ایران جنگ کی جنونیت کے دوران عالمی قیمتیں کم ہو رہی ہیں: یہ جنگ امریکہ اور اسرائیل نے شروع کی اور جس کی حمایت مودی کر رہا ہے۔ اس طرح مودی کا سب سے اہم معاشی ہتھیار اور سودے بازی کا ایک بڑا ذریعہ اس وقت انڈیا کے تیل کے مزدوروں کے ہاتھ میں ہے۔ اب صرف ضرورت اس قیادت کی ہے جو اس عظیم طاقت کو فتح کی انتھک جدوجہد میں بدل دے۔
سرمایہ دار ریاست اور اس کے نوکر مردہ باد!
تمام صنعتوں کے مالک مزدور ہوں!
جو لوگ معاشرے کے لیے محنت کرتے ہیں، وہی اسے چلانے کے حقدار ہیں!
ساری طاقت انقلاب کے لیے!
حقیقی مارکسزم اور RCI کی انقلابی قوتیں تعمیر کرنے میں ہمارا ساتھ دیں!
انقلاب زندہ باد!

















In defence of Marxism!
Marxist Archives
Progressive Youth Alliance