نوٹ: یہ کتاب تقریباً ایک دہائی قبل 2018ء میں لکھی گئی تھی۔ اس وقت پاک چین اقتصادی راہداری (China–Pakistan Economic Corridor) یا سی پیک (CPEC) کے منصوبے کا آغاز ہو رہا تھا اور یہ شور مچایا جا رہا تھا کہ اس منصوبے سے یہاں دودھ اور شہد کی نہریں بہنا شروع ہو جائیں گی اور اتنے بڑے پیمانے پر بیرونی سرمایہ کاری آنے سے پاکستان ترقی اور خوشحالی کے نئے سفر کا آغاز کرے گا۔ لیکن کمیونسٹ نظریات کے تحت حالات کا تجزیہ کرتے ہوئے اس کتاب میں حقیقت کو واضح کیا گیا تھا کہ یہ چین کا ایک سامراجی منصوبہ ہے اور اس کا مقصد یہاں کے وسائل کی لوٹ مار ہے جس سے یہاں پر بیروزگاری اور بدحالی بڑھے گی جبکہ ملک کا مالیاتی بحران بھی شدت اختیار کرے گا۔ اس کے علاوہ چین کے عالمی سطح پر بطور ایک سامراجی طاقت کے ابھرنے کا تناظر بھی پیش کیا گیا تھا اور امریکی سامراج کے زوال اور اس کے دنیا پر ہونے والے اثرات کا جائزہ لیا گیا تھا۔ آج یہ تناظر حقیقت بن چکا ہے اور پوری دنیا ایران جنگ میں امریکی سامراج کی شکست کو حیرانی سے دیکھ رہی ہے جبکہ عالمی سطح پر موجود معاشی بحران بھی دنیا کے ہر ملک کی معیشت کو نئے تضادات میں دھکیل رہا ہے۔ ہم اپنے قارئین کے لیے یہ کتاب ویب سائٹ کے ذریعے پیش کر رہے ہیں اور ہر باب الگ الگ پیش کیا جائے گا۔ اس کتاب میں قارئین دیکھ سکتے ہیں کہ کئی سال قبل پیش کیے جانے والا تناظر کیسے وقت اور حالات کی کسوٹی پر درست اترا ہے جس کی وجہ اس تناظر کی بنیاد میں موجود سائنسی کمیونسٹ نظریات ہیں جبکہ اس کا موازنہ کسی بھی دوسرے تجزیے اور تناظر سے کیا جائے تو واضح ہو گا کہ وہ تجزیے غلط ثابت ہوئے ہیں جس کی وجہ ان کی بنیاد میں موجود غلط نظریات ہیں۔ اپنی آراء اور تجاویز سے آگاہ کرنے کے لیے ہم سے رابطہ ضرور کریں۔
عالمی منظر نامہ مکمل طور پر تبدیل ہو چکا ہے۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد ابھرنے والا ورلڈ آرڈر ٹوٹ چکا ہے لیکن اس کی جگہ لینے کے لیے ابھی تک کوئی متبادل نہیں ابھرا۔عدم استحکام، خانہ جنگیاں، خونریزی، قتل و غارت، معاشی و سماجی بحران اور زلزلہ خیز سیاسی تبدیلیاں اورانقلابی و ردِ انقلابی تحریکیں معمول بن چکی ہیں۔ہر نیا دن عالمی سطح پر اس بحران کی شدت میں مسلسل اضافہ کرتا جا رہا ہے اور نسبتاً مستحکم خطے اور شعبے بھی اب اس کی لپیٹ میں آ چکے ہیں۔اس تمام عدم استحکام کی بنیاد سرمایہ دارانہ نظام ہے جو اپنی طبعی عمر پوری کر چکا ہے اورتیزی سے زوال پذیر ہے۔یہ عمل آنے والے عرصے میں زیادہ شدت سے آگے بڑھے گا اور سرمایہ دارانہ نظام اپنے اکھاڑ پھینکے جانے تک پوری دنیا میں تباہی وبربادی کو پھیلاتا چلا جائے گا۔سرمایہ دارانہ نظام کی حالت نزع سے واپسی اور کسی بھی خطے میں ترقی و خوشحالی اب ممکن نہیں۔ معاشی میدان ہو یا سیاسی ہر طرف ہیجان اور ٹوٹ پھوٹ میں اضافہ ہو گا۔ مضبوط اور دیو ہیکل ریاستیں اور سامراجی طاقتیں ٹوٹنے اور بکھرنے کی جانب بڑھیں گی۔ داخلی و خارجی سطح پر ہر ملک اور خطے میں تضادات کا ابھرنا نا گزیر ہے خواہ کہیں اس عمل کی رفتار سست ہو یا کہیں تیز لیکن ہر جانب یہ عمل جاری ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ سرمایہ داری عالمگیر سطح پر موجود ہے اور اس کا بحران بھی عالمگیر ہے۔ اس بحران کی شدت طبقاتی کشمکش کو بھی نئی شکتی اور اٹھان دے رہی ہے جو آنے والے عرصے میں بڑھتی چلی جائے گی۔ ان تمام قیامت خیز تبدیلیوں میں محنت کش طبقہ ہی وہ واحد قوت ہے جو منظم انداز میں آگے بڑھتے ہوئے اس پر انتشار عمل کا انت کر سکتی ہے اور اقتدار پر قبضہ کرتے ہوئے اس نظام کا خاتمہ کرتے ہوئے ایک سوشلسٹ سماج کا آغاز کر سکتی ہے۔
سماجی ومعاشی نظاموں کی ٹوٹ پھوٹ اور شکست و ریخت کا عمل ماضی میں بھی قیامتیں ڈھاتا رہا ہے۔ایک نظام کا خاتمہ اور اس کی جگہ نئے نظام کا ابھرنا اور اس کی جگہ لینا کبھی بھی سیدھا اور پر امن عمل نہیں رہا۔بالکل ایسے ہی جیسے ایک نئی زندگی کا جنم تکلیف،چیخ و پکار اور خون میں لتھڑے بغیر ممکن نہیں۔ایسے ہی ایک نئے سماج کا جنم بھی پرانے شکستہ ڈھانچے کو بزور طاقت اکھاڑے بغیر ممکن نہیں۔
