”اوبلومویزم“ کے خلاف لینن کی لڑائی: انقلابی عمل کے لیے جدوجہد

|تحریر: بین گلینسکی، ترجمہ: جویریہ ملک|

ایوان گونچاروف کا 1859ء کا مشہور ناول ”اوبولوموف“ روس میں زوال پذیر اشرافیہ کی عکاسی کے طور پر مقبول تھا۔ لینن کویہ ناول پسند تھا اور وہ اکثر اس کا حوالہ دیتا تھا۔ اس مضمون میں بین گلینسکی نے ”اوبلومویزم“ کے رجحان کا جائزہ لیا ہے اور یہ دکھایا ہے کہ لینن نے روس میں انقلابی تحریک سے بیکار قدامت پرستی کو نکالنے کے لیے کیسے اسے ثقافتی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

”مجھے اس تاخیر پر بہت غصہ ہے“، ولادیمیر لینن نے فروری 1905ء میں بوگیدانوف کے نام ایک خط میں گرج کر کہا۔ ”کاش انہوں نے کچھ کیا ہوتا۔۔۔صرف باتیں کرنے کی بجائے“۔ لینن کا غصہ 1905ء کے انقلابی واقعات کا سامنا کرتے وقت بالشویک پارٹی کی قدامت پسندی اور سستی پر تھا۔

درحقیقت، 1902ء میں اپنے پمفلٹ ”کیا کیا جائے؟“ کی اشاعت کے ساتھ، لینن روسی انقلابیوں میں قدامت پسندی، فیصلہ کرنے کی صلاحیت کے فقدان اور تجریدی ”محفوظ حکمت عملی“ کے خلاف جنگ لڑ رہا تھا۔ لینن نے انقلابی تحریک کو آگے بڑھانے کے لیے شعوری اور فیصلہ کن اقدام کا مطالبہ کیا۔ اسی تسلسل میں لینن ”ایک کردار جو روسی زندگی کو بیان کرتا ہے“ کے خلاف جدوجہد کر رہا تھا، جس نے روسی معاشرے کے ہر طبقے کو متاثر کیا۔ اس کردار کا نام تھا الیا ایلیچ اوبلوموف۔

سماجی طور پر بیکار طبقے کی عکاسی

ایوان گونچاروف کا 1859ء کا ناول اوبلوموف زار شاہی کے روس میں ایک سماجی طور پر بیکار اور لاپرواہ شخص کی ایک تصویر ہے۔ اس ناول کو روس میں بڑے پیمانے پر پڑھا گیا، بشمول لینن کے، جو اس کی اشاعت کے 11 سال بعد پیدا ہوا تھا۔ اس ناول کی کامیابی ایسی تھی کہ ’اوبلومویزم‘ سستی اور بیکاری کے لیے ایک عام اصطلاح بن گئی اور لینن انقلابی تحریک کو اس سے پاک کرنے کے لیے پرعزم تھا۔

”اوبلومویزم“ کا ماخذ روس میں تاریخی طور پر تھکا ہوا، پھوہڑ، زمیندار طبقہ ہے۔ اس زوال پذیر سماجی طبقے کو اپنی لپیٹ میں لینے والا جرثومہ بقیہ روسی معاشرے میں پھیل گیا تھا، جیسا کہ لینن نے دیکھا۔

ناول میں اوبلوموف ایک معمولی زمیندار ہے جس نے اپنی زندگی میں ایک دن بھی کام نہیں کیا۔ ایک ابتدائی باب میں اوبلوموف اپنی جوانی میں خاندانی زمینوں پر گزارے وقت کے بارے میں خواب دیکھتا ہے، جسے ایک لاپرواہ وقت اور جگہ کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔

