|تحریر: آدم پال|
اس سال یوم مئی پر دنیا اور اس خطے کی صورتحال چیخ چیخ کر یہی کہہ رہی ہے کہ یہ نظام اب انسانیت کی بقا کے لیے خطرہ بن چکا ہے اس لیے اس کو جتنا جلد اکھاڑ پھینکا جائے اتنا ہی انسانیت کے لیے بہتر ہے۔ یہ نظام سرمایہ دارانہ نظام ہے اور اس کو صرف ایک سوشلسٹ انقلاب کے ذریعے ہی ختم کیا جا سکتا ہے۔
سرمایہ دارانہ نظام کی بنیاد مزدور کے استحصال پر ہے۔ مزدور کی غیر ادا شدہ اجرت ہی سرمایہ دار کے منافعوں کی بنیاد بنتی ہے۔ اس استحصال اور نا انصافی کو قانونی اور اخلاقی قرار دینے کے لیے اور سرمایہ دار طبقے کے تمام مفادات کو تحفظ دینے کے لیے یہ نظام ترتیب دیا گیا ہے۔ یہ نظام آج پوری دنیا میں موجود ہے اور پوری دنیا کے مزدوروں کا بد ترین استحصال کرتے ہوئے سرمایہ دار طبقے کے منافعوں میں تیز ترین اضافہ کر رہا ہے۔ اس نظام کے تحت طبقاتی خلیج انسانی تاریخ کی بلند ترین سطح تک پہنچ چکی ہے۔ دنیا کے امیر ترین افراد کی دولت میں تیز ترین اضافہ ہو رہا ہے اور وہ اربوں ڈالر کے مالک ہونے کے بعد اب کھربوں ڈالر کی ملکیت تک پہنچ رہے ہیں جبکہ محنت کش طبقے کی اکثریت غربت اور ذلت کی اتھاہ گہرائیوں میں غرق ہو رہی ہے۔ اپنے منافعوں کو تحفظ دینے کے لیے سرمایہ دار طبقہ پوری دنیا میں جنگیں اور خونریزی مسلط کرنے سے بھی نہیں ہچکچاتا اور جہاں ضرورت پڑتی ہے بزور طاقت اپنے مفادات کا تحفظ کرتا ہے۔ اسی طرح مزدور طبقے کی اپنے حقوق کے لیے ابھرنے والی تحریکوں اور انقلابات کو بھی بد ترین ریاستی جبر کے ذریعے کچل دیا جاتا ہے۔

یہاں کا سرمایہ دار طبقہ عالمی سامراجی طاقتوں کا بھی گماشتہ ہے اور ان کے لیے کمیشن ایجنٹ کا کام بھی کرتا ہے۔
پاکستان کی صورتحال بھی مختلف نہیں۔ یہاں بھی سرمایہ دارانہ ریاست موجود ہے جو اس ملک کے سرمایہ دار طبقے کے مفادات کا تحفظ کرتی ہے۔ یہاں کا سرمایہ دار طبقہ عالمی سامراجی طاقتوں کا بھی گماشتہ ہے اور ان کے لیے کمیشن ایجنٹ کا کام بھی کرتا ہے۔ اس ملک کے محنت کشوں کی پیدا کردہ دولت کا بڑا حصہ سامراجی ممالک کے سرمایہ دار لوٹ کر لے جاتے ہیں جبکہ اس کے بعد بچ جانے والی دولت یہاں کا سرمایہ دار طبقہ لوٹتا ہے۔ اس کی سب سے بڑی مثال بجلی بنانے والے آئی پی پیز ہیں جو اس ملک کے عوام سے بجلی کے بلوں کے ذریعے کھربوں روپے لوٹ چکے ہیں۔ اس تمام لوٹ مار کو پاکستان کے تمام ریاستی ادارے تحفظ دیتے ہیں اور بجلی کے بل ادا نہ کرنے کی صورت میں عوام سے یہ بنیادی سہولت چھین لی جاتی ہے۔ اسی طر ح تیل کی مد میں وصول کیے گئے ٹیکس ہیں۔ تیل کے ہر قطرے پر عوام سے ٹیکس وصول کیا جاتا ہے اور اس آمدن کا بڑا حصہ عالمی مالیاتی اداروں کے ذریعے سامراجی ممالک کے حکمران طبقے کے پاس چلا جاتا ہے۔ جنگوں، مالیاتی بحران اور وباؤں سمیت ہر آفت کا بوجھ عوام پر ڈال دیا جاتا ہے اور انہیں مرنے کے لیے چھوڑ دیا جاتا ہے۔
