مشرق وسطیٰ میں جنگ اور سعودی عرب پر اثرات

آج مشرق وسطیٰ میں دنیا کی سب سے خونخوار سامراجی قوت امریکہ اور اس کے بے قابو پاگل کتے اسرائیل کی جانب سے ایران پر مسلط کردہ جنگ کو تقریباً28 دن ہو چکے ہیں۔ اس جنگ نے پورے مشرق وسطیٰ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے اور خطے کے تقریباً تمام ممالک کی سرزمین اس وقت میدان جنگ بن چکی ہے۔ اس خونریزی سے پہلے ایران نے خبردار کر رکھا تھا کہ اگر جنگ مسلط کرنے کی کوشش کی گئی تو مشرق وسطیٰ میں موجود امریکی عسکری اڈوں اور تنصیبات کو نشانہ بنایا جائے گا اور اگر کسی ملک کی سرزمین ایران پر حملوں کے لئے استعمال ہوئی تو اس ملک کو بھی دشمن تصور کرتے ہوئے نشانہ بنایا جائے گا۔ اس کے ساتھ آبنائے ہرمز کو بھی بند کیا جائے گا جہاں سے تیل کی عالمی سپلائی کا 20 فیصد گزرتا ہے۔

ان تمام اقدامات کا مقصد یہ ہے کہ جنگ کی سیاسی، معاشی اور سماجی قیمت اتنی زیادہ اور تکلیف دہ ہو کہ امریکہ اور اسرائیل جنگ بندی پر مجبور ہو جائیں اور دوبارہ ایسا کرنے کی جرات نہ کر سکیں۔ لیکن امریکہ نے ہمیشہ کی طرح مذاکرات کا ڈھونگ رچاتے ہوئے خطے میں دو بحری بیڑے اور اسرائیل، اردن، متحدہ عرب امارات اور کویت کے اڈوں پر ہوائی جہاز اور اسلحہ بھیج کر جنگی تیاری جاری رکھی۔ جب مذاکرات حتمی مراحل میں داخل ہوئے تو نتن یاہو کی ایماء پر ٹرمپ نے عین موقع پر شب خون مارا جس میں آیت اللہ خامنائی سمیت اعلیٰ قیادت کے 40 افراد جاں بحق ہو گئے۔ لیکن اس مرتبہ ایرانی تیار تھے۔ اس کے علاوہ ایرانی ریاست نے پچھلے چالیس سال سے اسی موقع کی تیاری بھی کر رکھی ہے۔ چند گھنٹوں کے اندر پورے مشرق وسطیٰ میں موجود تمام امریکی عسکری اڈے ایرانی میزائیلوں اور ڈرون حملوں کی زد میں تھے۔

یاد رہے کہ اس وقت پورے مشرق وسطیٰ میں 19 امریکی تنصیبات موجود ہیں جن میں 8 مستقل فوجی اڈے ہیں۔ ان پر تقریباً 50 ہزار امریکی فوجی تعینات ہیں۔ ان میں سب سے بڑے اڈے قطر میں العدید ائر بیس (امریکی سنٹرل کمانڈ کا فارورڈ ہیڈکوارٹر)؛ بحرین میں نیول سپورٹ ایکٹیوٹی (امریکی بحریہ کی پانچویں فلیٹ کا ہیڈکوارٹر)؛ کویت میں کیمپ عارف جان (امریکی فوج کا مرکزی لاجسٹک مرکز)، علی السالم ائر بیس اور کیمپ بورہنگ (لاجسٹک)، عرب امارات میں الدھافرہ ائر بیس (ائر آپریشنز سپورٹ) اور جبل علی پورٹ میں ائر کرافٹ کیریئرز کی اکثر موجودگی؛ عراق میں انبار صوبہ میں عین الاسد ائر بیس، کردستان علاقہ میں اربیل ائر بیس (ٹریننگ اور سیکورٹی مشنز)؛ سعودی عرب میں شہزادہ سلطان ائر بیس (ائر ڈیفنس)؛ اردن میں مووافق السالتی ائر بیس (332 ائر ایکسپیڈیشنری ونگ) اور ترکی میں انسرلک ائر بیس (ایحادی مشنز کے لئے ایک جوائنٹ اڈہ) شامل ہیں۔ اس کے علاوہ امریکہ شام میں کچھ اڈے رکھتا ہے جبکہ اسرائیل میں بھی ایک اڈہ اور اسلحہ اسٹوریج موجود ہیں۔ ایرانی ریاست نے واضح موقف اپنایا ہے کہ ان کی کسی خلیجی ملک سے کوئی جنگ نہیں ہے لیکن حق دفاع کے تحت وہ تمام امریکی اور اسرائیلی اڈوں اور تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے۔

