|تحریر: دیپ سہیلیا، ترجمہ: عبدالحئی|
آبنائے ہرمز کی بندش نے بھارت میں توانائی کا بحران پیدا کر دیاہے۔ اخراجات زندگی میں اس اچانک اور بہت بڑے اضافے نے نیشنل کیپٹل ریجن (NCR)، میٹروپولیٹن خطہ جس میں دہلی بھی شامل ہے اور اس کے گرد و نواح میں ہڑتالوں کی ایک لہر کو بھڑکا دیا ہے جن میں ہزاروں مزدور شامل ہیں۔ بھارتی مزدوروں کی یہ متاثر کن خود رو تحریک اس بات کی محض ایک جھلک ہے کہ مستقبل قریب میں کیا ہونے والا ہے۔
انگریزی میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں
دسیوں ہزاروں مزدور اس تحریک کے ساتھ یکجہتی میں احتجاج کر رہے ہیں جو ملک کی نصف ریاستوں میں پھیل چکے ہیں۔
انڈیا کی اصطلاح میں یہ ایک چھوٹی ہڑتال معلوم ہو سکتی ہے۔ بہرحال، حالیہ سالوں میں انڈیا میں لاکھوں مزدوروں کی بے تہاشہ یومیہ ہڑتالیں ہوئی ہیں۔ حکمران طبقے کے رد عمل سے یہ واضح ہے کہ وہ چوبیس گھنٹے کی علامتی احتجاجی ہڑتال سے کہیں زیادہ اس خود رو ہڑتالی لہر سے خوفزدہ ہیں۔
انڈیا کا حکمران طبقہ ایسا محسوس کرتا ہے کہ ملک ایک سوختہ داں (Tinder box) [وہ ڈبیا جس میں چقماق کو رگڑ کر آگ پیدا کرتے ہیں۔ مترجم]۔ ایران جنگ سے پہلے ہی انڈیا میں لاکھوں عوام شدید غربت میں زندگی گزار رہے تھے۔ گزشتہ دہائی کے دوران بھارت میں مہنگائی مجموعی طور پر 50 فیصد تک پہنچ چکی تھی جبکہ اجرتیں جمود کا شکار ہوتے ہوئے ایک گہرے طبقاتی غصے کو طویل عرصے سے پال رہی تھیں۔
اب ایران کی جنگ نے عالمی سطح پر توانائی کے بحران کو جنم دیا ہے، جس نے تیل کی فراہمی کے 20 فیصد حصے کو متاثر کیا ہے اور بھارت میں معمولاتِ زندگی پر شدید دباؤ ڈال دیا ہے۔ بھارت اپنی پیٹرولیم گیس کا 60 فیصد خلیجی ممالک سے درآمد کرتا ہے۔ اس انحصار کے نتیجے میں ہنگامی احکامات کے تحت صنعتی گیس کی فراہمی میں کٹوتی کر دی گئی ہے، جس سے کارخانوں کو پیداوار کم کرنے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔ گجرات میں مٹی کے برتنوں کی صنعت کی 550 بھٹیاں بند ہو چکی ہیں۔ بعض صنعتوں نے ایندھن کی محدود مقدار بندی (rationing) شروع کر دی ہے۔ گیس سلنڈر جن کی سرکاری قیمت انڈیا کی کرنسی کے مطابق تقریباً 900 روپے تھی، اب بلیک مارکیٹ میں 4000 روپے تک فروخت ہو رہے ہیں۔
لاکھوں مزدور مایوسی کا شکار ہو چکے ہیں۔ ان حالات میں ایک چھوٹی سی چنگاری بھی اتنی بڑی آگ کو بھڑکا سکتی تھی جو خود حکومت کو جلا کر خاکستر کر دیتی۔ اسی لیے اس ہڑتال کو کچلنے کے لیے حکومت نے ہر حربہ استعمال کیا ہے۔
