بلوچستان: ریاست کی جانب سے بلوچ خواتین کی جبری گمشدگیوں کا بھیانک اور مجرمانہ سلسلہ جاری: خدیجہ پیر جان سمیت تمام لاپتہ بلوچ خواتین اور سیاسی کارکنوں کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہیں!

|رپورٹ: انقلابی کمیونسٹ پارٹی، بلوچستان|

انقلابی کمیونسٹ پارٹی ضلع کیچ سے تعلق رکھنے والی نرسنگ کی طالبہ خدیجہ بنتِ پیر جان کی جبری گمشدگی کی شدید الفاظ میں مذمت کرتی ہے اور مطالبہ کرتی ہے کہ خدیجہ بنتِ پیر جان کو فی الفور منظر عام پر لایا جائے۔ اگر اس پر کوئی الزام ہے تو اسے عدالت میں پیش کیا جائے اور قانون کے مطابق شفاف ٹرائل فراہم کیا جائے۔

23اپریل کو تربت پریس کلب میں اہلِ خانہ کی جانب سے کی گئی پریس کانفرنس کے مطابق خدیجہ پیر جان، جو بی ایس نرسنگ کے ساتویں سمسٹر کی طالبہ ہے اوراس کے فائنل امتحانات 28 اپریل سے متوقع ہیں، کو 21 اپریل 2026ء کی شب کوئٹہ میں بولان میڈیکل نرسنگ گرلز ہاسٹل پر کاروائی کے دوران حراست میں لیا گیا۔

نرسنگ کی طالبہ خدیجہ بنتِ پیر جان

اہلِ خانہ کے مطابق اس کاروائی میں کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) اور دیگر سیکیورٹی اداروں کے اہلکار شامل تھے، جنہوں نے بغیر کسی واضح وجہ کے خدیجہ کو حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا۔ مزید یہ کہ گرفتاری کے دوران مبینہ تشدد بھی کیا گیا، جس سے ہاسٹل میں موجود دیگر طالبات میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔

اہلِ خانہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ خدیجہ اس سے قبل 14 مارچ 2026ء کو سی ٹی ڈی کی طلبی پر تربت میں پیش ہو چکی تھی، جہاں تفتیش کے بعد اسے کلیئر قرار دیا گیا تھا۔ اس کے باوجود دوبارہ گرفتاری ایک سنگین سوالیہ نشان ہے۔

خدیجہ پیر جان کی بازیابی کے لیے بولان میڈیکل کمپلیکس کے سامنے ایک روز سے پرامن احتجاجی دھرنا جاری تھا۔ تاہم حکومتی ذرائع کی جانب سے یہ اطلاعات سامنے آئیں کہ مذکورہ نرسنگ طالبہ کے مبینہ طور پر عسکریت پسندوں کے ساتھ تعلقات ہیں، جس کے بعد سیکیورٹی فورسز نے پرامن احتجاجی دھرنے کو سبوتاژ کرتے ہوئے اسے ختم کر دیا۔ بعد ازاں پولیس کی بھاری نفری نے بولان میڈیکل کمپلیکس ہسپتال کو گھیرے میں لے لیا، جس سے صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی اور طلبہ و مظاہرین میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔

اسی سلسلے کی ایک اور کڑی میں 22 اپریل کو خضدار کے علاقے نال (استخلی) میں سیکیورٹی فورسز نے ایک گھر پر چھاپہ مارا، جہاں اہلِ خانہ کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور ثمینہ بنتِ دوست محمد (سکنہ اورناچ) کو اس کے چچا زاد بھائی قمبر ولد لطیف کے ہمراہ جبری طور پر لاپتہ کر دیا گیا۔ اطلاعات کے مطابق دو کم عمر افراد کو بھی ساتھ لے جایا گیا۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب خدیجہ پیر جان کی بازیابی کے لیے طلبہ احتجاج کر رہے تھے۔

بی ایم سی کے سامنے بروری روڈ پر طالابت کا خدیجہ کی بازیابی کے لیے دھرنا

یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ اس سے قبل بھی کوئٹہ، تربت اور کراچی سمیت مختلف علاقوں سے متعدد بلوچ خواتین کو جبری طور پر لاپتہ کیا جا چکا ہے، جنہیں بعد ازاں بغیر کسی شفاف قانونی عمل کے ”دہشت گرد“ قرار دیا گیا۔ ماہ جبین، نسرین، حیر النساء، حسینہ بلوچ، خدیجہ بلوچ اور اب ثمینہ بلوچ سمیت ہزاروں بلوچ نوجوان آج بھی لاپتہ ہیں۔

