خیبر پختونخوا: مزدور دشمن پالیسیوں کے خلاف سرکاری ملازمین کے صوبہ بھر میں احتجاج

|رپورٹ: صدیق جان|


اس وقت صوبہ خیبرپختونخوا شدید مالی بحران کا شکار ہے۔ بار بار یہ کہا جا رہا ہے کہ ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی کے لیے پیسے نہیں ہیں۔ یہ خبر بھی گردش کر رہی ہے کہ ملازمین کو بجٹ میں دیا جانے والا 35 فیصد کا اضافہ واپس لیا جا رہا ہے۔ اسی طرح تنخواہوں میں کٹوتی کا بھی پرواگرام ہے۔ لہٰذا اگیگا (آل گورنمنٹ ایمپلائز گرینڈ الائنس) خیبرپختونخوا کی جانب سے پنشن قوانین میں مزدور دشمن تبدیلیوں، تنخواہوں میں مجوزہ کٹوتی کے خاتمے اور اپ گریڈیشن و دیگر مطالبات کے حصول کے لئے 26 اکتوبر کو پورے صوبے میں دی گئی احتجاج کی کال کے سلسلے میں پشاور، بونیر، ملاکنڈ اور تیمرگرہ دیر لوئر سمیت تمام اضلاع میں ہزاروں ملازمین و محنت کشوں نے ریلیاں نکالیں اور احتجاج کئے۔ ریڈ ورکرزفرنٹ کے کارکنان نے بھی ان احتجاجوں میں بھر پور شرکت کی اور ملازمین کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا۔

ریڈ ورکرز فرنٹ کے مرکزی رہنما صدیق جان، اگیگا کے پی کے کے احتجاج میں۔

اس وقت پاکستان شدیدمعاشی بحران کا شکار ہے جس کا اظہار اداروں کی ٹوٹ پھوٹ اور آپسی لڑائیوں لڑائی میں ہو رہا ہے۔ ملک دیوالیہ پن کے دہانے پر کھڑا ہے بلکہ عملاً ملک دیوالیہ ہو چکا ہے۔ اشیائے خرد و نوش کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔ پیٹرول، بجلی، گیس جیسی بنیادی اشیائے ضرورت کے قیمتوں میں کئی گنا اضافہ ہو چکا ہے۔ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں کافی کمی ہوئی ہے۔ حکمران طبقے نے سالہا سال آئی ایم ایف جیسے سامراجی اداروں سے قرضے لیے ہیں جنہیں عوام پر خرچ کرنے کی بجائے حکمرانوں نے خود اپنی تجوریاں بھری ہیں۔ اب آئی ایم ایف ان قرضوں کی واپسی اور نئے قرضوں کے اجراء کیلئے سخت سے سخت ترین شرائط لاگو کر رہا ہے جس میں سرکاری اداروں کی نجکاری، روزگار کا خاتمہ، سرکاری ملازمین کے پنشن کا خاتمہ اور تنخواہوں میں کٹوتی سمیت اور بہت سے مزدور دشمن اقدامات شامل ہیں۔

نگران حکومت کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ آئی ایم ایف کے احکامات پر ہر صورت عمل کرے اور ان کو لاگو کرے۔ ایسے میں نگران حکومت نے آئی ایم ایف کے احکامات پر عمل درآمد شروع کر دیا ہے۔ پی آئی اے، واپڈا اور ریلوے سمیت کئی عوامی اداروں کی نجکاری کی جا رہی ہے جبکہ سرکاری سکول اور دیگر ادارے بھی نجکاری کے لسٹ میں شامل ہیں اور کہیں کہیں کام شروع بھی ہو چکا ہے۔

حکومت کے ان تمام تر ظالمانہ اقدامات سے محنت کش عوام اور ملازمین شدید متاثر ہو رہے ہیں اوران کے خلاف جدوجہد شروع کر چکے ہیں۔ اس ضمن میں پنجاب کے ملازمین نے پنشن قوانین میں ترمیم کے خلاف 10 اکتوبر کو احتجاج کی کال دی۔ 12 اکتوبر کو جب حکومت نے اگیگا کے قائدین اور دیگر ملازمین کو پر امن احتجاج سے گرفتار کر لیا۔ اس کے خلاف ملازمین نے شدید ردعمل کا اظہار کیا اور پورے پنجاب کے لاکھوں ملازمین سڑکوں پر نکل آئے۔ کئی اداروں اور سکولوں کو بند کر دیا گیا، یہاں تک کہ طلبہ بھی احتجاجی ملازمین کے ساتھ شامل ہوگئے۔

