ایران: عوامی تحریک سے ملا ریاست لرزاں
پچھلے چار دن سے ایرانی ریاست کو 1979ء کے انقلاب کے بعد سے اب تک کے سب سے بڑے عوامی احتجاجوں کا سامنا ہے۔ یہ ایک دیو ہیکل تبدیلی ہے اور اس نے ملا آمریت کو بنیادوں تک ہلا کر رکھ دیا ہے
پچھلے چار دن سے ایرانی ریاست کو 1979ء کے انقلاب کے بعد سے اب تک کے سب سے بڑے عوامی احتجاجوں کا سامنا ہے۔ یہ ایک دیو ہیکل تبدیلی ہے اور اس نے ملا آمریت کو بنیادوں تک ہلا کر رکھ دیا ہے
بدھ کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سرکاری طور پر یروشلم کو اسرائیل کا دارلحکومت تسلیم کرنے کا اعلان کیا۔ ٹرمپ کا یہ بیان نام نہاد امن مذاکرات کی حقیقت کو عیاں کرتا ہے
|تحریر: لیزا رائے| 12 نومبر کوایران عراق کے سرحدی علاقے میں 7.3ریکٹر سکیل کی شدت کا زلزلہ آیا، جس نے ایران کے شمال مغربی صوبے کرمانشاہ سے لے کر عراقی کردستان میں حلبجہ تک پھیلے ہوئے علاقے کو اپنی لپیٹ میں لیا۔ سبھی حکمرانوں نے متاثرین اور کُرد علاقوں کی […]
|تحریر: ولید خان| (نوٹ: یہ تحریر ہفتے کی رات ولی عہد محمد بن سلمان کی تطہیری مہم کے شروع کرنے سے پہلے لکھی گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق اینٹی کرپشن کے نام پر اس تطہیری مہم میں اب تک تقریباً دو درجن سابق وزیر، چار حاضر سروس وزیر اور گیارہ […]
گزشتہ پیر کے دن لاکھوں عراقی کردوں نے ایک ریفرنڈم میں عراق سے علیحدگی اور ایک آزاد ریاست کے قیام کے حق میں ووٹ دیا۔ 92.73 فیصد ووٹروں نے کرد آزادی کے حق میں ووٹ دیا جبکہ شرکت کی شرح 72.16 فیصد تھی۔ عراقی کرد عوام کی بھاری اکثریت نے واضح کر دیا ہے کہ ان کا عراق کی نیم فرقہ پرست مرکزی حکومت سے کوئی تعلق نہیں۔
پچھلے ایک مہینے سے سعودی عرب، عرب امارات اور بحرین نے قطر کی مکمل ناکہ بندی کی ہوئی ہے جبکہ مصر نے تمام سفارتی تعلقات منقطع کر دئیے ہیں۔ ان واقعات نے مشرق وسطیٰ میں ایک نیا بحران کھڑا کر دیا ہے جس کے حوالے سے دنیا کی بڑی سامراجی طاقتیں کافی پریشان ہیں
محنت کش طبقہ ہی وہ واحد قوت ہے جو دہشت گردی کو شکست دے سکتی ہے اور سرمایہ داری اور سامراجیت کے خلاف سنجیدہ جدوجہد کر سکتی ہے۔ حکمران طبقہ اور دہشت گرد، دونوں محنت کش طبقے کو تقسیم کرنا چاہتے ہیں
پچھلے کچھ عرصے سے جنوبی ایشیا اور اس کے گردو نواح میں علاقائی اور عالمی سامراجی ریاستوں کے مابین تعلقات میں تیز ترین تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں۔ ماضی کے اتحاد ٹوٹ رہے ہیں اور ’’نئی دوستیاں‘‘ ان کی جگہ لے رہی ہیں۔ پرانے تضادات کے بطن سے نئے تضادات کا جنم ہورہا ہے
|تحریر: ولید خان| امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے بیرون ملک دورے کے حوالے سے ذرائع ابلاغ میں بڑا چرچا کیا جا رہا ہے۔ مشرق وسطیٰ اور یورپ کے دورے کے دوران جہاں ٹرمپ کی تضحیک آمیز حرکتوں اور بدمعاشیوں پر تبصرے ہوتے رہے وہیں پر خاص طور پر سعودی […]
مشرق وسطی میں سب سے زیادہ رجعتی قوتیں مغربی سامراجی اور ان کے حامی ہیں جو اس خطے کی عوام کو زیر کر کے غلامی کی بیڑیوں میں باندھ کر ان کا اندھا دھند استحصال کرنے کے خواہشمند ہیں اور اس کام کیلئے معاشرے کے سب سے رجعتی گروہوں اور پرتوں پر اکتفا کر رہے ہیں
3 جولائی کو بر سر اقتدار آنے والی فوجی آمریت پچھلے چند دنوں سے پھرایک نئے بحران کی لپیٹ میں ہے۔ مختلف شہروں میں اشیا پر دی جانے والی سبسڈیوں میں کٹوتیوں کے خلاف۔۔خاص کر روٹی پر دی جانے والی سبسڈی میں کٹوتی کے خلاف۔۔ السیسی کے محنت کشوں اور غریبوں پر حملوں کے خلاف سینکڑوں مشتعل مصری جارحانہ احتجاج کرتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے
دسمبر میں بشار الاسد کی حامی قوتوں کے حلب پر دوبارہ قبضے نے، نہ صرف شام کی خانہ جنگی کو بلکہ خطے میں موجود بحران کو فیصلہ کن موڑ پر پہنچا دیا ہے۔ لیکن آنے والے دنوں میں عالمی تعلقا ت پر بھی اس کے گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔
ہزاروں انسانوں کی موت، لاکھوں افراد کی جسمانی معذوری اور بے گھر ی کی صورت میں اس جنگ کی قیمت ادا کی گئی ہے۔ حلب کا سقوط دراصل شام میں ہونے والی خونریزی کے انسانی المیے کا انجام ہے۔ یہ ایک قدیم شہر تھا جس کے مکین جدید تھے۔ جو بہت اعلیٰ انسانی اقدار کا نمونہ تھا جسے آگ اور خون کی دلدل میں اتار دیا گیا۔ جس کا خمیازہ آنے والی کئی نسلیں بھگتیں گی۔
|تحریر: حمید علی زادے، ترجمہ: ولید خان| اردوگان کی اقتدار پر آہنی گرفت مضبوط کرنے کی ہوس نے خوفناک شکل اختیار کر لی ہے۔ جمعرات کی شب بائیں بازو کی کر دپارٹی HDP(پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی) کے دو نوں شریک صدور صلاحدین دیمرتاس اور فگن یوکسیک داگ کو پارٹی کے نو […]