مہنگائی کا طوفان اور ظالم حکمران

|تحریر: آدم پال|

مہنگائی کے عذاب کی شدت بڑھتی جا رہی ہے جبکہ اس دوران حکمرانوں کی لوٹ مار اور عیاشیاں بھی کم نہیں ہو رہیں۔ پٹرول کی قیمت ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح تک پہنچ چکی ہے اور اس میں ابھی بھی بہت زیادہ اضافہ ہونے کا امکان موجودہے۔ لیکن اس کے باوجود نہ تو کسی سیاسی پارٹی کی جانب سے کوئی مذمتی بیان آیا ہے اور نہ ہی کسی دانشور یا کالم نگارکے دماغ کے کیڑے میں جنبش ہوئی ہے۔ حکمران طبقات عوام کو فروعی لڑائیوں میں الجھانا چاہتے ہیں اور پوری قوت سے نان ایشوز کو سماج پر مسلط کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ لیکن اس کے باوجود زندگی کی حقیقتیں ہر روزمحنت کشوں کو ڈستی رہتی ہیں اور انہیں موت کے منہ میں دھکیلتی چلی جا رہی ہیں۔

موجودہ حکومت انہی افراد پر مبنی ہے جو مہنگائی کے خلاف سب سے زیادہ تقریریں کرتے تھے اور کنٹینر پر کھڑے ہو کر بجلی کے بل بھی جلا دیتے تھے۔ مہنگائی کے خلاف سول نافرمانی کی تحریک کے نعرے لگانے والے عوام دشمن حکمران اپنے اقتدار کے دوران پٹرول اور بجلی کی قیمتوں میں تاریخ کا سب سے بڑا ضافہ کر چکے ہیں اور ابھی اس میں مزید اضافہ کیا جانا ہے۔ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں بھی مسلسل کمی ہورہی ہے اور اب ڈالر کی قیمت نئی بلندیوں کو چھونے کی جانب بڑھ رہی ہے۔ اس دوران ملک میں مہنگائی کا ایک سیلاب آ چکا ہے جو محنت کش عوام کی تھوڑی بہت جمع پونجی بھی بہا لے جانے کے بعد اب ان کی زندگیوں کو نگل رہا ہے۔ اس دوران حکمرانوں کی کرپشن کے نئے قصے ہر روز سننے کو ملتے رہتے ہیں لیکن کرپشن کے خاتمے کا نعرہ لگانے والا وزیر اعظم اور اس کی ٹیم کرپشن میں کئی گنا اضافہ کرنے کے بعد اس گنگا میں ننگی نہا رہی ہے اور کوئی پوچھنے والا نہیں۔ سرمایہ داروں کے لیے ٹیکسوں کی چھوٹ کے کئی پیکج دیے جا چکے ہیں جس میں ہاؤسنگ سوسائٹیوں اور تعمیراتی شعبہ سر فہرست ہے۔ اس کے لیے اس شعبے سے وابستہ مزدوروں کا بہانہ بنایا جاتا ہے لیکن واضح طور پر اس شعبے سے منسلک طاقتور مافیا اور جرنیلوں سے لے کر ملک کے امیر ترین افراد تک سب فیض یاب ہو رہے ہیں اور لوٹ مار کی نئی تاریخ رقم کر رہے ہیں۔

ہر چند ہفتے بعد وزیر اعظم ٹی وی پر آکر یہ جھوٹ بولتا ہے کہ اس نے مہنگائی کا نوٹس لے لیا ہے اور حکم جاری کر دیا ہے کہ مہنگائی کو کم کر دیا جائے لیکن ہر اس حکم کے بعد مہنگائی میں کئی گنا مزید اضافہ ہو جاتا ہے اور وزیر اعظم مافیا کے طاقتور ہونے کا رونا رو کر مگرمچھ کے آنسو بہاتا نظر آتا ہے۔

 