لیکن اس عظیم الشان احتجاجی تحریک کو مرکزی اور صوبائی اگیگا قیادت نے رہائی کے بعد جمعہ کی رات کو بغیر کوئی ٹھوس کامیابی حاصل کئے ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔ قیادت کا مؤقف تھا کہ ان کی مریم نواز سے ملاقات کرائی گئی ہے اور اس نے گارنٹی دی ہے کہ تحریک کے مطالبات منظور کر لئے جائیں گے۔ سمجھوتے بازی پر مبنی قیادت کے اس انتہائی بے تکے، غیر منطقی اور احمقانہ فیصلے پر پورے پنجاب بلکہ پورے ملک کے سرکاری ملازمین و محنت کشوں میں غم و غصے کی ایک شدید لہر دوڑ گئی۔ یہاں یہ واضح کرنا بہت ضروری ہے کہ اس تحریک میں آگے بڑھنے کا بے تحاشہ پوٹینشل موجود تھا۔ یہ مسائل صرف صوبہ پنجاب کے ملازمین و محنت کشوں کے ہی نہیں بلکہ پورے ملک کے سرکاری محکموں اور عوامی اداروں کے محنت کشوں کے مسائل تھے۔ واپڈا، ریلوے، پوسٹ، سول ایوی ایشن اور بے شمار عوامی ادارے پہلے ہی نجکاری کے حملے کی زد میں ہیں۔ سب جانتے ہیں کہ اگر پنجاب میں مزدور دشمن لیو انکیشمنٹ اور پنشن ترامیم لاگو ہو گئیں تو وفاق، دیگر صوبوں اور عوامی اداروں پر ان کے اطلاق کا راستہ بھی صاف ہو جائے گا۔

لہٰذا اگر اگیگا قیادت چاہتی تو وہ تھوڑی سی کوشش کے ساتھ تمام صوبوں، وفاقی ملازمین اور عوامی اداروں کے محنت کشوں کو اس تحریک کا حصہ بنا سکتی تھی۔ اسی طرح نجی صنعتوں میں کم از کم اجرت میں اضافے اور حکومتی اعلان کردہ اجرت کے فوری اطلاق کو اپنے پروگرام کا حصہ بناتے ہوئے نجی صنعتوں کے محنت کشوں کی حمایت بھی جیتی جا سکتی تھی۔ اسی عمل میں تشکیل پانے والا ملک گیر مزدور اتحاد ناگزیر طور پر ایک ملک گیر عام ہڑتال کا سوال بھی سامنے لے آتا جو حکمرانوں کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیتا۔ ملازمین کو یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ ن لیگ سمیت تمام سیاسی پارٹیاں پرلے درجے کی عوام دشمن ہیں۔ ان سب نے اپنے اپنے دور اقتدار میں محنت کشوں اور عوام پر بد ترین معاشی حملے کیے ہیں۔ یہ سب سرمایہ دار طبقے کی نمائندہ ہیں اور آئی ایم ایف کی گماشتہ ہیں اور ان تمام سیاسی پارٹیوں کے پاس اس معاشی بحران سے نکلنے کا کوئی حل نہیں بلکہ ان تمام کے پاس صرف ایک ہی فارمولا ہے کہ آئی ایم ایف سے مزید قرضہ لیا جائے اور بدلے میں محنت کشوں کا خون نچوڑا جائے۔

اس لئے تمام محنت کشوں کو متحد ہو کر حکومت اور سامراجی اداروں کے ان ظالمانہ اقدامات کے خلاف ملک گیر سطح پر منظم جدوجہد کرنا ہوگی۔ اس کے لیے محنت کشوں کو ایک ملک گیر عام ہڑتال کی جانب بڑھنا ہوگا۔ ایک عام ہڑتال کے ذریعے پورے ملک کا محنت کش طبقہ ایک اپنی حقیقی طاقت کو محسوس کرے گا۔ وہ یہ محسوس کرے گا کہ پورا نظام وہ چلا رہا ہے اور اگر اس کی مرضی نہ ہو تو پھر ایک پہیہ نہیں چل سکتا، ایک بلب نہیں جل سکتا، فون کی کوئی گھنٹی نہیں بج سکتی۔ یہی طاقت پھر سرمایہ دارانہ نظام کو ایک سوشلسٹ انقلاب کے ذریعے اکھاڑ پھینکے گی۔ اور سرمایہ دارانہ نظام کے ساتھ ساتھ مہنگائی، بیروزگاری، تنخواہوں میں کٹوتی، نجکاری سمیت تمام مزدور دشمن پالیسیوں اور اقدامات کا ہمیشہ ہمیشہ کیلئے خاتمہ کر ڈالے گی۔

Comments are closed.