اس عمل کے دوران سماج کے ہر شعبے، ہر حصے کا تبدیل ہو نا ناگزیر ہوتا ہے۔عام حالات میں بظاہر تمام شعبے اور سماج کے مختلف حصے ایک دوسرے سے الگ تھلگ نظر آتے ہیں۔سائنس، آرٹ، ادب، سیاست، معیشت، تدریس، ثقافت ایک دوسرے سے الگ الگ کام کر رہے ہوتے ہیں۔ان کے ماہرین ایک دوسرے سے مختلف زندگیاں گزارتے ہیں اور تمام تر توجہ اپنے شعبے پر مرکوز کیے ہوتے ہیں۔لیکن ان سب کی بنیاد وہی سماجی معاشی نظام ہوتا ہے جو ان کی حدود کا تعین بھی کرتا ہے۔ ایک نظام کا عروج و زوال ان تمام شعبوں کی بنیادوں کو بھی ہلا کر رکھ دیتا ہے اور ان مخصوص شعبوں کے عروج و زوال میں بھی فیصلہ کن کردار ادا کرتا ہے۔ آج سرمایہ دارانہ نظام کا زوال سماج کے ہر شعبے، ہر حصے اور ہر خلیے میں اپنے زوال اور شکست کا اظہار کر رہا ہے۔تمام پرانے سماجی رشتے ٹوٹ پھوٹ اور شکستگی کا شکار ہیں۔ہر جانب ایک افرا تفری اور ہیجان ہے۔اور اس ہیجان میں کمی کی بجائے مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔پرانے رشتوں، سماجی تعلقات، روایتوں، رسوم و رواج، نظریات، اخلاقیات اور عقائد کو بچانے کی جتنی کوشش کی جاتی ہے، انہیں سینے سے لگا کر محفوظ بنانے کی جتنی تگ و دو ہوتی ہے اتنا ہی وہ ٹوٹتے چلے جاتے ہیں اور آج یہ سب ہماری اپنی آنکھوں کے سامنے ریزہ ریزہ ہو رہے ہیں۔اس سب پر یقین کر لینا بالکل بھی آسان نہیں جیسے کوئی بہت ہی عزیز شے ٹوٹ کر بکھر جائے تو آنکھیں بند ہو جاتی ہیں اور اس سانحے پر یقین کرنے کا دل نہیں کرتا۔اس کو ایک وہم، ایک برا خیال سمجھ کر جھٹکنے کو جی کرتا ہے۔لیکن جلد یا بدیر آنکھیں کھول کر اس حقیقت پر یقین کرنا ہی پڑتا ہے۔حقیقت کو جھٹلا کر زندگی نہیں گزاری جا سکتی۔ اس نئی حقیقت کے ساتھ ہم آہنگ ہونا ہی پڑتا ہے۔
سرمایہ دارانہ نظام ایک عالمگیر نظام ہے جس کی جڑیں پوری دنیا میں پیوست ہیں۔اس نظام نے دنیا کے تمام حصوں کو ایک دوسرے کے جتنا قریب کیا ہے ماضی میں کوئی بھی نظام اتنا نہیں کر سکا۔آج کی سیاست، تجارت، معیشت اور دیگر تمام شعبے عالمگیر حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔ایک چھوٹے سے ملک یا خطے میں ہونے والی تبدیلی پوری دنیا پر اثرات مرتب کرتی ہے۔کسی ایک شعبے میں ہونے والی نئی پیش رفت دیگر تمام شعبوں کو متاثر کرتی ہے۔یہ صرف سیاست اور معیشت تک محدود نہیں بلکہ سائنس، آرٹ اور زندگی کے تمام شعبوں میں یہ امر لاگو ہوتا ہے۔اس سے قبل تاریخ میں کبھی بھی عالمگیر سطح پر ایسی جڑت دیکھنے میں نہیں آئی تھی۔سرمایہ دارانہ نظام کے وکیل اس پہلو کو اس نظام کی کامیابی بنا کر پیش کرتے ہیں اور یہ دلیل اکثر سننے میں آتی ہے کہ سرمایہ داری نے انسانی ترقی کو عروج کامل تک پہنچا دیا۔ اس لیے اب رہتی دنیا تک سرمایہ دارانہ نظام ہی قائم رہے گا۔ درحقیقت سرمایہ دارانہ نظام سے پہلے آنے والے نظاموں کا بھی یہی دعویٰ تھا۔ غلام دارانہ نظام پر قائم ہونے والی سلطنت روم کے حکمرانوں کو بھی یہی وہم تھا اور قرونِ وسطیٰ میں جاگیر دارانہ نظام پر حاکم بادشاہ اور شہنشاہ بھی یہی سمجھتے تھے۔انسانی سماج کا ہزاروں سال پر محیط سفر عروج و زوال سے گزرتا ہوا آگے کی جانب ہی بڑھتا رہا ہے۔ اس دوران انسانوں نے نظاموں کو تخلیق بھی کیا ہے اور پھر انہی نظاموں اور ان پر براجمان ماضی کی باقیات سے انقلابات کے ذریعے نجات بھی حاصل کی ہے اور ان کی جگہ نئے نظام بھی تخلیق کیے ہیں۔سرمایہ دارانہ نظام بلا شک و شبہ انسانی سماج کا آگے کی جانب ایک بہت بڑا قدم تھا جس نے ترقی کے نئے سلسلوں کا آغاز کیا لیکن آج کئی صدیوں بعد یہ نظام انسانوں کی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ بن چکا ہے اور انسانی سماج کو آگے لے جانے کی بجائے اسے بربادیوں میں دھکیل رہا ہے۔ سائنس، ادب، فن، فلسفے، معاشیات سمیت ہر شعبہ آگے بڑھنے کی بجائے زوال کا شکار ہے اور آبادی کا وسیع تر حصہ غربت اور ذلت کی کھائی میں گرتا چلا جا رہا ہے۔