ہر چند ہفتے بعد وزیر اعظم ٹی وی پر آکر یہ جھوٹ بولتا ہے کہ اس نے مہنگائی کا نوٹس لے لیا ہے اور حکم جاری کر دیا ہے کہ مہنگائی کو کم کر دیا جائے لیکن ہر اس حکم کے بعد مہنگائی میں کئی گنا مزید اضافہ ہو جاتا ہے اور وزیر اعظم مافیا کے طاقتور ہونے کا رونا رو کر مگرمچھ کے آنسو بہاتا نظر آتا ہے۔ درحقیقت وزیر اعظم سمیت تمام وزیر اور ریاستی اہلکار انہی مافیا کے ایجنٹ ہیں جو اس ملک میں عوام کے خون کا آخری قطرہ بھی نچوڑنے کے درپے ہیں اور تیزی سے اپنی دولت بیرون ملک محفوظ مقامات پر منتقل کرتے چلے جا رہے ہیں۔

حکومت اور اس کی پشت پناہی کرنے والے ریاستی اداروں کا واحد کام میڈیا پر آکر جھوٹ بولنااوراسی جھوٹ اور فراڈ پر مبنی سیاست کرنا ہے جس میں عوام کو کسی نہ کسی طرح خاموش رکھا جائے اور اس دوران یہ تمام مافیا اور سرمایہ دار طبقہ اپنی لوٹ مار جاری رکھ سکے۔ اسی لیے ملک میں جتنی زیادہ مہنگائی اور بیروزگاری پھیل رہی ہے اور محنت کش طبقے کی بھوک اور بیماری سے اموات بڑھتی جا رہی ہیں اتنا ہی میڈیا پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے جس پر اب حکمرانوں کے اپنے کاسہ لیس اور لفافہ صحافی بھی تھوڑا بہت شور و غوغا کرتے نظر آتے ہیں۔ مہنگائی کے خلاف عوام کی ابلتی ہوئی اور بھڑکتی ہوئی نفرت کی عکاسی کسی بھی ٹی وی چینل یا اخبار میں نظر نہیں آتی اور نہ ہی بھوک سے مرنے والوں کی خبروں کو منظر عام پر آنے دیا جاتا ہے۔ گزشتہ سال کرونا وبا کے باعث ہونے والے لاک ڈاؤن میں جس طرح لاکھوں دیہاڑی دار مزدور کئی ہفتے بھوک کا شکار رہے اور اس کے بعد کچھ شہروں میں خوراک کی اشیا پر فسادات ہونے کی خبریں بھی سوشل میڈیا پر گردش کرتی رہیں، انہیں بھی مین سٹریم میڈیا پر سامنے نہیں آنے دیا گیا۔ اسی طرح بھوک کے باعث خود کشی کرنے والے اور یہاں تک کے اپنے بھوک سے بلکتے بچوں کو نہر میں پھینک کر یا دوسرے طریقوں سے قتل کرنے کے کچھ واقعات سامنے آنے پر عوامی غم و غصہ نظر آیا جس کے بعد ایسی خبروں کو بھی سامنے آنے سے روک دیا گیا ہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ایسے واقعات ختم ہو گئے ہیں یا ملک میں ترقی اور خوشحالی لوٹ آئی ہے بلکہ حکمران طبقات عوامی بغاوت کے خوف سے پہلے کی نسبت زیادہ محتاط ہوجاتے ہیں اور میڈیا پرایسی کوئی بھی خبر یا تجزیہ آنے سے روکتے ہیں جس سے عوام کے مشتعل جذبات کو کوئی چنگاری مل سکے۔ اس دوران خبروں کا پیٹ بھرنے کے لیے عوام دشمن سیاستدانوں کی جعلی لڑائیوں اور ایک دوسرے پر غلاظت بھرے الزامات کی خبریں مسلط کی جاتی ہیں یا پھر ایسا تاثر دیا جاتا ہے کہ حکمران عوام کی حالت زار کے بارے میں بہت فکرمند ہیں اور ان کے غم میں ہلکان ہوئے جا رہے ہیں جبکہ حقیقت اس کے بر عکس ہے۔

