کارل مارکس کی واپسی اور لبرلز کا اضطراب

|تحریر: پارس جان|

گزشتہ ہفتے مورخہ 6 جولائی بروز بدھ پاکستان کے سب سے بڑے بورژوا اردو اخبار روزنامہ جنگ میں ”ایاز امیر کا خواب اور چے گویرا“ کے عنوان سے معروف کالم نگار اور سامراجی نظام اور ان کے مقامی حواریوں کے نیاز مند وجاہت مسعود کا ایک کالم شائع ہوا جس کے بعد سے علمی و سیاسی حلقوں اور بالخصوص سوشل میڈیا پر لبرلز اور سوشلسٹوں یا ترقی پسندوں کے مابین شدید بحث مباحثے نے ایک مناظراتی ماحول بنا دیا ہے، جس میں دونوں اطراف سے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے دیکھنے میں آ رہے ہیں۔ مذکورہ بالا مضمون میں مصنف نے جہاں ایک طرف مارکسی فکر، تصورِ انقلاب اور سابقہ سوشلسٹ ممالک کی ناکامیوں کا مضحکہ اڑایا ہے، وہیں مقبول ترین سوشلسٹ قائد چے گویرا پر بہتان تراشی اور بے بنیاد الزامات کی بھی انتہا کر چھوڑی ہے۔ غرضیکہ کالم کی ایک ایک لائن تعصب، کم ظرفی اور لیچڑ پن سے لبریز ہے۔ یہ کوئی اتفاقی یا انفرادی کاوش نہیں ہے بلکہ موصوف کا یہ وطیرہ رہا ہے کہ وہ سوشلسٹ نظریات اور قائدین کی کردار کشی کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ اور انکی مردہ ضمیری کا عالم یہ ہے کہ دیدہ دلیری سے بے دریغ جھوٹے الزامات لگاتے ہیں اور ان الزامات کا بھانڈا پھوٹ جانے کے بعد بھی آج تک کبھی معذرت خواہ نہیں ہوئے۔ ان کے انہی اوصاف کی بنا پر ہمیں مذکورہ بالا کالم سے قطعی طور پر کوئی حیرت نہیں ہوئی۔ موصوف اس سے قبل کیوبا کے سوشلسٹ رہنما فیڈل کاسترو پر 33 ہزار خواتین سے جنسی تعلقات کا الزام بھی عائد کر چکے ہیں۔

