عالمی سیاست اور انقلابی کمیونسٹ تحریک

|تحریر: آدم پال|

عالمی سطح پر سرمایہ دارانہ نظام کا بحران شدت اختیار کرتا جا رہا ہے اور اس کے اثرات دنیا کے ہر خطے پر مرتب ہو رہے ہیں۔ اس بحران کا اظہار ہر ملک کے معاشی بحران کے ساتھ ساتھ وہاں کی سیاست میں بھی ہو رہا ہے اور سماج کے ہر پہلو اور ہر شعبے میں یہ بحران اب کھل کر اپنا اظہار کر رہا ہے۔ پوری دنیا ایک بہت بڑے ہیجانی دور سے گزر رہی ہے جس میں پہلے سے مروجہ طور اطوار، اقدار اور سوچیں مکمل طور پر تبدیل ہو رہے ہیں۔ درحقیقت دوسری عالمی جنگ اور بعد ازاں سوویت انہدام کے بعد بننے والا ورلڈ آرڈر ٹوٹ چکا ہے اور اب ایک نئی دنیا اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ طلوع ہو رہی ہے۔ یہ نئی دنیا پرانی دنیا کے ہی بطن سے پیدا ہوئی ہے لیکن اس کے سماجی تعلقات، سیاست، معیشت اور بہت کچھ پہلے سے یکسر مختلف بھی ہے بلکہ بہت سے حوالوں سے یہ پہلے والی دنیا سے بالکل الٹ ہے۔

بیسویں صدی اور طاقتوں کا توازن

ایک طویل عرصے تک امریکی سامراج پوری دنیا پر حکمرانی کرتا رہا ہے۔ خاص طور پر بیسویں صدی میں امریکہ نے ایک جدید سرمایہ دارانہ ترقی یافتہ ملک سے دنیا کی سب سے بڑی سامراجی طاقت کا سفر طے کیا۔ اس سفر میں دو عالمی جنگوں اور سرمایہ دارانہ نظام کے عروج و زوال نے اہم کردار ادا کیا اور جہاں برطانوی، فرانسیسی اور دیگر یورپی سامراجی طاقتوں کا زوال نظر آیا وہاں امریکی سامراج مسلسل اپنے پر پھیلاتا گیا اور صدی کے اختتام تک وہ پوری دنیا پر اپنے پنجے گاڑ چکا تھا۔ بیسویں صدی میں امریکی سامراج کو سب سے بڑی ٹکر سوویت یونین کی جانب سے ملی، جہاں 1917ء کے انقلاب کے بعد منڈی کی معیشت اور سرمایہ دارانہ نظام کا خاتمہ کر کے منصوبہ بند معیشت اور مزدور ریاست قائم کی گئی۔ اس انقلاب نے پوری دنیا میں سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف انقلابات کی ایک نئی لہر کو جنم دیا اور آنے والی دہائیوں میں پوری دنیا دو حصوں میں تقسیم ہونے کی جانب گئی جس میں ایک جانب امریکی سامراج کی قیادت میں سرمایہ دارانہ نظام اور منڈی کی معیشت قائم تھی جبکہ دوسرے حصے میں منصوبہ بند معیشتیں اور مزدور ریاستیں تعمیر ہوئیں۔ گو کہ 1924ء میں روس کے انقلاب کے قائد لینن کی وفات کے بعد سٹالن کی قیادت میں انقلاب کی افسر شاہانہ زوال پذیری کا عمل شروع ہو چکا تھا اور مزدور ریاست کو مسخ کیا گیا تھا لیکن اس کے باوجود منصوبہ بند معیشت کی فوقیت نے دنیا کے درجنوں ممالک میں انقلابی تعمیر و ترقی کے نئے دور کا آغاز کیا جس میں چین اور کیوبا جیسے ممالک بھی شامل ہیں۔ بیسویں صدی کی آخری دہائی میں سٹالنزم کے جرائم کے باعث سوویت یونین کے انہدام نے امریکی سامراج اور اس کی بنیاد میں موجود سرمایہ دارانہ نظام کو مزید تقویت دی اور انہوں نے باقی کی دنیا میں بھی اپنے پنجے گاڑ کر پوری دنیا میں اپنی حکمرانی مسلط کرنے کا خواب پورا کیا۔

اکیسویں صدی اور سامراج

اکیسویں صدی کے آغاز پر امریکی سامراج اپنی پوری رعونت اور طاقت کے ساتھ دنیا پر حکمرانی کر رہا تھا۔ اس دوران ہزاروں میل دور افغانستان اور عراق میں بدترین جنگیں مسلط کی گئیں اور لاکھوں افراد کو ان سامراجی جنگوں کا ایندھن بنا دیا گیا۔ ان دور دراز کے ممالک میں بھی لاکھوں فوجیوں کو تمام تر رسد اور جدید ہتھیاروں کے ساتھ بھیج کر پوری دنیا میں اپنی طاقت کا لوہا منوایا گیا اور سامراجی لوٹ مار اپنی انتہاؤں کو پہنچ گئی۔ اس دوران دنیا بھر کی دانش اور علم کو بھی سامراج نے اپنا مطیع بنا لیا اور ہر طرح کے فلسفے اور نظریے اسی ورلڈ آرڈر کو آخری اور حتمی سچائی مان کر سجدہ ریز ہو گئے۔ گو کہ انقلابی کمیونزم کے نظریات پر کاربند مٹھی بھر افراد پوری دنیا میں اس سامراجی نظام اور اس کی طاقت کی زوال پذیری کی پیش گوئی کر رہے تھے اور اس کے خلاف جدوجہد کے لیے منظم ہو رہے تھے۔ لیکن پوری دنیا کا میڈیا، یونیورسٹیاں اور فلسفے اسی سامراج اور نظام کے گن گا رہے تھے۔ کہا جا رہا تھا کہ اب دنیا کی تاریخ کا خاتمہ ہو چکا ہے اور اب امریکی سامراج ہمیشہ کے لیے دنیا پر حکمرانی کرے گا اور دنیا میں کوئی بھی طاقت یا کوئی بھی دوسرا نظام اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ اس تمام عرصے کے دوران پوری دنیا میں پروان چڑھنے والی پوری نسلیں اسی سوچ اور نظریے کے تحت ہی جوان ہوئیں اور اسی کے تحت ہی بڑھاپے میں قدم رکھ دیا۔ ان کے سامنے امریکی سامراج ایک ایسی دیوہیکل طاقت تھی جسے کوئی بھی شکست نہیں دے سکتا تھا اور اس کی حکم عدولی کسی کے بس میں نہیں تھی۔ اس دوران ابھرنے والی تقریباً تمام سیاسی پارٹیاں اور تحریکوں کی قیادتیں بھی اسی سوچ پر سختی سے کاربند تھیں اسی لیے ہر تحریک کی کامیابی کا معیار یہی تھا کہ وہ چند اصلاحات یا مفادات حاصل کر لے اور اپنے آقاؤں سے بھیک میں کچھ امداد مانگ لے۔ آقاؤں کے خلاف فیصلہ کن انداز میں بغاوت یا انقلاب کی سوچ کو ہی کچل دیا گیا تھا اور اگر کوئی ایسا خیال پیش کرتا تو اسے ایسے دیکھا جاتا جیسے کوئی دیوانہ یا عقل دشمن ہو۔ وینزویلا اور لاطینی امریکہ کے کچھ دیگر ممالک میں اس دوران انقلابی لہروں کی اٹھان نظر آئی لیکن وہ بھی سرمایہ دارانہ نظام کے خاتمے کے فیصلہ کن اقدام کی جانب نہیں بڑھ سکی اور عوام دوست اصلاحات اور معیشت کے کچھ حصوں کی نیشنلائزیشن تک ہی محدود رہ گئی۔ یہ اصلاحات بھی انقلابی لہر کے زائل ہونے کے بعد واپس لے لی جاتیں اور پہلے سے بھی زیادہ جبر مسلط کیا جاتا۔

2008ء کے عالمی مالیاتی بحران نے اس سامراج کی بنیادوں میں ایک لرزہ طاری کر دیا اور سرمایہ دارانہ نظام کے زوال کا اظہار سطح پر ہونے کے عمل کا آغاز ہو گیا۔ اس بحران نے عالمی سطح پر سیاست کا رخ بھی تبدیل کرنا شروع کر دیا اور 2011ء کے عرب انقلابات نے پوری دنیا کو جھنجوڑ کر رکھ دیا جب خطے کے ایک کے بعد دوسرے ملک میں عوامی تحریکوں نے دہائیوں سے چلی آ رہی بد ترین آمریتوں کا تخت اکھاڑ دیا اور امریکی سامراج کے گماشتے دم دبا کر بھاگنے لگے اور یہ سامراجی طاقت اپنی تمام تر طاقت کے باوجود ان کے اقتدار کو تحفظ نہیں دے سکی۔ عرب انقلابات کے اثرات یورپ اور امریکہ پر بھی مرتب ہوئے اور وہاں بھی ’آکو پائی وال سٹریٹ‘ جیسی تحریکوں نے سیاست کا رخ موڑنے کا عندیہ دیا۔