پاکستان ایک ایسی سرمایہ دارانہ ریاست ہے جس میں سرمایہ داروں پر ٹیکس نہ ہونے کے برابر ہے۔ ایک طرف تو ان سرمایہ داروں کو سبسڈی کے نام پر ہر سال اربوں روپے دیے جاتے ہیں جبکہ دوسری طرف ان کے منافعوں پر لگائے جانے والے ٹیکس انتہائی کم ہیں اور ان کی وصولی اس سے بھی کہیں زیادہ کم ہے۔ حالیہ جنگ اور بد ترین مالیاتی بحران میں بھی سرمایہ داروں پر ٹیکس نہیں بڑھایا گیا اور نہ ہی ان سے وصولی میں اضافہ کیا گیا ہے بلکہ بحران کا بوجھ ہمیشہ کی طرح عوام پر ہی منتقل کر دیا گیا ہے۔ اگر ملک میں موجود ملٹی نیشنل کمپنیوں، بینکوں اور انشورنس کمپنیوں پر بڑے پیمانے پر ٹیکس لگایا جاتا یا پھر آئی پی پیز کو کی جانے والی ادائیگیاں روک لی جاتیں تو تیل کی قیمت میں بالکل بھی اضافہ کرنے کی ضرورت نہیں تھی بلکہ حکومت کی آمدن کہیں زیادہ بڑھ سکتی تھی۔ لیکن سرمایہ دارانہ نظام میں ایسے اقدامات نہیں لیے جا سکتے اور نہ موجودہ ریاست اور حکمران طبقے سے یہ توقع کی جا سکتی ہے کہ وہ عوام کی بھلائی کے لیے فیصلے کریں گے۔ ملک کا وزیر داخلہ خود کہہ چکا ہے کہ پچھلے چار سالوں میں یہاں سے ایک سو ارب ڈالر بیرون ملک منتقل ہوا ہے۔ اس بیان پر خود اس وزیر داخلہ کو سزا ملنی چاہیے کیونکہ یہ تمام منتقلی غیر قانونی طریقے سے ہوئی ہے جس کو روکنا اس کی ذمہ داری تھی۔ دوسری طرف یہ رقم صرف درخواستوں سے کبھی واپس نہیں آئے گی۔ اس کے علاوہ یہ رقم صرف ایک اندازہ ہے جبکہ حقیقت میں اس سے کہیں زیادہ دولت یہاں سے غیر قانونی طریقے سے باہر منتقل ہوتی ہے دوسرے الفاظ میں یہاں کے محنت کشوں کی پیدا کردہ دولت حکمران طبقے کے افراد لوٹ کر بیرون ملک اپنی تجوریوں میں منتقل کر دیتے ہیں جبکہ یہاں صرف بھوک، بیماری اور فاقے ہی رہ جاتے ہیں۔ اس تمام عمل کو یہاں کی ریاست تحفظ دیتی ہے اور ایسی پالیسیاں بناتی ہے جن سے یہ عمل مزید شدت اختیار کرتا ہے۔ موجودہ ریاست سرمایہ دار طبقے کے مفادات کو تحفظ دینے کے لیے تشکیل دی گئی ہے۔ یہاں موجود پارلیمنٹ، عدالتیں اور دیگر ادارے سرمایہ دار طبقے کے منافعوں کو تحفظ دینے کے لیے موجود ہیں اوران کو اسی مقصد کے تحت برطانوی سامراج نے یہاں تعمیر کیا تھا۔ یہاں کی ریاست آج بھی نوآبادیاتی طریقہ کار اور قوانین کو جاری رکھے ہوئے ہے اور سامراجی طاقتوں کی اطاعت اور گماشتگی بھی اس کے خمیر میں ابھی تک موجود ہے۔

مزدور طبقے کے نظریات سے لیس ایک انقلابی کمیونسٹ پارٹی موجود ہو تو مزدور طبقے کی حمایت سے سرمایہ دارانہ نظام کا خاتمہ کرتے ہوئے ایک سوشلسٹ نظام کا آغاز کیا جا سکتا ہے۔
