|تحریر: بین کری، ترجمہ: عبدالحئی|
(یہ مضمون ایران جنگ سے پہلے لکھا گیا تھا جب سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان تنازعہ شدت اختیار کر چکا تھا۔ یہ مضمون ہماری انٹرنیشنل ویب سائٹ marxist.com پر شائع کیا گیا تھا۔ انگریزی میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔)
اس جنوری میں ٹرمپ کی جانب سے وینزویلا پر بمباری اور اس کے صدر نکولس مادورو کو اغوا کیے جانے کے دو دن بعد سعودی عرب نے جنوبی یمن پر بمباری کی اور ملک کی ساؤتھرن ٹرانزیشنل کونسل (Southern Transitional Council) کی قیادت کو اغوا کر لیا۔ اس سے بحرانات کا ایک سلسلہ شروع ہوا اور اب بحیرہ احمر کے پورے خطے میں ایک دراڑ نمودار ہو چکی ہے، جو مغرب میں مراکش تک اور مشرق میں برصغیر تک پھیل گئی ہے۔ دو مخالف کیمپ ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہیں اور دونوں ہی امریکی اتحادیوں پر مشتمل ہیں۔
یمن میں سعودی عرب کی جانب سے کی گئی ان اغوا کاریوں کو باقاعدہ طور پر اغوا کاری نہیں کہا گیا۔ اس کی بجائے سعودیوں نے ان اغوا کاریوں کو ’امن مذاکرات‘ کا نام دیا ہے۔ عیدروس الزبیدی جو ساؤتھرن ٹرانزیشنل کونسل کا صدر ہے، کو ان مذاکرات میں مدعو کیا گیا تھا، لیکن آخری لمحے اس نے خود کو جمال خاشوگی کے قاتلوں کے حوالے کرنے سے گریز کیا۔ اگر کبھی کوئی دانشمندانہ فیصلہ کیا گیا تو وہ یہی تھا! چنانچہ اس نے ریاض جانے والی اپنی طے شدہ پرواز چھوڑ دی اور متحدہ عرب امارات فرار ہو گیا۔
تاہم ساؤتھرن ٹرانزیشنل کونسل (STC) کے دیگر پچاس رہنما سعودی عرب چلے گئے۔ وہاں ان کا استقبال ایک مسلح دستے نے کیا۔ اس کے بعد ہمیں بس اتنا معلوم ہے کہ ان کے فون بند کر دیے گئے اور انہیں کئی دنوں تک بیرونی رابطے سے مکمل طور پر محروم رکھا گیا۔ پھر جب وہ دوبارہ سامنے آئے تو انہوں نے اعلان کیا کہ وہ ایس ٹی سی (STC) کو تحلیل کرنے جا رہے ہیں۔ ان ’مذاکرات‘ سے نکلنے کا اس کے علاوہ اور کوئی چارہ ہی نہیں تھا۔
قبضہ گیری، چوری، قزاقی، اغوا کاری اور بندوق کی نوک پر مذاکرات، یہ سب 2026ء میں بین الاقوامی سفارت کاری کے اوزار بن چکے ہیں اور امریکا انہی راستوں کا تعین کر رہا ہے۔
وینزویلا میں ہونے والے واقعات کے مقابلے میں یمن میں جو کچھ ہوا وہ اخباروں کی سرخیوں میں بمشکل دکھائی دیا۔ تاہم، ان حملوں نے واقعات کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع کیا جو تیزی کے ساتھ مسلسل بڑھ رہا ہے۔
بحیرہ احمر کا جنگی محاذ
مذکورہ بالا ساؤتھرن ٹرانزیشنل کونسل (STC) یمن میں متحدہ عرب امارات کی پراکسی رہی ہے۔ اور یمن میں وہ ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغی کے خلاف لڑائی میں سعودی پراکسی کے ساتھ باقاعدہ اتحادی تھے، حالانکہ برسوں ان کے درمیان جھڑپیں بھی ہوتی رہی ہیں۔ اور اب 2025ء کے آخر میں، ایس ٹی سی نے اماراتی ہتھیار استعمال کرتے ہوئے اپنے زیر کنٹرول علاقے کو سعودی سرحد تک پھیلا دیا ہے۔
