چین: ہڑتالی مزدوروں کی حمایت پر مارکسی سوسائٹی کو ممکنہ پابندی کا سامنا

|تحریر: ژان ڈو ژے، ترجمہ: ولید خان|

20 ستمبر کو بیجنگ میں واقع چین کی سب سے پرانی یونیورسٹی ،پیکنگ یونیورسٹی (PKU) کی مارکسی سوسائٹی (MS) کے ایک نمائندے کا کھلا خط چینی سوشل میڈیا پر گردش کرنا شروع ہو گیا۔ خط میں تفصیل سے بیان کیا گیا کہ اس مہینے سوسائٹی کیمپس میں بطور طلبہ کلب دوبارہ رجسٹر ہونے کے لئے یونیورسٹی کے تدریسی عملے میں سے کسی ایک مشیر کی حمایت کی مقررہ شرط پوری نہیں کر پا رہی۔ 

اس پوسٹ کو کچھ دیر بعد حذف کر دیا گیا اور MS کی جانب سے ایک دوسرے جاری کردہ کھلے خط کے مطابق 21 ستمبر کو PKU کیمپس کی ینگ کمیونسٹ لیگ (YCL) نے کلب عہدیداران کی طلبہ سوسائٹی رجسٹر نہ کرانے پر سرزنش کی۔ اس وجہ سے انہیں ڈسپلن کی خلاف ورزی کا نوٹس دیا گیا ہے۔ 

اس پوری صورتحال کی سیاسی اہمیت یہ ہے کہ پیکنگ یونیورسٹی کی مارکسی سوسائٹی کی عام طور پر YCL ضامن ہوتی ہے جو خود چینی کمیونسٹ پارٹی کا سرکاری یوتھ ونگ یعنی چینی ریاست کا ونگ ہے۔ کھلے خط کا کہنا تھا کہ نہ صرف ان کے تدریسی شعبے میں موجود مشیر (سابق سیکرٹری PKU کیمپس YCL) نے اچانک ذاتی مشاورت سے انکار کر دیا بلکہ پورے کیمپس میں کوئی ایک شخص بھی MS کی ضمانت دینے کو تیار نہیں۔ طلبا نے پھر پیکنگ یونیورسٹی کے سکول آف مارکسزم میں کسی مشیر کو ڈھونڈنے کی کوشش کی مگر ناکام رہے۔ آخر کار جب انہیں ایک پروفیسر مل ہی گیا جو مشیر بننے پر آمادہ ہو گیا تو اگلے ہی دن اس نے انکار کر دیا۔ MS کے دوسرے کھلے خط کے مطابق YCLنے براہ راست مارکسی سوسائٹی کے طلبہ کو سکول آف مارکسزم سے باہر کسی بھی پروفیسر سے اس ضمن میں بات کرنے سے روک دیا ہے۔

ابھی تک YCL نے اس مارکسی سوسائٹی کے حوالے سے کوئی اعلامیہ جاری نہیں کیا لیکن عام تاثر پایا جاتا ہے کہ اس ساری کاروائی کے پیچھے چینی حکومت ہے جو مارکسی سوسائٹی کی مزدوروں کی یکجہتی کے لیے بڑھتی سرگرمیوں سے نالاں ہے۔ خاص طور پر شین زین میں JASICمزدوروں کی یکجہتی پر جس کی وجہ سے اس یونیورسٹی کی مارکسی سوسائٹی کے متعدد طلبہ کو گرفتار کیا گیا اور وہ تاحال زیر حراست ہیں۔ مارکسی سوسائٹی ایک ایسا کلب ہے جس کے لئے ’’مارکسسٹ لینن اسٹ، ماؤ زے تنگ کی سوچ اور دیگر سائنسی سوشلزم کی تھیوریاں‘‘ مشعل راہ ہیں۔ یہ سوسائٹی مزدوروں کے خلاف ہونے والے مظالم کی آگاہی پھیلانے میں پیکنگ یونیورسٹی کے اندر اور باہر سرگرم ہے۔ اس کے مشہور ترین ممبران میں سے ایک یو زن ہے، جو MeToo# جیسی ایک تحریک کا حصہ تھا جس نے یونیورسٹی پر دباؤ ڈالا کہ اپنے ایک پروفیسر کی تفتیش کی جائے جس نے ایک طالبہ پر جنسی حملہ کیا تھا۔ حالیہ کچھ عرصے میں مارکسی سوسائٹی کی تنظیم کا حجم اور تحریکوں میں مداخلت کی بہت زیادہ تشہیر ہوئی ہے جس کا سب سے واضح اظہار JASIC مزدوروں کی یونین سازی کی کوششوں کی منظم حمایت تھا۔ مارکسی سوسائٹی کے طلبا نے کئی کیمپسوں میں ربط و ضبط کے ساتھ پہلے سے طے شدہ نعروں، نعروں سے مزین ٹی شرٹوں اور بینروں کے ساتھ تحریک میں مداخلت کی اور سڑکوں پر احتجاج کئے۔ یکجہتی مہم کے دوران انہوں نے ریڈیکل تقریروں کی فلمبندی کر کے انہیں شیئربھی کیا۔ 

