|رپورٹ: انقلابی کمیونسٹ پارٹی، ”آزاد“ کشمیر|
”آزاد“ کشمیر میں ERRA (Earthquake Reconstruction and Rehabilitation Authority) اور SERRA (State Earthquake Reconstruction and Rehabilitation Authority) کے ملازمین نے اپنے بنیادی حقوق کے حصول کے لیے قلم چھوڑ ہڑتال کا آغاز کر دیا ہے۔ اپنے جائز مطالبات کی منظوری کے لیے ملازمین نے طویل وقت انتظار کرنے کے بعد ہڑتال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ملازمین جدوجہد کے ذریعے اپنے مسائل کو حل کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔ ملازمین کا کہنا ہے کہ یہ احتجاج محض وقتی ردِعمل نہیں بلکہ مسلسل نظراندازی اور ناانصافی کے خلاف ایک مضبوط آواز بن چکا ہے۔
گزشتہ چار ماہ سے تنخواہوں کی عدم ادائیگی نے ان کی زندگی کو شدید مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔ گھروں کے چولہے ٹھنڈے پڑ چکے ہیں، بچوں کی تعلیم اور بنیادی ضروریات پوری کرنا مشکل ہو چکا ہے، جبکہ روزمرہ اخراجات اور بڑھتی ہوئی مہنگائی نے انہیں شدید ذہنی دباؤ میں مبتلا کر دیا ہے۔ کئی ملازمین قرض لینے پر مجبور ہو چکے ہیں اور بعض کے لیے گھر کا نظام چلانا ناممکن ہوتا جا رہا ہے۔ ادارے کے محنت کشوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنی زندگی، محنت اور صلاحیتیں اس ادارے کے لیے وقف کر دیں، قدرتی آفات اور ہنگامی حالات میں دن رات خدمات انجام دیں، مگر آج وہ خود کو بے یار و مددگار محسوس کر رہے ہیں۔ حکومت کی مسلسل خاموشی ان کے مسائل میں مزید اضافہ کر رہی ہے۔
مظاہرین کا بنیادی مطالبہ یہ ہے کہ انہیں SDMA (State Disaster Management Authority) میں ضم کر کے مستقل کیا جائے تاکہ ان کے روزگار کو تحفظ حاصل ہو اور وہ مستقبل کی غیر یقینی صورتحال سے نکل سکیں۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ فوری طور پر بقایا تنخواہوں کی مکمل ادائیگی اور سروس اسٹرکچر کی واضح پالیسی کا بھی مطالبہ کر رہے ہیں۔
ملازمین نے اپنے احتجاج کو مزید مؤثر بنانے کے لیے قلم چھوڑ ہڑتال کے ساتھ بھوک ہڑتال کا اعلان بھی کر دیا ہے، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ وہ اپنے حق کے حصول کے لیے کس قدر سنجیدہ ہیں اور انتہائی اقدامات اٹھانے پر مجبور ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جب تک حکومت کی جانب سے باضابطہ نوٹیفیکیشن جاری نہیں کیا جاتا اور ان کے مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے، ان کا احتجاج جاری رہے گا۔
مزید برآں، ملازمین نے تنبیہ کی ہے کہ اگر ان کے مسائل حل نہ کیے گئے تو وہ اپنے احتجاج کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے سڑکوں پر دھرنے دینے اور دیگر سخت اقدامات کرنے پر مجبور ہوں گے، جس کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر عائد ہو گی۔
ملازمین نے ”آزاد“ کشمیر حکومت، متعلقہ حکام اور اعلیٰ قیادت سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے مسائل کو سنجیدہ لیتے ہوئے فوری اور ٹھوس اقدامات کریں، تاکہ ان کے گھروں میں دوبارہ خوشیاں لوٹ سکیں، ان کے بچوں کا مستقبل محفوظ ہو سکے اور وہ سکون کے ساتھ اپنی پیشہ وارانہ خدمات جاری رکھ سکیں۔
انقلابی کمیونسٹ پارٹی کے وفد نے احتجاجی دھرنے میں شرکت کرتے ہوئے ملازمین سے اظہار یکجہتی کیا اور مکمل حمایت کی یقین دہانی کروائی اور محنت کشوں کی جدوجہد میں شانہ بشانہ چلنے کے عزم کا اظہار کیا۔ ملازمین نے مزدوروں کا اخبار ”کمیونسٹ“ بھی خریدا۔ ہم ”آزاد“ کشمیر کے تمام اداروں کے ملازمین سے بھی اپیل کرتے ہیں کہ وہ ان ملازمین کی جدوجہد کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے ان کے ساتھ شامل ہوں کیونکہ باقی تمام اداروں کے ملازمین کے مسائل کی ذمہ دار بھی وہی حکومت ہے جو ان ملازمین کے مسائل کی ذمہ دار ہے اور ان مسائل کو حل کرنے کی جدوجہد میں محنت کش طبقہ ہی ایک دوسرے کی طاقت ہے۔ اسی طاقت کو منظم کر کے ہی تمام ملازمین حکومت کو مطالبات کی منظوری پر مجبور کر سکتے ہیں اور اپنے مسائل کو حل کر سکتے ہیں۔

















In defence of Marxism!
Marxist Archives
Progressive Youth Alliance