اس ملک میں آٹا اور چینی مافیا سے تو سب ہی واقف ہو چکے ہیں جو ریاستی اہلکاروں اور حکمرانوں کے ساتھ مل کر بنیادی ضرورت کی ان اہم ترین اشیا پر بے دریغ لوٹ مار جاری رکھے ہوئے ہیں اور سینکڑوں ارب روپے کے منافع ہر سال کما لیتے ہیں جبکہ لاکھوں لوگ فاقوں پر مجبور ہوتے ہیں۔ حکومت میں شامل تمام وزیر اور ان کی پشت پر موجود جرنیل اور دیگر ریاستی اہلکار بھی اسی لوٹ مار میں ملوث ہیں اور یہی وجہ ہے کہ محنت کش عوام بھوک سے خودکشیاں کر رہے ہیں جبکہ یہ سرمایہ دار قیمتوں میں کمی کرنے کی بجائے مزید اضافے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ یہی کچھ ادویات کی قیمتوں کے ساتھ بھی کیا گیا جس میں ایک وفاقی وزیر پر اربوں روپے رشوت لینے کا الزام بھی سامنے آیا لیکن اس کے خلاف کوئی کاروائی نہیں ہوئی اور وہ آج بھی لوٹ مار کی گنگا میں نہا رہا ہے۔ جب اس قاتلانہ اقدام کے خلاف غم و غصہ سامنے آیا تو ادویات ساز کمپنیوں کے حق میں دلائل دیے گئے اور ان کھرب پتیوں کی مشکلات کا رونا رو کر عوام کو چپ کروانے کی کوشش کی گئی۔ یہی اس حکومت سمیت دیگر تمام حکومتوں کا وطیرہ رہا ہے اور آمریتیں ہوں یا نام نہاد جمہوریتیں ان میں محنت کش عوام کو بیدردی سے کچلا ہی گیا ہے۔ یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے اور ایل این جی کی حالیہ خریداری میں بھی بہت بڑی کرپشن سامنے آئی ہے جس میں 9 ڈالر کے ریٹ پر ملنے والی گیس 15 ڈالر سے زیادہ کی قیمت پر خریدی گئی ہے۔ اس میں کتنے لوگ ارب پتی سے کھرب پتی ہو گئے ہیں یہ ابھی تک معلوم نہیں لیکن یہ واضح ہے کہ لاکھوں محنت کش پہلے کی نسبت دُگنی قیمت پر یہ بنیادی ضرورت کی شے خرید کر غربت کی چکی میں مزید پستے چلے جائیں گے۔

