|تحریر: فرنسیسکو مرلی، ترجمہ: عبدالحئی|
مہینوں سے ہماری آنکھوں کے سامنے ایک نہایت عجیب صورتِ حال سامنے آ رہی ہے۔ ایک طرف عالمی سرمایہ داری واضح طور پر طوالت پکڑتے ہوئے بحران کے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جو ہر سطح پر اپنا اظہار کر رہا ہے۔ دوسری طرف امریکی اسٹاک مارکیٹ تیزی سے اوپر جا رہی ہے۔
انگریزی میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں
عالمی معیشت تاریخی طور پر کم ترین سرمایہ کاری کی سطح میں دھنس گئی ہے اور ٹرمپ کی محصولات کی پالیسیوں اور تجارتی جنگوں کے باعث بین الاقوامی تجارت کا پورا ڈھانچہ بکھر جانے کے نتائج کا سامنا کر رہی ہے۔ امریکہ اور چین کے درمیان جاری محاذ آرائی حفاظتی اقدامات کے سلسلے کے ساتھ تیزی سے بے قابو ہوتی جا رہی ہے۔
دو بڑے تنازعات، یوکرین کی جنگ اور مشرقِ وسطیٰ کا بحران حل ہونے سے بہت دور ہیں، مزید ٹرمپ کریبیئن (caribbean) میں ایک نیا بحران کھول رہا ہے جو پورے لاطینی امریکہ کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔ اسی دوران ریاستیں غیر یقینی سطح کے قرض میں ڈوب رہی ہیں، جن میں چین اور تمام ترقی یافتہ سرمایہ دار ممالک بھی شامل ہیں۔ اسی طرح ریاستی مداخلت کا وہ بنیادی ذریعہ جس نے نظام کو پچھلے بحرانوں جیسے 2008ء میں یا حال ہی میں کرونا وبا سے نکلنے کا راستہ دیا تھا، اب بے اثر ہو چکا ہے۔
ریاست کی یہ صلاحیت کہ وہ عوامی خزانہ کھول کر معمول کے کرداروں کو بیل آؤٹ کرے یا سماجی جھٹکوں سے نکلنے کے لیے سبسڈیز کے ذریعے نظام کو بچائے، موجودہ ریاستی قرض کی سطح کے باعث کمزور ہو چکی ہے۔ اس کی ایک نمایاں مثال یکم اکتوبر کو امریکی حکومت کا شٹ ڈاؤن کی کیفیت میں چلے جانا ہے اور اسی نقطہء نظر سے موجودہ مفلوجی کے خاتمے کا کوئی امکان نظر نہیں آتا۔
سترہ سال پہلے کے مقابلے میں ہمیں وسیع اکثریت پر مسلط کردہ کفایت شعاری کے ایک طویل، زہریلے تجربے اور چند امیر لوگوں کے ہاتھوں میں دولت کے حیران کن ارتکاز کو اس بحرانی کیفیت میں شامل کرنا چاہیے۔ اس نے عوام میں گہری اور بڑھتی ہوئی ناراضگی پیدا کی ہے اور قومی و بین الاقوامی سطح پر بورژوا حکمرانی کے ہر ادارے پر شدید عدم اعتماد کو جنم دیا ہے۔
سرمایہ داری کا بحران عالمی کساد بازاری تک پہنچنے سے پہلے ہی بھاری اکثریت کی زندگیوں کو بری طرح متاثر کر رہا ہے، جس سے سماجی اور سیاسی عدم استحکام میں اضافہ ہو رہا ہے اور ایک عالمی انقلابی لہر کو ہوا مل رہی ہے۔
سرمائے کے حکمت سازوں میں تشویش