سعودیوں نے اسے ہرگز برداشت نہیں کیا۔ انہوں نے اماراتی ہارڈویئر پر بمباری کی اور انہیں ہتھیار ڈالنے اور انخلاء پر مجبور کیا اور پھر ایس ٹی سی کے لاچار قائدین کو مذکورہ بالا ’مذاکرات‘ کی دعوت دی۔
تب سے، سعودی اور اماراتی تعلقات زوال پذیر ہیں۔
سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے رہنما برسوں سے گہرے دوست رہ چکے تھے۔ میڈیا میں انہیں MBS (محمد بن سلمان) اور MBZ (محمد بن زید) کے نام سے جانا جاتا ہے اور وہ خلیج عرب کے لاینفک دوست سمجھے جاتے تھے۔ اب وہ ایک دوسرے کا گلا دبانے پہ تلے ہوئے ہیں۔
سعودی عرب اماراتی ویزوں کو تسلیم کرنے سے انکار کر رہا ہے۔ دونوں نے اپنے کے نمائندے واشنگٹن حمایت حاصل کرنے کے لیے بھیجے ہیں۔ موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اماراتیوں نے وہاں امریکی یہودی گروہوں کے ساتھ ملاقاتیں کیں تاکہ سعودی کو یہود دشمن قرار دینے کی حمایت حاصل کریں۔
لیکن تب سے ایک گہرا بحران سر اٹھانے لگا ہے۔
پورا خطہ وحشیانہ پراکسی تنازعات، خانہ جنگیوں اور سرحد پار تنازعات کے تسلسل کا سامنا کر رہا ہے۔ یہ کھلے زخم سامراجیوں کے طرف سے دیے گئے جس میں یہ اب تک سڑ رہا ہے۔
اب یہ تنازعات ایک صف میں جڑ رہے ہیں۔ شمالی اور مشرقی افریقہ کے وسیع علاقے، مشرق وسطیٰ اور آگے ایشیا تک دو مخالف کیمپ بن رہے ہیں۔
ایک طرف اسرائیل، متحدہ عرب امارات، ایتھوپیا، انڈیا اور ان کے اتحادی ہیں تو دوسری طرف سعودی عرب، ترکی، پاکستان اور ان کے اتحادی ہیں۔
صومالیہ بمقابلہ صومالی لینڈ
اس وقت جاری قطبی تقسیم کے مرکز میں بحیرہ احمر ہے۔ یہ یورپ کو بحیرہ ہند سے اور اس کے ذریعے ایشیا سے جوڑنے والا ایک اہم راستہ ہے، عالمی تجارت، خاص طور پر عالمی توانائی کی مارکیٹ کے لیے اس کی بے پناہ تدبیری اہمیت ہے۔
خلیج عدن کے دوسری جانب یمن کے سامنا کرتے ہوئے بحیرہ احمر کے جنوبی سرے پر صومالیہ (Somali) کا علیحدہ شدہ خطہ صومالی لینڈ (Somaliland) واقع ہے۔
دسمبر میں سب سے پہلے علیحدہ شدہ خطے کو تسلیم کرنے کے لیے اسرائیل نے پہل کی اور وہاں فوجی اڈہ قائم کرنے میں دلچسپی ظاہر کی۔ اسرائیل کے اس قدم کے مطابق، متحدہ عرب امارات نے صومالی پاسپورٹ کو تسلیم کرنا بند کر دیا اور اعلان کیا کہ اب سے صرف صومالی لینڈ کے پاسپورٹس کو تسلیم کیا جائے گا۔
خاص طور پر متحدہ عرب امارات کی اس خطے میں اہم سرمایہ کاری ہے۔ اماراتی کمپنی DP World صومالی لینڈ کی بندرگاہ بربرا (Berbera) کا 51 فیصد حصہ رکھتی ہے۔ باقی 49 فیصد اندرون زمین ایتھوپیا کے کنٹرول میں ہے، ایک ایسا ملک جس نے 1990ء کی دہائی میں جب اریٹیریا (Eritrea) علیحدہ ہوا تو بحیرہ احمر تک رسائی کھو دی تھی۔ اس بندرگاہ میں اس کی سرمایہ کاری ایک سابقہ معاہدے کی بنیاد پر ہے کہ وہ بھی اس علیحدہ شدہ خطے کو تسلیم کرے گا۔
اسرائیل کے صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے کے فوری بعد ترکی اور سعودی عرب نے اس قدم کی مذمت کی۔