اس کے بعد کے عرصے میں سرمایہ دارانہ نظام کا زوال شدت اختیار کرتا گیا اور عوامی تحریکوں کا ابھار مسلسل بڑھتا گیا۔ یونان کے مالیاتی کریش کے دوران عوامی تحریک کا ابھار اور سائریزا جیسی چھوٹی سی پارٹی کا عوامی حمایت کے ساتھ 2015ء میں اقتدار میں آنا اسی تسلسل کا اظہار تھا۔ اس دوران امریکی انتخابات میں ٹرمپ کی پہلی کامیابی پوری دنیا کے حوالے سے ایک ٹرننگ پوائنٹ تھا جس نے ایک نئے عہد کی آمد کا واضح اعلان کر دیا تھا۔ لیکن بہت سے قنوطیت پسند اس کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں تھے اور امریکی سامراج کے سحر سے باہر نہیں نکل پا رہے تھے۔ عمومی سوچ پر پرانے عہد کے خیالات اور سماجی رشتے ہی حاوی تھے اور دنیا کی سیاست اور سماج کو اسی عینک سے دیکھتے تھے جو انہوں نے کئی دہائیوں پہلے پہنی تھی۔ اس دوران انقلابی کمیونسٹوں نے واضح طور پر نئے عہد کی آمد کا خیر مقدم کیا اور اس عہد کے تضادات کا گہرائی میں تجزیہ کرتے ہوئے اس کا تناظر بھی تخلیق کیا۔ نئے عہد میں انقلابی پارٹی کی تعمیر کے لیے یہ کرنا انتہائی ضروری تھا۔ کئی دہائیوں پہلے کیے گئے تجزیوں اور تناظر کو جوں کا توں اٹھا کر نئے حالات پر مسلط کر دینے سے اس عہد کی سیاست اور سماج کو سمجھنا ممکن نہیں تھا اور نہ ہی ان بنیادوں پر وہ انقلابی قوت تیار کی جا سکتی تھی جو آنے والے تلاطم خیز واقعات میں مداخلت کرتے ہوئے انہیں کوئی رستہ فراہم کر سکتی اور عوامی تحریک کی درست انداز میں راہنمائی کر سکتی۔ اسی حوالے سے نوجوان انقلابیوں نے یہ فریضہ اپنے کندھوں پر لیا اور ایک سنجیدہ بحث کا آغاز کیا۔ آج ایک دہائی سے زیادہ عرصہ گزرنے کے بعد واضح ہو چکا ہے کہ مارکسزم کے سائنسی علم کی بنیاد پر تخلیق کیا گیا تجزیہ اور تناظر وقت کی کسوٹی پر درست ثابت ہوئے ہیں کہ نئے عہد کے حوالے سے کی جانے والی بحثیں کتنی اہم اور ضروری تھیں۔ آج پاکستان سمیت دنیا بھر میں انقلابی کمیونسٹ اپنی قوتوں میں تیز ترین اضافہ کر رہے ہیں اور ساتھ ہی دنیا کے بہت سے ممالک کے سیاسی افق پر سوشلسٹ انقلاب کا پیغام لے کر طلوع ہو رہے ہیں جبکہ قنوطیت پسند اور ماضی کے مزار آج بد گمانی کی دلدل میں دھنستے چلے جا رہے ہیں۔

اسی طرح جہاں موضوعی طور پر انقلابی پارٹی کی قوتیں تیزی سے تعمیر ہو رہی ہیں وہاں معروضی طور پر نوجوان نسل انقلابات کے عمل میں براہ راست شریک ہو رہی ہے اور اس نسل میں کمیونزم کے نظریات کی پیاس بھی بڑھتی جا رہی ہے۔ پوری دنیا میں ہونے والے مختلف سرویز کے مطابق اس وقت نوجوان نسل کا ایک بڑا حصہ سرمایہ دارانہ نظام سے نفرت کرتا ہے اور اس سے نجات حاصل کرنے کے لیے کمیونزم کے نظریات کی جانب راغب ہو رہا ہے۔ اس کا اظہار دنیا میں لیفٹ کی سیاسی پارٹیوں کے ابھار میں بھی ہور ہا ہے۔ نیویارک کے مئیر کے الیکشن میں لیفٹ کے امیدوار ظہران ممدانی کی کامیابی اسی عمل کا تسلسل ہے۔ دوسری جانب ٹرمپ اور دائیں بازو کی دیگر پارٹیوں کے ابھار کی بنیاد بھی سرمایہ دارانہ نظام اور اس کی حاکم اسٹیبلشمنٹ سے نفرت ہی میں موجود ہے کیونکہ یہ پاپولسٹ پارٹیاں اور لیڈر کامیابی کے لیے اسٹیبلشمنٹ اور ریاستی اداروں کے خلاف سماج میں موجود نفرت کو ہی استعمال کرتے ہیں اور انتہائی دائیں بازو کے نعروں اور پروگرام کے ذریعے اس حاکمیت کو توڑنے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ ہر ملک میں عوام میں موجود حکمرانوں کے خلاف نفرت لیفٹ کی جانب کوئی متبادل نہ ہونے کی صورت میں پھر ان رائیٹ ونگ پاپولسٹ لیڈروں کی حمایت کرتی نظر آتی ہے۔ لیکن سماج میں جاری عمل جہاں تضادات سے بھرپور ہے وہاں یہ بھی واضح کر رہا ہے کہ پرانا عہد اور اس کی سیاست ختم ہو چکی ہے۔

امریکی سامراج کا زوال

کچھ عرصہ پہلے تک یہ سوچنا بھی حماقت تصور کیا جاتا تھا کہ امریکی سامراج زوال پذیر ہو سکتا ہے یا پھر یہ کہ دنیا میں اس کی سامراجی طاقت کا سورج غروب ہو سکتا ہے۔ لیکن آج صورتحال الٹ میں تبدیل ہو چکی ہے اور پوری دنیا پر عیاں ہو چکا ہے کہ امریکی سامراج اور اس کی بنیاد میں موجود سرمایہ دارانہ نظام زوال پذیر ہے اور پوری دنیا کے معاملات پر اس کی گرفت کہیں ڈھیلی پڑ چکی ہے۔

گو کہ امریکہ آج بھی دنیا کی سب سے بڑی سامراجی طاقت ہے اور معاشی اور عسکری حوالے سے کوئی بھی اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا لیکن آج اس کی طاقت دو دہائی قبل جیسی نہیں رہی اور وہ پہلی طرح دنیا پر اپنی حاکمیت مسلط نہیں کر سکتا۔ آج خاص کر چین اور کسی حد تک روس بھی عالمی سطح پر ایسی سامراجی طاقتیں بن چکے ہیں جو امریکہ کی نہ صرف حکم عدولی کر سکتے ہیں بلکہ محدود پیمانے پر اپنا آرڈر مسلط بھی کر سکتے ہیں۔ یوکرائن کی جنگ میں روس کی فیصلہ کن برتری اور مغربی سامراج کی شکست اس کا واضح ثبوت ہے جبکہ ٹرمپ کی مسلط کی گئی تجارتی جنگ میں چین کے ہاتھوں اس کی شکست نے اس امر پر مہر ہی ثبت کر دی ہے۔ اسی طرح ایران سے لے کر وینزویلا تک امریکی سامراج کو کئی محاذوں پر ہزیمت اٹھانی پڑ رہی ہے جبکہ امریکی ریاست کا بحران اور خانہ جنگی طرز کی سیاسی لڑائی بھی اس زوال کا واضح اظہار ہے۔