محنت کش عوام کے ٹیکسوں کے پیسے پر عیاشی کرنے والے حکمران اب اس موجودہ مہنگائی کی بھی بہت سی وضاحتیں پیش کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔ ایک آزمودہ نسخہ دنیا کے دوسرے ممالک کے ساتھ قیمتوں کا مقابلہ کرنا ہے جو پچھلے وزیر اعظم بھی کرتے آئے ہیں۔ موجودہ وزیر اعظم جس نے منافقت کے نئے ریکارڈ قائم کردیے ہیں وہ بھی ٹی وی پر آ کر عوام کو یہ بتانے کی کوشش کر رہا تھا کہ یہ ملک دنیا کا سستا ترین ملک ہے۔ لیکن اس سے پہلے اگر اس وزیر اعظم اور اس کی کابینہ کی اپنی زندگیوں پر نظر دوڑائی جائے تو یہ کہیں سے بھی اس غریب ملک کے باسی نہیں لگتے۔ شاید مغل دور کے شہزادے اور بادشاہ یا ان کے حقیقی جنگیں جیتنے والے سپہ سالار بھی ایسی پر تعیش زندگیاں نہیں گزارتے ہوں گے جیسے اس ملک کے حکمران گزارتے ہیں جنہوں نے ہمیشہ غلامی ہی کی ہے اور سامراجی طاقتوں کے سامنے دم ہی ہلاتے نظر آئے ہیں۔ لیکن اس کے باوجودساری دنیا سے بھیک مانگنے والے اور آئی ایم ایف سمیت مالیاتی اداروں کی چوکھٹ پرباقاعدگی سے سجدہ ریز ہونے والے حکمران دنیا کی جدید ترین سہولتوں سے فیض یاب ہوتے ہیں اور دنیا کی قیمتی ترین اشیا استعمال کرتے پائے جاتے ہیں۔ ان کے لباس، خوراک اور وضع قطع سے یہ کہیں سے بھی غریب ملک کے نمائندے نہیں لگتے۔ یہی حالت جرنیلوں، ججوں اور بیوروکریٹوں کی ہے جن کی مراعات اگر اس ملک کا ایک عام شہری دیکھ لے تو حیرانی سے ہی مر جائے کہ اس کے پیسوں کو لوٹ کر کس طرح عیاشی کی جا رہی ہے۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ یہی لوگ عوام کو غربت میں صبر کے ساتھ رہنے کی تلقین کرتے ہیں اور اس کے لیے مختلف وضاحتیں گھڑتے ہیں۔ ان کے گماشتے دانشوروں کی بھی کمی نہیں جو ان افراد کی حاکمیت اور عوام پر کیے جانے والے مظالم کو درست قرار دینے کے لیے ہر قسم کی دلیل ڈھونڈ کر لاتے رہتے ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ ان انسان دشمن لوگوں کی طرف سے یہ گلہ بھی عوام سے اکثر سننے میں ملتا ہے کہ لوگ ٹیکس نہیں دیتے جبکہ حقیقت اس کے الٹ ہے۔ اگر ٹیکس نہیں دیتے تو وہ اس ملک کے سرمایہ دار، جاگیر دار اور حکمران طبقے کے دیگر افراد ہیں جبکہ محنت کش عوام بجلی، پٹرول سے لے کر چائے اور ماچس کی ڈبی پر بھی ٹیکس دیتے ہیں۔ یعنی ایک کھرب پتی سرمایہ دار اور ایک بیروزگار محنت کش تقریباً ایک جتنا ہی ٹیکس دیتے ہیں اور ٹیکسوں کی اس تمام تر آمدن پر اس ملک کے حکمرانوں اور سامراجی طاقتوں کا ہی حق ہے محنت کشوں کے لیے صرف بھوک اور بیماری ہی رہ گئی ہے۔

جس ملک کو دنیا کا سب سے سستا ترین ملک قرار دیا جا رہا ہے اس میں سب سے سستی چیز انسانی زندگی ہے جسے ان حکمرانوں کی لالچ، ہوس اور خون کی پیاس پوری کرنے کے لیے قربان کیا جا رہا ہے۔ حکومت کے اپنے اعداد وشمار کے مطابق گزشتہ چند سالوں میں تین سے چار کروڑ افراد بیروزگار ہوئے ہیں جبکہ مہنگائی کے باعث مزید کئی کروڑ افراد کی آمدن میں تیز ترین کمی ہوئی ہے۔ لیکن یہ عمل ابھی ختم نہیں ہوا گوکہ حکمران شور مچا رہے ہیں کہ معیشت ترقی کر رہی ہے اور آنے والے سال میں مزید ترقی کرے گی۔ یقینا یہ ترقی اس ملک کے سرمایہ داروں کے لیے ہے جن کے لیے اس بجٹ میں بڑے پیمانے پر ٹیکس اور امپورٹ ڈیوٹی پر چھوٹ کے اعلانات کیے گئے ہیں۔ امیر لوگوں کے لیے گاڑیوں کی قیمتوں میں کمی کی گئی ہے جبکہ پٹرول کی قیمت میں ابھی بیس سے تیس روپے فی لیٹر مزید اضافے کے امکانات ہیں۔ اسی طرح یکم جنوری سے پہلے بجلی کی قیمت میں ایک بار پھر تین سے چار روپے فی یونٹ قیمت میں اضافہ کیا جائے گا جس کے لیے آئی ایم ایف کا شدید دباؤ موجود ہے جبکہ گیس کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔ پٹرول کی مد میں آمدن کے لیے سالانہ بجٹ میں پہلے ہی بہت بڑا اضافہ کرتے ہوئے اسے 610 ارب روپے تک لے جایا گیا تھا جو ملکی تاریخ میں سب سے بڑا اضافہ ہے۔ اس دوران غیر ملکی زر مبادلہ کے ذخائر پر بھی دباؤ بڑھ رہا ہے جس کی بڑی وجہ برآمدات میں کمی ہے۔ گزشتہ سال کرونا کے باعث ہنڈی کے کاروبار میں کمی اور دیگروجوہات کے باعث غیر ملکی تارکین وطن کی رقوم آنے سے معیشت کو سہارا ملا تھا جو اس سال جاری نہیں رہ سکے گا۔ اس صورت میں ڈالر کی قدر میں تیز ترین اضافہ ہو سکتا ہے جبکہ آئی ایم ایف سے ملنے والے قرضوں میں تاخیر کی صورت میں یہ اضافہ ہوشربا حد تک بھی بڑھ سکتا ہے۔