آج کی دنیا پر محض ایک طائرانہ نگاہ ڈالنے سے ہی اندازہ ہوجاتا ہے کہ کچھ بھی ٹھیک نہیں چل رہا۔ ٹی وی پر خبریں سن لیں یا کوئی اخبار اٹھا کر دیکھ لیں ہر جانب ایک افرا تفری نظر آئے گی۔ جنگوں، خانہ جنگیوں، دہشت گردی کے واقعات، قتل و غارت گری، بھوک، بیماری اور مظلوموں پر ہونے والے حملوں سے بھری ہوئی داستانیں ہر جگہ ملیں گی۔ہر واقعہ کے الگ الگ محرکات اور وجوہات ہوتی ہیں لیکن اگر عمومی عمل کا بغور جائزہ لیں تو واضح طور پر نظر آئے گا کہ پوری دنیا شدید بحرانوں کی لپیٹ میں ہے۔گزشتہ چند سالوں میں جہاں ان بحرانوں کی مقدار میں اضافہ ہوا ہے وہاں ان کا معیار بھی تیزی سے بلند ہوا ہے اور اب یہ پہلے کی نسبت زیادہ شدت اور گہرائی سے اپنا اظہار کر رہے ہیں۔
اس تمام صورتحال کو ایک نئے عہد کے پیمانے سے ہی درست انداز میں سمجھا جا سکتا ہے۔اگر اسے ایک طویل عرصے سے چلے آ رہے معمول کا تسلسل قرار دے کر سمجھنے کی کوشش کی جائے گی تو نہ اس صورتحال کو سمجھا جا سکے گا اورنہ اس کا درست تجزیہ کرتے ہوئے کوئی تناظر تخلیق کیا جا سکے گا۔ایسے میں ہر نیا واقعہ حیران اور پریشان کرنے کا موجب بنے گا۔اس لیے ضروری ہے کہ عالمی سطح پر جاری عمل کو جہاں اس کے پس منظر سے جوڑ کر دیکھا جائے وہاں اس عمل میں آنے والی معیاری تبدیلی کو ایک نئے عہد کے پیمانے پر رکھ کر دیکھا جائے۔
دوسری عالمی جنگ کے بعد عالمی سطح پر ایک نیا ورلڈ آرڈ ر تشکیل پایا۔اس میں امریکی سامراج دنیا میں سب سے بڑی طاقت کے طور پر ابھرا تھا جس نے اپنے سے پہلے موجود سامراجی طاقتوں برطانیہ، فرانس اور دیگر کی جگہ لی تھی۔برطانوی سامراج ایک لمبے عرصے تک دنیا پر حکمرانی کرتا رہا اور کہا جاتا تھا کہ اس سامراجی ریاست میں سورج کبھی غروب نہیں ہوتا۔ سترہویں صدی کے انقلاب سے ابھرنے والی برطانوی سرمایہ داری نے تیزی سے پوری دنیا میں اپنے پنجے گاڑے اور سرمایہ دارانہ نظام کے بلبوتے پر دنیا کے ایک بڑے حصے کو اپنا غلام بنا لیا۔ 1789ء کے انقلاب کے بعد فرانس میں سرمایہ دارانہ نظام کی مربوط ابتدا ہوئی جس نے تیزی سے یورپ اور دنیا کے دیگر ممالک پر حاکمیت کا آغاز کیا جس میں افریقہ کے بہت بڑے خطے شامل تھے۔اس دوران ہسپانوی سامراج کو شکستوں سے دوچار ہونا پڑا۔ لیکن جرمنی اور دیگر یورپی ممالک سرمایہ دارانہ انقلابات کے بعد سامراجی طاقتوں کے طور پر بھی اپنا اثر و رسوخ بڑھاتے رہے۔
بیسویں صدی کے آغاز پر پہلی عالمی جنگ کا مقصد ہی دنیا میں منڈیوں کی از سر نو بندر بانٹ تھاتاکہ مختلف سامراجی ممالک لوٹ مار میں اپنا مطلوبہ حصہ حاصل کر سکیں۔اس جنگ نے عالمی سطح پر طاقتوں کا توازن مکمل طور پر تبدیل کر دیا تھا۔ خاص طور پر جنگ کے دوران 1917ء میں روس میں برپا ہونے والے عظیم سوشلسٹ انقلاب نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔اتنے بڑے خطے میں ایک مزدور ریاست کا قیام دنیا بھر کی سامراجی طاقتوں کے لیے ایک خطرہ تھا جسے ختم کرنے کے لیے اس پر حملہ کیا گیا۔لیکن اس کے باوجود وہ ریاست اپنا وجود قائم رکھنے میں کامیاب رہی اور عالمی سیاست میں اہم کردار ادا کرنے لگی۔سوویت یونین کے قائدین نے دنیا بھر کے محنت کشوں کو سرمایہ داری کیخلاف منظم کرنے کے لیے کمیونسٹ انٹرنیشنل کی بنیاد رکھی جبکہ سامراجی طاقتوں نے اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے لیگ آف نیشنز قائم کی۔
اس کے بعد 1925-27ء میں چین کا انقلاب اور خاص طور پر1929ء کا عالمی معاشی بحران ایسے واقعات ہیں جنہوں نے پوری دنیا میں ایک نئے عہد کا آغاز کیا جو سرمایہ داری کے زوال کا عہد تھا۔اس کا انت دوسری عالمی جنگ کے آغاز پر ہوا جس میں سرمایہ داری کی غلاظت کا نچڑا ہوا عرق فاشزم کی شکل میں یورپ کے اہم حصوں پر مسلط ہوا۔اس جنگ میں جرمن نازی فوجوں کو سوویت یونین نے شکست دی۔اور ایک نئے ورلڈ آرڈر کی بنیاد رکھی گئی۔