اس جنگ نے اپنے پہلے لمحے میں مشرق وسطیٰ سمیت پوری دنیا کی سیاست اور معیشت کو ہمیشہ کے لئے تبدیل کر کے رکھ دیا ہے۔ ہماری نظروں کے سامنے طاقتوں کا ایک نیا، غیر مستحکم اور پر انتشار عدم توازن ابھر رہا ہے جو اپنی کمزوری اور ناپائیداری میں بے مثال ثابت ہو گا۔ فی الحال ہمارا موضوع بحث ان اہم تاریخی تبدیلیوں کا تجزیہ نہیں ہے بلکہ مشرق وسطیٰ کی سب سے بڑی معیشت، ریاست اور خطے میں امریکی اتحاد کے کلیدی سرخیل سعودی عرب کا جائزہ لینا ہے کہ اس تبدیل شدہ صورتحال کا اندرون ملک طبقاتی جدوجہد پر کیا اثر ہو گا اور مستقبل میں یہاں انقلابی تحریکیں کیا شکل اختیار کر سکتی ہیں۔

اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ آج کے مشرق وسطیٰ کی تخلیق میں 2011ء کی عرب بہار انقلابی لہر نے کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ جب عرب بادشاہتوں کو اندازہ ہوا کہ عوامی بغاوت ہو سکتی ہے، اس کے نتیجے میں تختے الٹ سکتے ہیں اور امریکہ ان کی حفاظت نہیں کر سکتا تو ہر ملک نے اپنی عوام، خاص طور پر نوجوانوں کو پرامن رکھنے اور اپنے اقتدار کو قائم و دائم رکھنے کے لئے اقدامات کرنے شروع کر دیے۔ سعودی عرب میں نوجوان شہزادے محمد بن سلمان نے شہزادوں کی ایک نئی نسل کو ساتھ ملا کر شاہی خاندان میں مختلف دھڑوں اور عمر رسیدہ قائدین کو سختی سے کچل ڈالا جس کے بعد وہ اپنے باپ شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی سرپرستی میں ولی عہد اور وزیر دفاع بن گیا۔ پھر اوپر سے بڑے پیمانے پر اصلاحات کی گئیں جن میں سخت گیر وہابی ملائیت کو ختم کرنا، خواتین کے حوالے سے ڈرائیونگ اور روزگار جیسی بے شمار اصلاحات اور معیشت کی لبرلائزیشن کا ایک دیوہیکل عمل شروع کیا گیا۔ تیل کی معیشت پر انحصار کو کم سے کم کرنے کے لئے ایک دیوہیکل کینیشین تجربہ شروع کیا گیا۔ اس کے لئے تعمیرات، سیر و سیاحت، سروسز سیکٹر، کارپوریٹ سرمایہ کاری اور مذہبی سیاحت کو دیوہیکل وسعت دی گئی۔