اس کے بعد ترکی کے اتحادی قطر نے جنوری میں صومالیہ کے ساتھ ایک فوجی معاہدہ کیا اور سعودی عرب نے فروری میں ایک معاہدہ طے کیا۔ اس دوران، مصر نے صومالی صدر کو اپنے فوجیوں کے اعلیٰ سطحی معائنہ پر مدعو کیا، جنہیں وہ صومالیہ بھیجنے کا ارادہ رکھتا ہے، جسے ایک ادارے نے اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کا ”سامنا کرنے کی تیاری“ قرار دیا۔
حال ہی گزشتہ چند دنوں میں صومالیہ، دنیا کے غریب ترین ممالک میں سے ایک، نے اعلان کیا کہ وہ پاکستان سے 24 JF-17 لڑاکا طیارے خریدے گا، جس کی قیمت 1 ارب ڈالر ہے۔
ہم قارئین سے گزارش کرتے ہیں صبر کریں۔ یہ صرف اس دراڑ کے شروع ہونے کا آغاز ہے جو کھل گئی ہے۔
مشرقی افریقہ کے جنگی محاذ
اسی دوران پڑوسی ملک ایتھوپیا میں بھی حالات اسی جانب رواں ہیں۔
سب سے پہلے سفارتی سرگرمیوں کا ایک سلسلہ شروع ہوا ہے۔ جس میں ایک ہفتہ قبل ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے ایڈیس ابابا (Addis Ababa) کا دورا کیا تاکہ ایتھوپیا پر دباؤ ڈال سکیں کہ وہ سومن لینڈ کو تسلیم نہ کرے۔ اس سے اگلے ہفتے اسرائیل کا صدر ہرتزوگ (Herzog) بالکل اس کے برعکس دباؤ ڈالنے کے لیے وہاں دورا کر رہا ہے۔ ایتھوپیا کو اس تنازع میں کھینچا جا رہا ہے۔
جیسا کہ ہم نے ذکر کیا بحیرہ احمر تک رسائی ایتھوپیا اور اریٹریا کے درمیان طویل عرصے سے جاری تنازعے کا ایک اہم حصہ ہے۔ اب ایتھوپیا الزام لگا رہا ہے کہ اریٹریا نے گزشتہ چند ہفتوں میں اس کے علاقے پر حملہ کیا اور اس میں ٹیگرے (Tigray) کے فوجی جنگجو شامل ہیں۔ اریٹریا (Eritreans) نے اس الزام کی تردید کی ہے۔ اسی طرح حالات بگڑتے جا رہے ہیں۔
اس تنازع میں بھی جنگی طبل بجائے جا رہے ہیں اور دونوں طرف ایک ہی فریق ہیں۔ گزشتہ ماہ سے اسرائیل اور متحدہ عرب امارات نے ایتھوپیا کے ساتھ تعلقات مضبوط کرنا شروع کر دیے ہیں۔ مصر کا ایتھوپیا کے ساتھ پانی کے وسائل پر تنازع ہے۔ ایتھوپیا اس وقت دریائے نیل کے ماخذ پر افریقہ کا سب سے بڑا ڈیم تعمیر کر رہا ہے اور اب مصر سعودی عرب اور اریٹریا کے درمیان فوجی تعلقات قائم کرنے کے اقدامات کر رہا ہے۔
پھر آتا ہے سوڈان، بحیرہ احمر والا ایک اور ملک جو سونے اور دیگر وسائل سے مالا مال ہے۔
2019ء کے انقلاب کی شکست کے بعد سوڈان کو ریاست کے مخالف دھڑوں کے درمیان سب سے وحشتناک خانہ جنگی میں دھکیل دیا گیا ہے۔ اب مذکورہ خطوں کے شکاری گروہ اس خوفناک تنازعے میں مزید ایندھن ڈال رہے ہیں ایک ایسا تنازعہ جس میں عوام کا کوئی حصہ نہیں ہے۔
طویل عرصے سے متحدہ عرب امارات نے RSF کے سفاک کرائے کے فوجیوں کی کھلی حمایت کی ہے۔ لیکن صرف اسی ماہ، عالمی خبر رساں ادارے Reuters نے سیٹلائٹ شواہد ظاہر کیے ہیں جو یہ ثابت کرتے ہیں کہ ایتھوپیا RSF فورسز کے ساتھ اس جنگ میں فیصلہ کن طور پر شامل ہو رہا ہے اور اپنے ہی علاقے میں تربیتی کیمپ بنا رہا ہے۔