اس کالم کی اشاعت کے بعد سوشلسٹ حلقوں اور چے گویرا سے محبت کرنے والے سیاسی کارکنوں کا سوشل میڈیا پر ردعمل عین فطری تھا، جسے اب ان کی شخصیت پرستی یا عقیدہ پروری قرار دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ لیکن تنقید اور اختلافرائے کی وکالت کا ناٹک کرنے والے ان لبرل خواتین و حضرات کی ہٹ دھرمی اور تنگ نظری اس وقت مزید عیاں ہو گئی جب سوشلسٹوں کے اٹھائے گئے سنجیدہ سوالات کے جواب میں نامور لبرل دانشوروں نے کمیونزم کے خلاف اس غلیظ پروپیگنڈا مہم کو کم کرنے کی بجائے مزید تیز کر دیا۔ کچھ کامریڈز نے ہم سے یہ معصومانہ سوال بھی کیا ہے کہ آخر ان بظاہر ”اعلیٰ“ تعلیم یافتہ اور مہذب لبرل صاحبان کو ہو کیا گیا ہے کہ یہ اس قدر تند و ترش حملے مسلسل اور لگاتار کیے جا رہے ہیں۔ دراصل یہ محض پاکستانی لبرلز کا طرزِ عمل نہیں ہے بلکہ تاریخ کے اس مخصوص عہد میں، جسے بجا طور پر ”نیو لبرلزم کی موت“ کا عہد قرار دیا جا رہا ہے، دنیا بھر کے لبرلز کا المیہ ہے کہ وہ سوشلسٹ نظریات کی مسلسل بڑھتی ہوئی مقبولیت سے خوفزدہ ہیں۔ سرمایہ داری اپنی تاریخ کے بدترین بحران کی طرف لڑھک رہی ہے۔ واشنگٹن اور لندن جو ان لبرلز کے قبلے اور کعبے ہیں، وہاں خطرے کی گھنٹیاں بج رہی ہیں، معاشی بحران نے شدید سیاسی و سماجی عدم استحکام کی راہ ہموار کر دی ہے۔ امریکی سامراج کے زوال نے ان لبرلز کی نیندیں حرام کی ہوئی ہیں۔ حکمران اس مرتے ہوئے نظام کو مصنوعی سانسیں فراہم کرنے کے لیے محنت کش عوام کے خون کا آخری قطرہ تک نچوڑ لینا چاہتے ہیں۔ محنت کش طبقہ ان وحشیانہ حملوں کے خلاف مزاحمت کی تیاری کر رہا ہے۔ عوام ماضی کی عظیم انقلابی روایات کی طرف رجوع کر رہے ہیں۔ سری لنکا کے حالیہ واقعات اس طویل فلم کا محض ٹریلر ہیں جو دنیائے سیاست کی سکرین پر ریلیز ہونے والی ہے۔ جب محنت کش لاکھوں کی تعداد میں چے گویرا کی تصاویر اور درانتی ہتھوڑے والے سرخ پرچم لے کر نکلتے ہیں تو وہ ہتھوڑے ان لبرلز کی روحوں اور دماغوں پر برستے ہیں اور انہیں مزید اپاہج کر دیتے ہیں۔ یہ لبرلز جو کہ طبقاتی تضادات کے منکر اور تاریخ کے خاتمے کے دعویدار ہیں، عوام کی اس سرکشی کا ذمہ دار مارکس اور اس کے نظریات کو سمجھتے ہیں۔ ان کے نزدیک اگر لینن، ٹراٹسکی، ماؤ اور چے جیسے لوگ نہ ہوں تو عوام کے دماغ میں سرکشی کا خیال تک نہ آئے اور وہ ہمیشہ اطاعت اور کفایت سے کام لیتے ہوئے اپنی غربت، محرومی اور افلاس کو اپنا مقدر سمجھ کر قبول کر لیں۔ یہ در حقیقت ان لبرلز کی ان غریب اور مفلوک الحال محنت کشوں اور مظلوموں سے نفرت ہی ہے جو انکی مارکس اور چے گویرا سے شدید نفرت اور کراہت کی شکل میں اپنا اظہار کرتی ہے۔ اپنے طرزِ فکر کے یکطرفہ پن کے باعث یہ تمام مبینہ دانشور یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ مارکس اور لینن کی وجہ سے عوامی بغاوتیں جنم نہیں لیتیں بلکہ عوامی بغاوتوں سے لینن اور چے جیسے لیڈر پیدا ہوتے ہیں۔ جب تک ظالم اور مظلوم متحارب طبقات کی شکل میں موجود ہیں طبقاتی کشمکش بھی کسی نہ کسی شکل میں ہمیشہ موجود رہے گی۔ چے گویرا نے خود اس سوال کا جواب ان الفاظ میں دیا تھا۔ ”میں نجات دہندہ نہیں ہوں، کوئی مسیحا یا نجات دہندہ نہیں ہوتا، عوام اپنی لڑائی خود لڑتے ہیں اور خود نجات حاصل کرتے ہیں۔“

