|رپورٹ: انقلابی کمیونسٹ پارٹی، گلگت بلتستان|
گلگت میں گزشتہ ایک ماہ سے خواتین کی جانب سے محلوں کی سطح پر پانی کے بحران اور بجلی کی عدم دستیابی کے خلاف احتجاجی سلسلہ جاری ہے۔ اگرچہ گلگت بلتستان کے تقریباً ہر ضلعے میں لوگ پانی کی قلت، بجلی کی طویل دورانیہ لوڈشیڈنگ اور ناقص گندم کی فراہمی جیسے اہم بنیادی مسائل سے دوچار ہیں، تاہم گلگت شہر، جو پورے گلگت بلتستان کا انتظامی اور سیاسی ہیڈکوارٹر ہے، وہاں بھی عوام کو پانی اور بجلی جیسی بنیادی ضروریات کے حصول کے لیے سڑکوں پر آنا اور خصوصاً خواتین اور سکول کے بچوں کا احتجاجی مظاہرے کرنا موجودہ نظام اور حکومت کی کارکردگی پر ایک اہم سوالیہ نشان ہے۔
مختلف رپورٹس کے مطابق گلگت بلتستان میں ہائیڈل منصوبوں کے ذریعے ایک لاکھ سے زائد کلو واٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہے، لیکن اس کے باوجود ہر سال گلگت بلتستان کے مختلف اضلاع میں پانی، بجلی اور دیگر بنیادی ضروریات کی عدم فراہمی کے خلاف احتجاجات دیکھنے کو ملتے ہیں۔ تاہم اس مرتبہ احتجاجی مظاہروں میں ایک نمایاں اور منفرد پہلو سامنے آیا ہے، اس دفعہ خواتین نہ صرف خود ان احتجاجی مظاہروں کو منظم کر رہی ہیں بلکہ ان کی قیادت بھی خود کر رہی ہیں۔
حال ہی میں جوٹیال گلگت میں ہونے والے ایک احتجاجی مظاہرے کی قیادت بزرگ خاتون نے کی، جسے نہ صرف عوامی حلقوں کی جانب سے بھرپور سراہا گیا بلکہ ان کی تقریر کو سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر پذیرائی ملی۔ اس احتجاجی مظاہرے کے بعد گلگت شہر کے دیگر محلوں کی خواتین بھی متحرک ہوئیں اور ہر ہفتے احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔ کنوداس کے مقام پر ہونے والے ایک مظاہرے کے دوران سابق وزیر کے ساتھ تلخ کلامی کا واقعہ بھی پیش آیا، جہاں مشتعل خواتین اور بچوں نے شدید احتجاج ریکارڈ کروایا اور حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔
گلگت جیسے قبائلی اور نسبتاً پسماندہ سماج میں بھی خواتین اب سیاسی میدان میں نمایاں کردار ادا کرتی ہوئی نظر آ رہی ہیں۔ چند برس قبل تک خواتین کا گھروں سے باہر نکل کر احتجاج کرنا معیوب سمجھا جاتا تھا، مگر اب خواتین اپنے بنیادی حقوق کے لیے صفِ اول میں کھڑی نظر آتی ہیں۔ دوسری جانب ان احتجاجوں اور بنیادی ضروریات زندگی کی عدم فراہمی کے خلاف پنپتے ہوئے عوامی غم و غصے کو دبانے کے لیے ریاست کی جانب سے فرقہ وارانہ ماحول کو بھی ہوا دینے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔
ہم سمجھتے ہیں کہ پانی، بجلی، انٹرنیٹ سمیت دیگر بنیادی ضروریات کی عدم فراہمی دراصل اس نظام کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے اور ان مسائل کا حل اس فرسودہ نظام کے خاتمے سے مشروط ہے۔ انقلابی کمیونسٹ پارٹی ان تمام باہمت خواتین، بچوں اور دیگر مظاہرین کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہے جو اپنی بنیادی ضروریات کے لیے سڑکوں پر نکلے ہیں۔ ہم یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ تعلیم، علاج، صاف پانی اور بجلی جیسی بنیادی ضروریات کی فراہمی اس نظام کے ہوتے ہوئے ممکن نہیں، کیونکہ اس نظام کا بنیادی مقصد انسانی ضروریات کی تکمیل کی بجائے منافع کا حصول ہے۔
لہٰذا، ضرورت اس امر کی ہے کہ پورے گلگت بلتستان میں گاؤں، تحصیل اور ضلعی سطح پر عوامی ایکشن کمیٹیاں تشکیل دی جائیں اور اس مزاحمت کو منظم شکل دیتے ہوئے موجودہ سرمایہ دارانہ نظام کا خاتمہ کرتے ہوئے ایک منصوبہ بند سوشلسٹ معیشت کی تعمیر کی طرف بڑھا جائے۔


















In defence of Marxism!
Marxist Archives
Progressive Youth Alliance