دوسری جانب سعودی عرب کچھ عرصے سے باضابطہ طور پر سوڈانی فوج کی حمایت کر رہا ہے۔ اب پاکستان جس نے ستمبر میں سعودی عرب کے ساتھ ایک باہمی دفاعی معاہدہ کیا تھا، اس میدان میں کود پڑا ہے اور اس نے سوڈانی فوج کے ساتھ 1.5 ارب ڈالر کا معاہدہ کیا ہے جس کے تحت جنگی طیارے اور ڈرون فراہم کیے جائیں گے۔
ایک بار پھر، ایک اور تنازع، وہی محاذ: ایک طرف اسرائیل، متحدہ عرب امارات، ایتھوپیا اور دوسری طرف ترکی، سعودی عرب، پاکستان۔
لیبیا
خطے میں پھیلے ہوئے موجودہ پراکسی تنازعات کی جو ایک مسلسل زنجیر بنتی جارہی ہے وہ عین اس دو طرفہ محور کے مطابق درست نہیں بیٹھتی۔ ہم یہ صورتِ حال لیبیا میں دیکھتے ہیں۔ جہاں ترکی طرابلس میں قائم قوتوں کی حمایت کرتا ہے، وہیں سعودی عرب، مصر اور متحدہ عرب امارات، مشرقی طبرق میں قائم قوتوں کی حمایت کر رہے ہیں۔
تاہم اب یہ صورتِ حال ناقابلِ برداشت بنتی جا رہی ہے۔ دو مخالف کیمپوں کی تشکیل کی طرف عمومی رجحان تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے اور نئی صف بندیاں پیدا کر رہا ہے۔ لیبیا میں بھی ازسرِنو صف بندی کا وقت شاید آ چکا ہے کیونکہ مشرقی حکومت بیک وقت دو آقاؤں کی خدمت کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
درحقیقت جنوری میں مشرق کے آمر کے بیٹے صدام حفتر کو ایک مصری فوجی ذرائع کے مطابق محض مخلصانہ ملاقات کے لیے مدعو نہیں کیا گیا تھا بلکہ باقاعدہ طور پر مصر طلب کیا گیا تھا۔
وہاں اسے نہایت واضح الفاظ میں بتایا گیا کہ وہ اپنے والد آمر تک ایک پیغام پہنچائے۔ سعودی عرب اور مصر اس بات سے آگاہ ہیں کہ طبرق میں قائم حکومت نے لیبیا کے راستے ایندھن اور ہتھیار جنوب کی جانب سوڈان میں سرگرم RSF فورسز کے جنگجوؤں تک پہنچانے میں متحدہ عرب امارات کی مدد کی تھی۔
”پیغام بالکل واضح تھا،“ مصری فوجی ذرائع نے وضاحت کی: ”اگر RSF کی مسلسل حمایت جاری رہی تو مصر مشرقی لیبیا کے ساتھ اپنے پورے تعلقات پر نظر ثانی کرنے پر مجبور ہو جائے گا۔“
سب کو کسی نہ کسی جانب کھڑا ہونے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔
وسیع اختلافات
جب بحیرہ احمر کے خطے میں واقعات تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں تو یہ اختلافات اُن دراڑوں کے ساتھ ہم آہنگ ہوتے جا رہے ہیں جو کہیں زیادہ دور تک پھیلی ہوئی ہیں۔

جب بحیرہ احمر کے خطے میں واقعات تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں تو یہ اختلافات اُن دراڑوں کے ساتھ ہم آہنگ ہوتے جا رہے ہیں جو کہیں زیادہ دور تک پھیلی ہوئی ہیں۔
ہم نے ایک اور جگہ یہ تجزیہ کیا ہے کہ اب ترکی اور اسرائیل شام کے پورے خطے میں ایک دوسرے کے سامنے بطور مخالف طاقتیں کھڑے ہیں۔ ترکی اور سعودی عرب دونوں دمشق میں قائم نئی حکومت ابو محمد الجولانی کے اقتدار کی حمایت کر رہے ہیں۔ ان کے مد مقابل، اسرائیل اور متحدہ عرب امارات مرکزی حکومت کو کمزور کرنے کے لیے مظلوم اقلیتی گروہوں کو استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
