|رپورٹ: احسان مہمند، ولید خان|
پاکستان میں پی آئی اے کی حالیہ نجکاری نے سرمایہ دار طبقے کی محنت کش طبقے پر مسلط کردہ جنگ میں ایک نئے موڑ کا اعلان کر دیا ہے۔ اس نجکاری کو آئی ایم ایف کے چوبیسویں پروگرام کے احکامات پر عمل درآمد اور سرمایہ داروں کی لوٹ میں اضافے کے لیے ایک اہم مرحلے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ 135 ارب روپیہ کی بھونڈی مالیت، جس کی حقیقت آگے چل کر ہم بیان کریں گے اور اس سے زیادہ بھونڈے نیلامی طریقہ کار کے بعد ادارہ درحقیقت تقریباً مفت میں عارف حبیب کنسورشیئم کے حوالے کیا جا چکا ہے۔ اس کے فوری بعد قوم کو اس کامیاب لوٹ کھسوٹ کی مبارک باد دینے کے ساتھ نئی نجکاریوں کا مسلسل اعلان بھی کیا جا رہا ہے جس میں واپڈا کی 9 بجلی تقسیم کار کمپنیاں، اسٹیٹ لائف، ہاؤس بلڈنگ فنانس کارپوریشن، زرعی ترقیاتی بینک وغیرہ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ پاکستان منرلز ڈویلپمنٹ کارپوریشن، سیندک میٹل لمیٹڈ اور پوسٹل لائف انشورنس کو بھی نجکاری لسٹ میں ڈالنے کا عندیہ دے دیا گیا ہے۔ کل ملا کر 25 اداروں کی نجکاری کو فاسٹ ٹریک کر دیا گیا ہے جس کے بعد مزید عوامی اداروں جیسے پی ایس او، سوئی نادرن گیس، سوئی سدرن گیس، ریلوے، پوسٹ، اسٹیل ملز کی قیمتی اراضی وغیرہ کو بھی بیچا جائے گا۔
اس کے ساتھ شعبہ صحت اور تعلیم کی تیز ترین نجکاری بھی جاری ہے جس کے تحت ہزاروں بنیادی ہیلتھ یونٹ، کئی تحصیل ہسپتال وغیرہ ٹھیکوں پر دیے جا چکے ہیں، ہزاروں سرکاری سکول ٹھیکے پر دیے جا چکے ہیں اور دونوں شعبہ جات میں مزید نجکاری کی تیاریاں بھی جاری ہیں۔ نجکاری اور آؤٹ سورسنگ کے اس پورے عمل میں اب تک دسیوں ہزاروں محنت کشوں کے روزگار کا خاتمہ ہو چکا ہے اور یہ سلسلہ چلتا رہے گا۔ دن کی روشنی میں اس ننگی ڈاکہ زنی کو ملک و قوم کی ترقی کی ضمانت بتایا جا رہا ہے جبکہ اسی ملک کے محنت کشوں، کسانوں، نوجوانوں اور عوام کو ان نام نہاد وسیع تر مفاد میں کیے گئے فیصلوں میں نہ رائے دینے کا حق ہے اور نہ ہی ان سے کچھ پوچھنے کی زحمت کی گئی ہے۔
پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا ڈاکہ
کوئی بھی عوامی ادارہ اپنے انفراسٹرکچر اور سماجی، معاشی، سیاسی اور ثقافتی کردار کی بنیاد پر انمول اور نادر ہوتا ہے۔ پی آئی اے کے پورے ملک کے طول و عرض میں اثاثہ جات پھیلے ہوئے ہیں جن میں زمینیں، آفس، عمارات، فلائٹ اور کیبن کریو ٹریننگ سنٹرز، دیگر انفراسٹرکچر، کارگو اور کچن سہولیات، انجینئرنگ اور تکنیکی دیکھ بھال کے شعبہ جات وغیرہ شامل ہیں۔ پھر انیس بیرونی ممالک میں دیگر اثاثہ جات ہیں جن میں نیو یارک کا تاریخی ہوٹل روزویلٹ بھی شامل ہے جس کی صرف زمین کی لاگت 1 ارب ڈالر کے قریب ہے۔ 