اسی دوران گویا مندرجہ بالا عوامل میں سے کچھ بھی نہیں ہو رہا، امریکی اسٹاک مارکیٹ مسلسل نئے ریکارڈ قائم کرتے ہوئے فخر سے آگے بڑھ رہی ہے۔ بلیک ہول کی طرح یہ امریکی متوسط طبقے کی جمع پونجی اور دنیا کی غیر فعال سرمایہ کاری کو دھوکہ بازی سے ختم کر رہی ہے جس میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے شعبے میں بلند و بانگ منافعوں کے جھانسے دیے جا رہے ہیں۔
ڈوبتی ہوئی ٹائٹینک پر جاری آرکیسٹرا کی مانند معاشی تجزیہ کار اور مشیر ’بُلِش‘ (Bullish) منڈیوں کے چمتکار کے گُن گاتے رہتے ہیں۔ مثال کے طور پر گولڈمین سیکس (Goldman Sachs) نے یہ وضاحت کی کہ یہ صورتِ حال ماضی کے بلبلوں سے بہت مختلف ہے کیونکہ ان کے مطابق منافعوں کی شرح زیادہ ہے اور کمپنیوں کے بیلنس شیٹس اچھی حالت میں ہیں۔
تاہم یہ دھن اب ایک زیادہ خطرناک رنگ اختیار کر رہی ہے۔ یہ سلسلہ جاری رہنا چاہیے، کیونکہ بلبلے کو مزید پُر نہ کرنے کی سزا اس کے اچانک خاتمے کی صورت میں آئے گی، جس کے نتائج تباہ کن ہوں گے۔
لیکن خطرے کی گھنٹیاں بھی بج رہی ہیں۔ پچھلے چند ہفتوں میں عالمی سرمائے کے کئی ماہرین کی جانب سے متعدد پریشان کن بیانات سامنے آئے ہیں۔ وہ سب درج ذیل نکات پر اتفاق رکھتے ہیں:
1۔ امریکی اسٹاک مارکیٹ میں موجودہ تیزی پائیدار نہیں ہے۔
2۔ ایک سنجیدہ ’تصحیح‘ (یعنی دھماکا) نہ صرف ممکن ہے بلکہ ممکنہ طور پر قریب الوقوع ہے۔
3۔ امریکی خاندانوں کی جمع پونجی کا اسٹاک مارکیٹ میں غیر معمولی حد تک انحصار اس طرح کی ’تصحیح‘ کو انتہائی تکلیف دہ بنا دے گا۔
4۔ یہ بات غیر یقینی ہے کہ ایسی ’تصحیح‘ کے اثرات کو 2001ء کے ڈاٹ کام (DotCom) بحران کی طرح کم کیا جا سکے، یا 2008ء کی طرح بیل آؤٹ کے ذریعے بچایا جا سکے۔
5۔ آخرکار امریکہ میں جو کچھ بھی ہو گا اس کے عالمی سطح پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔
اس وقت دو امریکی کمپنیوں ٹرائی کلر (Tricolor) اور فرسٹ برانڈز (First Brands) کے حالیہ انہدام کی طرف توجہ مرکوز ہے۔ سب سے قابلِ غور بات یہ ہے کہ یہاں ہم کسی ایسی چیز کے زوال کی بات نہیں کر رہے جو ٹیسلا، الفابیٹ یا کسی بڑے بینک کے برابر ہو۔ یہ دونوں کمپنیاں بھی بڑی تھیں (فرسٹ برانڈز میں چھبیس ہزار ملازمین کام کرتے تھے)، مگر نسبتاً کم معروف تھیں۔
ان میں سے ایک کمپنی، ٹرائی کلر، استعمال شدہ گاڑیوں کی مارکیٹ کے لیے ایسے افراد کو سب پرائم (Sub-prime) قرض فراہم کر رہی تھی جنہیں بینک سے قرض تک نہیں مل سکتا تھا۔ دوسری فرسٹ برانڈز کمپنی گاڑیوں کے غیر برانڈڈ اسپیئر پارٹس کی بڑی سپلائر تھی۔ ان کے زوال نے کئی ارب ڈالر کا خلا پیدا کر دیا ہے، لیکن سب سے بڑی تشویش کا سبب نقصانات کا حجم نہیں ہے۔
آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹلینا جارجیوا (Kristalina Georgieva) نے اعتراف کیا ہے کہ امریکی پرائیویٹ ایکویٹی (private equity) اور پرائیویٹ کریڈٹ (private credit) سیکٹرز کے بارے میں تشویش وہ ”سوال ہے جو مجھے رات کو اکثر جاگتے رہنے پر مجبور کرتا ہے۔“
آئیے اس پر تھوڑا سوچتے ہیں۔ یہ پرائیویٹ ایکویٹی اور کریڈت ہوتا کیا ہے؟ اور یہ آئی ایم ایف جیسے ادارے کی مینیجنگ ڈائریکٹر کی گہری نیند میں خلل کیوں ڈال رہا ہے؟
گہرائی سے دیکھنے پر سامنے آتا ہے کہ امریکہ کا مالیاتی نظام اور بے قاعدہ شیڈو بینکنگ (پرائیویٹ کریڈٹ) کے درمیان ایک پریشان کن تعلق موجود ہے، جو 2008ء کے بحران کے بعد متعارف کرائے گئے ضوابط سے بچنے کی غرض سے امریکہ میں بڑھ گیا ہے۔ کرونا وبا کے بعد اس شعبے میں خاصی بڑھوتری نظر آئی ہے، جس سے تشویش پیدا ہو رہی ہے کہ اب یہ امریکہ کے پورے مالیاتی نظام کو شدید متاثر کر سکتا ہے۔
یہ اس بات کو ایک بار پھر ثابت کرتا ہے جو ہم ہمیشہ سے کہہ رہے ہیں کہ سرمایہ داری اب کبھی بھی پہلے کی طرح نہیں چل سکتی، زیادہ سے زیادہ منافعے کے حصول کی تلاش سب سے زیادہ آزمودہ اور مرتب شدہ قواعد و ضوابط کے اندر سے بھی راستہ نکال لیتی ہے، عارضی اور ناقص ضوابط تو بہت دور کی بات ہیں۔
تشویش ناک بات یہ ہے کہ کسی کو بھی یہ اس مسئلے کی گھمبیرتا کا ادراک نہیں ہے اور اسی وجہ سے کچھ حلقوں کی نیند متاثر ہو رہی ہے۔
پرائیویٹ کریڈٹ اور ’شیڈو‘ بینکنگ
ٹرائی کلر اور خاص طور پر فرسٹ برانڈز کے زوال نے امریکی شیڈو بینکنگ سسٹم کی وسعت کو فاش کیا ہے۔ اب اس کی مالیت کا تخمینہ تقریباً 4 ٹریلین ڈالر ہے، یہ شعبہ بے قاعدہ طور پر کام کر رہا ہے اور اس کا حجم اس قدر بڑھ گیا ہے کہ یہ نظام کے لیے خطرہ بن چکا ہے۔
2008ء میں بحران کی کھائی سے پیچھے ہٹنے کے بعد سرمایہ داروں نے ’دوبارہ کبھی نہیں‘ کا تہیہ کیا، جبکہ وہ عوامی رقم کے بڑے بیل آؤٹ اپنی جیبوں میں ڈال رہے تھے۔ ان کے نقصان کو قومیایا گیا اور مؤثر طریقے سے عوامی قرض میں تبدیل کر دیا گیا۔ اس کا بِل سماجی عوامی اخراجات میں کٹوتیوں اور کفایت شعاری کی شکل میں محنت کش طبقے کے آگے پیش کیا گیا۔
دوسری طرف سخت قوانین متعارف کرائے گئے، جن کے تحت قرض کی مد میں دی گئی رقم کے مقابلے میں بینکوں کو اپنے سرمائے کی مقدار میں نمایاں اضافہ کرنا پڑا اور قرض دینے کے معیار کو سخت بنایا گیا۔ ان اقدامات نے زیادہ جوکھم بھرے کاروباروں کے لیے قرض تک رسائی محدود کر دی جس سے ایک خلا پیدا ہوا جسے شیڈو بینکنگ نے پُر کیا۔