ماحول کی عکاسی اوبلوف کا والد کرتا ہے جو ”بیکار نہیں تھا۔۔۔سارا دن کھڑکی کے پاس بیٹھ کر صحن میں جو کچھ ہو رہا تھا اس پر ہوشیار نظر رکھتا تھا“۔ جہاں تک اوبلوموف کی والدہ کا تعلق ہے: ”اس نے تین گھنٹے درزی ایورکا کو یہ سمجھانے میں گزارے کہ قمیض کیسے بنانی ہے۔۔۔اور یہ دیکھتے ہوئے کہ ایورکا کوئی کپڑا نا چرا لے“۔ چھوٹے زمینداروں کی مزدوری یہی ہے: دوسرے لوگوں کو ان کے لیے کام کرتے دیکھنا۔

بچپن میں اوبلوموف کو اکثر معمولی وجوہات کی بنا پر یا محض اس لیے کہ اس کی ماں اس کو پیار اور توجہ دے سکے سکول سے جلدی چھٹی کروا لی جاتی تھی۔ سکول، کام کی طرح، اس کی زندگی میں ایک رکاوٹ تھا۔ اوبلوموف خاندان کے لیے ”زندگی محض امن اور غیر فعالیت کی ایک مثال ہے جس میں وقتاً فوقتاً بیماری، پیسے کی کمی، جھگڑے اور کام جیسے ناخوشگوار واقعات خلل ڈال دیتے ہیں“۔

اوبلوموف اپنی جوانی کی سستی اور خاموشی کی یادوں کا شکار ہے۔ اسے زندگی میں کم سے کم تبدیلی اور خلل چاہیے۔ ”جو کچھ اوبلوموف کے والد کے زمانے میں ہوتا تھا، اس کے دادا اور پردادا کے دور میں بھی ایسا ہی ہوتا تھا، اور شاید اب بھی کیا جاتا ہے۔ تو پھر، اسے کس چیز کی فکر کرنی تھی یا پرجوش ہونا، یا سیکھنا تھا؟ اس کے پاس کیا مقاصد تھے؟ وہ کچھ نہیں چاہتا، بس زندگی ایک خاموش دریا کی طرح اس کے سامنے بہتی رہے اور وہ ندی کے کنارے بیٹھ کر دیکھتا رہے“۔

اسے اپنی معیاری تعلیم میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ ”سنجیدہ پڑھائی اسے تھکا دیتی تھی“۔ اس کی تعلیم کا مقصد صرف اور صرف اسے سینٹ پیٹرزبرگ میں سول سروس میں ایک عہدہ دلوانا تھا۔ لیکن تھوڑے عرصے بعد اوبلوموف کو اپنی نوکری بہت مشکل لگنے لگی: اس نے ”اسے خوفزدہ اور بہت بور کر دیا“، اور اس لیے اس نے استعفیٰ دے دیا اور ہزاروں میل دور اپنی جائیداد سے حاصل ہونے والی آمدنی سے پیٹرزبرگ میں رہتا رہا۔

بدقسمتی سے اس کی جائیداد کو مرمت کی سخت ضرورت تھی۔ برسوں سے نظر انداز کرنے کی وجہ سے بنیادی ڈھانچا تباہ ہو گیا تھا اور آمدنی میں کمی آئی تھی۔ ایک سکول اور سڑک کی ضرورت تھی۔ اوبلوموف کا اپنا گھر خستہ حالت میں تھا۔

تبدیلی، اصلاحات یا کسی بھی قسم کے کام سے اس کی نفرت کا مطلب ہے کہ اوبلوموف اپنی جائیداد کو درپیش مسائل کو حل کرنے میں پوری طرح سے نااہل ہے۔ ترقی اور جدیدیت اس کے لیے اجنبی تصورات ہیں۔ اوبلوموف کو ایسا انسان بنانے والی دنیا اب اس میں موجود خامیوں اور ناکامیوں کی وجہ سے معدوم ہونے کے خطرے سے دوچار ہے۔

اوبلوموف کی سست دنیا کے برعکس اس کے دوست سٹولز کی دنیا ہے، جس کی پرورش سختی اور نظم و ضبط سے ہوئی، اور جو محنتی اور آگے کی سوچ رکھنے والا ہے۔ سٹولز کو روشن مستقبل کے طور پر پیش کیا گیا ہے، جو عالمی/ بین الاقوامی تجارت اور پیداواری کام کرتا ہے اور اپنے دوست اوبلوموف کو اس کی غیرفعالیت سے باہر نکالنے کی شدت سے کوشش کرتا ہے تاکہ وہ اسے بچا سکے۔