97 ممالک کے ساتھ ائر سروس معاہدے ہیں اور 180 مقامات پر لینڈنگ رائٹس ہیں۔ پورے ملک میں گلگت کی دشوار گزار پہاڑیوں سے لے کر بلوچستان کے دور افتادہ مقامات تک سفری سہولیات کا جال ہے۔ پاکستان کا محنت کش طبقہ اس ائرلائن پر مشرق وسطیٰ، یورپ اور دیگر ممالک میں سفر کرتا ہے۔ ائرلائن کا تربیت یافتہ عملہ موجود ہے، دہائیوں کی ادارہ جاتی مہارت اور یادداشت ہے۔ ادارے کے محنت کشوں کی دہائیوں کی محنت اور عوام کے ٹیکسوں اور سفری اخراجات کے نتیجے میں آج تک یہ ادارہ فعال ہے۔ ان سب کا سرسری احاطہ بھی یہ سمجھنے کے لیے کافی ہے کہ اس قسم کے ادارے کی قیمت نہیں لگائی جا سکتی اور نہ ہی کسی سرمایہ دار میں اتنی ہڈی ہے کہ وہ اسے خرید سکے۔
قومی ائرلائن کو بیچنے کا سب سے بڑا جواز یہ پیش کیا گیا ہے کہ ادارہ منافع بخش نہیں ہے، 800 ارب روپے کے قرضہ جات ہیں اور ریاست ادارہ چلانے کے قابل نہیں ہے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ جو ریاست اپنے عوامی فلاح و بہبود کے ادارے نہیں چلا سکتی سب سے پہلے تو اس کی نجکاری کا آغاز یہ نام نہاد پارلیمنٹ اور افسر شاہی بیچ کر کرنا چاہیے جو اپنے آغاز سے ایک ناسور بن کر عوام کی ہڈیوں سے اپنی عیاشیوں کے لیے خون چوس رہے ہیں۔ پھر عوامی ادارے کا کام عوام کو سستی اور معیاری سہولیات فراہم کرنا ہے۔ اگر مقصد عوام سے بے تحاشہ ٹیکس لینے کے بعد عوامی ادارے سے منافع خوری بھی ہے تو پھر ریاست کو اپنا نام تبدیل کر کے پرائیویٹ لمیٹڈ رکھ لینا چاہیے۔ جہاں تک قرضہ جات کا تعلق ہے تو کئی دہائیوں سے آئی ایم ایف کے ایما پر حکمرانوں کی سامراج نواز پالیسی سازی اور پی آئی اے پر مسلط فوجی و سول ریاستی افسر شاہی، سرمایہ دار ایڈوائزرز، وزراء اور دیگر کی دہائیوں پر مبنی طویل لوٹ مار کا اظہار ہے۔ پی آئی اے کی تباہی کا آغاز 1993-94ء میں اوپن سکائی پالیسی کے اجراء سے ہو گیا تھا جب عالمی ائر لائنز، جن میں خاص طور پر قومی ائرلائن کے ہاتھوں سے کھڑی کردہ مشرق وسطیٰ کی ائرلائنز قابل ذکر ہیں، کو کھلم کھلا اندرون ملک انتہائی سازگار لینڈنگ اور آپریشن اختیارات دے دیے گئے۔ صرف 2015ء میں 108 ائرلائنز کو یہ حق دیا گیا۔ مشرق وسطیٰ اور ترک حکمرانوں کی کاسہ لیسی، ان کی ائرلائنز کی مراعتوں میں اضافوں اور پی آئی اے کی بربادی کا باقاعدہ ایک گراف بنایا جا سکتا ہے! پھر ائرلائن میں ایک طرف سرمایہ کاری کو مسلسل کم کیا جاتا رہا اور دوسری طرف نوازے جانے والے چیف ایگزیکٹیوز، ڈائریکٹرز، اسٹیشن چیف، یونین اشرافیہ وغیرہ کی خوفناک لوٹ مار اور مراعات جاری رہیں۔ ہمیشہ یہ الزام لگایا گیا کہ سب سے بڑا خرچہ تنخواہیں ہیں۔ اگر ائرلائن اسٹاف کی بھاری اکثریت (تقریباً 80 فیصد) چھوٹا عملہ ہے اور ان کی اجرتوں / پینشنوں کا خرچہ کل خرچے کا صرف 18-22 فیصد ہے تو یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ مراعات کون لے رہا ہے اور ائرلائن کو لوٹ کر عیاشی کون کر رہا ہے۔ دانستہ طور پر معیار اور مقدار کو سولی پر چڑھا کر مقامی اور انٹرنیشنل مسافروں کو نجی ائرلائنز پر منتقل ہونے پر مجبور کیا جاتا رہا۔ آپریشنل جہازوں کی تعداد 34 سے کم ہو کر تقریباً 18 رہ گئی ہے۔ اس لوٹ مار میں مقامی نجی ائزلائنز کے اجراء نے مزید اضافہ کر دیا۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ قومی ائرلائن کو لوٹ کھسوٹ کر اس میں سے نجی ائرلائن بنانے والے سیاست دانوں کی آج اپنی ائرلائنز انتہائی منافع بخش ہیں۔ اس سارے عمل میں بابو لوگ اپنے فوجی و سیاسی آقاؤں کے ساتھ مل کر تمام فیصلے کرتے رہے جن میں ادارے کے محنت کشوں کی کوئی شمولیت اور کوئی رائے شامل نہیں تھی۔ یہاں اتنی گنجائش موجود نہیں کہ ہر بڑی کرپشن اور لوٹ مار کا احاطہ کیا جائے لیکن سرسری نظر ڈال کر بھی اندازہ ہو جاتا ہے کہ ائرلائن کو لوٹنے، تباہ و برباد کرنے اور اس کی بوٹیاں نوچنے میں حکمران طبقہ اور ریاستی افسر شاہی سرفہرست ہے۔
اگر موجودہ لوٹ سیل کی بات کی جائے تو تمام تر شفافیت کے دعوؤں کے باوجود یہ پاکستانی عوام پر تاریخ کا بدترین ڈاکہ ہے۔ پہلے ایک ہولڈنگ کمپنی بنائی گئی جس میں 650 ارب روپے کا قرضہ، 14.8 ارب روپیہ کی پینشن کی ذمہ داری اور کچھ اثاثہ جات ڈال دیے گئے۔ دوسری ائرلائن کمپنی رہ گئی جس میں ائرلائن کے جہاز اور پرواز سے متعلق تمام اثاثہ جات ہیں۔ اس کا 75 فیصد حصہ 135 ارب روپیہ میں بیچا گیا جس میں سے 10 ارب روپیہ یعنی 7.5 فیصد کی ادائیگی ہو گی اور بقایا 92.5 فیصد اگلے پانچ سالوں میں عارف حبیب کنسورشیئم (اس میں فاطمہ فرٹیلائزر، لیک سٹی ہولڈنگز، سٹی سکولز گروپ اور فوجی فاؤنڈیشن بھی شامل ہے) نے ائرلائن میں سرمایہ کاری کا ”وعدہ“ کیا ہے۔ بقایا 25 فیصد حصص بھی عارف حبیب کنسورشئیم کو 12 فیصد پریمیم پر دیا جائے گا جس کی ادائیگی ایک سال میں کرنا ہو گی ہے۔ کنسورشیئم کو 15 سال کی ٹیکس چھوٹ دے دی گئی ہے۔ جو 10 ارب روپیہ حکومت کو ملے گا اس میں سے بڑا حصہ نجکاری میں معاون بینکوں اور کنسلٹنسی فرموں کو کھلا دیا جائے گا۔ دوسری طرف ائرلائن کے اکاؤنٹ میں ہی اس وقت 11.5 ارب روپیہ منافع پڑا ہوا ہے جو ائرلائن کے ساتھ کنسورشیئم کو چلا گیا ہے۔