ایک دہائی قبل جب یہاں پر انقلابی کمیونسٹوں نے اس تناظر پر بحث کا آغاز کیا گیا تو ان کا مذاق اڑایا گیا اور انہیں بھٹکے ہوئے نوجوان قرار دے کے دھکے دے کر تنظیمی دفاتر سے نکال دیا گیا۔ اس وقت کے ”مستند“ مارکسی استادوں کی جانب سے کہا گیا کہ امریکی سامراج مضبوطی کے ساتھ پنجے گاڑے ہوئے موجود ہے اور پاکستان سمیت دنیا کے کسی بھی ملک کا حکمران طبقہ اس کی حکم عدولی نہیں کر سکتا۔ اسی طرح پاکستان سمیت دنیا بھر میں عوامی تحریکوں کے ابھار کے امکان کو بھی رد کر دیا گیا اور کہا گیا کہ اس وقت سماج ایک جمود کے عہد میں داخل ہو چکا ہے اس لیے اپنی قوتوں کو پھیلانے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے بلکہ پہلے سے موجود قوتوں کو کسی طرح سے محفوظ کرنے کی ضرورت ہے۔ اس ”محفوظ“ کرنے کے عمل کا جو تعویز دیا گیا وہ کم سے کم سیاسی سرگرمی اور ”اچھے“ وقت کا انتظار تھا۔ پاکستان کا تناظر بھی انہی بنیادوں پر تخلیق کیا گیا اور کہا گیا کہ یہاں عوامی تحریکیں ابھرنے کے دور تک کوئی امکانات نہیں اور جمود کا عہد جاری رہے گا۔ اس دوران انقلابیوں کو ہدایات دی گئیں کہ وہ رائج الوقت میڈیا اور سیاسی پارٹیوں میں زیادہ سے زیادہ رسائی حاصل کرنے اور مشہور ہونے کی کوشش کریں خواہ اس کے لیے مصالحت ہی کیوں نہ کرنی پڑے۔ دوسرے الفاظ میں انقلابیوں کو انقلابی عمل سے ہی کاٹ دیا گیا جس کی بنیاد سماج کا غلط تجزیہ اور تناظر تھا۔

دوسری طرف سماج کا درست تجزیہ اور تناظر تخلیق کرنے والے واضح طور پر کہہ رہے تھے کہ عرب انقلابات اور آکو پائی وال سٹریٹ تو صرف ٹریلر ہیں اور ان سے بہت بڑی عوامی تحریکیں اور انقلابات ہر طرف سماج کی کوکھ میں پنپ رہے ہیں اور پوری قوت کے ساتھ سطح پر اپنا اظہار کریں گے۔ اسی بنیاد پر پاکستان کے تناظر کو بھی تخلیق کیا گیا اور یہاں پر بھی نئی عوامی تحریکوں کے ابھار کی پیش گوئی کی گئی جو یہاں کے حکمران طبقے اور اسٹیبلشمنٹ کے خلاف موجود غم و غصے کا سطح پر اظہا رکریں گی۔ اس وقت ابھی تک سابقہ فاٹا سے پشتون تحفظ تحریک کا ابھار نہیں ہوا تھا اور نہ ہی بلوچوں کی عوامی تحریک اور جلسے جلوسوں کا آغاز ہوا تھا۔ اسی طرح ”آزاد“ کشمیر کی تحریک بھی عوامی سطح پر موجود نہیں تھی لیکن اس سب کے باوجود انقلابی کمیونسٹ پورے اعتماد اور یقین سے یہ تناظر تخلیق کر رہے تھے جس کی بنیاد مارکسزم کا سائنسی علم اور سماج کا درست تجزیہ تھا۔ اس تناظر کی بنیاد پر انقلابی قوتیں تعمیر کرنے کے لیے سیاسی عمل سے کٹنے اور مصالحت کی بجائے جدوجہد تیز کرنے کا طریقہ کار وضع کیا گیا اور پہلے سے موجود زوال شدہ سیاسی پارٹیوں اور طلبہ تنظیموں میں کام کرنے کی بجائے واضح شناخت کے ساتھ نئے سیاسی پلیٹ فارم تعمیر کیے گئے تاکہ سماج کی تازہ دم پرتوں کو جوڑا جا سکے اور انہیں کمیونزم کے انقلابی نظریات سے لیس کرتے ہوئے طبقاتی جنگ کے فیصلہ کن معرکے کی تیاری کی جا سکے۔ نوجوانوں کے لیے پروگریسو یوتھ الائنس اور مزدوروں میں کام کے لیے ریڈ ورکرز فرنٹ تعمیر کیے گئے جو ایک دہائی تک انتہائی کامیابی کے ساتھ پورے پاکستان میں سرگرمیاں کرتے رہے اور ان کے ذریعے ہزاروں افراد انقلابی نظریات سے روشناس ہوئے اور سینکڑوں افراد نے باقاعدہ طور پر انقلابی پارٹی کی تعمیر کی جدوجہد میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا۔ گزشتہ سال ان فرنٹس کو تحلیل کرتے ہوئے انقلابی کمیونسٹ پارٹی کی بنیاد رکھی گئی اور پورے ملک میں انقلابی جدوجہد ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گئی۔ گزشتہ ایک سال میں یہ پارٹی کامیابی کے ساتھ اپنا سفر جاری رکھے ہوئے ہے اور ہر علاقے سے سینکڑوں افراد اس پارٹی میں شامل ہو رہے ہیں۔

چین کی سامراجی طاقت کا ابھار

چین کی ریاست کے کردار پر بحث اس دوران بہت اہمیت اختیار کر چکی ہے۔ آج دنیا بھر میں چین ایک سامراجی طاقت کے طور پر موجود ہے اور پوری دنیا میں چین کے اس کردار کے حوالے سے بحث موجود ہے۔ مغربی سامراجی طاقتیں جو پہلے چین کو سستی لیبر کے حصول کے لیے ایک ترقی پذیر ملک کی حیثیت دیتی تھیں آج خود اس کے سامراجی ابھار سے خوفزدہ ہو چکی ہیں اور اس کا مقابلہ کرنے کے لیے ہر قسم کے حربے استعمال کر رہی ہیں۔ درحقیقت امریکی سامراج کے زوال نے چین کی سامراجی طاقت کے ابھار کے لیے سب سے زیادہ مواقع فراہم کیے ہیں۔ گو کہ چین پوری دنیا پر فوری طور پر غلبہ حاصل نہیں کر سکتا اور نہ ہی اس نے ابھی تک کسی ایسے عزم کا اظہار کیا ہے لیکن اس کے باوجود اس وقت امریکہ کے بعد دنیا کی دوسری سب سے بڑی سامراجی طاقت چین ہی ہے۔ ٹیکنالوجی کے میدان میں جہاں امریکہ اور یورپ کی حکمرانی مسلمہ تھی اور کسی دوسرے کو انہی سے بھیک مانگ کر گزارا کرنا پڑتا تھا آج وہاں چین نے کئی حوالوں سے فوقیت حاصل کر لی ہے یا پھر اس دوڑ میں وہ سب پر سبقت لے جانے کی تیز ترین کوششوں میں مصروف ہے۔ الیکٹرک گاڑیوں کی مینوفیکچرنگ سے لے کر ہائی سپیڈ ریلوے تک اور مصنوعی ذہانت سے لے کر دنیا کے سب سے بڑے ڈیم بنانے اور تعمیرات کرنے تک چین نے بہت سے میدانوں میں امریکہ کو پچھاڑ دیا ہے یا پھر پچھاڑنے کی جانب بڑھ رہا ہے۔ اس کے علاوہ دفاع اور ہتھیاروں کے میدان میں بھی چین اپنا لوہا منوا رہا ہے جس کی وجہ سے چین کے قریبی خطے سمیت دنیا بھر میں طاقتوں کا توازن تبدیل ہو رہا ہے۔ چین اور جاپان کی حالیہ کشیدگی میں یہ صورتحال زیادہ واضح ہو کر سامنے آئی ہے۔

امریکی سامراج چین کی ابھرتی ہوئی طاقت کو روکنے کے لیے کافی سالوں سے پیش بندی کر رہا ہے اور اس کے لیے تائیوان کی خود ارادیت کے مسئلے کو مسلسل چھیڑ رہا ہے۔ چین تائیوان کو اپنا حصہ سمجھتا ہے جبکہ امریکی سامراج اور اس کے اتحادی چین کی ناکہ بندی کرنے کے لیے تائیوان کی آزادی کے چیمپئین بننے کا دعویٰ کرتے رہتے ہیں۔ اس حوالے سے ساؤتھ چائنہ سمندر میں کشیدگی کا ماحول بنا رہتا ہے جس میں چین کے بحری بیڑے اپنی مشقیں کرتے رہتے ہیں۔ امریکی سامراج چین کی ناکہ بندی کرنے کے لیے خطے کے دیگر ممالک سے ایک اتحاد بنانے کے عمل کو بھی تیز کر چکا ہے جس میں جاپان اہم کردار ادا کر رہا ہے جبکہ مشرق بعید کے دیگر ممالک اور آسٹریلیا کو بھی اس اتحاد میں شامل کیا جاتا ہے۔ گزشتہ ماہ جاپان کی نئی وزیراعظم نے جب تائیوان کے حوالے سے چین کے خلاف بیان داغے تو ٹرمپ نے خود فون کر کے اسے خاموش رہنے کا پیغام دیا۔ صرف اسی ایک عمل سے طاقتوں کے حقیقی توازن کا ادراک ہو جاتا ہے اور چین کا پلڑا بھاری نظر آتا ہے۔ اس سے قبل چین نے اپنی فوجی پریڈ کے دوران جدید اسلحے کی نمائش کی تو مغربی سامراجی طاقتیں دنگ ہو کر رہ گئیں اور چین کی اس میدان میں تیز ترین پیش رفت نے امریکی سامراج کو بوکھلا کر رکھ دیا۔ خود ٹرمپ نے اس موقع پر دل کی بھڑاس نکالنے کے لیے جلے کٹے سے ٹویٹ بھی کیے۔

