کانٹ کا فلسفہ کیا ہے؟ یہ سرمایہ داری کا مرغوب ترین فلسفہ کیوں ہے؟ (حصہ دوئم)
تحریر: |صبغت وائیں| 25 اگست 2016ء جارج آرول نے اپنے ناول میں چند فقرے ایسے لکھے تھے جو کہ بظاہر مذاق لگتے تھے جن میں ایک تھا: ’’Ignorance is Strength‘‘
تحریر: |صبغت وائیں| 25 اگست 2016ء جارج آرول نے اپنے ناول میں چند فقرے ایسے لکھے تھے جو کہ بظاہر مذاق لگتے تھے جن میں ایک تھا: ’’Ignorance is Strength‘‘
تحریر: |صبغت وائیں| کانٹ کی صرف ایک بات یورپ امریکہ کو پسند ہے وہ ہے اس کا نکالا ہوا نتیجہ۔ ورنہ اس کے میتھڈ کو یہ لوگ بھی اس طرح سے رد کرتے ہیں کہ اس کا میں نے آج تک ذکر کسی کی تحریر میں پڑھا نا کسی سے […]
تحریر: |لیون ٹراٹسکی| ترجمہ: |انعم خان| قاری اس بات پر غور کرے گا کہ میں نے سٹالن کے حالیہ سیاسی امور کی بجائے ابتدائی دور کی ترقی پر زیادہ تفصیل سے کام کیا ہے۔ حالیہ دور کے حقائق ہر پڑھے لکھے انسان پر عیاں ہیں۔ اس کے علاوہ سٹالن کے […]
تحریر: |فریڈرک اینگلز| یہ مقولہ انگریز مزدور تحریک گذشتہ پچاس برس سے اپنائے ہوئے ہے۔ جب رسوائے زمانہ قوانینِ اجتماع 1824ء میں منسوخ کر دیئے گئے (برطانیہ میں اس سے قبل مزدور یونین کی تشکیل اور اس کی سرگرمیوں پر پابندی تھی) اور ٹریڈ یونینیں ابھرنے لگیں تو اس وقت […]
تحریر: |فضیل اصغر| جب سے کارل مارکس نے سوشلزم کا سائنسی نظریہ دیا ہے تب سے ایک مخصوص طبقے کو مستقل پریشانی کا سامنا ہے۔ جی، اسی طبقے کو جو سماج کے ذرائع پیداوار پر قابض ہے اور پوری نسل انسانی کو اپنا غلام بنائے ہوئے ہے۔ اس طبقے کو […]
تحریر: |ناصرہ وائیں، صبغت وائیں| گذشتہ روز ایک نجی چینل پر عطیہ کو دیکھ کر نہایت مسرت ہوئی کہ ایک غریب لڑکی جس کے کالج جانے کے سپنے دم توڑ چکے تھے اب اس کی زندگی میں امید پھر سے لوٹ آئی ہے۔ اس نجی چینل کے دعوئے کے مطابق […]
تحریر: | ایلن وڈز | ترجمہ: |یاسر ارشاد| ٹراٹسکی کی زندگی 20 اگست1940ء کو اس وقت اختتام پذیر ہو گئی جب ایک سٹالنسٹ ایجنٹ نے بہیمانہ طریقے سے برف توڑنے والے کلہاڑے سے اس کے سر پر وار کیا۔ جو تحریریں وہ مکمل نہیں کر سکا تھا ان میں اس […]
تحریر: | ب۔ کرایلوف | مارکس اور اینگلز عالمی آرٹ کو بخوبی جانتے تھے اور ادب، کلاسیکی موسیقی اور مصوری سے حقیقی آگاہی رکھتے تھے۔ اپنی جوانی میں دونوں نے شاعری بھی کی حتیٰ کہ ایک دفعہ اینگلز نے شاعر بننے کے بارے میں سنجیدگی سے سوچا بھی۔ اُنہیں نہ […]
تحریر: | عدیل زیدی | سٹالنزم دنیا میں بائیں بازو کی سیاست میں ایک اہم موضوع ہے جس پر لاتعدا د مضامین لکھے جا چکے ہیں لیکن ابھی بھی یہ انقلابی سیاست میں ایک سلگتا ہوا سوال ہے۔ بورژوا تبصرہ نگاروں کی نظر میں سٹالنزم صرف ایک ظلم کی داستان […]
ولادیمیر لینن نے یہ کتاب 1920ء میں تحریر کی اور اسی سال شائع ہوئی۔1920ء میں ہی ہونے والی کامینٹرن کی دوسری عالمی کانگریس میں موجود ہر ڈیلیگیٹ کو اس کتاب کا ایک نسخہ پیش کیا گیا۔
1 ۔ کمیونزم کیا ہے؟ 2۔ پرولتاریہ کیا ہے؟ 3۔ کیا پرولتاریہ کا وجود ہمیشہ سے تھا؟ 4۔ پرولتاریہ کا جنم کیسے ہوا؟ 5۔ وہ کون سے حالات ہوتے ہیں کہ پرولتاریہ اپنی قوت محنت بورژوا طبقے کے پاس بیچنے پر مجبور ہوجاتا ہے؟ 6۔ صنعتی انقلاب سے پہلے محنت […]
[تحریر: لیون ٹراٹسکی] (یہ آرٹیکل 13 جولائی 1923 ء میں ’’پراودا‘‘ میں شائع ہوا تھا۔اس کا پہلاانگریزی ترجمہ زیڈ و نجیروا (Z.Vengerove )نے کیا جو 1924 ء میں ’’زندگی کی مشکلات ‘‘میں شائع ہوا تھا)
کچھ حضرات کا خیال ہے کہ فن ایک ضمنی سامعاملہ ہے اور زیادہ اہم نہیں ہے۔ لیکن حقیقت میں یہ انسانوں کے لئے انتہائی بنیادی نوعیت کاحامل ہے۔
تحریر: ولادیمیر لینن(1913ء) تمام متمدن دنیا میں مارکس کی تعلیمات سے بورژوا علم (سرکاری بھی اور اعتدال پسند بھی) بھڑکتا ہے اور سخت عداوت رکھتا ہے۔ اس کی نظر میں مارکس ازم کیا ہے، ایک ’’مہلک فرقہ‘‘۔