اس کام میں کلیدی کردار PIF (خودمختار فنڈ: پبلک انوسٹمنٹ فنڈ) نے ادا کیا جس کے ذریعے اندرون اور بیرون ملک سرمایہ کاری کے دائرہ کار کو بڑھایا گیا۔ اس کے تحت سعودی ایکویٹی ہولڈنگز (اندرون ملک کمپنیوں میں سرمایہ کاری)؛ سعودی گیگا پراجیکٹس (نیوم، قیدیا شہر، بحیرہ احمر پراجیکٹ)؛ عالمی تزویراتی سرمایہ کاری (میٹا، بوینگ، سٹی گروپ، ڈزنی، نینٹینڈو، فٹ بال کلب، گالف)؛ پراپرٹی اور انفرسٹرکچر (سعودی پراپرٹی اور انفرسٹرکچر) اور سیکٹر تعمیر و ترقی (نئے سیکٹر جیسے ائروسپیس، دفاع، گرین انرجی وغیرہ) کو منظم کیا گیا۔ اس کے ساتھ نوجوانوں کو مصروف و مشغول رکھنے کے لئے بڑے پیمانے پر سینما، کنسرٹ، پارٹیوں، تھیٹر، تفریحی پارکوں وغیرہ کا اجراء کیا گیا۔ پھر سعودی عوام کو بے تحاشہ قرضہ جات جاری کئے گئے تاکہ وہ گھر خریدیں یا تعمیر کر سکیں، نئی سرمایہ کاری کر سکیں یا پھر عمومی تفریح کا سامان کر سکیں۔ انشورنس اور دیگر مالیاتی کاروباروں کو دیوہیکل توسیع دی گئی۔ اس کے ساتھ خارجی محنت کشوں کی کم بختی کا سامان بھی کیا گیا۔ یعنی ان محنت کشوں کی صورت میں سماج کا ایک دیوہیکل حصہ ریال کما کر گھر واپس بھیج رہا تھا۔ یہ راستہ روکنے کے لئے خارجی محنت کشوں پر بچوں اور بیوی کو ساتھ رکھنے پر ماہانہ ٹیکس لگا دیا گیا۔ اب محنت کشوں سے لی جانے والی یہ رقم بھی ریاستی آمدن کا ذریعہ بن گئی ہے۔

پھر ہر چیز پر 15 فیصد VAT (ویلیو ایڈڈ ٹیکس) لاگو کر دیا گیا جس نے عمومی مہنگائی میں اضافہ کیا۔ دیوہیکل تعمیراتی کام شروع کر دیے گئے جن میں میٹرو ٹرین اور بس سروسز جیسے عوامی پراجیکٹس کے ساتھ دی لائن اور نیوم جیسے تخیلاتی اور دیومالائی پراجیکٹس بھی شروع کر دیے گئے۔ اس سارے کام میں مغرب کی بڑی مشاوراتی کمپنیاں جیسے میکنزے، پرائس واٹر کوپر، ارنسٹ اینڈ ینگ؛ مالیاتی ادارے جیسے جے پی مارگن، سٹی بینک؛ سرمایہ کاری ادارے جیسے بلیک راک، وین گارڈ وغیرہ سب شامل ہیں۔ ان تمام اصلاحات کو ویژن 2030ء کا نام دیتے ہوئے ولی عہد شہزادے محمد بن سلیمان نے شاہی خاندان اور ملک میں کو کی بنیادیں فراہم کیں کہ ایک طرف معیشت کو متنوع بنا کر اور وسعت دے کر تیل پر انحصار کم ہو گا، نجی سیکٹر کے ذریعے روزگار اور تفریح کی فراہمی کے ذریعے نوجوان نسل پر امن رہے گی اور اس”امن و شانتی“ کی جنت میں ملنے والے اثر و رسوخ کی بنیاد پر آل سعود کی حکمرانی جاری رہے گی جس میں اب نوجوان طالع آزماء شہزادے برسراقتدار ہوں گے۔

یہ ایک اچھا خواب تھا لیکن ہر خواب کی طرح یہ بھی حقیقت سے ٹکرا کر چکنا چور ہو چکا ہے۔ عالمی معیشت 2007-08ء کے بحران کے بعد مسلسل گراوٹ اور بحران کا شکار تھی جس میں 2020ء میں کورونا وباء اور لاک ڈاؤن نے ایک عمل انگیز کا کردار ادا کیا۔ پھر خطے میں اپنی ہی جاری کردہ یمن جنگ، لیبیا اور شامی خانہ جنگی میں سامراجی مداخلت، شمالی افریقہ اور مغرب (مراکش، تیونس، الجیریا، ماوریتانیا اور لیبیا) میں مداخلت، ایران۔امریکہ۔اسرائیل کی بڑھتی چپقلش اور اب کھلی جنگ، دیگر خلیجی طاقتوں جیسے عرب امارات اور قطر کے ساتھ سامراجی مقابلہ بازی وغیرہ نے تمام منصوبوں کو خاک میں ملا دیا ہے۔ پھر رہی کسر دیوانے کا خواب ویژن 2030ء کی ناکامی نے پوری کر دی ہے جس کے تقریباً تمام پراجیکٹس میں مقامی اور عالمی تعمیراتی اور مشاورتی کمپنیوں نے بے پناہ پیسہ کما لیا ہے لیکن دس سال بعد بھی دکھانے کو کچھ خاص نہیں ہے۔ پھر، عالمی سطح پر معاشی مسابقت، پیداواری قوت، تکنیکی جدت اور معاشی تنوع کی وسعت کے ذریعے ہی ممکن ہے جو وقوع پذیر نہیں ہو سکے۔