امریکی سامراج دوسری عالمی جنگ کے دوران عالمی معیشت پر اپنی گرفت مضبوط کر چکا تھا اور برطانیہ، فرانس سمیت دیگر تمام طاقتیں اس کی مقروض تھیں۔اسی طرح نوآبادیاتی ممالک میں آزادی کی بڑے پیمانے پر تحریکیں موجود تھیں جو برطانیہ، فرانس اور دیگر سامراجی ممالک کے جبر کیخلاف بر سر پیکار تھیں۔ ایسے میں امریکی سامراج سمیت سرمایہ دار طاقتوں نے اپنی حاکمیت کو مضبوط بنیادیں دینے کے لیے عالمی سطح پر نئے اداروں کی تشکیل کے عمل کا آغاز کیا۔سوویت یونین میں سٹالنسٹ زوال پذیری کے باعث کمیونسٹ انٹرنیشنل کومکمل طور پرخیر باد کہہ دیا گیا جو ایک لمبے عرصے سے غیر فعال ہو چکی تھی۔اس کی جگہ عالمی سطح پر سامراجی طاقتوں کی ہونے والی بندر بانٹ میں اپنا حصہ وصول کر کے ایک نئے اسٹیٹس کو کا آغاز کیا گیا۔اس میں اقوام متحدہ، آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک جیسے اداروں کی تشکیل کا آغاز ہوا جو سامراجی طاقتوں کے ہتھیار کے طور پر استعمال ہوتے رہے۔اس دوران پسماندہ ممالک کو براہ راست نو آبادی بنا کر حکمرانی کرنے اور لوٹ مار کرنے کی بجائے مالیاتی شکنجے کے ذریعے جکڑنے کے عمل کا آغاز ہو چکا تھا۔اسی عمل کے ذریعے امریکی سامراج نے پوری دنیا کی معیشت پر اپنی گرفت مضبوط کی اور بتدریج برطانیہ، فرانس اور دیگر ممالک کے مقابلے میں ایک بہت بڑی طاقت کے طور پر ابھرا۔
دوسری عالمی جنگ کے بعد چین میں برپا ہونے والا سوشلسٹ انقلاب بھی گزشتہ صدی کا انتہائی اہم واقعہ تھا جس پر آگے تفصیل سے بحث ہو گی،لیکن عمومی طور پر یہ کہنا حق بجانب ہو گا کہ سوویت یونین اور امریکہ کی سرد جنگ اس عہد میں تمام تر عالمی سیاست، معیشت اور دیگر تمام شعبوں پر اثر انداز ہوتی رہی۔ یہ درحقیقت دو متضاد نظاموں کی جنگ تھی جس میں سوویت یونین کی سٹالنسٹ زوال پذیری اور بیوروکریسی کی حکمرانی کے باوجود ایک غیر طبقاتی منصوبہ بند معیشت موجود تھی جس میں نجی ملکیت کا وجود نہیں تھا۔گو کہ یہ معیشت بیوروکریٹک حکمرانوں نے مسخ کرد ی تھی اور زوال پذیر تھی لیکن اس کے باوجود سامراجی طاقتوں کے لیے ایک بہت بڑا خطرہ تھی۔ سیاست اور معیشت کے علاوہ سائنس، ٹیکنالوجی، طبی تحقیق، آرٹ اور دیگر تمام شعبوں میں یہ مسخ شدہ مزدور ریاست سرمایہ دارانہ نظام کی متروکیت اور سوشلسٹ نظام کی فوقیت بارہا ثابت کرتی رہی۔ اسی خطرے سے نمٹنے کے لیے مغربی سرمایہ دارانہ ممالک میں فلاحی ریاست کا نقاب بھی اوڑھا گیا اور محنت کش طبقے کو علاج اور تعلیم سمیت تمام بنیادی ضروریات فراہم کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر اقدامات کیے گئے۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد سرمایہ دارانہ نظام کے طویل معاشی عروج نے بھی ان حکمران طبقات کو وہ بنیادیں فراہم کر دی تھیں جن کے باعث یہ اقدامات کیے جا سکتے تھے۔دوسری جانب محنت کش طبقے کی تحریکیں بھی اپنے لیے حاصلات چھین رہی تھیں۔
1960ء کی دہائی کے اواخر میں سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف دنیا بھر میں انقلابی تحریکوں اور احتجاجوں کا سلسلہ شروع ہوا اور پھر چند سال بعد ایک معاشی بحران نظر آیا۔لیکن اس عمل میں ایک اہم موڑ سوویت یونین کا انہدام تھا جس نے پوری دنیا میں امریکی سامراج کی حکمرانی کو مسلط کر دیا۔اس کے بعد مزدور تحریک پر بڑے پیمانے پر حملے کیے گئے اور پچھلے عرصے میں جیتی گئی تمام حاصلات حکمرانوں کی جانب سے ایک ایک کر کے واپس چھینی جانے لگیں۔سوویت یونین کے انہدام کے باعث دنیا بھر میں بائیں بازو کی سیاست کو بھی پسپائی کا سامنا کرنا پڑا اور طلبہ، مزدوروں اور کسانوں کی تحریکوں پر بڑے پیمانے پر اس کے مایوس کن اثرات مرتب ہوئے۔ بہت سے بائیں بازو کے کارکنا ن مایوسی کا شکار ہو کر موقع پرستی اور مفاد پرستی کی گہری کھائی میں گر گئے اور سوشلسٹ نظریات کو ہی غلط قرار دینا شروع کر دیا۔ایک جانب سامراجی طاقتیں اپنے بھرپور پراپیگنڈے سے سوشلزم کو غلط اور مارکسزم کو ناکام نظریہ ثابت کرنے پر تلی ہوئی تھیں اور دوسری جانب بائیں بازو سے وابستہ سوویت یونین کی پوجا کرنے والے کارکنان اس عمل کو سائنسی بنیادوں پر سمجھنے سے عاری تھے اور خود اس نظریے کو غلط قرار دے رہے تھے۔اس کیفیت کے اثرات آج تک بہت سے نام نہاد دانشوروں اور لیڈروں پر موجود ہیں اور وہ ابھی تک اس ذہنی کیفیت سے چھٹکارا حاصل نہیں کر سکے۔ یہ عمل دو دہائیوں تک جاری رہا اور سرمایہ دارانہ نظام کو ہی دنیا میں آخری نظام بنا کر پیش کیا جاتا رہا جبکہ امریکی سامراج اور اس کے بنائے گئے عالمی سطح کے اداروں کی حاکمیت مسلمہ حیثیت اختیار کر گئی۔بظاہر ایسے محسوس ہوتا تھا کہ یہ سب ازلی اور ابدی ہے اور دنیا اب ہمیشہ ہمیشہ کے لیے امریکی سامراج کے زیر اثر ہی چلتی رہے گی۔