فرسٹ برانڈز کمپنی ایک تفصیلی جائزہ طلب مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔ اس نے پچھلے چند سالوں میں قرض کے ذریعے خریداریوں کا سلسلہ جاری رکھا، تاکہ امریکی سپیئر پارٹس کی مارکیٹ میں غالب پوزیشن حاصل کر سکے۔ بظاہر یہ لگتا ہے کہ ایک حد سے زیادہ پرعزم توسیعی منصوبہ ناکام ہو گیا ہے۔ تاہم، اس کے پیچھے ایک اضافی پہلو بھی موجود ہے۔
”حال ہی میں کمپنی کچھ مالی ذخیرہ رکھتی تھی، لیکن اخراجات سے نمٹنے کے لیے یہ نجی قرض یا ’شیڈو بینکنگ‘ کا سہارا لے رہی تھی، درحقیقت ان قرضوں کو کمپنی کے مالی دستاویز میں سامنے نہیں لایا گیا، اور 26 ہزار ملازمین کی کمپنی کو آٹو پارٹس کی سپلائر کی بجائے ایک مالیاتی کمپنی میں تبدیل کیا گیا۔“
اس زوال کے اثرات پر تشویش کا اظہار کرنے والوں میں ایک شخص بینک آف انگلینڈ (BoE) کا گورنر اینڈریو بیلی (Andrew Bailey) بھی شامل ہے۔ اس نے ٹرائی کلر اور فرسٹ برانڈز کے زوال کا موازنہ 2008ء کے مالی بحران سے پہلے کے سب پرائم مورگیج (Subprime mortgage) کے بحران سے کیا ہے۔
ہاؤس آف لارڈز فنانشل سروسز ریگولیشن کمیٹی کے سامنے بیان دیتے ہوئے بیلی نے وضاحت کی کہ آج کا بڑا اور واضح سوال یہ ہے کہ یہ دونوں ناکامیاں انفرادی نوعیت کی ہیں یا ”آنے والے خطرے کی پیشگوئی“ ہیں۔
”میں زیادہ پیشگوئی کرنے والا نہیں بننا چاہتا، لیکن اس سوال کی اہمیت کی ایک اور وجہ یہ ہے کہ اگر آپ مالی بحران سے پہلے کے دور پر جائیں، جب ہم امریکہ میں سب پرائم مورگیج کے بارے میں یہ بحث کر رہے تھے، لوگ ہمیں کہہ رہے تھے: ’نہیں یہ نظامی نہیں ہے، یہ منفرد ہے۔‘ یہ فیصلہ غلط تھا۔“
بیلی مزید کہتا ہے: ”ہم یقیناً دیکھنا شروع کر رہے ہیں، مثال کے طور پر، جو پہلے قرض کے ڈھانچوں کی ’سلائیسنگ اینڈ ڈائسنگ‘ اور ’ٹرینچنگ‘ کہلاتی تھی، وہ اب ہو رہی ہے، اور اگر آپ مالی بحران سے پہلے اور اس کے دوران اس میں شامل تھے تو اس وقت الارم کی گھنٹیاں بجنا شروع ہو جاتی ہیں۔“
بینک آف انگلینڈ کی ڈپٹی گورنر سارہ بریڈن (Sarah Breeden) نے اس تجزیے کو مزید مضبوطی سے دہرایا:
”یہ زیادہ لیوریج، غیر شفافیت، پیچیدگی اور کمزور قواعد و ضوابط کا معاملہ ہے۔ یہ وہ چیزیں ہیں جن کے بارے میں ہم عام طور پر اس مالی نظام کے حصے میں کمزوری کے ماخذ کے طور پر بات کر رہے تھے، اور یہ چیزیں ان دونوں ناکامیوں کے تناظر میں بھی نظر آ رہی ہیں۔“
دوسرے الفاظ میں، بریڈن کہہ رہی ہے، ”ہمیں شبہ تھا کہ پرائیویٹ کریڈٹ سیکٹر جو غیر ذمہ دار اور غیر شفاف ادارہ ہے، میں بڑی سطح پر بہت پریشان کن چیز ہو رہی ہے۔ اب ہمارے پاس ٹھوس ثبوت موجود ہیں۔“