اگر ساری بات کو سمیٹا جائے تو ہولڈنگ کمپنی میں پڑے ائرلائن کے سابقہ قرضہ جات ریاست کی ذمہ داری ہیں یعنی پاکستانی عوام مہنگے بلوں، ٹیکسوں اور دیگر ذرائع سے کئی سالوں تک حکمران طبقے کی لوٹ مار کا بوجھ اٹھائے گی۔ دوسری طرف کنسورشیئم نے درحقیقت ایک روپیہ ادائیگی کیے بغیر ائرلائن لے لی ہے جس میں پہلے دن 1.1 ارب روپیہ کا منافع بھی شامل ہے! رہ گئی بات 25 فیصد حصص کی جس کی مالیت 45 ارب روپیہ تک بتائی جا رہی ہے تو ابھی ایک سال پڑا ہے۔ ہو سکتا ہے چائے کے ساتھ جلیبی کی طرح یہ حصص ویسے ہی پیش کر دیے جائیں! پاکستان کے محنت کش طبقے کو یاد رہے گا کہ اس لوٹ مار میں ریاست کے تمام مسلح، عدالتی اور انتظامی ادارے، سرمایہ دار اور رائج الوقت سیاسی پارٹیاں شامل ہیں۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ اس تاریخی لوٹ مار میں ائرلائن کی تمام ٹریڈ یونینز کی کرپٹ، منافق اور دھوکہ باز قیادت وفادار دلال اور معاون کا کردار ادا کرتی رہی ہے جس میں سرفہرست نام پاکستان پیپلز پارٹی سے منسلک پیپلز یونٹی کا ہے جو طویل عرصے سے ادارے کی سی بی اے یونین بھی ہے۔ کسی لمحہ اور موقع پر ان یونینز کی جانب سے ائرلائن کے محنت کشوں کو منظم اور متحرک کرنے کی کوشش نہیں کی گئی بلکہ ہر دور میں ہر لوٹ کھسوٹ میں یہ اپنا حصہ وصولی کرتی رہی ہیں۔
کیا ایسا پہلی بار ہوا ہے؟
نہیں۔ پاکستان میں نجکاری اور عوامی اداروں کی لوٹ سیل کی پالیسی دہائیوں پرانی ہے۔ 1960ء کی دہائی میں جنرل ایوب خان کی آمریت میں کئی عوامی اداروں اور کمپنیوں کی بندر بانٹ ہوئی جو ایک الگ داستان ہے۔ موجودہ نجکاری کی پالیسی آئی ایم ایف کے ایما پر پہلی مرتبہ 1989ء میں پیپلز پارٹی کی حکومت لے کر آئی جو آج تک جاری ہے۔ جمہوریت ہو یا آمریت، سیاسی پارٹی کوئی بھی ہو، اقتدار پر براجمان سب نے بلا رکاوٹ اس لوٹ مار کو آگے بڑھایا ہے۔ اونے پونے داموں یا اکثر مفت میں دیے جانے والے اثاثہ جات میں بینک، ریفائنریاں، توانائی، کیمیکل، ٹیلی کام، صنعتی یونٹ، سیمنٹ فیکٹریاں، انجینئرنگ کمپنیاں، کھاد فیکٹریاں، گھی فیکٹریاں، معدنیات، چاول فیکٹریاں، روٹی پلانٹ، ٹیکسٹائل، اخبارات، ہوٹل، پراپرٹیاں وغیرہ شامل ہیں۔ 1991-2024ء تک یہ 182 ریاستی اثاثہ جات ہیں۔ ان میں سے کچھ کے حصص بیچے گئے تھے جن کو اب پورا بیچنے کی تیاری کی جار ہی ہے۔ ریاست کے اپنے اعداد و شمار کے مطابق ان میں سے 130 اثاثہ جات بعد میں بند ہو گئے جن کی زمینوں کو پراپرٹی سٹہ بازی کے لیے استعمال کر کے سرمایہ کاروں نے کھربوں روپیہ کمایا۔ ان کے ملازمین بیروزگار ہو کر تباہ و برباد ہوئے، ان کے خاندان ذلیل و خوار ہوئے اور نجی شعبے نے اس خلاء کو پُر کرتے ہوئے عوام کو لوٹنے کا ایسا بازار گرم کیا جو اب تک جاری ہے۔ لہٰذا یہ سمجھنا زیادہ مشکل نہیں ہے کہ پی آئی اے کے ملازمین اور اثاثہ جات کا مستقبل کیا ہے۔
جدوجہد کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں!