TITLE CHE BOOKLET for Website

انقلاب، تشدد اور اصلاح پسندی

وجاہت مسعود اور دیگر لبرلز جس لفظ اور تصور سے سب سے زیادہ خائف ہیں، وہ انقلاب ہے۔ اور یہ لوگ ہمیشہ کمیونسٹوں کو خون کے پیاسے درندے بنا کر پیش کرتے ہیں۔ وجاہت مسعود نے اپنی روایتی بد دیانتی کا ثبوت دیتے ہوئے کمیونسٹوں کی طرف سے سوویت یونین اور دیگر واقعات میں مارے گئے لوگوں کے اعداد وشمار کو تو بہت بڑھا چڑھا کر پیش کیا ہے مگر سامراجیوں کی طرف سے بارہا کی گئی مظلوم اقوام اور غریب عوام کی نسل کشی پر ہمیشہ کی طرح چپ سادھ لی ہے۔ تاریخ گواہ ہے غریب عوام نے ہمیشہ اپنی اور اپنی نسلوں کی بقا کے لیے ہی ہتھیار اٹھائے ہیں۔ ہم مارکس وادی بھی آج کے عہد میں مسلح جدوجہد کی حمایت نہیں کرتے، بلکہ چین اور کیوبا میں انقلابی جدوجہد کے طریقہ کار پر بھی تنقید کرتے ہیں مگر اس کا ہر گز مطلب یہ نہیں کہ تاریخی عوامل کو ہی یکسر نظر انداز کر دیا جائے اور ظالم اور مظلوم میں تمیز سے ہی انکار کر دیا جائے۔ ہم سوال کرتے ہیں کہ پہلی جنگ عظیم میں دو کروڑ سے زیادہ لوگ قتل ہوئے، ان کا قاتل کون ہے؟ سوشلسٹ تو اس وقت تک کسی بھی ملک میں اقتدار میں آئے ہی نہیں تھے۔ بلکہ جنگ کے خاتمے میں روس کے سوشلسٹ انقلاب نے کلیدی کردار ادا کیا تھا۔ دوسری جنگ عظیم بھی پہلی کی طرح سامراجیوں کی منڈیوں پر قبضے کی ہوس کا نتیجہ تھی جس میں پانچ کروڑ سے زیادہ لوگ لقمہ اجل بنے۔ اس کے بعد بھی مشرق وسطیٰ، افریقہ، اور لاطینی امریکہ میں قتل و غارت کی جو داستانیں رقم کی گئیں، وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ کیا برصغیر کا بٹوارا برطانوی سامراج کی ”تقسیم کرو اور حکومت کرو“ کی وحشیانہ پالیسی کا منطقی نتیجہ نہیں تھا جس میں 27 لاکھ سے زیادہ لوگ قربان کر دیئے گئے؟ ہمارے لبرل دوست نے انتہائی مکاری سے فاشزم اور سوشلزم کو ایک ہی سکے کے دو رخ قرار دے دیا ہے، مگر وہ شاید بھول گئے کہ ہٹلر نے نجی ملکیت کا خاتمہ نہیں کیا تھا بلکہ اس وقت جرمنی میں سرمایہ دارانہ جبر کو قائم رکھنے کا واحد ممکنہ سیاسی طریقہ فاشزم ہی تھا جسے سرمایہ دار طبقے کی باقاعدہ پشت پناہی حاصل تھی اور یہ سوویت یونین ہی تھا جس نے ہٹلر کو فیصلہ کن شکست دی تھی۔

مارکس وادی اور کمیونسٹ بھی انقلاب فرانس کو انسانی تاریخ کا سنہرا باب قرار دیتے ہیں۔ بلاشبہ اس عظیم انقلاب کے بغیر سماج کو ان تضادات کے چنگل سے نکال کر انسانی فلاح اور اجتماعی تعمیر کے راستے پر گامزن کرنا ناممکن ہوتا۔ لگ بھگ ڈیڑھ ہزار سال تک جاگیردارانہ جبر کی جکڑ کی زنجیریں محض عظیم فلسفیوں کی تنقید اور سائنسی پیش رفتوں کے بلبوتے پر نہیں ٹوٹ سکتی تھیں بلکہ اس کے لیے لاکھوں کسانوں اور نومولود شہری پرولتاریہ کی عظیم سیاسی تحریکیں، بغاوتیں اور انقلابات ناگزیر تھے۔