لیکن اس سب کے باوجود چین کے سامراجی ابھار کی بنیاد اسی سرمایہ دارانہ نظام پر ہی ہے اور یہ نظام پوری دنیا میں زوال پذیر ہے۔ اسی وجہ سے چین کی سامراجی طاقت بھی دنیا پر وہ غلبہ حاصل نہیں کر سکتی جو گزشتہ دہائیوں میں امریکی سامراج نے حاصل کیا تھا۔ خاص کر دوسری عالمی جنگ کے بعد آنے والے سرمایہ داری کی تاریخ کے سب سے بڑے ابھار نے امریکہ کو وہ مادی بنیادیں فراہم کیں جس نے اس سامراج کو وسعت دی۔ آج چین کی معیشت کی شرح نمو مسلسل کم ہو رہی ہے اور سماج میں موجود طبقاتی تضاد شدت اختیار کر رہا ہے۔ ہڑتالوں میں اضافہ ہو رہا ہے اور حکمران طبقے کے خلاف نفرت اور غم و غصہ نئی انتہاؤں کو چھو رہا ہے۔ ایسے میں ایک بڑا مالیاتی بحران اس صورتحال کو یکسر تبدیل بھی کر سکتا ہے۔

چین کی ریاست کا کردار

چین کی ریاست کے کردار کے حوالے سے آج دنیا میں جاری بحث سے بہت پہلے انقلابی کمیونسٹوں نے اس بحث کا آغاز کیا تھا اور سائنسی بنیادوں پر جو تجزیہ اور تناظر تخلیق کیا وہ وقت اور حالات کی کسوٹی پر پورا اترا ہے۔ دوسری جانب غلط تجزیے اور تناظر بنانے والے آج پہلے سے زیادہ کنفیوز ہیں۔ اس صدی کے آغاز پر ہی انقلابی کمیونسٹوں نے واضح طور پر کہہ دیا تھا کہ چین میں منصوبہ بند معیشت کا خاتمہ ہو چکا ہے اور سرمایہ داری کی استواری کا عمل معیار ی حوالے سے اس نکتے تک پہنچ چکا ہے جہاں سے اب واپسی نہیں ہو سکتی۔ اس وقت بھی بہت سے لوگ چین کو ایک سوشلسٹ ریاست قرار دے رہے تھے جبکہ کچھ اسے ایک مسخ شدہ مزدور ریاست کہہ رہے تھے۔ 1949ء میں چین کے انقلاب کے بعد سے یہ بحث جاری ہے اور عالمی سطح پر کمیونسٹ تحریک میں اس حوالے سے بہت سے رجحانات موجود رہے ہیں۔ درحقیقت اس انقلاب کی قیادت کرنے والا ماؤزے تنگ خود انقلاب کے کردار کے حوالے سے درست پروگرام نہیں دے سکا تھا اور حالات کے رحم و کرم پر آگے بڑھتا رہا۔ انقلاب کے بعد جب سرمایہ دارانہ نظام کو ختم کر کے منصوبہ بند معیشت کا آغاز کیا گیا تو اس کی بنیاد بھی 1917ء والے لینن اور ٹراٹسکی کے روس پر نہیں بلکہ 1949ء کے سٹالن والے روس پر رکھی گئی۔ اس کے بعد کے عرصے میں بھی نظریاتی کمزوریوں کے باعث اس منصوبہ بند معیشت کو بہت سے مسائل سے نبرد آزما ہونا پڑا۔ سوویت یونین اور چین کی منصوبہ بند معیشتوں پر مسلط بیوروکریسی کی آپسی لڑائی میں جب دونوں ممالک ایک دوسرے کے دشمن بن گئے تو پوری دنیا میں موجود کمیونسٹ تحریک پر گہرے اثرات مرتب ہوئے اور وہ سٹالن نواز اور ماؤ نواز حصوں میں تقسیم ہو گئی۔ اس کے علاوہ ٹراٹسکی کے نظریات کو ماننے والے بھی چین کے کردار کے حوالے سے مختلف رجحانات میں منقسم نظر آئے۔ اس دوران ٹیڈ گرانٹ نے چین کی ریاست کے کردار کا درست تجزیہ کیا اور اسے ایک مسخ شدہ مزدور ریاست قرار دیا۔ ٹیڈ گرانٹ نے 1949ء میں چین کے انقلاب کے دوران بھی لندن میں بیٹھ کر درست تجزیہ اور تناظر تخلیق کیا جبکہ انقلاب کی قیادت کرنے والا ماؤزے تنگ غلطیاں کر رہا تھا۔ ماؤ کا خیال تھا کہ اگلے ایک سو سال تک چین میں سرمایہ د ارانہ نظام موجود رہے گا اور ترقی کرتے ہوئے ایک صدی بعد سوشلسٹ نظام اسے تبدیل کرے گا۔ لیکن ٹیڈ گرانٹ درست طور پر سمجھ رہا تھا کہ اب سرمایہ داری یہاں قائم نہیں رہ سکتی اور حالات ماؤ کو مجبور کریں گے کہ وہ سوشلسٹ منصوبہ بند معیشت قائم کرنے کی جانب بڑھے۔

1990ء کی دہائی میں سوویت یونین کے انہدام کے بعد چین کا بھی سرمایہ داری کی جانب سفر تیز ہوا اور اکیسویں صد ی کے آغاز پر وہ معیاری طور پر ناقابل واپسی حد عبور کر چکا تھا۔ اس موقع پر ٹیڈ گرانٹ کے نظریاتی وارث ہی ایک دفعہ پھر درست تجزیہ پیش کر رہے تھے جبکہ دوسری طرف بہت سی کنفیوژن تھی۔ پاکستان میں جب 2014ء میں سی پیک منصوبے کا آغاز ہوا تو یہ بحث یہاں بھی زیادہ شدت اختیار کر گئی۔ اس حوالے سے مختلف مؤقف سامنے آئے۔ پاکستان کے حکمران اسے تعمیر و ترقی کے نئے دور سے تعبیر کر رہے تھے اور ساتھ ہی اس منصوبے سے لوٹ مار کرنے کے لیے دانت بھی تیز کر رہے تھے۔ دوسری جانب کچھ لوگ اسے چین کی کمیونسٹ پارٹی کی کامیابی قرار دے رہے تھے اور کمیونزم کے فروغ سے تعبیر کر رہے تھے۔ یہ بھی کہا جا رہا تھا کہ اربوں ڈالر کی بیرونی سرمایہ کاری اس ملک کی تقدیر بدل کر رکھ دے گی اور روزگار کی فراہمی سے لے کر جدید انفرااسٹرکچر کی تعمیر کے خواب بیچے جا رہے تھے۔ دوسرے الفاظ میں کہا جا رہا تھا کہ یہاں دودھ اور شہد کی نہریں بہنا شروع ہو جائیں گی۔ اس موقع پر پاکستان کے قومی مسئلے کے حوالے سے بھی یہی مؤقف سامنے آ رہا تھا کہ ملک کی سرمایہ دارانہ بنیادوں پر ترقی اس مسئلے کو کسی نہ کسی شکل میں حل کرے گی۔