ریاست عوامی اثاثہ جات اور ادارے بیچ رہی ہے یعنی اپنی کمائی کے ذرائع بیچ رہی ہے۔ ایک طرف عوام کے لیے روزگار کے دروازے مکمل طور پر بند ہونے جا رہے ہیں تو دوسری طرف ریاستی ریونیو پیدا کرنے کے لیے ٹیکسوں اور لوٹ مار کا خوفناک طوفان افق پر منڈلا رہا ہے۔ اگر یہ عمل جاری رہتا ہے تو اتنی بربادی ہو گی کہ پچھلی ڈیڑھ دہائی کی تکالیف عوام بھول جائیں گے! اس کی روک تھام کا ایک ہی طریقہ کار ہے کہ محنت کشوں کو فوری طور پر نجکاری پالیسی، نجکاری کمیشن اور وزارت کے خلاف مل کر بھرپور مزاحمت کرنی ہو گی۔
حکمران طبقے نے پی آئی اے کی نجکاری کر کے اور فوری طور پر نئی نجکاری کی طرف بڑھتے ہوئے ثابت کر دیا ہے کہ اب وہ کسی صورت پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ہیں۔ اس نئے عہد کے تقاضوں کو سمجھتے ہوئے محنت کش طبقے کو بھی جنگی بنیادوں پر متحرک ہونا ہو گا۔ پرانی ٹریڈ یونین قیادت جھک چکی ہے، بک چکی ہے اور اس کا صفایا کر کے نئی نوجوان لڑاکا قیادت کو سامنے لا کر ہی اس جدوجہد کو آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔ محنت کشوں کو اپنی ٹریڈ یونینز کو فعال کرنا ہو گا، بین الادارہ جاتی جڑت اور اتحاد بنانا ہو گا اور ایک بھرپور نجکاری مخالف تحریک لانچ کر کے ملک گیر عام ہڑتال کی طرف بڑھنا ہو گا۔
اس طرح نجی شعبہ میں غیر منظم پسے ہوئے محنت کشوں اور نوجوان طلبہ میں بھی ہمت و حوصلہ پیدا ہو گا کہ وہ اپنے حقوق کے لیے متحرک ہوں اور عوامی اداروں کے منظم محنت کشوں کے ساتھ مل کر جدوجہد کو اور وسعت دیں۔ اب جدوجہد ایک دو یا چار اداروں کی بات نہیں رہی۔ اس طبقاتی جنگ میں طبقاتی بنیادوں اور کمیونسٹ مزدور نظریات پر منظم ہو کر ہی اس بھیانک سماجی اور معاشی یلغار کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔ انقلابی کمیونسٹ پارٹی نجکاری پالیسی کی شدید مذمت کرتی ہے اور ہمیشہ کی طرح محنت کش طبقے کے ساتھ ہر محاذ پر شانہ بشانہ کھڑے ہونے کا اعلان کرتی ہے۔






















In defence of Marxism!
Marxist Archives
Progressive Youth Alliance