ریاست کی جانب سے ہڑتال کرنے والوں اور عام عوام پر جبر کرنے کے لیے پولیس کوکھلی چھوٹ دی گئی تھی جو مضبوط بارہ سے بیس پولیس سکواڈ کی شکل میں مقبوضہ فوج کی طرح محنت کشوں کے علاقوں میں گشت کر رہے تھے اور اندھا دھند لوگوں کو مار پیٹ رہے تھے۔ہڑتال کو منظم کرنے والے ایک شخص کو ’پاکستانی فتنہ انگیز‘ کا نام دیا گیا اور انہیں گرفتار کرنے کے لیے ان کے سر کی قیمت کا اعلان کیا گیا۔
ماضی میں ہونے والی دیوہیکل، یومیہ علامتی ہڑتالوں میں ٹریڈ یونین لیڈران کو حکومت کی جانب سے پھر بھی کچھ چھوٹ دے دی جاتی تھی۔ لیکن اس بار یکجہتی احتجاج کے منتظمین، CITU کے راہنماؤں کو ان کے گھروں میں قید کر دیا گیا تھا۔ انہیں یہ پیغام پہنچایا گیا کہ: ’اس ہڑتالی لہر کو پھیلانے میں مدد کرنے کی سوچنا بھی مت۔‘
ریاست نے جہاں بے تہاشا جبر کیا تو دوسری جانب اس نے رعایتیں دینے کا بھی اعلان کیا، کیونکہ اس تحریک کو ختم کرنے کے لیے حکومت کچھ بھی کرنے کو تیار تھی، حکومت نے کم سے کم تنخواہ میں 10 فیصد، 25 فیصد اور 30 فیصد اضافے کا اعلان کیا۔
خوف میں کپکپاتے سرمایہ دار طبقے کا یہ کردار ہے کیونکہ وہ سمجھتا ہے کہ اگر یہ انقلابی لہر آس پاس کے ممالک سری لنکا، میانمار، نیپال میں پھیل گئی تو دسیوں لاکھوں پر مشتمل انڈیا کا طاقتور محنت کش طبقہ ان کی حمایت میں کھڑا ہو جائے گا۔
ایران جنگ نے اس ہڑتالی لہر کی چنگاری کو بھڑکایا ہے
انڈیا کے محنت کش طبقے کے لیے زندگی ناقابل برداشت بن چکی ہے۔ مارچ کے اواخر میں ریاست ہریانہ میں گُروگرام مانیسر انڈسٹریل بیلٹ میں تقریباً 7 ہزار مزدوروں نے ماہانہ 20 ہزار روپے تنخواہ کا مطالبہ کیا تھا۔
یہ عیاشانہ مطالبہ نہیں ہے، ایک مزدور کے خاندان کو کرائے پر 5000 سے 6000، خوراک پر 8000 سے 10000، اور گیس پر 3000 سے 4000 خرچ کرنے ہوتے ہیں۔ یہ اخراجات بجلی، ٹرانسپورٹ، فون، سکول کی فیس یا ادویات کے اخراجات کے بغیر ہی 20 ہزار روپے بنتے ہیں۔ وہ صرف اخراجات زندگی میں تناسب برقرار کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اس کے باوجود ہریانہ ریاست نے نہ صرف مانیسر میں ہونے والی ہڑتالوں پر بلکہ مانیسر میں رِچا گلوبل گارمنٹ فیکٹری میں ہونے والی ہڑتالوں پر بھی جبر کیا۔
اس کے بعد 9 اپریل کو ہریانہ حکومت نے کم از کم اجرت میں 35 فیصد اضافے کو تسلیم کر لیا جس سے غیر ہنر مند مزدوروں کی ماہانہ اجرت 15 ہزار 221 روپے ہو گئی۔ در اصل یہ رعایت ریاست میں پائے جانے والی بے چینی کو کم کرنے کے لیے دی گئی تھی، لیکن یہی رعایت دوسری ریاست میں طبقاتی جدوجہد کی ایک نئی لہر کا سبب بن گئی، سرحد پار نوئیڈا میں کام کرنے والے مزدور جو اسی نوعیت کے کام کے لیے تقریباً 11 ہزار 313 روپے ماہانہ کما رہے تھے، انہوں نے ایک واضح سوال اٹھایا کہ ’ہم 6 ہزارروپے کم پر کیوں کام کریں؟‘