اس مقصد کے لیے سٹولز اوبلوموف کا تعارف اپنی دوست اولگا سے کرواتا ہے، جو اوبلوموف میں ایسے شخص کو دیکھتی ہے جسے وہ بے حسی کی سیاہ گہرائیوں سے بچا سکتی ہے۔ اپنی بہترین کوششوں کے باوجود بالآخر وہ یہ نتیجہ اخذ کرتی ہے کہ یہ ناممکن ہے۔ وہ غصے سے اوبلوموف سے کہتی ہے، ”میں نے جو کچھ کیا اس سے ایک پتھر بھی زندہ ہو جاتا۔ میں نے سوچا تھا کہ میں تمہیں دوبارہ زندہ کر دوں گی۔۔۔لیکن تم بہت پہلے مر چکے ہو۔“

اوبلوموف اپنی پرورش اور سماجی پوزیشن کے تضادات کی وجہ سے برباد ہو گیا۔ اولگا کا عزم اور اس کی منت اور التجا اس تاریخی عمل کے نتیجے میں کوئی فرق نہیں لا سکے۔

گونچاروف نے اس ناول میں روسی معاشرے کی مرتی ہوئی اشرافیہ کی تصویر کشی کی ہے۔ یہ کسی بیرونی تباہی سے نہیں مارا جاتا بلکہ اپنے اندرونی عمل کی منطق کا شکار ہوتا ہے۔ اس کے تخلیق کردہ افراد ہی لامحالہ اس کی بربادی کی وجہ بنیں گے۔

گونچاروف روسی زارشاہی کے زوال کے مطابق ایک شاندار بصیرت پیش کرتا ہے۔ کتاب کی اشاعت کے 60 سال بعد اس نظام کی زوال پذیر باقیات کو تاریخ کے سٹیج سے ہٹا دیا گیا۔ اور یہ کام روس کی بورژوازی نے نہیں کیا، کیونکہ اس میں اتنی بصارت اور طاقت ہی نہیں تھی، بلکہ لینن اور بالشویک پارٹی کی قیادت میں روسی محنت کشوں اور کسانوں نے کیا۔

کیا کیا جائے؟

لینن کے مطابق، روسی اشرافیہ کے ”اوبلومویزم“ نے روسی معاشرے کے ہرحصے کو متاثر کیا۔ بہت پہلے مارکس اور اینگلز نے وضاحت کی تھی کہ ”کسی بھی دور میں حکمران طبقے کے نظریات ہی حاکم نظریات ہوتے ہیں“۔ تباہ حال حکمران طبقہ روس کے مزدوروں اور کسانوں میں اپنا زہر گھول رہا تھا۔

انقلابی تحریک میں ان ”اوبلومووسٹ“ خصلتوں کے خلاف ہی لینن نے 20 ویں صدی کے آغاز میں ایک بے رحم جدوجہد شروع کی۔

1903ء میں روسی سوشل ڈیموکریٹک لیبر پارٹی دو دھڑوں میں تقسیم ہوئی: ایک بالشویک اور دوسرے منشویک۔ سپلٹ کی فوری وجہ ثانوی تنظیمی سوالات تھے۔ لیکن اس کے پیچھے جو چیز چھپی ہوئی تھی وہ یہ تھی کہ پارٹی چھوٹے سے گروہ سے بڑھ کر وسیع تر ایجی ٹیشنل کام میں جانے کی کوشش کر رہی تھی، جس کے لیے ڈھانچے، نظم و ضبط، قائم شدہ عمل، اور ممبرشپ کے واضح اصولوں کی ضرورت تھی۔ لینن اور بالشویکوں نے اس تبدیلی کو قبول کیا، جبکہ منشویک چھوٹے گروہ کے پرانے معمولات اور قدامت پسند طریقوں سے چمٹے رہے۔