اس موقع پر انقلابی کمیونسٹوں نے صورتحال کا درست تجزیہ اور تناظر تخلیق کیا اور واضح کیا کہ چین کی ریاست سامراجی کردار کی حامل ہو چکی ہے جو لینن کے مطابق سرمایہ داری کی حتمی منزل ہے۔ اسی حوالے سے سی پیک کا منصوبہ تعمیر و ترقی کے لیے نہیں بلکہ یہاں کے وسائل کی لوٹ مار کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے اور چین کا حکمران طبقہ خطے میں اپنے سامراجی اثر و رسوخ میں اضافہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ یہ منصوبہ چین کے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کا حصہ ہے جس کے تحت چین کا حکمران طبقہ پوری دنیا میں نئی بندرگاہیں، ریلوے اور دیگر انفرااسٹرکچر تعمیر کر رہا ہے اور اپنے سامراجی کردار کو وسعت دے رہا ہے۔ اسی طرح اس وقت امریکہ کے بوڑھے سامراج اور چین کے نو زائیدہ اور ابھرتے ہوئے سامراج کی کشمکش کو بھی تفصیل کے ساتھ واضح کیا اورتناظر تخلیق کیا کہ یہ کشمکش ختم ہونے یا ماند پڑنے کی بجائے آنے والے عرصے میں زیادہ شدت اختیار کرے گی اور امریکی سامراج کا زوال گہرا ہوتا جائے گا اور چین اس کی خالی جگہ پُر کرنے کی کوشش کرتا رہے گا۔ لیکن ساتھ ہی یہ بھی واضح کیا کہ چین عالمی سطح پر امریکہ کا متبادل نہیں بن سکتا جس کی وجہ اس نظام کی نامیاتی کمزوری ہے اور پورا نظام ہی زوال کا شکار ہے۔ اسی طرح مالیاتی بحرانوں میں کمی کی بجائے اس میں اضافے کا تناظر دیا جو اکثریت کے لیے حیران کن تھا۔ کیونکہ اس نظام میں بیرونی سرمایہ کاری کو ہر مسئلے کا حل سمجھا جاتا ہے اور سی پیک کے تحت پاکستان کی تاریخ کی سب سے بھاری بیرونی سرمایہ کاری آ رہی تھی۔ ایک اندازے کے مطابق 33 ارب ڈالر سے زیادہ سرمایہ کاری ہو بھی چکی ہے۔ لیکن انقلابی کمیونسٹ اپنی نظریاتی بنیادوں کے باعث سمجھتے تھے کہ سرمایہ دارانہ بنیادوں پر اب ترقی کی کوئی گنجائش نہیں اور یہ سرمایہ کاری نئے مالیاتی بحرانوں کو جنم دے گی اور بیروزگاری سمیت کوئی بھی مسئلہ حل نہیں ہو گا اور نہ ہی میکرو اکانومی کی حالت بہتر ہو گی بلکہ یہ پہلے سے بھی بدتر ہو جائے گی۔ اسی طرح ریاست کا بحران بھی کم ہونے کی بجائے زیادہ شدت اختیار کرے گا اور حکمران طبقے کی دھڑے بندی مزید واضح ہو گی اور یہ ایک دوسرے کے خلاف پہلے سے بھی بدتر اور خونریز لڑائی میں اتریں گے۔

قومی مسئلے کے حوالے سے بھی واضح کیا گیا کہ مظلوم قومیتوں کے وسائل کی لوٹ مار میں بھی اضافہ ہو گا اور اس کے خلاف بغاوت اور عوامی تحریکیں بھی کہیں زیادہ شدت سے ابھریں گی۔ لیکن یہ بھی لکھا کہ قومی محرومی میں اضافے کے باوجود رائج الوقت قوم پرست پارٹیوں کی حمایت کم ہوتی چلی جائے گی اور نئے پلیٹ فارم اور پارٹیاں ابھریں گی جو وسیع تر حمایت حاصل کر سکتی ہیں۔ آج ایک دہائی سے زائد کا عرصہ گزر جانے کے بعد ان بحثوں کا مطالعہ کریں تو لگتا ہے کہ شاید کوئی ماہر نجوم یا جادوگر یہ سب لکھ رہا تھا جسے مستقبل کے بارے میں سب کچھ پتہ تھا۔ لیکن درحقیقت یہ مارکسزم کے انقلابی اور سائنسی نظریات کی فوقیت ہے کہ ان کے تحت درست تجزیہ اور تناظر تخلیق کیا جا سکتا ہے اور اس کے مطابق ہی سیاسی حکمت عملی بھی ترتیب دی جا سکتی ہے۔ اس وقت جس تناظر کی پر زور مخالفت کی گئی اور اس کو پیش کرنے والوں کو دھتکارا گیا اور ان کے خلاف ہرزہ سرائی کی گئی آج وہ سیاسی افق پر سب سے زیادہ سرخرو ہیں جبکہ ان کا مذاق اڑنے آنے والے خود ایک مذاق بن کر رہ گئے ہیں۔

عالمی سطح پر امریکہ اور چین کی سامراجی طاقتوں کی کشمکش اب کسی سے چھپی ہوئی نہیں اور اس کی شدت میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ اس صورتحال میں کچھ لوگ دوسری انتہا پر جا کر تیسری عالمی جنگ کی بھی پیش گوئی کر رہے ہیں جس کو انقلابی کمیونسٹوں نے شروع سے ہی رد کیا ہے اور اب بھی قابل قیاس مستقبل میں اس کے امکانات موجود نہیں۔ اس حوالے سے ہم شروع سے ہی واضح کرتے چلے آ رہے ہیں کہ جہاں امریکہ اور چین کے اختلافات موجود ہیں وہاں ان کے بہت سے مشترکہ مفادات بھی ہیں جس کی بنیاد سرمایہ دارانہ نظام ہے جو ان دونوں سامراجی طاقتوں کی بنیاد ہے۔ ماضی میں مغربی سامراجی طاقتوں اور سوویت یونین یا ماؤ کے چین کے درمیان موجود سرد جنگ کی بنیاد دو متحارب سماجی سیاسی نظاموں پر تھی جہاں ایک طرف منصوبہ بند معیشت اور دوسری جانب منڈی کی معیشت تھی اور ان دونوں کی باہمی تجارت نہ ہونے کے برابر تھی۔ لیکن آج امریکہ اور چین کی سامراجی کشمکش کی بنیاد میں دونوں جانب منڈی کی معیشت ہی ہے اور ان کی باہمی تجارت بھی دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔ اسی لیے ہم نے اس وقت بھی یہ واضح کیا تھا کہ جہاں یہ ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی کوشش کریں گے وہاں ایک دوسرے کو مکمل طور پر تباہ کرنا بھی ان کے مفاد میں نہیں۔ امریکی کمپنیوں کی سب سے بڑی سرمایہ کاری چین میں موجود ہے جس کو امریکی سرمایہ دار محفوظ رکھنا چاہتے ہیں جبکہ چین کی مصنوعات کی سب سے بڑی منڈی امریکہ ہی ہے جسے وہ اپنے ہاتھ سے نکلنے نہیں دینا چاہتے۔ اسی لیے جہاں لڑائی ایک حد سے آگے بڑھتی ہے وہاں پھر مذاکرات اور سفارتکاری کے دور کا بھی آغاز ہوتا نظر آتا ہے اور طاقتوں کے موجود توازن کے تحت نئی حد بندی کی کوشش کی جاتی ہے۔ ٹرمپ کی مسلط کردہ تجارتی جنگ کا بھی یہی نتیجہ نکلا اور بالآخر مذاکرات کے ذریعے حل نکالنے کی کوشش کی گئی۔ یہ صورتحال مختلف شکلوں میں ایسے ہی آگے بڑھتی چلی جائے گی۔

لیکن جہاں تیسری عالمی جنگ کے امکانات موجود نہیں وہاں بہت سی نئی جنگوں اور خانہ جنگیوں کے امکانات موجود ہیں اور ان میں اضافہ بھی ہوتا چلا جا رہا ہے۔ اس حوالے سے بھی انقلابی کمیونسٹوں کے ایک دہائی قبل دیے گئے تناظر درست ثابت ہوئے ہیں۔ اس وقت روس یوکرائن جنگ نے پورے یورپ پر اثرات مرتب کیے ہیں اور یورپ کی سیاست اور سماج بہت زیادہ بدل چکے ہیں۔ اسی طرح مشرقِ وسطیٰ میں اسرائیل کی فلسطین پر مسلط کردہ جنگ نے پورے خطے کو آگ اور خون میں لپیٹ دیا ہے۔ ایران پر اسرائیل اور امریکہ کی جارحیت نے بھی بہت سے نئے محاذ کھول دیے ہیں جن میں خلیجی ممالک پر بمباری اور حملوں کا آغاز ہو چکا ہے جس کا چند سال پہلے تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔

روس یوکرائن جنگ

روس اور یوکرائن کی جنگ کے آغاز پر بھی عالمی سطح پر مختلف سیاسی رجحان جو مؤقف اپنا رہے تھے وہ سب غلط ثابت ہوئے ہیں اور عالمی کمیونسٹ انٹرنیشنل کا مؤقف ان چار سالوں میں وقت کی کسوٹی پر درست ثابت ہوا ہے۔ جنگ کے آغاز میں ہی مغربی میڈیا ببانگ دہل کامیابی کے دعوے کر رہا تھا اور یہ کہا جا رہا تھا کہ روس کی معاشی ناکہ بندی اس کی معیشت کو تباہ کر دے گی اور وہاں کی عوام پیوٹن کا تختہ الٹ دے گی۔ اس موقع پر لیفٹ کی پارٹیوں کی اکثریت بھی اس پراپیگنڈے کے تحت یوکرائن کی حمایت کر رہی تھی اور اسے یوکرائن کی قومی آزادی کی جنگ قرار دے رہی تھی اور اس کی حمایت میں امریکی سامراج اور نیٹو جیسے سامراجی ادارے کی کھل کر حمایت کی جا رہی تھی۔ انقلابی کمیونسٹوں نے واضح کیا تھا کہ یوکرائن کا حکمران طبقہ وہاں کی عوام کا سب سے بڑا دشمن ہے اور سامراجی طاقتیں اسے اپنی پراکسی کے طور پر استعمال کر رہی ہیں۔

دوسری جانب روس میں پیوٹن کا تختہ الٹنے کی ذمہ داری نیٹو یا مغربی سامراج کی نہیں بلکہ روس کے عوام کی ہے اور عالمی سامراجی طاقتوں کی جانب سے پیوٹن کے خلاف کیا گیا پراپیگنڈہ اس کی عوامی حمایت میں اضافہ کرے گا۔ گزشتہ چار سال کے واقعات واضح کرتے ہیں کہ کس کا مؤقف درست ثابت ہوا۔ آج اس جنگ کے نتیجے میں نہ صرف یوکرائن مکمل طور پر تباہ حال ملک بن چکا ہے بلکہ پورا یورپ ایک گہری کھائی میں لڑھک رہا ہے جہاں اس کا مالیاتی بحران کہیں زیادہ گہرا ہو چکا ہے اور سیاست میں دیو ہیکل تبدیلیاں آ چکی ہیں وہاں یورپی طاقتوں کے سر پر پیوٹن اور روس کی فوجی طاقت کا خطرہ منڈلا رہا ہے۔ یورپ کے حکمران اس ہاری ہوئی جنگ میں شکست تسلیم کرنے کی بجائے اس میں یوکرائن کے لاکھوں انسانوں کی بلی چڑھاتے جا رہے ہیں تاکہ اس خطرے کو کچھ عرصے کے لیے ٹال سکیں۔ ٹرمپ چاہتا ہے کہ اس حقیقت کا ادراک کر لیا جائے اور طاقتوں کے اس نئے توازن کو تسلیم کرتے ہوئے اپنے زیادہ سے زیادہ مفادات کو تحفظ دیا جائے۔ لیکن یورپ کے اکثر حکمران ٹرمپ سے متفق نہیں اور خواہشمند ہیں کہ پرانا اسٹیٹس کو کسی طریقے سے واپس آ جائے جس کے امکانات اس صورتحال میں موجود نہیں۔

سیاسی بحران

ٹرمپ اور اس جیسے دیگر دنیا میں نئے ابھرنے والے بہت سے رائیٹ ونگ پاپولسٹ لیڈروں میں یہ خاصیت مشترک ہے کہ وہ پرانے اسٹیٹس کو کے سخت مخالف ہیں اور نئی صورتحال کو تسلیم کرتے ہوئے اپنا سیاسی پروگرام اور پالیسیاں بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ گو کہ ان کے سیاسی پروگرام کے تحت کوئی مسئلہ حل نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی اس نظام اور اس کے تحت موجود اداروں کو زوال سے بچایا جا سکتا ہے لیکن ایسی صورتحال میں درست کیفیت کا ادراک ہی بہت بڑی کامیابی ہے جس کا اظہار ان کی اقتدار تک رسائی اور عوامی حمایت میں بھی نظر آتا ہے۔ دوسری طرف بہت سی سیاسی پارٹیاں اور قیادتیں جن کی ایک لمبی تاریخ ہے اور ان کے پاس وسیع تجربہ اور پارٹی انفرااسٹرکچر موجود ہے وہ سیاسی افق سے غائب ہوتی جا رہی ہیں اور ان کی عوامی حمایت زمین بوس ہو چکی ہے۔ ان میں دائیں سے لے کر بائیں بازو تک کی بہت سی پارٹیاں ہیں جن پر الگ الگ مضمون بھی لکھے جا سکتے ہیں۔ برطانیہ میں گزشتہ ایک صدی سے زائد عرصے سے دو ہی پارٹیاں لیبر اور ٹوری، حکومت کرتی آئی تھیں لیکن اب ان کی عوامی حمایت تاریخ کی کم ترین سطح پر چلی گئی ہے۔

بائیں جانب جیرمی کوربن اور زارا سلطانہ کی یور (Your) پارٹی عوامی حمایت حاصل کر رہی ہے جبکہ دائیں جانب نائجل فراج کی ریفارم یو کے (Reform UK) سب سے زیادہ حمایت رکھنے والی پارٹی ہے۔ اس کے علاوہ گرین پارٹی بھی مقبولیت کے تمام ریکارڈ توڑ رہی ہے۔ دوسرے الفاظ میں گزشتہ چند سالوں میں برطانیہ کا سیاسی منظر نامہ مکمل طور پر تبدیل ہو چکا ہے۔ یورپ کے تقریباً تمام ممالک میں ایسی ہی صورتحال ہے۔ امریکہ میں ٹرمپ نے ریپبلکن پارٹی کو مکمل طور پر تبدیل کر دیا ہے اور اس پر مکمل گرفت حاصل کر لی ہے جبکہ ڈیموکریٹ پارٹی میں اصلاح پسند سوشلسٹ منظم انداز میں حاوی ہو رہے ہیں جس کا اظہار نیویارک کے مئیر کے الیکشن میں بھی ہوا ہے۔ انڈیا میں کانگریس کی ڈیڑھ صدی کے قریب پرانی پارٹی کی جگہ مودی کی بی جے پی پورے ملک میں اپنی بنیادیں بنا چکی ہے جس کا ایک دہائی قبل تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔ سری لنکا، بنگلہ دیش اور نیپال میں عوامی تحریکوں نے سیاست کی بساط ہی ایسی الٹی ہے کہ اس سے پہلے کسی نے سوچا بھی نہیں تھا۔

پاکستان میں بھی دہائیوں سے موجود سیاسی پارٹیوں کے نیچے سے زمین نکل چکی ہے اور وہ ہوا میں معلق ہیں۔ ان کی چند دہائیوں پہلے موجود وسیع سماجی حمایت آج کہیں بھی نظر نہیں آتی اور ہر طرف سیاست میں ایک بہت بڑا خلا نظر آتا ہے۔ پنجاب میں نون لیگ اور سندھ میں پیپلز پارٹی سب سے قابل نفرت پارٹیاں بن چکی ہیں جبکہ دیگر چھوٹی پارٹیوں کی صورتحال بھی مختلف نہیں۔ مخصوص علاقوں میں وسیع حمایت رکھنے والی مذہبی اور قوم پرست پارٹیاں بھی آج وہ حمایت مکمل طور پر کھو چکی ہیں اور ان کی جگہ پُر کرنے کے لیے نئے امکانات موجود ہیں۔ اس وقت صرف تحریک انصاف کی بڑے پیمانے پر حمایت موجود ہے۔ اس کی وجہ بھی اس کا سیاسی پروگرام یا نظریات نہیں ہیں بلکہ اس کا زیر عتاب ہونا ہے۔ اس وقت یہاں واضح ہو چکا ہے کہ یہاں پر سیاسی اقتدار اصل میں جرنیلوں کے پاس ہے جسے اسٹیبلشمنٹ بھی کہا جاتا ہے اور اس وقت سب سے زیادہ عوامی نفرت بھی اسی اسٹیبلشمنٹ سے ہے۔ اسی لیے جو بھی اس اسٹیبلشمنٹ کے خلاف مزاحمت کرتا ہوا نظر آتا ہے یا حکمرانوں کے ظلم و جبر کا نشانہ بنتا ہے وہ عوام میں سب سے زیادہ حمایت حاصل کر لیتا ہے۔ کل اگر تحریک انصاف بھی کھل کر اپنے اصل کردار کے تحت اسٹیبلشمنٹ کی لونڈی بنتی ہے تو عوامی نفرت کا مرکز بن جائے گی۔ دوسری جانب جو پارٹیاں اور تحریکیں اپنی کم تعداد اور محدود قوتوں کے باوجود مشکل ترین حالات میں بھی حکمران طبقے کے خلاف ڈٹی رہتی ہیں تو ان کی عوامی حمایت میں بھی اضافہ ہو گا۔ اس جدوجہد میں درست نظریات اور ان کے تحت تخلیق کیا گیا درست تناظر ہی وہ بنیاد بن سکتا ہے جس کے تحت ایک طویل عرصے کی جدوجہد منظم کی جا سکے اور حالات کے تھپیڑوں میں ثابت قدمی سے انقلاب کی منزل کی جانب بڑھا جائے۔