لبرلز کا بیانیہ شروع سے آخر تک تضادات سے بھرا ہوا ہے۔ مثال کے طور پر مذکورہ کالم میں وجاہت مسعود لکھتے ہیں کہ ”انقلاب وہ نامسعود اصطلاح ہے جو نئی دنیا کے خواب سے شروع ہو کر عقوبت خانوں کے اندھیروں تک پہنچتی ہے۔“ جبکہ اس کالم میں موصوف نے خود یورپ میں فکر اور معاشرے کی ترقی میں صنعتی انقلاب اور بالخصوص انقلاب فرانس کے اہم کردار پر روشنی ڈالی ہے۔ مارکس وادی اور کمیونسٹ بھی انقلاب فرانس کو انسانی تاریخ کا سنہرا باب قرار دیتے ہیں۔ بلاشبہ اس عظیم انقلاب کے بغیر سماج کو ان تضادات کے چنگل سے نکال کر انسانی فلاح اور اجتماعی تعمیر کے راستے پر گامزن کرنا ناممکن ہوتا۔ لگ بھگ ڈیڑھ ہزار سال تک جاگیردارانہ جبر کی جکڑ کی زنجیریں محض عظیم فلسفیوں کی تنقید اور سائنسی پیش رفتوں کے بلبوتے پر نہیں ٹوٹ سکتی تھیں بلکہ اس کے لیے لاکھوں کسانوں اور نومولود شہری پرولتاریہ کی عظیم سیاسی تحریکیں، بغاوتیں اور انقلابات ناگزیر تھے۔ یہ درست ہے کہ فرانسس بیکن، جان لاک، گلیلیو، روسو اور والٹیئر جیسے عظیم فلسفیوں اور سائنس دانوں کے انقلابی تصورات نے ان اہم تاریخی واقعات میں مشعل برداری کا فریضہ سر انجام دیا مگر حتمی سوال بہرحال طاقت کا سوال ہی تھا۔ انقلاب آخری تجزئیے میں طاقت اور اقتدار کا سوال ہی ہوتا ہے۔ فکر اور عمل کا جدلیاتی تعلق سماجی ارتقا کا بنیادی خاصہ رہا ہے۔ لبرلز آج جس نظام یعنی سرمایہ داری اور اس کی سیاسی شکل (Form) یعنی جمہوریت کی وکالت کرتے تھکتے نہیں، خود انقلاب ہی کے مرہون منت ہے اور جس ”تشدد“ کی طرف یہ لبرلز حقارت اور کراہت کا رویہ اپناتے ہیں، اس تشدد کے بغیر وہ انقلاب کبھی فتح مند نہ ہو پاتا۔ تہذیب کی لغت میں بلاشبہ تشدد اور جبر کو غیر انسانی افعال اور خواص کے طور پر لکھا اور پڑھا جاتا ہے، مگر ہر وقت سائنس کی فوقیت کا ڈھنڈورا پیٹنے والے لبریز کا تاریخ کی طرف رویہ سراسر اخلاقی اور رومانوی ہوتا ہے۔ ریاست ایک ایسی معروضی حقیقت ہے جس کے وجود کو محض اخلاقی بنیادوں پر نہ تو رد کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی اس میں کوئی اصلاح کی جا سکتی ہے۔ ریاست کا وجود ہی اس حقیقت کا اظہار ہوتا ہے کہ سماج میں ظالم اور مظلوم کی فیصلہ کن تقسیم موجود ہے۔ ریاست ہتھیار بند اداروں کی شکل میں ظالم حکمرانوں کے جبر اور تشدد کا اوزار ہوتی ہے۔ لیکن ہمارے لبرل دوستوں کو مظلوموں کا اپنی تاریخی غلامی سے آزادی کے لیے کیا گیا ناگزیر تشدد اور اسکی برائیاں تو نظر آتی ہیں مگر حکمرانوں کا جبر اور تشدد، جو کہ ایک سماجی معمول ہوتا ہے اور ہر عہد میں اسے آئینی اور اخلاقی تحفظ بھی حاصل ہوتا ہے، دانستہ طور پر اسے نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ اگر سرمایہ دارانہ انقلاب (انقلاب فرانس) جس کے ہمارے کالم نگار دلدادہ معلوم پڑتے ہیں، ایک عظیم سماجی پیش رفت تھی تو اس انقلاب کے لیے عوام کا سفاک جاگیرداروں اور انکی فوج کے خلاف خود کو مسلح کرنا کیسے غلط ہوا؟ اور اگر وہ درست تھا تو گزشتہ صدی میں سامراجی یلغار کے خلاف مظلوم اقوام اور محنت کش طبقات کی بغاوتیں کیسے غلط ہو سکتی ہیں؟ انقلاب فرانس کے یہ جھوٹے مداح آج سرمایہ داری کے خلاف انقلاب کا ذکر یا نام سن کر ایسے پھدکنے لگتے ہیں جیسے کسی نے ان کی دم پر پاؤں رکھ دیا ہو۔ وہ انقلاب کے مقابلے میں ارتقا اور اصلاح کا نظریہ پیش کرتے ہیں۔ وجاہت مسعود کہتے ہیں ”جمہوریت اجتماعی فراست سے مشاورت کرتے ہوئے مسلسل اصلاح کی صلاحیت رکھتی ہے۔“ اسی اصول کی بنیاد پر یہ لبرل خواتین و حضرات جمہوریت کو پاکستان کے تمام مسائل کا حل قرار دیتے ہیں۔ ہم ان سے سوال کرتے ہیں کہ چلیں پاکستان میں تو عسکری اشرافیہ واقعی ایک مسئلہ ہے مگر امریکہ میں ڈونلڈ ٹرمپ، برطانیہ میں بورس جانسن (جو مستعفی ہو چکے)، برازیل میں بولسونارو اور دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہلانے والے انڈیا میں مودی جیسے لوگ اقتدار کے ایوانوں تک کیسے پہنچ گئے تھے؟ کیا یہ لبرل ڈیموکریسی کی ناکامی نہیں ہے؟ کیا یہ اس حقیقت کا اظہار نہیں ہے کہ جمہوریت میں مزید اصلاح کی گنجائش ناپید ہو چکی ہے؟ سرمایہ داری اپنا ترقی پسندانہ کردار کب کا ترک کر چکی ہے۔ اب یہ ایک ایسی وحشت ہے جس کے خلاف عملی مزاحمت وقت کی اہم ترین ضرورت بن چکی ہے۔ مقدس لبرل ڈیموکریسی جو اپنی جنم بھومی یعنی یورپ میں بھی حالتنزع میں ہے، پاکستان جیسے پسماندہ معاشروں کے اتنے گھمبیر مسائل کیسے اور کیونکر حل کر پائے گی؟ زمان و مکاں سے بے نیاز محض امن پسندی (pacifism) کی لفظی جگالی جو لبرل ”بھائی چارے“ کی بنیادی اینٹ ہے، سراسر لغو اور بے بنیاد ہے۔ ایسی امن پسندی ظالم کی سہولت کاری کے علاوہ اور کچھ نہیں۔