”مجھے اس تاخیر پر بہت غصہ ہے“، ولادیمیر لینن نے فروری 1905ء میں بوگیدانوف کے نام ایک خط میں گرج کر کہا۔ ”کاش انہوں نے کچھ کیا ہوتا۔۔۔صرف باتیں کرنے کی بجائے“۔ لینن کا غصہ 1905ء کے انقلابی واقعات کا سامنا کرتے وقت بالشویک پارٹی کی قدامت پسندی اور سستی پر تھا۔

1904ء میں لینن نے لکھا، ”وہ لوگ جو اوبلوموف حلقے کے گھریلو لباس اور چپلوں کے عادی ہیں، ان کو اصول مشکل، غضبناک، غیر ضروری، غلامی کا بندھن اور نظریاتی جدوجہد کے آزادانہ عمل پر پابندی لگتے ہیں“۔ اشرافیہ کی انتشار پسندی یہ نہیں سمجھ سکتی کہ چھوٹے گروہ کے تنگ رشتوں کو پارٹی کے وسیع رشتوں سے بدلنے کے لیے رسمی اصول ضروری ہیں۔

یہاں لینن گونچاروف کے ناول کے پہلے تین حصوں والے اوبلوموف کا حوالہ دے رہا ہے، جس میں مرکزی کردار اپنے گھر میں سونے والے کپڑوں میں پھرتا رہتا ہے۔ بلوں کی ادائیگی، گھر خالی کرنے کی دھمکی اور جائیداد کی بربادی جیسے روزمرہ کے مسائل کے ردِ عمل میں اوبلوموف شکایت، سستی، دن میں خواب دیکھنے اور اپنے مسائل کے لیے دوسروں کو مورد الزام ٹھہرانے کے علاوہ کچھ نہیں کرتا۔ کوئی عملی اقدام کرنے کے بجائے صرف خیالی پلاؤ ہی بنائے جاتا ہے۔

صرف منشویک ہی اس اوبلومویزم کا شکار نہیں تھے۔ روس میں 1905ء کے انقلابی واقعات کے دوران بالشویک بھی فیصلہ سازی کی صلاحیت کے فقدان کا شکار اور کمزور ثابت ہوئے۔

جس طرح اوبلوموف سٹولز کے علمبردار جذبے کی بجائے غیرفعالیت اور سستی کو ترجیح دیتا ہے، اسی طرح 1905ء میں بالشویکوں نے وسیع اور ابھرتی ہوئی طبقاتی جدوجہد میں فعال کردار ادا کرنے کی بجائے اپنی چھوٹی کمیٹیوں اور سٹڈی سرکلوں کو ترجیح دی۔

لینن نے غصے سے لکھا:

”ایک پیشہ ور انقلابی کو ہر علاقے میں درجنوں نئے روابط استوار کرنے چاہئیں، ان کے ساتھ رہتے ہوئے تمام کام ان کے ہاتھ میں دینا چاہیے، انہیں سکھانا چاہیے اور انہیں لیکچر دے کر نہیں بلکہ کام کے ذریعے آگے لانا چاہیے۔ پھر اسے کسی دوسری جگہ جانا چاہیے اور ایک یا دو ماہ کے بعد واپس جا کر ان نوجوانوں کا جائزہ لینا چاہیے جنہیں وہ اپنی جگہ چھوڑ کر گیا تھا۔ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ ہمیں نوجوانوں سے ایک قسم کا احمقانہ، چغد اور اوبلوموف جیسا خوف ہے۔ میں آپ سے التجا کرتا ہوں کہ اپنی پوری طاقت کے ساتھ اس خوف کا مقابلہ کریں“۔

اوبلومویزم کے خلاف لینن کی جدوجہد 1917ء تک جاری رہی۔ فروری انقلاب کے بعد اس نے عارضی حکومت کے بارے میں سٹالن کے غیر واضح نقطہ نظر کے بجائے ایک واضح پالیسی کا مطالبہ کیا۔ اور اس نے زنوویف اور کامنیف کے فیصلہ کر سکنے کی صلاحیت کے فقدان اور بزدلانہ رویوں کی سختی سے مذمت کی جو بغاوت کے موقع پرپیچھے ہٹ گئے۔

