|رپورٹ: انقلابی کمیونسٹ پارٹی، بلوچستان|
بلوچستان گرینڈ الائنس کی ضلعی، صوبائی اور مرکزی قیادت کے گھروں پر چھاپے، گرفتاریاں، تنظیمی اجلاسوں پر دھاوے اور کارکنان کو ہراساں کرنا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ پیپلز پارٹی کی نااہل صوبائی حکومت شدید بوکھلاہٹ کا شکار ہو چکی ہے۔ مختلف اوچھے، دوغلے اور جابرانہ ہتھکنڈوں کے ذریعے بلوچستان گرینڈ الائنس کی جائز احتجاجی تحریک کو سبوتاژ کرنے کی کوششیں نہ صرف اس تحریک پر براہِ راست حملہ ہیں بلکہ پورے صوبے میں بنیادی جمہوری اور آئینی حقوق کی کھلی پامالی بھی ہیں۔اسی جبر کے تسلسل میں 2 جنوری کو دفعہ 144 کا نفاذ درحقیقت بلوچستان گرینڈ الائنس کی اعلان کردہ احتجاجی تحریک کو کچلنے اور سبوتاژ کرنے کی ایک منظم کوشش تھی۔ مگر جب محنت کشوں نے اس آمرانہ پابندی کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے اپنے احتجاجی سلسلے کو جاری رکھا تو نااہل، کرپٹ اور بدعنوان صوبائی حکومت اور اس کی کرپٹ بیوروکریسی کھل کر جبر پر اتر آئی۔
ہم واضح کرتے ہیں کہ جبر کے ذریعے کسی بھی تحریک، بالخصوص محنت کشوں کی آواز کو دبانا محض ایک خام خواب ہے جو کبھی پورا نہیں ہو سکتا۔ یہ پہلا موقع نہیں کہ صوبائی حکومت نے یہی طرزِ عمل اختیار کیا ہو۔ ماضی میں بھی بلوچستان گرینڈ الائنس کی قیادت کو تھری ایم پی او کے تحت جیلوں میں ڈالا گیا، پھر مذاکرات کے نام پر چھ ماہ تک محنت کشوں کے مطالبات کو سرد خانے میں رکھا گیا۔ نہ کوئی سنجیدہ پیش رفت ہوئی اور نہ ہی مطالبات پر عملدرآمد۔ آج جب محنت کشوں کا پیمانہ صبر لبریز ہو چکا ہے اور وہ ایک بار پھر منظم ہو کر میدان میں اترے ہیں تو صوبائی حکومت دوبارہ انہی فریب پر مبنی، دوغلے اور اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آئی ہے۔
اسی پس منظر میں بلوچستان گرینڈ الائنس کی آرگنائزنگ کمیٹی کا اہم اجلاس جمعہ 2 جنوری 2026ء کو آرگنائزر پروفیسر عبدالقدوس کاکڑ کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں حکومت بلوچستان کی جانب سے اپنی ہی تشکیل کردہ کمیٹی اور مشترکہ سفارشات پر عملدرآمد نہ کرنے، مسلسل تاخیری حربوں، ملازمین کے مسائل پر دانستہ خاموشی اور آئینی حقوق سے انحراف کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی۔ اجلاس نے واضح کیا کہ یہ رویہ محنت کشوں کو دیوار سے لگانے اور ان کی جائز جدوجہد کو کچلنے کی کھلی کوشش ہے، جس کے سامنے بلوچستان گرینڈ الائنس کسی دباؤ، دھمکی یا جبر کے آگے سر نہیں جھکائے گا۔
بلوچستان گرینڈ الائنس نے اعلان کیا ہے کہ حکومت کی اس ہٹ دھرمی اور بے حسی کے جواب میں احتجاج کو مرحلہ وار مگر فیصلہ کن انداز میں آگے بڑھایا جائے گا۔ پہلے مرحلے میں 5 سے 8 جنوری 2026ء تک صوبے کے تمام ڈویژنز میں ریلیوں کی صورت اپنے اپنے حلقوں کے ایم پی ایز اور صوبائی وزراء کے گھروں کے سامنے یادداشتیں پیش کی جائیں گی۔ دوسرے مرحلے میں 12 سے 14 جنوری 2026ء تک مختلف اضلاع میں دوپہر 12 بجے سے 2 بجے تک قومی شاہراہیں بند کی جائیں گی۔ تیسرے مرحلے میں 15 جنوری 2026ء کو پورے بلوچستان میں مکمل لاک ڈاؤن ہو گا اور تمام عوامی ادارے بند رہیں گے۔ آخری اور فیصلہ کن مرحلے میں 20 جنوری 2026ء کو بلوچستان بھر کے ملازمین قافلوں کی صورت کوئٹہ پہنچ کر ریڈ زون میں غیر معینہ مدت کے لیے دھرنا دیں گے، جو باقاعدہ نوٹیفکیشن تک جاری رہے گا۔