ان کے ساتھ دیگر آوازیں بھی شامل ہیں۔ جے پی مورگن چیس کا مالک جیمی ڈائمن، جو ٹرائی کلر کریش سے 170 ملین ڈالر کے نقصان کا سامنا کر رہا ہے نے کہا: ”میری چھٹی حس اس وقت متحرک ہو جاتی ہے جب ایسی چیزیں ہوتی ہیں۔ شاید مجھے یہ نہیں کہنا چاہیے، لیکن جب آپ ایک کاکروچ دیکھتے ہیں، تو ممکن ہے کہ اور بھی ہوں۔“
مسٹر ڈائمن کی ’چھٹی حس‘ نے صحیح طور پر مسئلے کی گھمبیرتا کا پتہ لگایا ہے۔ آئی ایم ایف کی ڈائریکٹر کی نیند کی کیفیت یا نیند کی کمی کی طرف واپس جاتے ہوئے، اس معمہ کو حل کرنے کی کلید حالیہ آئی ایم ایف تحقیق فراہم کرتی ہے جس کے مطابق امریکی اور یورپی بینکوں نے پرائیویٹ کریڈٹ فرموں، ہیج فنڈز اور دیگر غیر بینک قرض دہندگان کو 4.5 ٹریلین ڈالر قرض دیے ہیں۔
دی اکنامسٹ کے مطابق، اس کا مطلب ہے کہ، ”پرائیویٹ کریڈٹ میں جو کچھ ہوتا ہے وہ بینکوں کے لیے زیادہ اہم ہے اور اسی طرح بینکوں میں جو کچھ ہوتا ہے وہ پرائیویٹ کریڈٹ کے لیے۔ کوئی بھی عمومی معاشی زوال یا بڑھتی ہوئی دیوالیہ پن سے محفوظ نہیں ہو گا۔ نجی طور پر سرمایہ کار اور بینکر دونوں اس بات کی فکر کرتے ہیں کہ حال ہی میں قرض دینے کے قواعد و ضوابط بہت نرم رہے ہیں۔“
بینک آف انگلینڈ کے گورنر بیلی کا ایک اور تبصرہ ظاہر کرتا ہے کہ پرائیویٹ ایکویٹی سیکٹر کے اہم کردار موجودہ صورتحال کے خطرات سے کتنے بے خبر ہیں: ”میں چند ماہ پہلے پرائیویٹ ایکویٹی اور پرائیویٹ کریڈٹ کی دنیا کے لوگوں کے ساتھ ایک اجلاس میں بیٹھا تھا، جنہوں نے مجھے یقین دہانی کرائی کہ ان کی دنیا میں سب کچھ ٹھیک ہے سوائے ریٹنگ ایجنسیز کے کردار کے اور میں نے کہا: ’ہم دوبارہ وہی کھیل تو نہیں کھیل رہے نا؟“‘
بینک آف انگلینڈ کے سربراہوں کا خیال ہے کہ ہم 2008ء کے آغاز کو دوبارہ دہرا رہے ہیں، اب کیا غلط ہو سکتا ہے؟
آج امریکی اسٹاک ایکسچینج کا کریش پچھلے بحرانوں سے کیسے مختلف ہو سکتا ہے؟
آئی ایم ایف کی سابقہ پہلی ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر، مس گیتا گوپیناتھ نے دی اکنامسٹ کے لیے ایک دلچسپ مضمون لکھا جس میں اس نے وضاحت کی کہ کیوں امریکی اسٹاک مارکیٹ کا بحران اپنے اندر عالمی نتائج رکھے گا۔ مس گوپیناتھ نشاندہی کرتی ہے:
”اس بات کی فکر کرنے کی اچھی وجوہات ہیں کہ موجودہ تیزی ممکنہ طور پر ایک اور تکلیف دہ مارکیٹ کی تصحیح کے لیے زمین تیار کر رہی ہے۔ تاہم، اس طرح کے کریش کے نتائج پچیس سال پہلے محسوس کیے جانے والے اثرات کے مقابلے میں کہیں زیادہ شدید اور عالمی سطح پر ہو سکتے ہیں۔