کیا کمیونزم ایک ناکام نظام ہے؟

لبرلز سوویت یونین کے انہدام کا بہت شور مچاتے ہیں اور اس کی بنیاد پر کمیونزم کی ناکامی کا اعلان کر دیتے ہیں۔ ان کے خیال میں اگر اس وقت سوشلزم دنیا میں کہیں موجود نہیں تو اس کا مطلب ہے وہ معدوم، متروک ہو چکا یا سرے سے تھا ہی نہیں۔ یہ چلا چلا کر کہتے ہیں، کمیونسٹو! دکھاؤ کہاں ہے کمیونزم۔ یہ منطقی ثبوتیت کا بنیادی قضیہ ہے اور نتائجیت (Pragmatism) اور دیگر تمام میکانکی طرز ہائے استدلال میں بھی اسے اہم دلیل کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ سوال سراسر غیر سائنسی بلکہ مبنی بر جہالت ہے۔ یہ حقیقت کو اس کی اصلیت (Essence) سے کاٹ کر محض ظاہریت میں دیکھنے کا خمیازہ ہے۔ حقیقت جو مسلسل تغیر پذیر ہوتی ہے، اپنی مخصوص شکل کے باوجود بہت سی ممکنات اپنے اندر سموئے ہوئے ہوتی ہے۔ سائنس کا بنیادی فریضہ ہی یہ ہوتا ہے کہ ان امکانات کی تشریح و تعبیر پیش کرے۔ یہ نظام یعنی سرمایہ داری جسے آج ہمارے لبرلز ابدی نظام بنا کر پیش کر رہے ہیں، یہ اپنی راج دلاری جمہوریت سمیت تین چار صدی قبل کہاں تھا؟ اور اگر یہ اس وقت نہیں تھا تو کیا اس کا ہونا محض یوٹوپیا تھا۔ ہر گز نہیں لبرل ڈیموکریسی اس وقت ایک غالب امکان کے طور پر معروضی حقیقت کے بطن میں پروان چڑھ چکی تھی جس کی تشریح اور تفسیر روسو اور اس کے ہمنواؤں نے پیش کی۔ وہ اپنے عہد کے عظیم دماغ تھے جنہوں نے ان امکانات کو بھانپ لیا اور عوامی جدوجہد نے ان امکانات کو حقیقت کا روپ دیا اور سرمایہ دارانہ نظام ظہور پذیر ہوا۔ اور پھر سائنس کی تاریخ خود گواہ ہے ایسی کوئی بھی تبدیلی (Transition) یکدم مکمل نہیں ہو جاتی۔ ہر امکان کو حقیقت کا روپ دینے کے لیے بہت سے تجربے کیے جاتے ہیں، بہت سی وقتی نامرادیوں کے بعد ہی یہ عبوری دور اپنے انجام کو پہنچتا ہے۔ سرمایہ داری بھی ایک ہی جست میں ایک نظام کے طور پر نمودار نہیں ہو گئی تھی۔ اس کا آغاز درحقیقت پندرھویں صدی میں ایمسٹرڈیم سے ہوا تھا، ایک طویل عبوری سفر طے کرنے کے بعد اور سترھویں صدی کے برطانوی انقلاب اور اٹھارویں صدی کے فرانسیسی انقلاب سے ہوتے ہوئے سرمایہ داری نے اپنی معاشی و سیاسی کلیت کی تکمیل کی۔ ایسے ہی 1871 ء کے پیرس کمیون سے کمیونزم کا پہلا تجربہ کیا گیا، جو سوویت یونین میں ایک ماڈل کے طور پر سامنے آیا، پھر چین اور کیوبا وغیرہ میں مختلف تجربات ہوئے۔ وقتی پسپائیاں جو کہ سائنسی شعور کے لیے بالکل بھی اجنبی نہیں ہوتیں، ناگزیر تھیں اور اب ان تجربات کی روشنی میں محنت کشوں کی ایک نئی نسل اس تاریخی تسلسل کی قوت محرکہ بن کر سامنے آ رہی ہے۔ کمیونزم ناکام نہیں ہوا تھا بلکہ اس کے عبوری مرحلے میں سٹالنزم اور ماؤ ازم کی سیاسی اشکال نمودار ہوئی تھیں جو کسی حد تک حقیقی ماڈل سے متضاد بھی تھیں۔ ان اشکال کی شکست و ریخت کو کمیونزم کی شکست قرار دینا فکری افلاس اور بہیمانہ تعصب کی غمازی ہے اور وہ بھی عین اس وقت میں جب سرمایہ داری نظام کو بے نظیر بحران کا سامنا ہے۔