یہ تمام احتجاجی مراحل ایسے حالات میں طے کیے گئے ہیں جب 29 سے 31 دسمبر کے قلم چھوڑ اور کام چھوڑ احتجاج کے جواب میں حکومت نے مذاکرات کی بجائے دھمکی آمیز نوٹیفکیشنز، گھروں پر چھاپے، گرفتاریاں اور انتقامی کاروائیاں کیں۔ یہ تمام اقدامات مزدور دشمن، اشتعال انگیز اور قابلِ مذمت ہیں اور اس حقیقت کو بے نقاب کرتے ہیں کہ حکمران طبقہ محنت کشوں کے منظم ہونے اور اپنی طاقت پہچاننے سے خوفزدہ ہے۔ انقلابی کمیونسٹ پارٹی ان تمام چھاپوں، گرفتاریوں، دفعہ 144 کے نفاذ اور ریاستی جبر کی شدید مذمت کرتی ہے اور بلوچستان گرینڈ الائنس کی اس جدوجہد کی مکمل حمایت کرتی ہے۔
ہم واضح اور دو ٹوک انداز میں اعلان کرتے ہیں کہ کسی بھی مذاکراتی عمل کو اس وقت تک قبول نہیں کیا جائے گا جب تک جون 2025ء سے محنت کشوں کے پیش کردہ مطالبات پر باضابطہ نوٹیفکیشن جاری نہیں کیے جاتے اور عملی عملدرآمد کا آغاز نہیں ہوتا۔ محض مذاکرات کے نام پر وقت حاصل کرنے اور تحریک کو کمزور کرنے کی ہر کوشش کو مسترد کیا جاتا ہے۔ انقلابی کمیونسٹ پارٹی اپیل کرتی ہے کہ نااہل صوبائی حکومت کی جانب سے انتقامی کاروائیوں کے پیش نظر بدلتی ہوئی صورتحال کے نتیجے میں بلوچستان گرینڈ الائنس کو 20 جنوری کو کوئٹہ دھرنے کو کامیاب بنانے کے ساتھ ساتھ صوبہ بھر میں عام ہڑتال کی کال دی جائے، تاکہ اس تحریک کو محض احتجاج تک محدود رکھنے کی بجائے ایک فیصلہ کن طبقاتی دباؤ میں تبدیل کیا جا سکے۔
پارٹی اس بات پر بھی زور دیتی ہے کہ ان تمام یونینز، تنظیموں اور محنت کش گروہوں کو اعتماد میں لیا جائے جو کسی وجہ سے الائنس سے باہر ہیں، کیونکہ محنت کش طبقے کی اصل طاقت وسیع تر طبقاتی اتحاد میں مضمر ہے۔ مزید برآں، انقلابی کمیونسٹ پارٹی بلوچستان کے محنت کشوں کے ساتھ ساتھ پورے پاکستان کی ٹریڈ یونین قیادت، مزدوروں، کسانوں، طلبہ، نوجوانوں اور تمام ترقی پسند قوتوں سے اپیل کرتی ہے کہ وہ اس ریاستی جبر، عوام دشمن پالیسیوں اور استحصالی نظام کے خلاف بلوچستان گرینڈ الائنس کی احتجاجی اور عام ہڑتال کی تحریک کے ساتھ عملی اور بھرپور یکجہتی کا اظہار کریں۔ طبقاتی یکجہتی، منظم جدوجہد اور مشترکہ مزاحمت ہی وہ واحد راستہ ہے جس کے ذریعے اس نظام اور اس کے محافظوں کو شکست دی جا سکتی ہے۔ انقلابی کمیونسٹ پارٹی نااہل و کرپٹ صوبائی حکومت اور بیوروکریسی کی بدمعاشی، مزدور اور عوام دشمن پالیسیوں کے خلاف بلوچستان گرینڈ الائنس کی جدوجہد اور محنت کشوں کی فیصلہ کن جنگ کی غیر مشروط حمایت کرتی ہے۔



















In defence of Marxism!
Marxist Archives
Progressive Youth Alliance