مزید دور، مغربی سرے پر بحیرہ روم میں مراکش اور الجزائر کے درمیان کشیدگی بڑھتی جا رہی ہے۔ دونوں ممالک برسوں سے مغربی صحارا (Western Sahara) کی حیثیت پر آمنے سامنے ہیں۔ اسرائیل اور متحدہ عرب امارات اس خطے پر مراکش کے دعوے کی حمایت کرتے ہیں۔ اس کے برعکس، سعودی عرب الجیریا کے مؤقف کی تائید کرتا ہے اور صحراویوں کی آزادی (Sahrawi independence) کی حمایت کرتا ہے۔
سعودی اور اماراتی تعلقات میں دراڑ کے بعد الجیریا نے متحدہ عرب امارات کے ساتھ اپنے فضائی معاہدے منسوخ کر دیے ہیں۔
پورے خطے میں چھوٹی قوموں اور مظلوم عوام کی تقدیریں ایک خونریز اور رجعتی کھیل میں سودے بازی کے مہرے بنتے جا رہے ہیں، جنہیں نہایت سفاکی سے استعمال کیا جا رہا ہے۔ یمن دنیا کا دوسرا غریب ترین ملک ہے، اریٹریا نوواں غریب ترین ملک، صومالیہ دسواں اور ایتھوپیا اٹھارہواں۔
اب سعودی عرب اور ترکی دو رجعتی علاقائی شکاری طاقتیں جو خطے کے عوام کو لوٹنے اور ان کا استحصال کرنے میں ایک دوسرے کی حریف ہیں، اچانک ایک ہی محور میں کیوں شامل ہو رہی ہیں؟ چوروں میں نہ کوئی عزت ہوتی ہے اور نہ ہی باہمی وفاداری۔ اس کے باوجود ہر جگہ یہ ایک حقیقت بنتی جا رہی ہے۔
سادہ الفاظ میں بات یہ ہے کہ تمام علاقائی طاقتیں امریکا کی سامراجی قوت کو کمزور ہوتے ہوئے محسوس کر رہی ہیں۔ سعودی عرب اور ترکی نے دیکھا ہے کہ امریکا نے اسرائیل کی غزہ، لبنان، شام، یمن اور دیگر مقامات میں مہمات کے دوران بھرپور حمایت کی۔ اسرائیل کے پورے خطے پر غلبہ حاصل کرنے کے عزائم واضح ہیں۔
اور اس وقت ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بحری بیڑا تیار کر رکھا ہے جو خطے میں موجود کسی بھی توازن کو تباہ کرنے کی دھمکی دے رہا ہے۔ وہ جنگ کے نگاڑے بجار رہے ہیں اور ایران کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔ اس صورتحال نے سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کے حکمران حلقوں کو شدید خوف میں مبتلا کر دیا ہے۔
ایران کا انہدام علاقائی نظام کا عدم استحکام اور ایران سے اس کے ہمسایہ ممالک عراق، سعودی عرب، ترکی، پاکستان تک بے چینی کے پھیلنے کا امکان ہے اس سے فائدہ کس کو ہو گا؟ اسرائیل کو!
لیکن ایک اور قوت بھی ہے جو اس قطبی تقسیم کو آگے بڑھا رہی ہے، عالمی امور میں ایک کہیں زیادہ طاقتور لہر۔
جیسے ہی امریکا کمزور ہوا ہے، سعودی عرب اور ترکی نے اپنے داؤ کو بچانے کے لیے چین اور روس کی طرف جھکاؤ اختیار کیا ہے۔ پاکستان نے بھی ایسا ہی کیا ہے۔ بحیرہ احمر چین کے نئے سلک روڈ کے لیے ایک اہم راستہ ہے۔
یہ خطرہ کہ چین بحیرہ احمر کی نقل و حرکت پر کنٹرول حاصل کر سکتا ہے، انڈیا کے لیے تشویشناک ہے جو خود اپنا تجارتی راستہ قائم کرنے کا خواہشمند ہے تاکہ وہ چین کے نئے سلک روڈ سے آزاد ہو سکے۔ انڈیا بھی اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے قریب آ رہا ہے، کیونکہ اس کا علاقائی حریف پاکستان ترکی اور سعودی عرب کے قریب جا رہا ہے۔
