|رپورٹ: انقلابی کمیونسٹ پارٹی، بلوچستان|
انقلابی کمیونسٹ پارٹی بلوچستان گرینڈ الائنس پر ڈھائے گئے ریاستی جبر، وحشیانہ تشدد، بلا جواز گرفتاریوں اور حکومتی بے حسی کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتی ہے۔
بلوچستان گرینڈ الائنس کی قیادت اور صوبے بھر کے محنت کش و ملازمین گزشتہ ایک ہفتے سے مسلسل ریاستی جبر کا سامنا کر رہے ہیں۔ کل 20 جنوری کو ریڈ زون کوئٹہ میں ایک پُرامن دھرنے کا اعلان کیا گیا تھا، جس میں شرکت کے لیے بلوچستان کے مختلف اضلاع سے محنت کش اور ملازمین کوئٹہ پہنچ چکے تھے۔ مگر ریاستی بوکھلاہٹ کا یہ عالم تھا کہ رات کے اندھیرے میں سیکیورٹی اداروں کے ذریعے شہر کے تمام داخلی و خارجی راستے کنٹینرز لگا کر بند کر دیے گئے۔
20جنوری کی صبح جیسے ہی محنت کشوں اور ملازمین نے ریلوے اسٹیشن سے مختلف احتجاجی ریلیوں کا آغاز کیا تو صوبائی حکومت کے احکامات پر سیکیورٹی فورسز نے ان پُرامن ریلیوں پر آنسو گیس کی شیلنگ، لاٹھی چارج اور بدترین تشدد ڈھایا۔ اسی روز بلوچستان گرینڈ الائنس کی قیادت سمیت متعدد محنت کشوں اور ملازمین کو گرفتار کر لیا گیا۔
ریاستی جبر کا یہ سلسلہ یہاں نہیں رکا بلکہ پورے کوئٹہ شہر کو عملاً ایک میدانِ جنگ میں تبدیل کر دیا گیا۔ انٹرنیٹ اور موبائل سروس بند کر کے محنت کشوں کی آواز کو دبانے کی کوشش کی گئی، مگر اس کے باوجود کوئٹہ کے مختلف علاقوں میں محنت کشوں اور ملازمین کے احتجاجی مظاہرے شام تک جاری رہے، جو اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ جبر عوامی جدوجہد کو نہ توڑ سکتا ہے اور نہ ہی خاموش کرا سکتا ہے۔
اسی رات بلوچستان گرینڈ الائنس کی قیادت نے ایک ہنگامی اجلاس منعقد کیا، جس میں تین اہم فیصلے کیے گئے:
1۔ پورے بلوچستان میں بلوچستان گرینڈ الائنس کی قیادت میں تمام عوامی اداروں کی غیر معینہ مدت کے لیے ہڑتال۔
2۔ بلوچستان بھر کے پریس کلبوں کے سامنے روزانہ کی بنیاد پر احتجاجی مظاہرے۔
3۔ جیل بھرو تحریک کا اعلان۔
آج جب بلوچستان گرینڈ الائنس کی قیادت کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے لیے پہنچی اور بالخصوص قیادت رضاکارانہ گرفتاری دینے آئی تو پولیس نے جبر و تشدد کی تمام حدیں پار کرتے ہوئے نہایت ذلت آمیز رویے کے ساتھ انہیں گرفتار کر لیا۔ اس کاروائی کے بعد درجنوں محنت کشوں اور ملازمین کو بھی گرفتار کیا گیا اور پورے صوبے میں عملاً ایک غیر اعلانیہ مارشل لا نافذ کر دیا گیا۔
تازہ ترین اطلاعات کے مطابق اس وقت بلوچستان بھر میں سینکڑوں کی تعداد میں بلوچستان گرینڈ الائنس کی قیادت، محنت کش اور ملازمین گرفتار ہیں، جنہیں سامراجی دور کے سیاہ قانون تھری ایم پی او کے تحت جیلوں اور نامعلوم مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔ یہ قانون محض ریاستی جبر کو قانونی جواز فراہم کرنے کا ایک ہتھیار ہے، جس کا مقصد محنت کش طبقے کی منظم آواز کو کچلنا ہے۔
انقلابی کمیونسٹ پارٹی اس تمام ریاستی جبر، گرفتاریوں اور تشدد کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتی ہے اور واضح اعلان کرتی ہے کہ بلوچستان گرینڈ الائنس کی جائز اور طبقاتی جدوجہد میں ہم مکمل طور پر ان کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ہم پورے بلوچستان اور پاکستان بھر کے محنت کشوں، طلبہ، سیاسی کارکنان اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ حکومتی و ریاستی جبر کے خلاف اور مطالبات کی منظوری کے لیے بلوچستان گرینڈ الائنس کے محنت کشوں سے یکجہتی کریں تاکہ عوام دشمن ریاستی پالیسیوں کے خلاف اس جدوجہد کو وسیع، منظم اور طبقاتی بنیادوں پر آگے بڑھایا جائے اور ریاستی جبر کا اجتماعی اور منظم جواب دیا جائے۔
انقلابی کمیونسٹ پارٹی بلوچستان کے تمام ساتھیوں کو پابند کرتی ہے کہ بلوچستان گرینڈ الائنس کے زیرِ اہتمام جہاں جہاں بھی احتجاجی مظاہرے، دھرنے یا سرگرمیاں ہوں، وہاں بھرپور اور منظم شرکت کو یقینی بنایا جائے۔ ہم گرفتار ساتھیوں کی فوری رہائی کے لیے جدوجہد کو تیز کریں اور اس سامراجی و جابرانہ نظام کے خلاف طبقاتی یکجہتی کو عملی شکل دیں۔ ریاستی جبر، تشدد اور سامراجی قوانین کے ذریعے محنت کش طبقے کی تحریک کو دبایا نہیں جا سکتا۔ یہ جدوجہد صرف بلوچستان گرینڈ الائنس کی نہیں، بلکہ پورے محنت کش طبقے کی جدوجہد ہے اور اس کا جواب منظم، متحد اور طبقاتی و انقلابی مزاحمت ہی ہے۔


















In defence of Marxism!
Marxist Archives
Progressive Youth Alliance