عقیدہ پروری (Dogmatism)، شخصیت پرستی اور تنقید کی آزادی

جیسا کہ ہم نے پہلے بھی وضاحت کی ہے کہ کمیونسٹوں پر لبرلز کی تنقید اور ان کا بیانیہ داخلی تضادات کا شاہکار ہے۔ آئیے اس کی ایک اور مثال دیکھتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر گزشتہ چند دنوں سے جاری مباحث میں یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ وہ مارکسسٹ جو سوویت یونین کے انہدام کے بعد این جی اوز میں چلے گئے، یورپی اور امریکی سامراج کے آلہ کار بن گئے، ان کو مثال بنا کر ہمارے لبرل دوست یہ ثابت کرنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں کہ یہ سب سوشلسٹ منافق اور موقع پرست ہوتے ہیں اور ان کے قول اور فعل میں تضاد ہوتا ہے۔ جبکہ انہی بھگوڑے سوشلسٹوں کے ساتھ ان لبرلز کے بڑے دیرینہ اور خوشگوار مراسم بھی ہوتے ہیں۔ ان سے نجی ملاقاتوں میں یہ ان کو حقیقت پسند قرار دے کر ان کی تعریف و خوشامد میں لگے رہتے ہیں۔ اور ہونا بھی یہی چاہیے کیونکہ یہ بھگوڑے اب نظری اعتبار سے اور عملاً لبرلز ہی تو بن گئے ہیں۔ لیکن سوشلزم پر جب بھی حملہ کرنا مقصود ہوتا ہے تو سوشلزم کے انہی غداروں کی آڑ میں سب سوشلسٹوں کو لتاڑ دیا جاتا ہے۔ دوسری طرف جو سوشلسٹ ان مشکل ترین حالات میں بھی ثابت قدم رہے اور استقامت کا مظاہرہ کیا، ان پر عقیدہ پروری کا لیبل لگا دیا جاتا ہے۔ یہ نری منافقت نہیں تو اور کیا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ ابھی تک ایسے نظریئے سے جڑے ہوئے ہیں جو اپنی موت آپ مر چکا۔ ہم ان سے سوال کرتے ہیں کہ اگر کمیونزم ختم ہو چکا تو موجودہ مسائل کا آپ کے پاس کیا حل ہے؟ کیا کمیونزم کے علاوہ آپ نے سرمایہ دارانہ تضادات کا کوئی حل یا کوئی اور نظام پیش کیا؟ کروڑوں لوگ جو دنیا بھر میں سراپا احتجاج ہیں، ان کے لیے آپ کے پاس کیا متبادل ہے؟ آپ کوئی سنجیدہ اور سائنسی متبادل پیش تو کریں، ہم فوراً آپ کی تائید کریں گے۔ لینن نے ایک جگہ برملا اور دو ٹوک لکھا ہے کہ اگر سوشلزم سے بہتر کوئی متبادل سامنے آیا تو ہم لمحہ بھر بھی رکیں گے نہیں اور ہچکچائے بغیر اسے قبول کر لیں گے۔ تو بتائیے کیا ہے متبادل۔ کیا کہا، سوشل ڈیموکریسی؟ حضور وہ تو یورپ میں لبرل ڈیموکریسی سے بھی زیادہ پٹ چکی۔ کینشین ازم؟ سرکار یہ موجودہ افراطِ زر کا بے قابو ہوتا ہوا جن اسی کینشین ازم کی بوتل سے تو برآمد ہوا ہے۔ یہ کروڑوں سراپا احتجاج لوگ آپ کے ان نام نہاد متبادل جو کہ درحقیقت اسی نظام ہی کی مختلف اشکال ہیں، ان کو مسترد کر چکے۔ اب کیا کیا جائے؟ تو جواب ملتا ہے کہ بدعنوانی ختم کر دی جائے اور نظام قابل یعنی اہل لوگوں کے حوالے کر دیا جائے۔ یعنی کرشماتی شخصیات جو جادوئی چھڑی سے تمام مسائل حل کر دیں گی۔ لیکن سرکار ایسی شخصیات اگر کہیں کوئی ہیں بھی تو وہ تو غیر جوابدہ اتھارٹی کی متقاضی ہوں گی۔ یعنی لبرل ڈیموکریسی میں تو یہ ممکن نہیں ہے۔ گویا لبرل ڈیموکریسی کے دن گنے جا چکے ہیں۔ مارکسزم نہ تو عقیدہ تھا اور نہ کبھی ہو گا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ آج عالمی معیشت اور سماج جس بند گلی میں پھنس چکے ہیں مارکس نے داس کیپیٹل میں اس کا نہ صرف تناظر تخلیق کیا تھا بلکہ اس سے نکلنے کے راستے کی نشاندہی بھی کی تھی۔ بلکہ گزشتہ چند سالوں میں بہت سے لبرل جریدوں اور دانشوروں نے خود بھی مارکس کی علمی فوقیت کو تسلیم کیا ہے۔ یہاں سب کو تو باری باری نقل (Quote) نہیں کیا جا سکتا لیکن صرف ایک حوالہ بطور مثال پیش کیے دیتے ہیں۔ 30 مارچ 2014ء کے نیو یارک ٹائمز نے اپنے ایڈیٹوریل پیج پر ”کیا مارکس درست تھا“ کے عنوان سے ایک تحریر شائع کی جس میں مندرجہ ذیل الفاظ درج ہیں۔ ”بعد از جنگ کے سنہرے دور میں مغرب کی معاشی ترقی، محنت کشوں کے تسلی بخش معیارزندگی اور معیشت کے بحیثیتِ مجموعی استحکام نے سرمایہ داری کی افادیت کو آشکار کیا اور مارکس کی سرمایہ داری پر تنقید کو بے بنیاد ثابت کیا لیکن حالیہ دنوں میں پھر ثابت ہو گیا کہ دولت کا ارتکاز اور عالمگیریت، مستقل اور مسلسل بیروزگاری کا پھیلاؤ اور حقیقی اجرتوں میں مسلسل کمی جیسے وہ تمام عوامل جنہیں مارکس نے سرمایہ داری کے موت کے محرکات قرار دیا تھا نہ صرف حقیقت کا روپ دھار چکے ہیں بلکہ بے پناہ پریشانی اور مشکلات پیدا کر رہے ہیں۔“