”اس تشویش کے مرکز میں امریکی اسٹاک میں داخلی اور بین الاقوامی سطح پر ہونے والی وسیع سرمایہ کاری کی مقدار ہے۔“
یہ بلبلا سب کو اپنی طرف کھینچ رہا ہے۔ امریکی خاندانوں نے امریکی اسٹاک مارکیٹ میں اپنی ملکیت میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔ غیر ملکی سرمایہ کار خاص طور پر یورپی یونین سے ہیج فنڈز اور پنشن فنڈز نے امریکی اسٹاکس میں سرمایہ کاری کی ہے۔
”یہ بڑھتی ہوئی باہمی وابستگی اس بات کا مطلب ہے کہ امریکی مارکیٹ میں کوئی بھی شدید کمی کی گونج پوری دنیا میں گونجے گی۔“
مس گوپیناتھ کے مضمون میں سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ اپنے تخمینوں کے لیے کچھ اعداد و شمار بھی پیش کرنے کی کوشش کرتی ہے۔
”ممکنہ اثر کو واضح کرنے کے لیے میں نے حساب لگایا ہے کہ ڈاٹ کام کریش کے برابر ایک مارکیٹ کی تصحیح امریکی خاندانوں کی دولت میں 20 ٹریلین ڈالر سے زیادہ کا نقصان کر سکتی ہے، جو کہ 2024ء میں امریکی جی ڈی پی کے تقریباً 70 فیصد کے برابر ہے۔ یہ ابتدائی 2000 کی دہائی کے کریش کے دوران ہونے والے نقصانات سے کئی گنا زیادہ ہے۔“
”غیر ملکی سرمایہ کار 15 ٹریلین ڈالر سے زیادہ کے خسارے کا سامنا کر سکتے ہیں یا دنیا کے باقی حصے کے جی ڈی پی کے تقریباً 20 فیصد کا۔ موازنے کے لیے ڈاٹ کام کریش میں غیر ملکی خسارے تقریباً 2 ٹریلین ڈالر تھے، جو آج کے پیسوں میں تقریباً 4 ٹریلین کے برابر ہیں اور اس وقت دنیا کے باقی حصے کے جی ڈی پی کے 10 فیصد سے کم تھے۔“
”خلاصہ یہ کہ آج کا مارکیٹ کریش غالباً اس مختصر اور نسبتاً کم نقصان دہ اقتصادی زوال کا سبب نہیں بنے گا جو ڈاٹ کام بسٹ (dotcom bust) کے بعد آیا تھا۔ اب بہت زیادہ دولت داؤ پر لگی ہوئی ہے اور تصحیح کے اثر کو کم کرنے کے لیے پالیسی کی گنجائش بہت کم ہے۔ ساختی کمزوریاں اور معاشی سیاق و سباق زیادہ خطرناک ہیں۔ ہمیں زیادہ شدید عالمی نتائج کے لیے تیاری کرنی چاہیے۔“
واضح اشارے موجود ہیں کہ قیاسی بلبلا پھٹنے والا ہے۔ اس کی ایک نشانی ’مارجن قرض‘ میں اضافہ ہے، جو کہ سرمایہ کاروں کی جانب سے اسٹاک خریدنے کے لیے آڑھتیوں سے لیا گیا قرض ہے۔ یہ بالکل اسی طرح ہے جیسے کسی کیسینو سے قرض لے کر وہاں زیادہ شرط لگائی جائے۔ جب شرط ہاری جاتی ہے، تو آخرکار پیسہ ضائع ہوتا ہے اور کیسینو کے مالک کو قرض واپس کرنا پڑتا ہے۔
مس گوپیناتھ ہمیں بتا رہی ہے کہ اس سال (2025ء) مئی سے ستمبر کے درمیان سرمایہ کاروں کے درمیان مارجن قرض میں 32 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 1.3 ٹریلین ڈالر تک پہنچ گیا۔ مارجن قرض پانچ ماہ کے عرصے میں اتنی تیزی سے صرف دو مرتبہ بڑھا تھا، 2020ء میں کرونا وبا کے دوران، جب یہ 35 فیصد بڑھا، اور 2000ء کی ابتدا میں بالکل اسی وقت جب ڈاٹ کام بلبلا پھٹنے والا تھا۔