حکومتی سطح پر خدیجہ پیر جان پر دہشتگردی کے الزامات عائد کیے جا رہے ہیں، جو ماضی کی طرح بے بنیاد اور من گھڑت معلوم ہوتے ہیں۔ 18 مارچ کو فرزانہ بلوچ کو بطور ’خودکش بمبار‘ میڈیا کے سامنے پیش کیا گیا، حالانکہ فرزانہ زہری دختر محمد بخش زہری، جسے پریس کانفرنس میں ’لائبہ‘ کے نام سے پیش کیا گیا، یکم دسمبر 2025ء کی شب اُس وقت لاپتہ ہوئی جب وہ اسپتال سے گھر واپس جا رہی تھی۔ اہلِ خانہ نے اسی وقت سیکیورٹی فورسز پر الزام عائد کیا تھا، مگر ریاستی اداروں نے اس کی کوئی وضاحت نہیں دی۔

اسی طرح ماہل بلوچ کا کیس بھی ایک واضح مثال ہے، جسے 17 فروری 2023ء کو جبری طور پر لاپتہ کرنے کے بعد ”خودکش بمبار“ قرار دیا گیا، مگر بعد ازاں عدالتوں کو اسے رہا کرنا پڑا۔ یہ واقعات ریاستی بیانیے کی کمزوری اور جبر پر مبنی پالیسیوں کو بے نقاب کرتے ہیں۔

21اپریل کو کراچی سے بی وائی سی کی رکن فوزیہ بلوچ کے بھائی کو دوسری مرتبہ جبری طور پر لاپتہ کیا گیا، جو اس سے قبل 11 اگست 2023ء کو بھی لاپتہ ہو چکا تھا اور شدید عوامی احتجاج کے بعد 5 ستمبر کو بازیاب ہوا تھا۔ جبری گمشدگی کا یہ عمل درحقیقت معاشرے میں خوف کو برقرار رکھنے کا ایک ہتھیار ہے، جس کے ذریعے ریاست سیاسی کارکنوں اور ان کے خاندانوں کو دباؤ میں لانے کی کوشش کرتی ہے۔ تاہم یہ ایک حقیقت ہے کہ جبر اور ناانصافی کے خلاف آواز اٹھانے والے لوگ اس طرح کے ہتھکنڈوں سے خائف نہیں ہوں گے، بلکہ یہ اقدامات مزید غم و غصے اور مزاحمت کو جنم دیتے ہیں۔

انقلابی کمیونسٹ پارٹی کا مؤقف

انقلابی کمیونسٹ پارٹی جبری گمشدگیوں کو سرمایہ دارانہ ریاست کے جبر کا بدترین اظہار سمجھتی ہے، جو نہ صرف بنیادی انسانی حقوق کی صریح خلاف ورزی ہے بلکہ خود ریاست کے اپنے آئین اور قوانین کی بھی نفی ہے۔ یہ عمل درحقیقت جدوجہد کی ہر شکل کو دبانے، سیاسی اختلاف کو کچلنے اور محکوم اقوام و طبقات کو خاموش رکھنے کا ایک ہتھیار بن چکا ہے۔

ہم واضح کرتے ہیں کہ کسی بھی فرد کو بغیر عدالت، بغیر ثبوت اور بغیر قانونی عمل کے حراست میں رکھنا ایک مجرمانہ فعل ہے۔ اگر ریاست کے پاس کوئی ثبوت ہے تو اسے کھلی عدالت میں پیش کیا جائے، بصورت دیگر تمام لاپتہ افراد کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔

یکجہتی کی اپیل

انقلابی کمیونسٹ پارٹی بلوچستان سمیت پورے ملک کے محنت کشوں، طلبہ، نوجوانوں، سیاسی کارکنوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں سے اپیل کرتی ہے کہ وہ جبری گمشدگیوں کے خلاف ایک متحد جدوجہد کا آغاز کریں۔

ریاست کو اس کے اپنے نام نہاد آئینی اور قانونی تقاضوں پر عملدر آمد کرنے پر مجبور کیا جائے اور اس جبر کے سلسلے کو اجتماعی قوت کے ذریعے روکا جائے۔

یہ جدوجہد نہ صرف لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے ضروری ہے بلکہ ایک ایسے سماج کی تعمیر کے لیے بھی ناگزیر ہے جہاں جبر، استحصال اور ریاستی دہشتگردی کا خاتمہ ممکن ہو۔

Comments are closed.