پٹرول کی قیمت میں ابھی بیس سے تیس روپے فی لیٹر مزید اضافے کے امکانات ہیں۔ جبکہ پٹرول کی مد میں آمدن کے لیے سالانہ بجٹ میں پہلے ہی بہت بڑا اضافہ کرتے ہوئے اسے 610 ارب روپے تک لے جایا گیا تھا جو ملکی تاریخ میں سب سے بڑا اضافہ ہے۔

حکمرانوں کی لوٹ مار کی پالیسی کے باعث ملکی درآمدات میں بہت بڑا ضافہ ہوا ہے جس سے معیشت گہری کھائی میں تیزی سے گرتی چلی جا رہی ہے۔ اس وقت یہ ملک بنیادی ترین اجناس بھی درآمد کر رہا ہے جس پر اس ملک کا قیمتی زرِ مبادلہ خرچ کیا جاتا ہے۔ ماضی میں دنیا میں کپاس پیدا کرنے والے بڑے ممالک میں شامل یہ ملک اب کپاس درآمد کرتا ہے اور اس پر کروڑوں ڈالر سالانہ خرچ کیے جاتے ہیں۔ گزشتہ سال تین دہائیوں میں کپاس کی کم ترین پیداوار ہونے کے باوجود اس کی بہتری کے لیے کوئی اقدام نہیں اٹھایا گیا بلکہ بجٹ میں کپاس کی درآمد پر ڈیوٹی مزید کم کر دی گئی جس سے یہاں پر اس زرعی شعبے سے وابستہ لاکھوں افراد برباد ہوچکے ہیں۔ اسی طرح چینی اور گندم بھی درآمد کی جاتی ہے اور دیگر زرعی اجناس کی بھی یہی حالت ہے۔ پاکستان کی صنعتیں بھی تکنیک میں انتہائی پسماندہ ہیں اور یہاں پر سرمایہ داروں کو کھربوں روپے کی مراعات اور لوٹ مار کے وسیع مواقع دینے کے باوجود صنعت ترقی نہیں کر سکی اور نہ ہی اس نظام میں رہتے ہوئے کبھی بھی کرسکے گی۔ یہی وجہ ہے کہ صنعتوں کے لیے درکار خام مال کا بہت بڑا حصہ آج بھی درآمد کرنا پڑتا ہے۔ اس لیے اگر اس ملک میں برآمدات بڑھانے کی کوئی کوشش ہوتی بھی ہے تو اس سے درآمدات کئی گنا بڑھ جاتی ہیں جس سے تجارتی خسارہ تو بڑھتا ہی ہے، کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بھی دباؤ میں آجاتا ہے۔ اس کے علاوہ اکثر سرمایہ دار برآمدات کے جھوٹے اعدادوشمار دے کرری بیٹ، سبسڈی، ٹیکسوں میں چھوٹ اور دیگر مراعات لیتے ہیں جس سے عوام کے ٹیکسوں کا پیسہ براہِ راست سرمایہ داروں کی جیبوں میں چلا جاتا ہے اور کوئی روزگار بھی پیدا نہیں ہوتا۔ رہی سہی کسر چینی سرمایہ کاری نے پوری کر دی ہے جس کے باعث لاکھوں افراد بیروزگار ہوئے ہیں اور بہت سی صنعتیں اور شعبے ختم ہو گئے ہیں۔ حکمرانوں کے دعووں کے بر عکس سی پیک کا منصوبہ بیروزگاری پھیلانے کا منصوبہ ہے اور ملکی وسائل کی لوٹ مار کا عمل ہے جس میں اس ملک کے حکمران بھی برابر کے شریک ہیں اور کرپشن میں اپنا حصہ وصول کر رہے ہیں۔