چنانچہ اگرچہ اس دراڑ کے دونوں طرف باضابطہ طور پر امریکا کے اتحادی شامل ہیں، اس واضح ہوتی قطبی تقسیم کے پیچھے ایک عالمی تنازعہ بھی موجود ہے جو ہمارے دور کو متعین کرتا ہے اور وہ امریکا اور چین کے درمیان جدوجہد ہے۔
”شراکت، دوستی اور سرمایہ کاری کی جگہ“
ہم دہراتے ہیں سامراج اور سب سے بڑھ کر امریکی سامراج، اس سب کا ذمہ دار ہے۔ اس نے اپنی بے شمار مداخلتوں کے نتیجے میں اس تباہ حال خطے میں خونریزی اور بڑھتے ہوئے ناسور کا ایک سلسلہ چھوڑ دیا ہے۔ اب یہ خونریز تنازعات شام، یمن، لیبیا، ایتھوپیا، اریٹیریا، صومالیہ اور مغربی صحارا تک پھیل جانے کا خطرہ پیدا کر رہے ہیں۔
کیوں؟ کیونکہ امریکا اب وہ عالمی غلبہ رکھنے والی طاقت نہیں رہی جو کبھی تھی اور اب وہ صورتِ حال پر قابو نہیں پا سکتا۔ یہ ایک وقت میں پوری دنیا پر غلبہ حاصل نہیں کر سکتا، یہ حقیقت ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ کی نیشنل سیکیورٹی اسٹریٹجی کے دستاویز میں واضح طور پر تسلیم کی گئی تھی، جو نومبر میں شائع ہوا تھا۔
دستاویز میں بالکل درست طور پر نوٹ کیا گیا ہے کہ مشرق وسطیٰ اب وہ اسٹریٹجک اہمیت نہیں رکھتا جو کبھی امریکا کے لیے تھا۔ آج کل امریکا توانائی کے لحاظ سے خود کفیل ہے اور اسے تیل درآمد کرنے کی ضرورت نہیں۔ ’بڑی جنگیں‘، بڑی لاگت کے ساتھ، امریکا کو اس خطے میں باندھ کر رکھتی ہیں اور اسے کہیں اور توجہ مرکوز کرنے سے روکتی ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ میں اختلافات ہیں۔ ایک دھڑا جو امریکا کے حکمران طبقے کی روایتی پوزیشن کی نمائندگی کرتا ہے، حقیقت کو نظرانداز کرنا اور مشرق وسطیٰ پر غلبہ برقرار رکھنا چاہتا ہے۔
لیکن دوسرا دھڑا ایک خاص منطق کے ساتھ دلیل دیتا ہے کہ امریکا حد سے زیادہ پھیلا ہوا ہے اور اسے مشرق وسطیٰ کی بجائے دوسری جگہوں پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے، اُن خطوں پر جو انتہائی اسٹریٹجک اہمیت کے حامل ہیں۔ یعنی مغربی کرہ نصف اور بحرِ پیسفک کا خطہ۔ تاہم، اگر مشرق وسطیٰ افراتفری میں ڈوب جائے، تو یہ عالمی معیشت، توانائی کی قیمتوں اور آخرکار امریکا کے سامراجی مفادات کے لیے تباہ کن ہو گا۔ یہ وہ نقطہ نظر ہے جو ڈونلڈ ٹرمپ کے نیشنل سیکیورٹی اسٹریٹجی کے دستاویز میں پیش کیا گیا ہے۔
اور یہ دستاویز مشرق وسطیٰ کی صورتحال کا سب سے روشن اور پرامید انداز میں جائزہ پیش کرتی ہے! یہ اس خطے کو درج ذیل الفاظ میں بیان کرتی ہے:
”یہ (مشرق وسطیٰ) اب مسلسل پریشان کن عنصر اور فوری خطرے کا ممکنہ ذریعہ نہیں رہا جو کبھی تھا۔ بلکہ یہ شراکت، دوستی اور سرمایہ کاری کی جگہ کے طور پر ابھرتا ہوا دکھائی دیتا ہے، ایک رجحان جسے خوش آمدید کہنا اور فروغ دینا چاہیے۔“
یہ سوچنا آسان ہے کہ یہ پیراگراف مصنف کی بیمار حسِ مزاح کا نتیجہ ہے! تاہم میرا خیال ہے کہ یہ کسی بیمار یا کسی بھی قسم کے مذاق کے لیے نہیں لکھا گیا۔ بلکہ یہاں ایک بہت زیادہ خواہش پر مبنی، حتیٰ کہ پراسرار سوچ کی مثال موجود ہے۔