سلطنت روم کے عروج کے دنوں میں بھی یقینا ایسی ہی صورتحال ہوتی ہو گی اور کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا ہو گا کہ یہ عظیم سلطنت اور خدا کا درجہ رکھنے والے اس کے بادشاہ کبھی ختم بھی ہو جائیں گے اور دنیا سے اس کا نام مٹ جائے گا۔امریکی سامراج دنیا میں ماضی کی کسی بھی طاقت کی نسبت زیادہ طاقت کے ساتھ ابھر کر سامنے آیا تھا اور سرمایہ دارانہ نظام کی ماضی کے نظاموں پر فوقیت کے باعث اس نے دولت، اسلحے اور ٹیکنالوجی کے باعث دنیا کے ہر کونے تک اپنی حاکمیت اور اثر و رسوخ قائم کر لیا تھا۔ سامراجی مالیاتی اداروں،ڈالر کی حاکمیت، اقوام متحدہ اور دیگر اداروں کے ذریعے ایک ایسا نظام تشکیل دے دیا گیا تھا جس سے نجات حاصل کرنا ممکن ہی نظر نہیں آ رہا تھا۔ایسے میں جدلیاتی مادیت کے اصولوں سے نابلد اور رسمی منطق پر یقین رکھنے والے کسی بھی شخص کے لیے اس تمام صورتحال کوہمیشہ کا معمول تسلیم کر کے اپنی زندگی کو اسی کے تابع کر لینا غیر معمولی نہیں تھا۔ عام زندگی سے لے کر سیاست تک اس سوچ کے اثرات واضح طور پر نظر آتے ہیں۔ سیاست میں یہ تسلیم کر لیا گیا تھا کہ امریکی سامراج اور اس کے اداروں کی حاکمیت تسلیم کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں اور اتنی بڑی دیو ہیکل طاقت کا مقابلہ کیا ہی نہیں جا سکتا، اس کو شکست دینا تو دور کی بات ہے۔ کوئی احتجاج، تحریک یا سیاسی تبدیلی امریکہ کی مرضی کے بغیر کامیاب نہیں ہو سکتی اس لیے ہر صورت میں امریکہ کی حاکمیت کو تسلیم کرتے ہوئے اس کے سامنے سر خم کر دیا جائے۔ اس ورلڈ آرڈر سے بغاوت کا نتیجہ ہر صورت میں شکست اور ناکامی ہی ہے اس لیے اسی کے اندر رہتے ہوئے اپنا رستہ بنایا جائے۔اس تمام تر صورتحال نے مفاد پرستی کے غلیظ ترین رستوں کو ہموار کیا اور انہیں نظریاتی بنیادیں فراہم کیں۔ اصلاح پسندی سے لے کر بائیں بازو کی سیاست تک یہ غلاظت تعفن پھیلاتی رہی۔ یہی کہا جاتا رہا کہ اسی نظام کے اندر رہتے ہوئے بہتر معیار زندگی حاصل کیا جا سکتا ہے اور طبقاتی نظام کا خاتمہ کسی بھی صورت میں ممکن نہیں اور نہ ہی امریکی سامراج کو کبھی بھی شکست دی جا سکے گی۔ انہی بنیادوں پر پسماندہ ممالک میں این جی اوز کا گھناؤنا دھندہ بھی شروع کیا گیا اور سیاسی کارکنا ن کی رہی سہی پرتوں کو بھی کرپشن اور مفاد پرستی کی کھائی میں دھکیل دیا گیا۔ اس دوران یہ بالکل بھی حیران کن نہیں تھا کہ مارکسزم کے حقیقی نظریات پر قائم قوتیں انتہائی قلیل مقدار تک محدود رہ گئیں اور سیاسی افق پر صرف دھوکے، فریب اور منافقت کا ہی راج ہو گیا۔
2008ء کا عالمی مالیاتی بحران
عالمی سطح پر موجود دانشوروں، تجزیہ نگاروں اور معیشت دانوں کے لیے یہ ایک بہت بڑا جھٹکا تھا۔ان کے کسی بھی تجزئیے اور تناظر میں مالیاتی بحران کا ذکر تک نہیں تھا بلکہ یہ کہا جا رہا تھا کہ سرمایہ داری نے اپنے معاشی عروج و زوال کے چکروں سے نجات حاصل کر لی ہے اور مارکس کا نظریہ غلط ثابت ہو چکا ہے۔اسی غلط مفروضے کی بنیاد پر تمام تر پالیسیاں ترتیب دی جا رہی تھیں جبکہ عالمی معیشت بے ہنگم قرضوں کے بوجھ تلے دبتی جا رہی تھی اور سرمایہ دار کھلی لوٹ مار کر رہے تھے جسے روکنے والا کوئی نہیں تھا۔ یہ کہہ دیا گیا تھا کہ حکومتوں کا معیشت چلانے میں کردار نہیں ہونا چاہیے بلکہ منڈی کو اس کے اصولوں کے تحت چلتے رہنا چاہیے۔
لیکن اس سارے جوا خانے کی معیشت کا جشن اچانک ایک سوگ اور ماتم میں تبدیل ہو گیا۔ مارکسی تجزیہ نگار پہلے سے تناظر تخلیق کر رہے تھے کہ یہ معیشت اسی طرح جاری و ساری نہیں رہ سکتی اور ایک بدترین بحران عالمی معیشت پر منڈلا رہا ہے۔ اس بحران کا آغاز دنیا کی بڑی بڑی کمپنیوں اور بینکوں سے ہوا جو تیزی سے دیوالیہ ہوتے چلے گئے۔سب سے بڑادیوالیہ پن لیحمین برادرز نامی مالیاتی فرم کا ہوا جو 300ارب ڈالر کے قریب مالیت کا دیوالیہ پن تھا۔ یہ انسانی تاریخ کا سب سے بڑا دیوالیہ ثابت ہوا۔امریکہ میں پراپرٹی کے کاروبار اور قرضوں کا بلبلہ پھٹ گیا اور اپنے ساتھ پوری دنیا کی معیشتوں کو کھینچتا چلا گیا۔مالیاتی شعبے سے شروع ہونے والا بحران صنعتی شعبے میں تیزی سے پہنچا اور لاکھوں افراد بیروزگار ہوتے چلے گئے۔