اسی دن نوئیڈا میں رِچا گلوبل گارمنٹ کے مزدوروں نے اپنے مطالبے کے لیے اور ہڑیانہ میں اپنے مزدور ساتھیوں کے ساتھ یکجہتی میں کام چھوڑ دیا۔ اگلے دن فیز 2 میں ہوزری کمپلیکس میں دھرنا شروع ہوا۔ اس کے بعد ہفتے کے آخری دنوں میں اس احتجاج میں شدت آئی۔ 13 اپریل، سوموار کے دن تک درجنوں کمپنیوں، ڈکسن، مدر سن، سیلکام، اسپارکی، کیو سی ایل اور دیگر کمپنیوں سے پانچ شعبوں میں سے سڑکوں پر نکل آئے اور گریٹر نوئیڈا تک پھیل گئے۔
اس بے چینی میں شامل اہم کمپنیوں میں سے ایک ڈکسن ہے، جو سمارٹ فون اور سمارٹ واچ بنانے والی کمپنی ہے۔ ڈکسن اس نوعیت کا بھارت کا سب سے بڑا ادارہ ہے اور مودی کے ’میک اِن انڈیا‘ نعرے کا بگل بچہ ہے، جس کا مقصد تکنیکی ملازمتوں کو ملک میں واپس لانا ہے۔ صرف ڈکسن کے موبائل ڈویژن نے گزشتہ سال 33043 کروڑ کی آمدن پیدا کی (330 ارب، تقریباً 3.5 ارب ڈالر جو ہر سال کا 203 فیصد اضافہ ہے) جبکہ آپریٹنگ منافع 1153 کروڑ رہا۔
وہاں مزدوروں سے 1 اپریل کو اجرتوں میں اضافے کا وعدہ کیا گیا تھا۔ یہ اضافہ نہ ملنے پر 10 اپریل کو دھرنا اور کام چھوڑ ہڑتال شروع ہو گئی۔ مزدوروں کے دیے گئے بیانات ہڑتالوں میں ان کے مزاج کو واضح کرتے ہیں۔ ڈکسن میں کام کرنے والے ایک مزدور نے جِسٹ (Jist) کو بتایا:
”اجرتوں میں آخری اضافہ 2019 ء میں ہوا تھا۔ تب سے کرونا رہا، ہر چیز کی قیمت بڑھ چکی ہے، ایسے میں ہم کیسے زندہ رہیں گے؟ ہمارے پاس اپنا کھانا پکانے کے لیے گیس نہیں ہے، ہم کیا کریں؟“
ایک اور مزدور کے کہا:
”انہوں نے ہم سے وعدہ کیا تھا کہ یکم اپریل سے ہمیں تنخواہ اضافے کے ساتھ ملے گی۔ ابھی اپریل کی 13 تاریخ ہے۔ یہ ہماری چھٹیاں ختم کر رہے ہیں۔ ہمیں ہولی کے تہوار کی بھی چھٹی نہیں ملتی۔ کام کی جگہ پر ہمیں بہت اذیت دی جاتی ہے۔ یہ ہمیں گالی دیتے ہیں، ہمیں ڈانٹتے ہیں اور ہمیں بے عزت کرتے ہیں۔“
13 اپریل، سوموارکے دن مالکوں کے کرائے کے غنڈوں نے مزدوروں کو اندھا دھند مارا پیٹا۔ اس کے نتیجے میں کام کی جگہ کے باہر شدید غصہ اور ہنگامے پھوٹ پڑے جن پر پولیس نے مزید کریک ڈاؤن کیا۔ دی ویک (The Week) کے مطابق ایک خاتون کو پولیس نے گولی ماری اور آنسو گیس بھی استعمال کی گئی۔ جِسٹ ایک یوٹیوب نیوز چینل جس نے حملوں کے دن دوپہر کے وقت مزدوروں کا انٹرویو کیا۔
کیمرے پر پولیس کو دیکھا جا سکتا ہے کہ وہ مالکان کے احکامات پر ہڑتال کرنے والے مزدوروں کو پکڑ کر بسوں میں بھر کر لے جا رہی ہے۔ ان نام نہاد ’امن کے محافظوں‘ میں سے ایک کو کسی رپورٹر کو لاٹھی سے مارتے ہوئے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ خواتین اور بچوں کو بھی مارا پیٹا گیا ہے۔ 466 مزدوروں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔
دی فیڈرل (The Federal) کی جانب سے جمع کی گئی مزدوروں کی گواہیاں ہنگامہ آرائی کی تصویر پیش کرتی ہیں۔ لاٹھی چارج احتجاجی مقام سے کہیں آگے تک پھیل گیا تھا۔ روہت کمار، جو سپارکی کمپنی کے سیکٹر 149 کا مزدور ہے، دوپہر 1 بجے پولیس نے اسے اس وقت سر اور ٹانگوں پر مارا جب وہ اپنی شفٹ ختم کر کے گھر جا رہا تھا۔ دی فیڈرل کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ایک اور خاتون نے بیان دیا کہ:
”اتر پردیش میں پولیس بے قابو ہو چکی ہے۔ میں اپنے بچے کے ساتھ گھر جا رہی تھی۔ پولیس نے مجھے مارا اور میرے بچے کو بھی نہیں بخشا۔“
ایک گھریلو مزدور جو ہڑتال میں شامل تھا، نے کہا:
”پولیس ہماری پرواہ نہیں کرتی۔ وہ (مالکان) انہیں فوراً بلا لیتے ہیں۔ ذرا سی کوئی بات ہوتی ہے تو پولیس وہاں پہنچ جاتی ہے۔ وہ امیروں کی خدمت کرتے ہیں نہ کہ ہماری۔“
دارالحکومت کے مزدور پولیس کے لاٹھی چارج سے یہ نتائج اخذ کر رہے ہیں۔
یکجہتی مظاہرے
سی آئی ٹی یو (کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ) سے وابستہ ایک ٹریڈ یونین) نے ہڑتال کرنے والے مزدوروں کے ساتھ یکجہتی کے طور پر ایک ملک گیر مظاہرہ منظم کیا۔ اس سنگین جرم کی وجہ سے اس کے رہنماؤں کو گھر میں نظر بند کر دیا گیا ہے۔ یہ بھارتی ریاست کی اس طبقاتی جدوجہد کی لہر کے سامنے گھبراہٹ اور خوف کی علامت ہے۔
یہ احتجاج قریبی علاقوں کے ساتھ پورے انڈیا میں پھیل گئے ہیں اور پھر انڈیا کی 28 میں سے 11 ریاستوں تک توسیع اختیار کر گئے، شمال میں جموں و کشمیر سے لے کر مشرق میں آسام تک، ہماچل پردیس، کیرالہ، بیہار، جھارکھنڈ، حیدرآباد اور دوسرے کئی علاقوں تک۔
یہ بھارت میں 2020ء میں کرونا کی وبائی ہجرت کے بحران کے بعد سے مزدوروں کی سب سے بڑی خود رو تحریک ہے اور ممکنہ طور پر 2016ء کی عام ہڑتال کے بعد کے سے بھی۔
NCRکے مزدوروں کی حالت پورے انڈیا میں دیگر متاثرہ صنعتوں کے مزدوروں پر اثر انداز ہو رہی ہے۔ یہی وہ چیز ہے جس سے حکمران طبقہ خوفزدہ ہوتا ہے۔ سورت اور ہزیرا سے تھوڑا فاصلے پر موربی واقع ہے، جو گجرات کے مٹی کے برتن بنانے کا مرکز ہے۔ وہاں ایندھن کے بحران نے 550 فیکٹریوں میں مزدوروں کو بے روزگار کر دیا ہے۔
اس وسیع یکجہتی اور اس میں موجود محنت کش طبقے کی دیوہیکل تحریک کو ابھارنے کی صلاحیت نے انڈیا کے حکمران طبقے کو شدید اضطراب میں مبتلا کر رکھا ہے۔