طویل عرصہ قبل، جانوروں کے حقوق کے قوانین سے پہلے، یہ ممکن تھا کہ سرکس میں جا کر ریچھ، شیر اور شیرنی کو بیٹھتے، کھڑے ہوتے، حلقوں سے چھلانگ لگاتے اور مختلف قسم کی کرتب بازی میں تعاون کرتے دیکھیں، جیسے وہ سب سب سے اچھے دوست ہوں۔
ظاہر ہے سرکس میں پیدا ہونے والی ان ’دوستیوں‘ میں کوئی فطری بات نہیں تھی، کیونکہ یہ سب شکار کرنے والے جانور تھے۔ یہ تماشا صرف اس لیے ممکن تھا کہ ان شکاریوں کی نظر ہمیشہ اپنے رِنگ ماسٹر پر رہی، جو اچھی طرح انجام دی گئی کرتب پر انہیں سرخ گوشت سے نوازتا اور اگر وہ حدود سے باہر گئے تو کوڑا استعمال کرتا۔
اب تصور کریں کہ رِنگ ماسٹر نے خود کو یقین دلایا کہ اس نے واقعی ریچھ، شیر اور شیرنی کے درمیان سچی دوستی قائم کر دی ہے، جو اس کے کوڑے کے سامنے فرمانبرداری سے مارچ کر رہے ہیں، اور سرکس اب ’فوری خطرے کا ممکنہ ذریعہ‘ نہیں رہا۔ پھر وہ یہ سمجھتا ہے کہ سرکس کے مشترکہ انتظام کو اپنے تربیت یافتہ قاتلوں کے حوالے کر دے۔ اور پھر وہ سرکس سے پیچھے ہٹ کر زیادہ اہم کاروبار پر توجہ دینے کی کوشش کرے۔
پھر کیا ہو گا؟ کم از کم ایک یا دو شدید حملے۔
جو کچھ ہم نے ابھی بیان کیاہے وہ دوسرے الفاظ میں ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ کے ایک دھڑے کی حکمت عملی ہے۔

واضح طور پر ڈونلڈ ٹرمپ کو امید یہ تھی کہ سعودی عرب اور آخرکار ترکی بھی شامل ہو جائیں گے اور اس کا وژن پورا ہو گا۔
دستاویز میں لکھا گیا ہے کہ ایران کمزور ہے۔ اس دوران، مشرق وسطیٰ کی تمام دیگر غالب طاقتیں امریکا کی اتحادی ہیں جن میں اسرائیل، ترکی، سعودی عرب، اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں۔ باضابطہ طور پر یہ سب درست ہے۔ اگر صرف انہی طاقتوں کو دوستی میں اکٹھا کیا جا سکے، تو وہ خطے کو اپنے درمیان جوڑ کر رکھ سکتے ہیں اور مشترکہ طور پر ایک نیا، پرامن نظام نافذ کر سکتے ہیں۔
اس کا بنیادی مطلب اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانا ہے اور یہی وہ اصل مقصد ہے جو ڈونلڈ ٹرمپ کی مشرق وسطیٰ کی پالیسی کا رہا ہے، خاص طور پر اس کے پہلے دور صدارت میں جب اس نے ابراہیم معاہدے متعارف کرائے۔
ان معاہدوں نے 2020ء میں متحدہ عرب امارات، مراکش اور سوڈان کے درمیان تعلقات معمول پر لائے۔ واضح طور پر ڈونلڈ ٹرمپ کو امید یہ تھی کہ سعودی عرب اور آخرکار ترکی بھی شامل ہو جائیں گے اور اس کا وژن پورا ہو گا اور پھر ریچھ، شیر اور شیرنی سرکس میں مہذب انداز میں گشت کریں گے: جو ”شراکت، دوستی، اور سرمایہ کاری کی جگہ“ ہو گی۔
اس کے بعد امریکا بغیر کسی خطرے کے محفوظ طریقے سے پیچھے ہٹ سکتا تھا۔
خوشی میں کھوٹ
ریچھ، شیر اور شیرنی دوست بن سکتے ہیں یا نہیں اس بات کو ایک طرف رکھیں، ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ کے منصوبوں میں صرف دو چھوٹی رکاوٹیں تھیں۔