یہ زائدپیداوار کا بحران تھا۔ یعنی یہ کہ اشیاء کی بہتات ہے لیکن انہیں خریدنے کی سکت صارفین کے پاس نہیں۔اسی وجہ سے نہ نئی صنعتیں لگ سکتی ہیں بلکہ پہلے سے موجود صنعتیں بھی تیزی سے بند ہونے لگی تھیں جس کی وجہ سے بیروزگاری میں تیزی سے اضافہ ہوا۔ امریکہ کے علاوہ یہ بحران یورپ میں بھی پھیلا جہاں بیروزگاری کی شرح میں تیزی سے اضافہ ہوا۔اس بحران پر قابو پانے کے لیے ان ممالک کے حکمرانوں نے اپنے ہی اصولوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بینکوں اور مالیاتی شعبے کو کھربوں ڈالر کے بیل آؤٹ پیکج دئیے۔دوسرے الفاظ میں بحران کا تمام تر بوجھ محنت کشوں پر ڈال دیا گیا اور ان کے ٹیکسوں کا پیسہ سرمایہ داروں اور بینکاروں کی جھولی میں ڈال دیا گیا جو اس تمام تر بحران کے ذمہ دار تھے۔اس کے ساتھ ساتھ کٹوتیوں کی پالیسی کا بھی آغاز کیا گیا جس میں علاج، تعلیم اور دیگر تمام بنیادی ضروریات پر سرکاری اخراجات میں بڑے پیمانے پر کمی کی گئی اور ٹیکسوں کے نئے بوجھ محنت کشوں پر ڈال دئیے گئے۔اس سے ترقی یافتہ سرمایہ دارانہ ممالک میں کروڑوں محنت کش عوام کا معیار زندگی تیزی سے گرنے لگا۔ جس کے خلاف تحریکوں کا آغاز ہوا۔انہی تحریکوں کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر سیاسی تبدیلیوں کا آغاز ہوا جس کی شدت میں آج ایک دہائی گزرنے کے بعد بھی اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔
کٹوتیوں کی پالیسی اور مالیاتی شعبے کو دئیے جانے والے بیل آؤٹ پیکجوں کے باوجود معاشی بحران ختم نہیں ہو سکا اور ایک دہائی گزرنے کے بعد بھی صورتحال پہلے جیسی نہیں ہو سکی۔بلکہ پہلے سے بھی بڑے بحران کی بازگشت سنائی دے رہی ہے جس سے تما م تر سیاست، ریاستیں اور سامراجی طاقتیں آج سے بھی بڑے پیمانے پر متاثر ہوں گی۔ اس صورتحال سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام دوسری عالمی جنگ کے بعد کے عرصے کا عروج دوبارہ حاصل کرنے کی سکت نہیں رکھتا اور نہ ہی ترقی یافتہ ممالک کے محنت کشوں کو دیا جانے والا وہ معیار زندگی دوبارہ دیا جا سکتا ہے۔ خود سرمایہ داروں کے تجزیہ نگار ایک مسلسل اور لمبے دور کی باتیں کر رہے ہیں جو نصف صدی تک محیط ہو سکتا ہے، جس میں معیار زندگی مسلسل گراوٹ کا شکار رہے گا اور قابل ذکر معاشی بحالی اور معیار زندگی میں بڑھوتری ممکن نہیں رہے گی۔ بہت سے تجزیہ نگار سرمایہ دارانہ نظام کے اس نامیاتی بحران کو تسلیم کر چکے ہیں اور مختلف حربوں سے عوامی غم و غصے کو مستقل بنیادوں پرکنٹرول کرنے کے طریقوں پر غور کر رہے ہیں۔اس تمام تر عرصے میں جمہوریت اور انسانی حقوق کی منافقت کا نقاب بھی سرمایہ داری کے غلیظ اور مکروہ چہرے سے اتر چکا ہے اور محنت کشوں کے خون سے لتھڑا اس کا حقیقی چہرہ عوام کی بڑی اکثریت کے سامنے آ چکا ہے۔امریکہ میں سیاہ فاموں پر تشدد اور ان کی اس جبر کیخلاف تحریک ہو یا پھر اسپین میں کیٹالونیہ کے آزادی کے ریفرنڈم پر ریاست کا ننگا جبر، ہر جانب واضح ہوچکا ہے کہ سرمایہ دار طبقہ اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے نہ جمہوریت پر یقین رکھتا ہے اور نہ انسانی حقوق کی پاسداری پر۔ بلکہ یہ سب ایک دھوکہ اور فریب ہیں اور جیسے ہی ضرورت پیش آتی ہے یہ نقاب اتار کر ننگے جبر کے ذریعے اپنی حاکمیت کو قائم رکھا جاتا ہے۔یورپ اور امریکہ میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات اور ان کے پس پردہ ریاستی اداروں کی آشیر باد کی خبریں بھی اب میڈیا پر آنی شروع ہو گئی ہیں۔2017ء میں برطانوی انتخابات کے دوران جیرمی کاربن کی ’حیران کن‘طور پر تیزی سے بڑھتی ہوئی عوامی حمایت کے دوران ہونے والے دہشت گردی کے واقعات جن کی وجہ سے انتخابی مہم کو روکنا پڑاانتہائی معنی خیز تھے۔ یہی کچھ فرانس، اسپین، امریکہ اور دوسرے ممالک میں ہو چکا ہے۔لیکن ان تمام حربوں کے باوجود عوامی تحریکوں کو ابھرنے سے نہیں روکا جا سکتا۔