اسی وجہ سے ”پاکستانی شرپسندوں“ کے نام پر ان اثرات سے متعلق ایک بڑا شور و غوغا پیدا کیا جا رہا ہے جو بھارتی ریاست کا ایک روایتی ہتھکنڈا سمجھا جاتا ہے۔ الزام یہ ہے کہ ان شرپسندوں نے یہ تحریک گویا اچانک اور واٹس ایپ QR کوڈز کے ذریعے پیدا کی ہے۔
جلتی ہوئی گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کی ویڈیوز بغیر کسی سیاق و سباق کے پھیلائی جا رہی ہیں۔ مالکان پریس میں بیان دے رہے ہیں کہ یہ ہڑتالیں مکمل طور پر ’غلط معلومات‘ کی وجہ سے ہو رہی ہیں۔
ریاست کی طرف سے پھیلایا جانے والا یہ پروپیگنڈا واضح طور پر بکواس ہے۔ یہ پاکستان کے حوالے سے مسلسل خوف پھیلانے کے اصل مقصد کو ظاہر کرتا ہے کہ مزدوروں کو تقسیم کیا جائے اور ان کی صفوں میں شک پیدا کیا جائے۔
آدتیہ آنند جو ایک سافٹ ویئر انجینئرنگ گریجویٹ تھا اور بعد میں نوئیڈا میں موجود حالات کو رپورٹ کرنے اور مزدوروں کو منظم کرنے کے لیے سرگرم کارکن بن گیا، کو تامل ناڈو میں نوئیڈا میں ہونے والی ہڑتالوں کے مبینہ ’ماسٹر مائنڈ‘ کے طور پر گرفتار کر لیا گیا ہے۔ اس کی گرفتاری کے لیے 1 لاکھ (تقریباً 1070 امریکی ڈالر، یا ڈکسن میں ایک مزدور کی 9 سے 12 ماہ کی تنخواہ کے برابر) کا انعام رکھا گیا تھا۔
ریاستی جبر کا یہ ایک انتہائی قابلِ مذمت اقدام ہے جو نوئیڈا کے مزدوروں کو اس حد تک کمزور یا مطیع سمجھتا ہے کہ وہ خود منظم نہیں ہو سکتے۔ انڈیا کے انقلابی کمیونسٹ اس گرفتاری کی پوری شدت سے مذمت کرتے ہیں۔ ہم آنند اور تمام گرفتار شدہ مزدوروں کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہیں۔
آگے کیا کِیا جائے؟
خوف کی شکار حکومت نے ایک طرف جبر کو جاری رکھا ہے اور ساتھ NCR میں کم از کم اجرت میں 21 فیصد اضافے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن یہ اب بھی مزدوروں کے اس مطالبے کا صرف 70 فیصد ہے جسے وہ اپنے زندہ رہنے کے لیے بطور ضرورت بتا رہے ہیں اور یہ سی آئی ٹی یو (CITU) کی طرف سے پیش کیے گئے مطالبے کا صرف نصف ہے۔

خوف کی شکار حکومت نے ایک طرف جبر کو جاری رکھا ہے اور ساتھ NCR میں کم از کم اجرت میں 21 فیصد اضافے کا اعلان کیا ہے۔
خود مالکان بے شرمی سے یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ ایران جنگ کے دباؤ کی وجہ سے وہ 20000 روپے کی اس معمولی رقم کی ادائیگی کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ ہم کہتے ہیں: ہمیں ثبوت دکھاؤ! NCR میں ہر کمپنی کے مزدوروں کو حساب کتاب دیکھنے دیے جائیں۔ اگر کمپنیاں غلاموں جیسی اجرتوں کے بغیر نہیں چل سکتیں تو سب سے پہلے مالکان کو برطرف کیا جانا چاہیے اور فیکٹریوں کو مزدوروں کے جمہوری کنٹرول میں دے دیا جانا چاہیے!