آج بھی تیل کی آمدن سعودی GDP کا 45 فیصد اور بجٹ کا تقریباً 90 فیصد ہے۔ تمام تر پراجیکٹس، سوشل سیکٹر میں پھیلاؤ وغیرہ غرضیکہ ہر چیز کا دارومدار تیل کی آمدن اور ریاستی اخراجات پر منحصر ہے۔ پچھلے سال کے اختتام پر سعودی عرب نے کچھ اعلانیہ اور کچھ خاموشی سے اپنا تمام ویژن 2030ء تبدیل کر دیا ہے۔ سابق پراجیکٹ جنہیں تقریباً ایک دہائی تک گیم چینجر اور خطے اور دنیا کے لئے مشعل راہ کہا جاتا رہا انہیں ختم کر دیا گیا اور اب ایک نئی ٹرک کی بتی آرٹی فیشل انٹیلی جنس، ڈیٹا سنٹر اور دیگر کے پیچھے عوام کو لگانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ 2015ء میں قرضوں کا حجم GDP کا 6 فیصد تھا جو اب بڑھ کر 2025ء میں 30.6 فیصد ہو چکا ہے۔یہ 450 فیصد سے زیادہ اضافہ ہے! اسی کارن موجودہ بجٹ میں 50 ارب ڈالر کا خسارہ متوقع ہے۔ اگر آبادی کو دیکھا جائے تو 63 فیصد آبادی (تقریباً 2 کروڑ) کی عمر 30 سال سے کم ہے۔ 2019ء کی ایک رپورٹ کے مطابق سعودی عوام میں شرح غربت 10-20فیصد ہے جبکہ کچھ اندازوں کے مطابق یہ 35 فیصد تک ہے۔ اس وقت اوسطاً 3 لاکھ سے 3 لاکھ 50 ہزار نوجوان سالانہ محنت کی منڈی میں داخل ہو رہے ہیں اور کھپت تقریباً 1 لاکھ 50 ہزار ہے۔ یعنی لیبر مارکیٹ میں سالانہ داخل ہونے والے 50-60فیصد نوجوان بیروزگار ہیں یا کوئی چھوٹا موٹا کام جیسے کریم کار سروس، فوڈ ڈلیوری وغیرہ کرنے پر مجبور ہیں۔

اس کے ساتھ 2023ء میں شروع ہونے والی غزہ جنگ نے بھی نوجوانوں کے شعور پر بے پناہ اثر ڈالا ہے جنہوں نے صبح شام فلسطینی عوام کے قتل عام کے ساتھ اپنی ریاست کے خصی پن اور نام نہاد ابراہیم معاہدوں کے تحت عرب بادشاہتوں کی اسرائیل سے مفاہمت کی پالیسی دیکھی ہے۔ کچھ رائے شماریوں کے مطابق 91 فیصد سعودی ایک فعال فلسطینی ریاست کے قیام کے بغیر اسرائیل کے ساتھ کسی قسم کی مفاہمت کے شدید خلاف ہیں۔ خود ولی عہد محمد بن سلمان نے امریکی سیکرٹری برائے خارجہ امور انتھونی بلینکن کو کہا تھا کہ مجھے فلسطینی مسئلے سے کوئی سروکار نہیں ہے لیکن میری عوام کو سروکار ہے۔ پچھلے دس سالوں میں دہائیوں سے چلے آ رہے نظام یعنی مکمل اطاعت اور جمہوری حقوق کی عدم موجودگی میں یقینی ریاستی روزگار، مفت صحت اور تعلیم اور نا ہونے کے برابر مہنگائی، صفر ٹیکس اور ریاستی سبسڈیوں میں اب بتدریج تبدیلیاں کر کے ٹیکس بڑھوتری، سبسڈیوں میں مسلسل کٹوتیاں، ریاست پر انحصار کم کر کے نجی سیکٹر میں نوکریوں کو فروغ دینے کی کوششوں اور مسلسل مہنگائی نے نوجوانوں کی اکثریت کے لئے حالات زندگی بہت مشکل کر دیے ہیں۔ یہ وہ صورتحال ہے جس میں ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے سامراجی حملے کا آغاز ہوا جس نے پورے مشرق وسطیٰ اور پھر چند دنوں میں پوری دنیا کی معیشت کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