انقلابی کمیونسٹ ایک دہائی سے زائد عرصے سے اس سیاسی صورتحال کا نہ صرف تناظر دے رہے تھے بلکہ اس پر پورے اعتماد اور یقین کے ساتھ ڈٹے بھی رہے اور اس کا پرچار بھی کرتے رہے۔ اس عرصے میں دیگر تمام سیاسی پارٹیوں کے بہت سے یو ٹرن دیکھے جا سکتے ہیں جن کی بنیاد جہاں ان کی مفاد پرستی اور بزدلی میں ہے وہاں ان کے غلط نظریات اور سیاسی پروگرام بھی اہم وجہ ہیں۔ کچھ لوگ پیپلز پارٹی کی زوال پذیری اور عوام دشمنی کو دیکھنے کے باوجود اپنی نظریاتی غداری کے باعث اس سے کنارہ کشی کرنے سے قاصر تھے۔ یہ بحث درحقیقت یہاں پر 2008ء میں عالمی مارکسی رجحان کی سالانہ کانگریس میں ہوئی تھی جس میں پیپلز پارٹی کے سیاسی کردار پر مختلف مؤقف سامنے آئے تھے۔ کچھ لوگ پیپلز پارٹی کے نئے اقتدار سے بہت پر امید تھے اور تعمیر و ترقی کے دعوے کر رہے تھے جبکہ انقلابی کمیونسٹوں نے اس وقت بھی واضح کیا تھا کہ اپنے اقتدار کے دوران یہ پارٹی عوام پر بد ترین حملے کرے گی اور انہیں غربت اور بیروزگاری کی دلدل میں مزید دھنسائے گی۔ اسی باعث اس پارٹی کی عوامی حمایت بھی ختم ہونے کی طرف بڑھے گی اور اس ملک کی عوامی سیاست میں جو مرکزی کردار یہ کئی دہائیوں سے ادا کرتی آئی ہے وہ اختتام پذیر ہو گا۔ اس وقت بھی انقلابی کمیونسٹوں پر لعن طعن کی گئی اور انہیں بہت سے غلیظ القابات سے نوازا گیا لیکن بعد کے حالات نے یہ تناظر درست ثابت کیا جبکہ اس وقت کے مہان انقلابی بعد میں موقع پرستی کی غلاظت چاٹتے نظر آئے۔

انقلابی کمیونسٹوں نے اسی تناظر کے تحت آزادانہ فرنٹ بنا کر کام کی منصوبہ بندی کا آغاز کیا اور انٹرازم کے طریقہ کار کو ترک کرنے کی حکمت عملی بنائی۔ یہ حکمت عملی ٹیڈ گرانٹ نے دوسری عالمی جنگ کے بعد کے حالات میں ترتیب دی تھی جب وہ درست طور پر سرمایہ دارانہ نظام کے ایک طویل عروج کے عہد کا تناظر تخلیق کر رہا تھا۔ ان حالات میں دنیا بھر میں بائیں بازو کی اصلاح پسند پارٹیوں کو طویل عوامی حمایت ملی جس کے باعث کمیونزم کی حقیقی قوتیں انتہائی محدود پیمانے پر کام کر رہی تھیں۔ اس موقع پر مزدور طبقے اور نوجوانوں کی وسیع پرتوں تک انقلابی کمیونزم کا پیغام پہنچانے کے لیے ان پارٹیوں میں انٹرازم کا طریقہ کار وضع کیا گیا لیکن اس میں بھی واضح کیا گیا کہ انقلابی قوتیں کبھی بھی اپنے تنظیمی ڈھانچے تحلیل نہیں کریں گی اور اپنا اخبار اور دیگر لٹریچر شائع کرنے کے علاوہ اپنے تنظیمی ڈھانچے بھی تعمیر کرتی رہیں گی۔ اس وقت کے حالات کے مطابق یہ درست طریقہ کار تھا لیکن 2008ء کے عالمی مالیاتی بحران اور اس کے بعد کے عرب انقلابات نے بہت کچھ بدل دیا تھا۔ پاکستان میں بھی صورتحال تیزی سے تبدیل ہو رہی تھی اس لیے حالات کے مطابق نئے طریقہ کار وضع کرنے کی ضرورت تھی۔ لیکن خود کو انقلابی کہلانے والے بھی کئی دفعہ قدامت پسند اور ہٹ دھرم بن جاتے ہیں اور طریقہ کار تبدیل کرنے سے انکار کر دیتے ہیں خواہ اس کے لیے بنیادی نظریات ہی کیوں نہ ترک کرنے پڑیں۔ جبکہ درست طریقہ یہ ہے کہ بنیادی نظریات پر کسی قسم کی سودے بازی اور کمپرومائز نہ کیا جائے جبکہ طریقہ کار میں لچک پیدا کرتے ہوئے اسے وقت اور حالات کے مطابق تبدیل کیا جائے۔ لینن اور ٹراٹسکی اسی اصول پر کاربند رہے اور اسی کے تحت روس میں ایک کامیاب سوشلسٹ انقلاب کے ذریعے سرمایہ داری کا خاتمہ کیا۔

اسی لیے جب ایک دہائی قبل تناظر کے حوالے سے بحث کا آغاز ہوا تو جہاں پورے سیاسی منظر نامے کے یکسر تبدیل ہونے کی پیش گوئی کی گئی وہاں بہت سی نئی عوامی تحریکوں کے ابھار کا تناظر بھی دیا گیا۔ دوسری جانب مارکسزم سے انحراف کرنے والے ملک میں رجعتیت اور فاشزم کے ابھار کا تناظر دے رہے تھے اور اس کے خوف سے اپنی سیاسی سرگرمی کو محدود کرنے کی حکمت عملی بنا رہے تھے۔ اسی تناظر کے تحت عمران خان کو فاشسٹ قرار دے دیا گیا اور اس کا مقابلہ کرنے کے لیے نون لیگ کو لبرلزم کا علمبردار قرار دے کر اس کی حمایت کا آغاز کر دیا گیا۔ درست کہتے ہیں کہ گرنے والا گہرائی نہیں دیکھتا اور یہاں بھی یہ سابقہ انقلابی نون لیگ جیسی عوام دشمن پارٹی کی حمایت میں کالم لکھتے نظر آئے۔ انقلابی کمیونسٹوں نے جہاں نون لیگ کے عوام دشمن سیاسی کردار کی مذمت جاری رکھی وہاں یہ بھی واضح کیا کہ پنجاب کے درمیانے طبقے میں موجود اس کی حمایت ختم ہو رہی ہے اور یہ ہوا میں معلق ہے۔ اسی طرح ایم کیو ایم اور دیگر سیاسی پارٹیوں کے تاریخ کے کوڑے دان کی جانب سفر کو بھی واضح کیا۔ دوسری طرف عمران خان کے عوام دشمن اقدامات کی بھی بھرپور مخالفت کی اور اس کی پاداشمیں قید و بند کی صعوبتوں کو بھی برداشت کیا۔ لیکن اس کے باوجود انقلابی کمیونسٹ رجائیت اور امید سے لبریز تھے اور اپنے سائنسی تجزیے کی بنیاد پر عوامی تحریکوں کے ابھار کی پیش گوئی کر رہے تھے اور ان میں مداخلت کی حکمت عملی بنا رہے تھے۔ اسی تناظر کے تحت ”آزاد“ کشمیر میں پہلی عوامی ایکشن کمیٹی کی بنیاد ایک چھوٹے سے گاؤں میں رکھی گئی جو چند سالوں میں لاکھوں لوگوں کی عوامی تحریک بن گئی۔ اسی طرح پشتون اور بلوچ عوامی تحریک کی بھی بھرپور حمایت کی اور وہاں موجود لاکھوں لوگوں تک انقلابی کمیونزم کا پیغام پہنچایا۔ اس دوران پنجاب کالجوں میں ابھرنے والی ہزاروں طلبہ کی تحریک ہو یا سندھ میں نہروں کے پانی کے مسئلے پر ابھرنے والی لڑائی ہو، گلگت بلتستان کی عوامی تحریک ہو یا اگیگا کے تحت سرکاری ملازمین کی ملک گیر ہڑتالیں اور احتجاج ہوں انقلابی کمیونسٹ ہر جگہ اپنا پیغام لے کر پہنچتے رہے اور سینکڑوں لوگوں کو انقلابی نظریات کے تحت منظم کیا۔ اس دوران انقلابی نظریات کا پرچار بھی جاری رہا اور لال سلام میگزین اور کتابوں کی اشاعت کا سلسلہ بھی جاری رہا جس میں پاکستان کی بائیں بازو کی تاریخ کی سب سے زیادہ اور اہم نظریاتی بحثیں اتاری گئیں اور انہیں ملک کے کونے کونے تک پہنچایا گیا۔