ٹریڈ یونین رہنماؤں کی قیادت میں ایک لڑاکا جدوجہد پوری صورتحال کو مکمل طور پر بدل سکتی ہے اور ریاستوں اور مودی حکومت پر انتہائی دباؤ ڈال سکتی ہے۔ تنخواہوں میں 21 فیصد کا اضافہ ایک بہتر زندگی گزارنے کے لیے انتہائی غیر موزوں ہے۔ لیکن یہ رعایت بھی صرف اس خوف کی وجہ سے دی گئی کہ کہیں یہ تحریک پھیل نہ جائے اور ایک انقلابی کردار اختیار نہ کر لے۔ اس تحریک کے ساتھ یکجہتی مظاہروں کی لہر اس بات کی علامت ہے کہ عوام ایک مستحکم جدوجہد کرنے کے لیے تیار ہیں۔
’یکجہتی مظاہرے‘ منظم کرنے کی بجائے تریڈ یونینوں کو عوام میں موجود عدم اطمینان کی چنگاری کو مزید بھڑکانا چاہیے۔ انڈیا میں اس وقت ہڑتالوں کی لہر کے ابھرنے کے حالات موجود ہیں جو حکمرانوں کے دلوں میں خوف کی لہر کو جنم دے سکتی ہے۔ اس وقت باہم مربوط لامتناہی معاشی ہڑتالوں کی کمپیئن جس کے ذریعے ماضی میں کھونے والی ہر چیز کو واپس چھین لیا جائے، کا آغاز کیا جانا چاہیے اور اسے سیاسی مطالبے کے ساتھ جواڑ جائے: مودی مردہ باد! محنت کشوں اور کسانوں کی حکومت زندہ باد!
اس کا مطلب ہے کہ ٹھوس مطالبات رکھے جائیں:
1۔ نوئیڈا کے مزدوروں کو جب تک ماہانہ 20 ہزار روپے تنخواہ نہ مل جائے، کام پر واپسی نہیں ہونی چاہیے۔
2۔ آدتیہ آنند اور تمام گرفتار مزدوروں کو رہا کیا جائے!
3۔ سی آئی ٹی یو (CITU) رہنماؤں کی نظر بندی ختم کی جائے۔
4۔ ہڑتالی مزدوروں کے خلاف کسی قسم کی انتقامی کاروائی نہ کی جائے اور اسے NCR میں بھرتی اور برطرفی پر یونین کے کنٹرول کے ذریعے نافذ کیا جانا چاہیے۔
5۔ حساب کتاب کھولے جائیں! اگر مالکان دعویٰ کرتے ہیں کہ 20 ہزار ماہانہ اجرت ممکن نہیں ہے، تو فیکٹریوں کے مزدوروں کو مالی حساب کتاب دکھائے جائیں اور وہ خود فیصلہ کریں کہ اجرتوں میں اضافے کو کیسے پورا کیا جائے۔
6۔ مزدوروں کی اجرتیں ادا کرو یا اس کی قیمت چکاؤ! جو فیکٹریاں زندہ رہنے کے قابل اجرت ادا نہیں کر سکتیں انہیں ضبط کر کے مزدوروں کے جمہوری کنٹرول میں دے دیا جائے۔
7۔ مودی اور اس کا رجعتی سرمایہ داروں کا ٹولہ مردہ باد! محنت کشوں اور کسانوں کی حکومت زندہ باد!
جو بات واضح ہے وہ یہ ہے کہ یہ مظاہرہ ایک وسیع تر رجحان کی ایک اور مثال ہے۔ توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمت عدم مساوات کو بڑھا رہی ہے اور غریبوں کی حالت کو مزید خراب کر رہی ہے۔ ایسی ہی صورتحال نے بھارت کے گرد موجود تمام ممالک سری لنکا، بنگلہ دیش، نیپال اور میانمار میں جین زی انقلابات کو جنم دیا تھا۔
بھارت بھی اس رجحان سے مستثنیٰ نہیں ہے اور حالیہ ہڑتال کی لہر جیسے واقعات اس بات کا اشارہ ہیں کہ آگے کیا آنے والا ہے۔

















In defence of Marxism!
Marxist Archives
Progressive Youth Alliance