 

اس وقت سعودی عرب کو شدید معاشی مشکلات کا سامنا ہے۔ معیشت کا پہیہ جو پہلے سے سست روی کا شکار تھا اور قرضہ جات میں مسلسل اضافہ ہو رہا تھا (2026ء کے پہلے تین مہینوں میں 20 ارب ڈالر سے زیادہ قرضہ لیا جا چکا ہے) اب جنگ کی وجہ سے سب سے بڑے تیل کے ذخیرے راس تنورا میں پیداوار میں پڑنے والی رکاوٹ اور آبنائے ہرمز سے ترسیل کی بندش سے گھمبیر حالات کا شکار ہو رہی ہے۔ ایک طرف امریکہ کا سعودی عرب پر ایران کیخلاف جنگ میں کھلے عام شمولیت اختیار کرنے کا شدید دباؤ ہے تو دوسری طرف ایران کے میزائل اور ڈرون ہیں جو مسلسل امریکی تنصیبات کے ساتھ ساتھ اب تیل انفراسٹرکچر کو بھی نشانہ بنا چکے ہیں۔ مزید برآں سعودی عوام میں بھی اس جنگ میں شمولیت کی سخت مخالف ہے۔ لہٰذا اس وقت 1923ء میں برطانوی و امریکی سامراج کی قبائلی سماج پر قائم کردہ یہ مصنوعی ریاست آج شدید ترین خطرات کا شکار ہے۔ ولی عہد کا ہر معاشی اور خارجہ پالیسی جوا ناکام ہو چکا ہے جبکہ ایک طرف شدید ایرانی مزاحمت اور دوسری طرف سعودی ریاست کی مفاہمت نے سعودی عوام کے ذہنوں میں انتہائی اہم سوالات کو جنم دیا ہے۔

اگر ایران دنیا کی اولین سامراجی قوت امریکہ، خطے کی سب سے بڑی عسکری و سامراجی قوت اسرائیل اور چھ خلیجی ممالک پر اتنے دلیرانہ حملے کر سکتا ہے تو پھر جدید ترین مغربی ہتھیار وں سے لیس سعودی اور دیگر علاقائی بادشاہتیں یہی کام اسرائیل کے خلاف کیوں نہیں کر سکتیں؟ پھر ملک میں انتہائی مہنگے داموں کھڑا کیا گیا دفاع کا سارا نظام ناکارہ اور ناکام ثابت ہو چکا ہے جو ایرانی میزائیلوں اور ڈرونز سے تحفظ دینے میں ناکام رہا ہے اور ساتھ ہی سعودی اور دیگر عرب بادشاہتوں کو امریکہ کی جانب سے دی گئی دفاعی گارنٹیوں کی اوقات بھی کھل کر سب کے سامنے آ گئی ہے۔ عوام نے وہ مناظر بھی دیکھے جب ٹرمپ نے پچھلے سال مشرق وسطیٰ میں امارات، قطر اور سعودی عرب کا دورہ کیا تھا اور عرب حکمرانوں نے انتہائی ہتک آمیز گڑگڑاہٹ کے ساتھ 2 ٹریلین ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری کے وعدوں اور معاہدوں کے ساتھ ٹرمپ کو دفاع کی مد میں رشوت دی تھی لیکن جس کا کوئی فائدہ نہیں ہوا ہے۔

ایک طرف یہ صورتحال ہے دوسری طرف ملک کا سیاسی، معاشی و سماجی معاہدہ عمرانی ٹوٹ رہا ہے۔ آج سے ڈھائی سو سال پہلے جب امریکہ میں برطانوی سامراج نے چائے پر ٹیکس لگایا تھا تو وہاں نعرہ بلند ہوا تھا ”نمائندگی کے بغیر ٹیکس نامنظور!“۔ موجودہ سیاسی اور معاشی حالات میں سعودی عرب میں بھی کچھ ایسی ہی کیفیت بن سکتی ہے۔ بڑھتی معاشی بدحالی کے نتیجے میں نئے ٹیکسوں میں اضافے کے ساتھ ریاستی سبسڈیوں اور فلاحی اخراجات میں مزید کٹوتیاں ہوں گی جبکہ جبراً ان پر عمل درآمد کرانے کی کوششیں بھی کی جائیں گی۔ لیکن یہاں کوئی جدید ریاستی نظام جیسے پارلیمنٹ، عدلیہ، سیاسی پارٹیاں، سول سوسائٹی وغیرہ موجود نہیں ہیں اور جو بھی سیاسی سرگرمی ہو گی وہ براہ راست ریاست یعنی بادشاہت کے مدمقابل ہو گی۔