اس صورتحال میں آنے والے عرصے میں معیشت کی بحالی کا کوئی امکان نہیں بلکہ مہنگائی اور بیروزگاری میں مزید اضافہ ہوگا۔ حکومت تعلیم، صحت اور دیگر شعبوں پر جو تھوڑا بہت خرچہ کرتی تھی وہ بھی بتدریج ختم کر رہی ہے، پنشن کا نظام ختم کرنے کا آغاز کر دیا گیا ہے جبکہ لاکھوں سرکاری ملازمین کو بھی نوکریوں سے نکالا جائے گا اور نجکاری کا عمل تیز ہوگا۔ ایسے میں غربت، بھوک، بیماری اور ذلت میں کئی گنا اضافہ ہوگا اور درمیانے طبقے کے کروڑوں افراد بھی محنت کش طبقے کی صف میں شامل ہوتے چلے جائیں گے۔ دوسری جانب حکمران طبقے کے دولت کے انباروں میں کئی گنا اضافہ ہوگا اور ارب پتی کھرب پتی بن جائیں گے بلکہ اس سے بھی کہیں زیادہ دولت کے مالک بنتے چلے جائیں گے۔ موجودہ نظام میں کوئی بھی حکمران آجائے اسے انہی سرمایہ داروں اور مافیاز کی گماشتگی ہی کرنی پڑے گی۔ کوئی بھی جرنیل اور کوئی بھی سیاسی پارٹی اس نظام میں رہتے ہوئے محنت کشوں کو ایک چھوٹی سی ریلیف بھی نہیں دے سکتی۔ بلکہ عوام پر ہونے والے اخراجات پر کٹوتیوں کے باعث پہلے سے موجود انفراسٹرکچر مزید بوسیدہ ہوگا اور ہلاکتوں میں اضافہ ہوگا۔ وبائیں اور بیماریاں بڑھتی جائیں گی اور آبادی کی اکثریت مزید غیر محفوظ ہوتی چلی جائے گی۔ پہلے ہی کرپشن اور لوٹ مار کی وجہ سے اس ملک میں پولیو کاخاتمہ نہیں ہوسکا جبکہ باقی پوری دنیا اس مہلک بیماری سے چھٹکارا پا چکی ہے۔ اس سارے عمل میں عوام کو حکمرانوں کے خلاف سرکشی سے روکنے کے لیے ریاستی جبر میں مزید اضافہ ہوگا اور سیکیورٹی اداروں کے مظالم اور جبر پہلے کی نسبت کہیں زیادہ بڑھتا چلا جائے گا۔ برطانوی سامراج کی بنائی ہوئی یہ ریاست آج بھی محنت کشوں کو نوآبادیاتی طرز پراپنا زرخرید غلام سمجھتی ہے اور عدالتوں، پولیس اور دیگر تمام اداروں کارویہ محنت کشوں کی جانب ایسا ہی ہے جیسے یہ کیڑے مکوڑے ہیں جبکہ حکمرانوں کی جانب ان کا رویہ خوشنودی حاصل کرنے اور چاپلوسی کا ہوتا ہے جیسے وہ ان کے آقا ہوں۔ اسی طرح حکمرانی کے دیگر ہتھکنڈے بھی وہی ہیں۔ بیرونی دشمنوں کا خوف، قومی، لسانی اور فرقہ وارانہ تقسیموں اور دیگر طریقوں سے محنت کش طبقے کو تقسیم کر کے ان پر حکومت جاری رکھنے کا عمل بھی شدت اختیار کرے گااور اس مقصد کے لیے رجعتی اور عوام کے خو ن کی پیاسی قوتوں کی سرپرستی کا عمل بھی جاری رہے گا اور انہیں پوری قوت سے سماج پر مسلط کرنے کی کوشش کی جائے گی جس میں تمام سامراجی طاقتیں ریاستی اداروں کی حمایت کریں گی۔ سب سے غلیظ کردار یہاں کی سیاسی جماعتوں اور لیڈروں سے لیا جائے گا جو بظاہر حکومت اور اس کو لانے والوں پر تھوڑی بہت تنقید کریں گے لیکن دراصل اپنے عوام دشمن اقتدار کا رستہ ہموار کریں گے۔ عوام کی کسی بھی حقیقی سیاسی قوت کو ابھرنے سے روکا جائے گا اور اسے بزور طاقت کچلا جائے گا جبکہ اس نظام کی رکھوالی کرنے والی قوتوں کو جلسے جلوسوں کے ساتھ ساتھ میڈیا پر بھی بھرپور کوریج دی جائے گی۔ یہی کچھ عمران خان کے ساتھ بھی کیا گیا تھا جو مہنگائی، بد عنوانی اور سیاسی لیڈروں کا سب سے بڑا دشمن دکھائی دیتا تھا لیکن اقتدار میں آنے کے بعد اپنے تمام بیانات سے اس بے شرمانہ ڈھٹائی سے مکرتا ہے کہ شیطان بھی شرما جائے۔