فیصلہ کن کارروائی نہ کرنے کے بہانے ڈھونڈنا اوبولوموف کی خصلت ہے:

”’ابھی یا کبھی نہیں! ہونا یا نہ ہونا!‘ اوبلوموف اپنی کرسی سے اٹھا لیکن اپنے پیروں سے اپنی چپل تلاش کرنے میں ناکام ہو کر دوبارہ بیٹھ گیا“۔

بالشویک پارٹی میں اس بیماری کی حد تک بڑھے ہوئے غیر یقینی پن اور فیصلہ نہ کرنے کی قوت کے خلاف ایک پر عزم جدوجہد کے بغیر شاید اکتوبر انقلاب رونما نہ ہو پاتا۔ لیکن بدقسمتی سے روسی انقلاب بھی روسی معاشرے سے اوبلومویزم کے تمام نشانات کو مٹانے کے لیے ناکافی تھا، جو معاشی پسماندگی اور دیہی زندگی کی سست رفتاری سے دوچار تھا۔

1922 ء میں لینن نے کہا کہ ”روس نے تین انقلابات دیکھے لیکن ”اوبلوموف“ زندہ رہے، کیونکہ اوبلوموف نہ صرف زمینداروں میں بلکہ کسانوں میں بھی موجود تھے۔ نہ صرف کسانوں میں، بلکہ دانشوروں کے درمیان بھی؛ اور نہ صرف دانشوروں میں بلکہ محنت کشوں اور کمیونسٹوں میں بھی“۔

اوبلومویزم روسی سماج کی پسماندگی کی علامت تھا۔ اور یہی پسماندگی سوویت یونین کی مزدور ریاست اور پھر بالشویک پارٹی میں بیوروکریسی کے ابھار کی وجہ بھی تھی۔ لینن یہ جان چکا تھا کہ اس کا واحد حل روس کے انقلاب کی تنہائی کو دور کرنا ہی ہے اور اسے لازمی طور پر ترقی یافتہ سرمایہ دارانہ ممالک میں پھیلانا ہوگا تاکہ ذرائع پیداوار کو ہر ممکن طریقے سے تیز ترین ترقی دی جاسکے۔ لیکن اس عرصے کے دوران وہ اوبلومویزم کی لعنت کے خلاف جدوجہد بھی کرتا رہا تاکہ اس خرابی سے جس حد تک بھی ہو مزدور ریاست اور پارٹی کو بچایا جا سکے۔

یہ کوئی چھوٹا فریضہ نہیں تھا۔ انقلاب کے بعد ریاستی آپریٹس کا حجم تیزی سے بڑھنا شروع ہوا۔ 1922ء تک صرف ماسکو میں 2 لاکھ 43 ہزار سرکاری ملازمین موجود تھے۔ لیکن یہ واضح نہیں کہ ان سب کا اپنی اجرت لینے کے علاوہ کیا کام تھا۔ لینن کے بقول، سوویت ریاست میں بیکاری، ناکارہ پن اور سستی پھیل رہی تھی۔ اور وہ اس کے خاتمے کے لیے پرعزم تھا۔

”ہمارا بدترین اندرونی دشمن بیوروکریٹ ہے۔ وہ کمیونسٹ جو ایک ذمہ دار (یا غیر ذمہ دار) سوویت عہدے پر قابض ہے اور ایک اخلاقی آدمی کے طور پر عزت اور احترام حاصل کرتا ہے“، لینن نے اعلان کیا۔

”وہ بہت باضمیر ہے، لیکن اس نے سرخ فیتے (بیوروکریسی کے طریقہ کار – مترجم) کا مقابلہ کرنا نہیں سیکھا، وہ اس کا مقابلہ کرنے سے قاصر ہے۔ وہ اسے نظر انداز کرتا ہے۔ ہمیں اس دشمن سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہیے اور تمام طبقاتی شعور رکھنے والے محنت کشوں اور کسانوں کی مدد سے ہم اس کا مقابلہ کریں گے۔ پارٹی کے باہر کے محنت کش اور کسان اس دشمن، نا اہلی اور اوبلومویزم کے خلاف جنگ میں کمیونسٹ پارٹی کے ہراول دستے کی پیروی کریں گے۔ اس معاملے میں کسی قسم کی ہچکچاہٹ نہیں ہونی چاہیے۔“