مقامی آبادی کے ساتھ ساتھ سعودی عرب کی کل آبادی میں 42 فیصد (1کروڑ 70 لاکھ) سے زیادہ خارجی محنت کش ہیں جو شدید ترین استحصال کا شکار ہیں۔ لیبر کیمپوں میں جنگی قیدیوں سے بدتر حالات اور کئی مہینوں تنخواہوں کی عدم موجودگی میں ذلت آمیز حالات کام میں پھنسے یہ محنت کش ایک دیوہیکل سرکش قوت ثابت ہو سکتے ہیں۔ ہم نے کورونا وباء لاک ڈاؤن کے دوران محنت کشوں کے پرتشدد احتجاج دیکھے ہیں جن میں کچھ معروف کمپنیوں کے آفس اور بسیں نظر آتش کر دیے گئے تھے۔ پھر سعودی عرب کی تقریباً 20 فیصد آبادی شیعہ ہے۔ اس کی سب سے بڑی تعداد مشرقی صوبے میں مرکوز ہے جہاں تیل کے سب سے بڑے ذخائر، اسٹوریج اور ریفائنریاں موجود ہیں۔ تاریخی طور پر شدید جبر اور سفاکی کی شکار یہ آبادی جنگ کی طوالت کے ساتھ تیزی سے متحرک ہو سکتی ہے۔

پھر خود شاہی خاندان میں پرانے برجوں، دیگر قبائل کے ساتھ پرانے تعلقات، سماج میں موجود بڑے کاروباری خاندانوں اور مراعات یافتہ ملاء اشرافیہ کی گردن پر پیر رکھ کر ولی عہد اور اس کے گرد نوجوان شہزادوں کا ٹولہ اقتدار پر براجمان ہوا ہے اور وہ پہلے کی طرح آنے والے عرصے میں بھی مسلسل محلاتی سازشوں اور دیگر عوامل کا شکار ہی رہے گا۔ اب جبکہ اس کا تمام سیاسی بیانیہ اور معاشی منصوبہ پٹ چکا ہے تو ایک مرتبہ پھر شاہی خاندان، ملاء اشرافیہ اور سماج کی پچھڑی پرتیں (جنہیں عرصہ دراز افغانستان، شام، عراق اور دیگر ممالک میں بطور جہادی استعمال کیا جاتا رہا ہے) جنہیں وقتی طور پر پسپاء کر دیا گیا تھا، ایک مرتبہ پھر فعال اور جارح ہو سکتی ہیں۔

اس ساری کیفیت میں یہ سمجھنا مشکل نہیں ہے کہ بظاہر مضبوط اور مستحکم نظر آنے والا سعودی عرب درحقیقت کئی اندرونی اور بیرونی مسائل و تضادات کا شکار ہے۔ جدید سیاسی روایات اور ڈھانچوں کی عدم موجودگی میں ملک تیزی کے ساتھ اندرونی انتشار اور خلفشار کی جانب بڑھ سکتا ہے۔ اس صورتحال میں خارجی اور مقامی محنت کشوں کا ایک متحد اکٹھ ہی ملک کو اندرونی اور بیرونی بربریت سے بچا سکتا ہے۔ سعودی بادشاہت نے اندرون ملک، خطے اور دور دراز کے ممالک جیسے افغانستان، سوڈان وغیرہ میں کبھی کسی انقلابی تحریک کو کامیاب نہیں ہونے دیا بلکہ ہر ممکن کوشش کرتے ہوئے اسے کشت و خون میں ڈبونے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے۔ لیکن جب ایک محنت کش تحریک اس رجعتی قبائلی بادشاہت کا انقلابی خاتمہ کرتے ہوئے یہاں ایک مزدور ریاست اور جدید غیر طبقاتی سوشلسٹ سماج کی بنیاد رکھے گی تو یہاں سے پورے مشرق وسطیٰ کی رضاکارانہ سوشلسٹ فیڈریشن کے بننے کے عمل کا آغاز ہو گا۔

 

Comments are closed.