عالمی معاشی بحران کے اثرات ترقی پذیر اور پسماندہ ممالک پر زیادہ بڑے پیمانے پر مرتب ہوئے اور ان میں معاشی و سیاسی بھونچال آ گئے۔سب سے زیادہ واضح اثرات مشرقِ وسطیٰ میں نظر آتے ہیں۔2011ء میں ابھرنے والے عرب انقلابات نے پوری دنیا پر اپنے اثرات مرتب کیے۔ دہائیوں سے موجود بظاہر مضبوط آمریتیں دنوں میں عوام کے سمندر میں غرق ہو گئیں۔تیونس سے شروع ہونے والا یہ انقلاب مصر، یمن اور بحرین تک پہنچ گیا اور پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔اسرائیل اور فلسطین میں بھی اپنے اپنے حکمرانوں کے خلاف مظاہروں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ یہاں تک کہ سعودی عرب میں بھی بڑے پیمانے پر مظاہرے اور احتجاج دیکھنے میں آئے۔ شام میں یہ انقلابی تحریک زوال پذیر ہو کر ایک خانہ جنگی میں تبدیل ہو گئی جس میں تمام مقامی ریاستیں سامراجی عزائم کے ساتھ شامل ہو گئیں جبکہ عالمی سطح پر موجود سامراجی طاقتیں بھی اپنے پنجے گاڑنے لگیں۔ اس تمام عمل میں مشرقِ وسطیٰ میں موجودچند ریاستوں کا انہدام بھی نظر آتا ہے جن میں لیبیا، شام، عراق اور یمن شامل ہیں۔ اس تمام تر خونریزی اور قتل و غارت میں امریکی سامراج کا خصی پن اور اس کی کمزوری پہلی دفعہ کھل کر پوری دنیا کے حکمرانوں اور محنت کشوں پر آشکار ہوئی۔ عراق اور افغانستان میں پسپائیوں کے بعد امریکی سامراج لیبیا اور شام میں فوج کشی نہ کر سکا اور میدان روس اور دیگر سامراجی طاقتوں کے لیے کھل گیا۔امریکہ کے خصی پن کو دیکھتے ہوئے سعودی عرب اور دیگر مقامی سامراجی طاقتوں نے بھی اپنے مفادات کو آزادانہ طور پر حاصل کرنے کی کوششوں کا آغاز کیا جس میں انہیں مسلسل ناکامی کا سامنا ہے۔ اس دوران امریکہ اور ایران کا جوہری معاہدہ بھی اہمیت کا حامل ہے جو عالمی سطح پر طاقتوں کے توازن کی تبدیلی کا عندیہ تھا۔ مشرقِ وسطیٰ کی جنگوں میں ایران نے وقتی طور پر روس کے ساتھ مل کر اہم کامیابیاں حاصل کیں اور عراق سے لے کر لبنا ن تک پورے خطے میں اپنے سامراجی پنجے گاڑے۔ اس دوران ترکی کا حکمران اردگان بھی اپنے سامراجی عزائم کو تیزی سے تقویت دیتا رہا جس کے باعث اس کے امریکی سامراج سے کھل کر تضادات سامنے آئے۔ ان دونوں اہم نیٹو اتحادی ممالک میں 2017ء میں ایک موقع پر سفارتی تعلقات بھی ختم ہو گئے اور ترکی واضح طور پر روس اور ایران کے کیمپ میں چلا گیا۔
مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال سے واضح ہوتا ہے کہ عالمی سطح پر کتنے بڑے پیمانے پر تبدیلی آ چکی ہے اورایسا محسوس ہوتا ہے کہ عرب انقلابات سے پہلے کی دنیا انتہائی پر سکون اور مستحکم تھی۔ ہر آنے والا دن عدم استحکام میں اضافہ کرتا ہے اور کسی بھی مسئلے کا دور دور تک کوئی حل نظر نہیں آ رہا۔ اس تمام بحران کا خمیازہ محنت کش عوام بھگت رہے ہیں جہاں شام میں پانچ لاکھ سے زائد افراد قتل ہو چکے ہیں جبکہ نصف کروڑ کے قریب ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے ہیں۔یمن میں بھی لاکھوں افراد ہیضے سے بیمار ہیں اور موت کے منہ میں جارہے ہیں جبکہ آبادی کا وسیع تر حصہ غذائی قلت کا شکار ہے۔ اس جنگ میں بچوں کی ہلاکتیں بھی بڑے پیمانے پر ہوئی ہیں جبکہ بہت سے بچے بیماری اور بھوک کی وجہ سے مارے گئے ہیں۔
دنیا کے دیگر خطوں میں بھی صورتحال مختلف نہیں۔ مشرقی یورپ میں یوکرائن میں خانہ جنگی اور عدم استحکام مسلسل جاری ہے جس کا کوئی انت نہیں۔ افریقہ میں ایک کے بعد دوسرے ملک میں آمریتوں اور سامراجی پشت پناہی سے قائم حکومتوں کو عوام چیلنج کر رہے ہیں جبکہ جنگوں، خانہ جنگیوں، دہشت گردی کی کاروائیوں، قحط سالیوں اور بھوک اور بیماری کے حملوں میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ لاطینی امریکہ میں بھی اس بحران نے زلزلہ برپا کر دیا ہے۔ خاص طور پر تیل کی قیمتوں میں بڑے پیمانے پر گراوٹ نے وینزویلا میں جاری اصلاح پسندانہ پالیسیوں کو بڑا دھچکا لگایا ہے جبکہ امریکی سامراج کی جانب سے بھی پابندیاں لگائی جا چکی ہیں جس کے نتیجے میں معیشت دیوالیہ ہو چکی ہے۔دیگر ممالک میں بھی معاشی بحران اور عوامی تحریکیں بڑھتی جا رہی ہیں۔آنے والے عرصے میں یہاں بھی سرمایہ داری کے تحت کسی قسم کی بحالی یا بہتری دکھائی نہیں دیتی۔