ان حالات میں مسلسل ایک سائنسی متبادل کی وکالت عقیدہ پروری نہیں بلکہ سائنسی حقیقت پسندی ہے۔ ہمارے لبرل ناقدو سنو! تم لوگ وثوق سے کچھ بھی نہیں کہہ سکتے، کیونکہ درحقیقت عدم نظریہ ہی تمہارا نظریہ ہے۔ اس لیے تمہیں غیر یقینی پن ہی درست لگتا ہے۔ کوئی بھی شخص وثوق سے کچھ کہے تم لوگوں کو اس کا یقین عقیدہ لگنا شروع ہو جاتا ہے۔ محترم خواتین و حضرات ہم آپ کی طرح کسی ابہام کا شکار نہیں ہیں۔ یہ ہمارا اعتماد ہے جسے تم عقیدہ کہتے ہو، کیونکہ تم خود اس اعتماد، یقین اور استقامت سے محروم ہو، تم نے نہ کبھی ان کا ذائقہ چکھا اور نہ کبھی چکھ پاؤ گے۔ اور یہ یقین خالصتاً سائنسی یقین ہے کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ ماضی نے حال کو جنا ہے اور مستقبل اس حال کی کوکھ میں موجود ہے۔ مارکسزم وہ سائنسی آلہ ہے جس کے ذریعے ہم اس کی شبیہہ دیکھ سکتے ہیں۔ اور یہ آلہ کارل مارکس اور فریڈرک اینگلز کی ایجاد ہے جو انہوں نے ہیگل کے جدلیاتی اصولوں کی بنیاد پر تخلیق کیا تھا۔ بعد ازاں لینن، ٹراٹسکی اور دیگر انقلابی اساتذہ نے اسے مزید نکھارا، آج یہ پہلے سے کہیں زیادہ کارآمد ہو کر ہمارے استعمال میں ہے۔ اب اگر ہم ان موجدین کے نام بار بار لیتے ہیں تو ہم شخصیت پرست کیسے ہوئے؟ ہم تو صرف حقائق بتاتے ہیں؟ جی ہاں حقائق، وہی جو آپ کے تمام استدلال کی بنیاد ہیں، لبرلزم کا مرکزہ (Nucleus) ہیں۔

یہ درست ہے کہ دائیں بازو کی طرح بائیں بازو میں شخصیت پرستی کا عنصر موجود ہے جس نے مزدور تحریک کو کافی نقصان پہنچایا ہے۔ بائیں بازو میں بجا طور پر ایسے دولے شاہ کے چوہے موجود ہیں جن کے نزدیک یہ اہم نہیں ہوتا کہ کیا کہا جا رہا ہے، بلکہ یہ فیصلہ کن ہوتا ہے کہ کون کہہ رہا ہے مگر یہ عمومی سماجی مسئلہ ہے جس کی بنیادیں مارکسزم کی نظریاتی اساس میں نہیں بلکہ سماجی ارتقا میں تلاش کرنی چاہییں۔ سوشلسٹ تنظیم ایک جیتے جاگتے سماج میں بنتی ہے اور اس سماج کی ہوائیں اس پر ظاہر ہے اثرانداز تو ہوں گی۔ لیکن تمام مارکسی اساتذہ نے ہمیشہ انفرادیت کی بجائے اجتماعیت کے فروغ کی ضرورت پر زور دیا۔ اب اگر ان مارکسی اساتذہ کی کردار کشی کی جائے، جھوٹے اور بے بنیاد الزامات گھڑے جائیں اور اگر ہم ان کے دفاع میں استدلال کریں اور ہمیں شخصیت پرست کہا جائے، تو اس سے بڑا تعصب اور بد دیانتی ممکن ہی نہیں ہے۔ لبرل خواتین و حضرات آپ کا تو بنیادی نعرہ ہوتا ہے، تنقید کی آزادی۔ لیکن عملاً آپ لوگ صرف اپنے لیے تنقید کی آزادی کے قائل ہیں۔ جب آپ پر یا آپکی تنقید پر تنقید کی جاتی ہے تو آپکی زبانیں باہر آ جاتی ہیں۔ آپ جھوٹ بولیں تو آپ کی آزادی، ہم اگر اس جھوٹ کی صرف نشاندہی بھی کر دیں تو ہم شخصیت پرست اور کٹر مذہبی۔ آپ مثبت تنقید کریں، ہم ہمیشہ خوش آمدید کہیں گے لیکن اگر آپ زہر اگلیں گے تو ہم جواب تو ضرور دیں گے۔ آپ کی اخبارات، چینلز اور دیگر ذرائع تک جتنی بھی رسائی ہو، آپ جتنی بھی دروغ گوئی کر لیں، تاریخ کی اپنی منطق اور اخلاقیات ہوتی ہے۔ ان نظریات کو دنیا کی کوئی طاقت شکست نہیں دے سکتی جن کا وقت (عہد) آ گیا ہو۔

Comments are closed.