افغانستان سے امریکی انخلا

2021ء افغانستان میں امریکی سامراج کی ذلت آمیز شکست اور طالبان کی رجعتیت کے ابھار کے حوالے سے بھی انقلابی کمیونسٹوں کا تناظر دوسرے ہر سیاسی رجحان کے مقابلے میں درست رہا۔ ایک طرف وہ لوگ تھے جو امریکی سامراج کی گماشتگی کر رہے تھے اور اس سامراجی خونریزی میں بننے والی کابل کی کٹھ پتلی حکومت کی حمایت کر رہے تھے۔ ان کا مؤقف تھا کہ امریکی سامراج اب مذہبی بنیاد پرستی کو ختم کرنا چاہتا ہے اس لیے اس کی حمایت ہم پر فرض ہو چکی ہے جبکہ انقلابی کمیونسٹ اس جنگ کی پہلے دن سے مذمت کر رہے تھے اور واضح کر رہے تھے کہ سامراجی جبر اور سرمایہ دارانہ بنیادوں کے تحت کبھی بھی افغانستان کو ترقی نہیں دی جا سکتی۔ دوسری جانب انہوں نے طالبان کی رجعتیت اور بنیاد پرستی کی بھی کھل کر مذمت کی جبکہ ثور انقلاب کی صحت مند روایات کی حمایت کی اور اس کی کمزوریوں اور غلطیوں کی کھل کر نشاندہی کی۔ اسی بنیاد پر افغانستان میں کمیونسٹ نظریات کے تحت ایک الگ انقلابی قوت کی تعمیر پر زور دیا جو امریکی سامراج اور طالبان دونوں کے خلاف جدوجہد کرے۔ اسی طرح امریکی سامراج کے ذلت آمیز انخلا کی بھی پیش گوئی کی جبکہ بہت سے لوگ اسے ناممکن قرار دے رہے تھے اور کٹھ پتلی صدر اشرف غنی سے امیدیں وابستہ کر رہے تھے جو ڈالروں کے صندوقوں کے ساتھ عین وقت پر فرار ہو گیا۔ امریکی سامراج کے مکمل انخلا کے ساتھ ہی کٹھ پتلی حکومت اور افغان فوج بھی دھڑام سے گر گئی جس کی پیش گوئی انقلابی کمیونسٹ پہلے اپنی دستاویزات میں واضح طور پر کر چکے تھے گو کہ اکثریت کے لیے یہ سب کچھ انتہائی حیران کن تھا۔

انقلابی پارٹی کی تعمیر

کرونا وبا کے دوران جب ہر طرف قنوطیت کے سائے پھیل رہے تھے اور مایوسی بڑھ رہی تھی اس وقت انقلابی کمیونسٹ فوری طور پر آن لائن اجلاسوں کے ذریعے اپنا پیغام پہنچانے لگے جس پر ایک دفعہ پھر ان کا مذاق اڑایا گیا اور کہا گیا کہ یہ آن لائن انقلاب کریں گے۔ لیکن بعد کے حالات نے آن لائن سیاسی سرگرمی کو ایک زندہ حقیقت بنا دیا۔ اس دوران انقلابی کمیونسٹوں نے حکمران طبقے کی مسلط کی گئی سرحدوں کو بھی عبور کیا اور جنوبی ایشیا کے دیگر ممالک میں بھی انقلابی نظریات کو پھیلانے اور ہم خیال لوگوں کو منظم کرنے کا آغاز کر دیا۔ اسی طرح آرٹ، تھیٹر، فلم اور شاعری کی انقلابی روایات کو بھی زندہ کیا اور شدید مزاحمت کے باوجود جدوجہد جاری رکھی۔ کراچی میں چند سال قبل فیض کی سالگر ہ پر ایک مشاعرہ منعقد کروانا مشکل بنا دیا گیا تھا اور ہال کی بکنگ کینسل کر دی گئی تھی اور شاعروں کو ڈرایا دھمکایا گیا تھا لیکن اس کے باوجود وہ مشاعرہ کامیابی سے منعقد ہوا۔ درحقیقت انقلابی کمیونسٹوں کو اپنے اجلاسوں کے لیے ہال کی بکنگ کینسل ہونے کی اب عادت سی ہو گئی ہے۔ ماضی کی تنظیم میں ان اجلاسوں کے لیے یونیورسٹیوں سے لے کر ضلعی انتظامیہ کے تحت موجود ہال آسانی سے مل جاتے تھے لیکن جب سے انقلابی کمیونسٹوں نے واضح مؤقف اختیار کیا ہے ان پر ریاستی دباؤ میں اضافہ ہوا ہے اور انہیں دفاتر کی بندشسے لے کر دیگر سرگرمیوں کے لیے ہال کی دستیابی سمیت بہت سے مسائل کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ کچھ ممبران کو قید و بند اور جبر و تشدد کی صعوبتوں سے بھی گزرنا پڑا ہے جس میں حال ہی میں گلگت کے کچھ کامریڈز بھی شامل ہیں لیکن تمام کامریڈز ان مشکل حالات میں بھی اپنے نظریات پر کاربند رہے ہیں۔ اسی طرح کچھ لوگوں کو ذاتی مفاد اور لالچ دے کر خریدنے کی کوشش کی جاتی ہے جس میں بھی اکثریت ثابت قدم ہی رہی ہے جبکہ کچھ کمزور عناصر لالچ میں آ کر اپنے ہی سابقہ ساتھیوں کے خلاف منظم سازش کا حصہ بن جاتے ہیں۔

لیکن انقلابی پارٹی اپنے دشمنوں کے حملوں سے کمزور نہیں ہوتی بلکہ بادِ مخالف اسے اور بھی بلند سطح پر اڑنے کا پیغام دیتی ہے۔ لیکن اس تمام جدوجہد کی بنیاد درست نظریات ہی فراہم کر سکتے ہیں۔ اگر نظریات پر عبور موجود نہیں اور ان کے تحت درست تناظر اور حکمت عملی ترتیب نہیں دی گئی تو بہادر اور حوصلہ مند شخص بھی وقت اور حالات کے تھپیڑوں کا زیادہ عرصے تک مقابلہ نہیں کر سکتا۔ اسی لیے انقلابی کمیونسٹ پارٹی نظریاتی تربیت پر سب سے زیادہ زور دیتی ہے اور اس کے لیے باقاعدگی سے کمیونسٹ سکول کا انعقاد کرتی رہتی ہے۔ ان سکولوں میں داس کیپیٹل جیسی کتابوں اور مارکسی فلسفے کا گہرائی میں مطالعہ کیا جاتا ہے جس سے پہلے کے انقلابی اور نام نہاد مارکسی استاد بھی نا بلد ہی رہے۔ یہ یقینا ایک اعزاز ہے کہ آج کے انقلابی ان نظریاتی ہتھیاروں سے لیس ہیں اور یہاں پر ایک ایسی قوت تعمیر کر رہے ہیں جو سرمایہ دارانہ نظام کے خاتمے کی جدوجہد مضبوط بنیادوں پر کر رہی ہے۔ معروضی طور پر پوری دنیا ایک ایسے عہد میں داخل ہو چکی ہے جس میں انقلابی تحریکیں معمول کا حصہ بنتی جا رہی ہیں لیکن دوسری جانب درست قیادت نہ ہونے کے باعث اس ظالمانہ نظام کو ختم بھی نہیں کر پا رہیں۔ ایسے میں انقلابی کمیونسٹ انٹرنیشنل اور اس کے تحت دنیا بھر میں موجود انقلابی کمیونسٹ پارٹیاں اپنی تعمیر اور جدوجہد کے اہم مرحلے میں داخل ہو چکی ہیں۔ انہیں آنے والے عرصے میں آگے بڑھنے اور ابھرنے کے بھرپور مواقع ملیں گے، اگر یہ اسی انداز میں اپنی جدوجہد پر کاربند رہیں تو یقیناً سوشلسٹ انقلاب کی منزل کو حاصل کر سکتی ہیں اور عوام کو اس جابرانہ نظام کے چنگل سے نجات دلا سکتی ہیں۔

Comments are closed.