درحقیقت یہ اعداد و شمار ایک کہانی بیان کرتے ہیں۔ منڈی میں بڑھوتری بہت تیز ہو رہی ہے۔ زیادہ لوگ زیادہ متوقع منافع حاصل کرنے کے لیے قرض میں جا رہے ہیں۔ دوسرے الفاظ میں اس کا مطلب ہے کہ وہ زیادہ شرط کے لیے جوا کھیل رہے ہیں۔ اگر مارکیٹ کو غیر مستحکم کرنے والا کچھ بھی ہو جائے اور یہ ’کب‘ کا سوال ہے، ’اگر‘ کا نہیں، تو نتائج اور بھی تباہ کن ہوں گے۔
یہ صرف ’شیڈو‘ بینکنگ کو متاثر نہیں کرے گا۔ جیسا کہ ہم نے پہلے وضاحت کی امریکہ اور یورپی بینکنگ سیکٹر کی جانب سے ’شیڈو‘ بینکنگ آپریٹرز کو دی جانے والی کئی ٹریلین ڈالر کے قرض کے باعث ایک بڑھتی ہوئی ہم آہنگی موجود ہے۔
سرمایہ داری کے عالمی حکمت ساز نئے کریش کے امکان پر کس طرح ردِ عمل ظاہر کریں گے؟ زیادہ امکان ہے کہ وہ ایک بار پھر ریاستی مداخلت کا سہارا لینے کی کوشش کریں، چاہے وہ عوامی اخراجات میں اضافہ ہو یا مرکزی بینکوں کے ذریعے نظام میں لیکویڈیٹی کی فراہمی۔ تاہم، اس سے پہلے ہی کہ ایسا بحران آئے، ریاستی مالیات پہلے ہی ختم ہو رہی ہیں۔
ترقی یافتہ معیشتوں میں مجموعی عوامی قرض جی ڈی پی کے تناسب کے طور پر فی الحال تقریباً 110 فیصد ہے، جو تاریخی طور پر بلند ترین سطح کے قریب ہے۔ 2022ء سے سود کی شرح میں اضافہ جو مرکزی بینکوں نے مہنگائی کو کنٹرول کرنے کے لیے کیا، جو جزوی طور پر پچھلے قرضوں میں اضافے کی وجہ سے تھا، نے قرض کو بہت زیادہ بوجھل بنا دیا ہے۔
امیر ممالک اب سود پر قومی دفاع کے اخراجات کے مقابلے میں ڈبل خرچ کر رہے ہیں۔ اور وہ قرض لیتے رہتے ہیں۔ اس سال، ترقی یافتہ معیشتوں میں اوسط خسارہ جی ڈی پی کا 4 فیصد سے زیادہ ہو گا، امریکہ میں یہ رقم جی ڈی پی کے 6 فیصد سے زائد ہے۔ امریکی عوامی قرض نے حال ہی میں تاریخی سطح 38 ٹریلین ڈالر عبور کر لی ہے (صرف دو ماہ میں 1 ٹریلین ڈالر کا اضافہ ہوا)۔
بحران کے اثرات کو برداشت کرنے کے لیے ریاستی مالیات کے استعمال کی کوئی بھی کوشش فوراً یہ سوال دوبارہ اٹھائے گی، ”بل کون ادا کرے گا؟“ 2008ء کے کریش کے 17 سال بعد، ایک پوری نسل نے صرف زندگی کے معیار میں کمی کا تجربہ کیا ہے اور اسے اس زوال پذیر نظام، سرمایہ داری، کی وجہ سے مستقبل سے محروم رکھا گیا ہے۔ آنے والا دور سرمایہ دارانہ حکمرانی کی عالمی سطح پر استحکام کے لیے ایک آزمائشی مرحلہ ہو گا۔



















In defence of Marxism!
Marxist Archives
Progressive Youth Alliance