ایسی صورتحال میں مزدور طبقے کے پاس اپنی بقا کے لیے جدوجہد کے سوا کوئی رستہ نہیں۔ موجودہ صورتحال نے واضح کر دیا ہے کہ حکمران طبقے کو پرواہ نہیں کہ عوام دو وقت کی روٹی کھا سکتے ہیں یا نہیں۔ یہ حکمران عوام کے منہ سے آخری نوالہ بھی چھین لینے کے لیے تیار ہیں۔ عوام کے لیے جو چند ہسپتال، سکول یا کالج موجود تھے انہیں بھی ختم کیا جا رہا ہے اور عوام پر لگنے والے صحت اور تعلیم کا نام نہاد بجٹ بھی اب مکمل طور پر ختم ہو رہا ہے۔ اسی طرح ترقیاتی منصوبوں پر بھی کام رک چکا ہے جس سے بیروزگاری میں بہت بڑا اضافہ ہوا ہے۔ دوسرے الفاظ میں عوام پر خرچ کیے جانے والے تھوڑے بہت پیسے بھی اب حکمران طبقے کے کسی حصے کی جیب میں جا رہے ہیں۔ ایران جنگ کے بعد بیرون ملک جا کر پیسہ کمانے کے ذرائع بھی محدود ہوتے چلے جا رہے ہیں اور عوام کی زندگیاں بند گلی میں داخل ہو چکی ہیں۔ اس ظلم کے خلاف ابھرنے والے مزدوروں کے احتجاج اور ہڑتالوں کو بھی بزور طاقت کچلنے کی تیاری کی جا چکی ہے۔ ملک میں پہلے ہی موجود چند ایک جمہوری آزادیوں کا گلا گھونٹا جا چکا ہے اور آنے والے وقت میں اس میں مزید شدت آتی جائے گی۔ لیکن اس تمام جبر کے باوجود مزدور طبقے میں وہ صلاحیت موجود ہے کہ وہ ایک انقلاب برپا کرے اور اس نظام کو اکھاڑ کر یہاں ایک سوشلسٹ نظام قائم کرے جہاں ہر شخص کو روٹی، کپڑا، مکان، علاج اور تعلیم مفت فراہم کی جا سکے۔

اگر ایک ملک گیر عام ہڑتال کے ذریعے ریلوے کا پہیہ جام کر دیا جائے، بجلی، فون، بندرگاہوں اور دیگر اہم شعبوں کو جام کر دیا جائے تو پورا نظام بند ہو جائے گا۔ مزدوروں کی ہڑتال حکمران طبقے کے خلاف ان کا سب سے طاقتور ہتھیار ہے۔
مزدور طبقہ آج یہاں کروڑوں کی تعداد میں موجود ہے اور اس نظام کو درحقیقت چلاتا ہی مزدور طبقہ ہے۔ اگر ایک ملک گیر عام ہڑتال کے ذریعے ریلوے کا پہیہ جام کر دیا جائے، بجلی، فون، بندرگاہوں اور دیگر اہم شعبوں کو جام کر دیا جائے تو پورا نظام بند ہو جائے گا۔ مزدوروں کی ہڑتال حکمران طبقے کے خلاف ان کا سب سے طاقتور ہتھیار ہے۔ اگر کسی ایک صنعت یا اہم ادارے میں ہڑتال ہوتی ہے تو حکمران خوف سے کانپنے لگتے ہیں۔ لیکن ایک ملک گیر عام ہڑتال حکمران طبقے کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرتی ہے۔ اس ہڑتال سے مزدوروں کو نئی جرات اور حوصلہ ملتا ہے اور ان پر واضح ہوتا ہے کہ اس ملک کو ان پر مسلط کردہ جرنیل، جج، بیوروکریٹ یا سیاستدان نہیں چلا رہے بلکہ وہ خود اپنی محنت سے اس ملک کو چلاتے ہیں۔ اسی طرح عام ہڑتال میں اقتدار کا سوال بھی ابھر کر سامنے آتا ہے کہ اب آئندہ اس ملک کو کون چلائے گا۔ کیا پھر دوبارہ سرمایہ دار طبقے کے گماشتے ہی ملک پر دوبارہ حکمرانی کریں گے یا مزدور طبقے کے نمائندے ایک نئے سوشلسٹ نظام کے تحت ملک کو چلائیں گے۔ اس موقع پر مزدور طبقے کے نظریات سے لیس ایک انقلابی کمیونسٹ پارٹی موجود ہو تو مزدور طبقے کی حمایت سے سرمایہ دارانہ نظام کا خاتمہ کرتے ہوئے ایک سوشلسٹ نظام کا آغاز کیا جا سکتا ہے۔ اس ملک کے عوام 1969ء میں ایک عام ہڑتال کے ذریعے اس وقت کے صدر فیلڈ مارشل جنرل ایوب کا تختہ الٹ چکے ہیں۔ گو کہ اس وقت سرمایہ دارانہ نظام کو ختم نہیں کیا گیا تھا جس کے مواقع اس وقت موجود تھے۔ لیکن اب اس ملک کی عام ہڑتال نظام کی تبدیلی کی جانب بڑھ سکتی ہے اور یہاں ایک سوشلسٹ نظام قائم کیا جا سکتا ہے۔
اس نظام کے تحت تمام صنعتیں اور معیشت کے کلیدی شعبے مزدوروں کے جمہوری کنٹرول میں لیے جائیں گے اور مزدور تمام شعبوں پر قبضہ کر کے انہیں جمہوری انداز میں چلائیں گے۔ ملکیت کے رشتے تبدیل کر دیے جائیں گے اور تمام بڑی صنعتوں، مالیاتی اداروں اور کلیدی شعبوں پر نجی ملکیت ختم کرتے ہوئے انہیں عوامی ملکیت میں لیا جائے گا۔ تمام جاگیروں کو مزارعوں میں تقسیم کر دیا جائے گا یا پھر ریاستی کنٹرول میں لے لیا جائے گا۔ اسی طرح آئی ایم ایف سمیت تمام عالمی مالیاتی اداروں کے شکنجے کو توڑتے ہوئے ان کے قرضے دینے سے انکار کر دیا جائے گا۔ ملک میں پیدا ہونے والی تمام دولت مزدور ریاست کے ذریعے عوام کی فلاح و بہبود پر خرچ کی جائے گی اور ہر شخص کو بنیادی ضروریات فراہم کرنا ریاست کی اولین ذمہ داری ہو گی۔ پولیس، عدالتیں، ضلعی انتظامیہ اور سرمایہ دارانہ ریاست کے دیگر تمام ادارے ختم کر دیے جائیں گے اور مزدوروں اور کسانوں کی منتخب کمیٹیاں پورے ملک کا کنٹرول سنبھال لیں گی اور تمام اہم فیصلے انہیں کمیٹیوں کے ذریعے جمہوری انداز میں کیے جائیں گے۔ قومی اور صنفی جبر کا مکمل خاتمہ کر دیا جائے گا اور ہر شخص کے لیے آزادی کے ایک نئے سفر کا آغاز ہو گا۔ اسی طرح اس انقلاب کے دفاع کے لیے دنیا بھر کے محنت کشوں سے یکجہتی کی اپیل کی جائے گی اور ساتھ ہی انہیں بھی اپنے ملک میں ایسے ہی انقلاب کی جانب بڑھنے کا پیغام دیا جائے گا تاکہ پوری دنیا سے سرمایہ داری کا خاتمہ کرنے کے عمل کا آغاز ہو سکے۔ عالمی سوشلسٹ انقلاب کی کامیابی پوری دنیا سے جنگوں، بھوک، لاعلاجی اور ناخواندگی کا خاتمہ کرے گی اور دنیا بھر کی دولت کو چند سرمایہ داروں کی مٹھی میں مرتکز کرنے کے عمل کا خاتمہ ہو گا۔ اس یوم مئی پر اسی انقلاب کی تیاری کے عمل کو تیز کرنے کی ضرورت ہے۔
















In defence of Marxism!
Marxist Archives
Progressive Youth Alliance