لینن نے بیوروکریسی کے خلاف اسی طرز پر لڑائی کی جیسے اس نے 20 سال پہلے منشویکوں کی قدامت پسند روٹینزم کے خلاف کی تھی۔ اس نے کہا کہ کمیونسٹ ریاست کے ملازمین میں سوویت ریاست کو جمود کا شکار ہونے دینے کی بجائے نئے خیالات کے ساتھ آگے بڑھانے کے لیے لچکدار اور متحرک سوچ کی ضرورت ہے۔

اس نے کہا کہ، ”میں سمجھ سکتا ہوں کہ کمیونسٹوں کو یہ سب سیکھنے کے لیے وقت درکار ہے اور میں جانتا ہوں کہ جو لوگ سیکھ رہے ہیں وہ کئی سالوں تک بڑی غلطیاں کرتے رہیں گے۔ لیکن تاریخ انہیں معاف کر دے گی کیونکہ یہ ان کے لیے بالکل نیا ہے۔ اس مقصد کے لیے ہمیں اپنی سوچ کو مزید لچکدار بنانا ہوگا اور تمام کمیونسٹ یا روسی ”اوبلومویزم“ اور اس کے علاوہ بہت کچھ ترک کرنا ہوگا“۔

موجودہ دور میں اس کی مطابقت

بلاشبہ، اوبلومویزم صرف روس تک محدود نہیں ہے۔ اور اسی لیے گونچاروف کا ناول تمام زبانوں میں ایک کلاسک ہے۔

ہم آج بھی زندگی کے تمام شعبوں میں، بشمول انقلابی تحریک، ”اوبلوموف“ دیکھ سکتے ہیں۔ ہمیں انقلابی پارٹی سے قدامت پسند، تنگ نظر، چھوٹے گروہ کی روٹین اور تاخیر کو ختم کرنے میں لینن کی طرح ناقابل تسخیر ہونا چاہیے۔ انقلابی کمیونسٹوں میں بے حسی اور عدم فعالیت ناقابل قبول ہے۔

ہمیں لینن کی تجویز پر توجہ دینی چاہئے:

”میں اپنی پارٹی کے کچھ ساتھیوں کو (بلکہ بہت ساروں کو) ایک کمرے میں بند کر کے اوبلوموف کو بار بار پڑھانا چاہوں گا یہاں تک کہ وہ گھٹنوں کے بل بیٹھ جائیں اور کہیں: ”ہم اسے اور برداشت نہیں کر سکتے“۔ پھر ان کا ایک امتحان لوں کہ ”کیا آپ نے ابلومویزم کے جوہر کو سمجھا ہے؟ کیا آپ نے محسوس کیا کہ یہ آپ میں بھی موجود ہے؟ کیا آپ نے آخرکار اس بیماری سے نجات کا عزم کر لیا ہے؟“

لیکن اوبلوموف کو پڑھنے کی واحد وجہ لینن کی نصیحت نہیں ہے۔ یہ ناول مزاح، فلسفہ اور جذبات سے بھرپور ہے۔ لینن نے اوبلوموف کو ثقافتی حوالے سے استعمال کرتے ہوئے ایک سیاسی نکتہ پیش کیا، جسے اس وقت زیادہ تر روسی سمجھ سکتے تھے۔ لیکن اس کردار کی یہ یک طرفہ تصویر کشی سے کتاب کے مواد کی گہرائی اور پیچیدگی کو پوری طرح نہیں سمجھا جا سکتا۔

اس لیے تاخیر نہ کریں۔ فیصلہ کن ہوں اور آج ہی ابلوموف پڑھیں!

Comments are closed.