ہم مارکسی سوسائٹی پر ریاستی جبر کی شدید مذمت کرتے ہیں اور ان کے ساتھ یکجہتی کرتے ہیں۔

یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ مارکسی سوسائٹی کا راستہ روکنے کی YCL یعنی کمیونسٹ پارٹی کی کوششوں کی وجہ سوسائٹی کی بڑھتی ہوئی ریڈکلائزیشن ہے۔ جیسا کہ ہم نے متعدد بار لکھا ہے، چینی سرمایہ داری کے بڑھتے ہوئے تضادات کا مطلب ناگزیر طبقاتی جدوجہد کا ابھار ہے۔ اب جبکہ یہ تناظر ظہور پذیر ہونے کی طرف جا رہا ہے تو روایتی ماؤاسٹ قوتیں جو کہ چین میں بائیں بازو کے تحرک کا سب سے وسیع حصہ بناتی ہیں، اگر محنت کش طبقے کے ساتھ جڑت بنانے میں کامیاب ہوتی ہیں تو کمیونسٹ پارٹی کے لئے بہت بڑا خطرہ ثابت ہو سکتی ہیں۔ یعنی، کمیونسٹ پارٹی کے لئے مٹھی بھر منظم اور ریڈیکل یونیورسٹی طلبہ بھی ایک بڑا مسئلہ بن سکتے ہیں اور اسی وجہ سے وہ اتنی مستعدی سے مارکسی سوسائٹی کے طلبہ کو دبانے کی کوششیں کر رہے ہیں۔ 

حقیقی ماؤاسٹ طلبہ کو پہلی مرتبہ پیکنگ یونیورسٹی میں جبر کا سامنا نہیں ہے۔ دسمبر 2017ء میں یونیورسٹی طالب علم اور اس سوسائٹی کے ممبرانگ ین فان کو ’’حساس سیاسی مواد‘‘ پڑھنے والے سٹڈی سرکل منظم کرنے پر گرفتار کیا گیا۔

ماؤ کے زیر اقتدار سٹالنسٹ چین پر ہماری ٹھوس سائنسی تنقید واضح ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ ماؤازم وہ تجزیہ اور لائحہ عمل وضع نہیں کر سکتا جس کے نتیجے میں ایک کامیاب سوشلسٹ انقلاب کیا جا سکتا ہے۔ لیکن ہم ان سرگرم کارکنان کی بہادری کو سراہتے ہیں جو سرمایہ دارانہ نظام سے ٹکر لیتے ہوئے ایک بہتر سماج کے لئے اپنے آپ کو قربان کرنے کو تیار ہیں اور ہم ریاستی جبر کے خلاف ان کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ 

ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ:

1۔ طلبہ کی مارکسی سوسائٹی کو فوراً بحال کرو!

2۔ چینی حکومت تمام JASIC مزدوروں کو فوراً رہا کرے، ان کے روزگار بحال کرے اور یونین سازی کا حق استعمال کرنے دے!

3۔ JASIC مزدوروں کی یکجہتی میں گرفتار طلبہ کو فوراً رہا کرتے ہوئے تادیبی کاروائی سے تحفظ فراہم کیا جائے!

4۔ JASIC مزدوروں کی یکجہتی میں گرفتار تمام مزدور تنظیموں کے ممبران کو فوراً رہا کرو!

JASIC مزدوروں اور ان کے حمایتی طلبہ کی یکجہتی کے لئے عالمی مارکسی رجحان کی اس کیمپئین کا حصے بننے کے لئے یہاں کلک کریں۔ 

Comments are closed.