عالمی سطح پر جاری اس تمام تر عمل میں عالمی تعلقات بڑے پیمانے پر تبدیل ہو چکے ہیں۔ترقی یافتہ سرمایہ دارانہ ممالک میں محنت کش عوام کا ریاستی اداروں اور نام نہاد جمہوریت پر سے اعتماد اٹھ چکا ہے اور یہ تمام ادارے تیزی سے ہوا میں معلق ہو رہے ہیں۔2016ء کے امریکی صدارتی انتخابات نے اس عمل میں ایک فیصلہ کن کردار ادا کیا۔ان انتخابات میں ٹرمپ حیران کن طور پر امریکہ کا صدر منتخب ہو گیا۔امریکہ کی تمام ریاستی مشینری، سرمایہ دار طبقہ،میڈیا، دانشور، تجزیہ گار اور سروے ثابت کر رہے تھے کہ ہیلری کلنٹن نہ صرف امریکہ کے مستقبل کے لیے سب سے بہترین شخصیت ہے بلکہ انتخابات بھی جیتنے کی طرف جا رہی ہے۔ عالمی اسٹیبلشمنٹ کی بھی یہی خواہش تھی کیونکہ ہیلری اسٹیٹس کو کی نمائندہ بن کر ابھری تھی جبکہ ٹرمپ اسٹیٹس کو توڑنے کی بات کر رہا تھا اور انتہائی دائیں بازو سے سرمایہ داروں اور ریاستی اداروں پر حملے کر رہا تھا۔اس دوران برنی سینڈرز نے جب سوشلزم اور سیاسی انقلاب کا نعرہ لگایا تو اسے بھی ہیلری کلنٹن سے کہیں زیادہ پذیرائی ملی۔ ایک سروے کے مطابق اگروہ آخر میں آزاد امیدوار کے طورپر انتخاب میں حصہ لیتا تو آج امریکہ کا صدر ہوتا۔ لیکن اپنے اصلاح پسندانہ خصی پن کے باعث وہ ریاستی اداروں کے دباؤ کا سامنا نہ کر سکا اور ہیلری کے حق میں دستبردار ہو گیا۔ اس صورتحال میں ووٹروں کی ایک بڑی تعداد نے انتخابات میں حصہ ہی نہیں لیا اور پورے انتخابی عمل پر مکمل عدم اعتماد کا اظہار کیا۔ اس کے علاوہ ہیلری سے نفرت کا تمام تر ووٹ ٹرمپ کے حصے میں آ گیا۔
امریکہ سمیت دنیا بھر کی بحران زدہ صورتحال کا مجسم اظہار ٹرمپ کی شخصیت سے بہتر ہی شاید کہیں ہو سکے۔ کہا جاتا ہے کہ جس طرح کی صورتحال بنے اس قسم کا بندہ منظر پر آ جاتا ہے۔ایسا ہی کچھ امریکی انتخابات میں نظر آیا۔ ٹرمپ کے بر سر اقتدار آنے کے بعد اس نئے عہد کا ایک چہرہ واضح ہو کر سامنے آیا۔ اس کے اقتدار کے پہلے سال میں ہر آنے والا دن دنیا میں عدم استحکام اور پرانے ورلڈ آرڈر کی مزید تباہی و بربادی کی شکل میں سامنے آیا۔اس نے آتے ہی عالمی سطح پر موجود تمام معاہدوں کو ردی کی ٹوکری میں پھینکنے کا اعلان کیا اور امریکی سامراج کو نئے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے یا پھر اپنے انتخابی نعرے ’امریکہ کو دوبارہ عظیم بنانے‘کے لیے نئے معاہدوں کی کوششوں کا آغاز کر دیا۔ لیکن ہر مرحلے پر ٹرمپ کو احساس ہوا کہ اس کے انتخابی نعرے کو عملی جامہ نہیں پہنایا جا سکتا کیونکہ دنیا اس کے خیالات کے مطابق نہیں چل رہی اور بڑے پیمانے پر تبدیل ہو چکی ہے۔ٹرمپ کی مثال اس ’ڈان کیخوٹے‘کی سی ہوگئی ہے جو پرانی اخلاقیات، رسوم و رواج، جرات، بہادری اور جنگجوانہ خصوصیات کو بحال کرانے کی جدوجہد میں ایک مذاق بن جاتا ہے۔ اکیسویں صدی کا یہ ڈان کیخوٹے سمجھتا ہے کہ امریکی سامراج کے اشارے سے دنیا ہل جاتی ہے اور ہر شخص پر امریکہ کی تابعداری فرض ہے۔ لیکن اس وقت دنیا میں جو تبدیلیاں رونما ہو چکی ہیں اور جس تیزی سے معاشی، سیاسی اور سماجی بحران گہرا ہوتا جا رہا ہے اس میں امریکی سامراج کی گرفت عالمی سیاست و معیشت پر تیزی سے ختم ہوتی جا رہی ہے جس کا ادراک ٹرمپ کو اپنے ہر بیان اور ہر اقدام کے بعد واضح طور پر محسوس ہوتا ہے۔ اس کا تجربہ اس پر یہ تلخ حقیقت آشکار کرتا ہے کہ دنیا تبدیل ہو چکی ہے اور امریکہ پہلے جیسی سامراجی طاقت نہیں رہا اور سرمایہ دارانہ نظام شدید بحران کا شکار ہے جس کا کوئی حل حکمران طبقے کے پاس موجود نہیں۔ٹرمپ کی طرح دنیا بھر میں کروڑوں لوگ اپنے تجربات اور دھماکہ خیز واقعات سے ایسے ہی نتائج اخذکر رہے ہیں۔لیکن ٹرمپ سمیت دنیا بھر کا حکمران طبقہ اس نظام کو قائم رکھنا چاہتا ہے اور اس کی بقا کی کوششیں کر رہا ہے جبکہ محنت کش طبقہ اس نظام اور اس کے تمام تر جبر اور استحصال سے نجات حاصل کرنے کی جدوجہد کر رہا ہے۔اس عمل میں امریکی سامراج کی کمزوری اور پسپائی کے باعث پیدا ہونے والے خلا کو پُر کرنے کے لیے نئی سامراجی طاقتیں آ گے بڑھ رہی ہیں جن میں روس،جرمنی، ایران، ترکی، سعودی عرب و دیگر بہت سے ممالک شامل ہیں لیکن ان سب میں چین سب سے بڑا کھلاڑی ہے۔
















In defence of Marxism!
Marxist Archives
Progressive Youth Alliance