لیکن انسانی سماج کا اصول ہے کہ جب ظلم کی انتہا ہوجاتی ہے تو اس کے خلاف بغاوت لازمی ابھرتی ہے۔ یہی کچھ آنے والے عرصے میں یہاں بھی نظر آئے گا۔ آج پوری دنیا میں ایک کے بعد دوسرے ملک میں حکمران طبقے کے مظالم کے خلاف انقلابات اور عوامی تحریکیں ابھر رہی ہیں جو اس نظام کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ یہاں کی موجودہ حکومت اور معیشت و سیاست کا بحران بھی اس سرمایہ دارانہ نظام کی ناکامی کا ہی اعلان کر رہے ہیں۔ ظلم اور جبر پر مبنی اس نظام کا خاتمہ صرف ایک سوشلسٹ انقلاب کے ساتھ ہی کیا جا سکتا ہے جس میں ہر شخص کوروٹی، کپڑا، مکان، علاج اور تعلیم مہیاکرنا مزدور ریاست کی ذمہ داری ہو گی۔ سرمایہ داروں کی تمام تر دولت ضبط کر لی جائے گی اور تمام ذرائع پیداوار محنت کشوں کی اجتماعی ملکیت میں ہوں گے۔ منافع خوری اور مزدور کے استحصال پر مبنی اس نظام کا خاتمہ کیا جائے گا اور امیر اور غریب کی طبقاتی تقسیم ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گی۔ سماج میں پیدا ہونے والی تمام تر دولت اجتماعی ملکیت ہو گی اور ایک منصوبہ بند معیشت کے ذریعے تمام افراد کو بنیادی ضروریات مہیا کی جائیں گی۔ قومی اور صنفی جبر سمیت ہر قسم کے جبر کا خاتمہ کیا جائے گا اور انسان ہر قسم کے ظلم سے نجات حاصل کرے گا۔ حکمران طبقے کی عیاشیاں بھی ختم ہوں گی اور محنت کشوں کی دکھ اور تکلیف سے بھری زندگی بھی۔ ایسے انقلاب کو برپا کرنے کے لیے آج سوشلسٹ نظریات پر ایک انقلابی پارٹی تعمیر کرنے کی ضرورت ہے تاکہ آنے والے انقلابی واقعات میں یہ پارٹی قائدانہ کردار ادا کرتے ہوئے اس بحران زدہ نظام کا خاتمہ کرتے ہوئے اس کو تاریخ کے قبرستان میں دفن کرے اور یہاں حقیقی آزادی کی سحر طلوع ہو۔

Comments are closed.