پہلی یہ ہے ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ نے ایران کی کمزوری کی سطح کا شدید غلط اندازہ لگایا ہے۔ اگر ٹرمپ نے سوچا کہ ایک سادہ صفائی کی کاروائی کافی ہو گی، کہ خلیج فارس میں ایک بڑا بیڑا ایرانی حکومت کو گرا دے گا، تو وہ شدید غلطی پر تھا۔ انتظامیہ کے پاس اب ایک ہی چارہ ہے کہ فوجی کاروائی جو تباہی اور ممکنہ شکست میں ختم ہو سکتی ہے، یا پیچھے ہٹ کر امریکا کی سامراجی عزت میں بے مثال کمی کا باعث بنے۔
اس منصوبے کی دوسری رکاوٹ یہ تھی ابراہم معاہدے (Abraham Accords) کا مطلب تھا کہ عرب ریاستیں کھلے عام فلسطینی قضیے سے غداری کریں۔ رجعتی عرب ریاستوں کے غلیظ حکمران طبقات بلاشبہ اس قدم کے لیے تیار تھے اگر حالات خراب نہ ہوتے۔
لیکن حالات نے مداخلت کی۔ حماس نے 7 اکتوبر 2023ء کو Operation Al-Aqsa Flood شروع کر کے ابراہم معاہدے کو روکنے میں بڑا کردار ادا کیا۔ بعد ازاں، رجعتی عرب حکومتیں تشویش کے ساتھ دیکھتی رہیں کہ اسرائیل کے بے پروا اقدامات نے صہیونیت، سامراج اور عرب کی گٹھ جوڑ حکومتوں کے خلاف انقلابی غصے کو بھڑکا دیا۔
اس نے مزید قریبی تعلقات کو سیاسی طور پر ناممکن بنا دیا اور عرب ممالک کو دو دھڑوں میں تقسیم کر دیا۔ ایک طرف ایسے ممالک ہیں جیسا کہ متحدہ عرب امارات، جنہوں نے تعلقات کو معمول پر لانے کی راہ اختیار کی۔ آج اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے درمیان زبردست دو طرفہ تجارت قائم ہو چکی ہے۔ دوسری طرف ترکی، سعودی عرب اور اس کے اتحادی ابراہم معاہدے کے دائرے سے باہر ہیں۔
ہم ابراہم معاہدے کے کردار کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنا نہیں چاہتے، کیونکہ یہ موجودہ دشمنیوں کی وجہ نہیں ہے۔ اس کے پیچھے زیادہ گہرے عمل جیسا کہ امریکا کی سامراجی طاقت کا زوال، چین کا عروج اور چھوٹے علاقائی شکاریوں کی اس خلا کو پُر کرنے کی دوڑ کار فرما ہیں۔
تاہم یہ تاریخی طنز ہے کہ بالکل وہ اتحاد جو خطے کو جوڑنے اور امریکا کے سامراجی مفادات کے لیے امن کو یقینی بنانے کے لیے بنایا گیا تھا، وہی دراڑ بن گیا ہے جس کے ساتھ امریکی سامراج کے تمام اتحادی دو مخالف کیمپوں میں تقسیم ہو رہے ہیں اور خطے میں ممکنہ تباہی کے لیے دوبارہ تقسیم ہو رہے ہیں۔
یہ امریکا کی سامراجی طاقت کے تمام دھڑوں کی خواب خیالی پر ایک طنزیہ تبصرہ ہے۔ وہ دھڑا جو پوری دنیا پر بیک وقت غلبہ حاصل کرنا چاہتا ہے، لیکن وہ اپنے موجودہ اتحادیوں کو بھی قابو میں نہیں رکھ سکتا، کیونکہ وہ پرتشدد انداز میں ایک دوسرے سے جدا ہو رہے ہیں۔
جہاں تک مشرق وسطیٰ سے انخلاء اور پیچھے ہٹنے کے خیال کا تعلق ہے، تو امریکا خود پچھلے کئی دہائیوں میں بُنے گئے تضادات کے جال میں پھنس چکا ہے۔ جیسے ہی یہ انخلاء کی کوشش کرتا ہے، یا یہاں تک کہ کمزوری ظاہر کرتا ہے، علاقائی شکاری خلا کو پُر کرنے کے لیے اپنے پنجے تیز کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ امریکا ناگزیر طور پر دوبارہ اس جھڑپ میں کھینچ لیا جائے گا، اور اس کے نتیجے میں حکمران طبقے اور اس کی پارٹیوں کے سیاسی اعتبار اور اقتصادی وسائل پر پڑنے والے اثرات سے بچنا ناممکن ہو جائے گا۔
جو کچھ ہم یہاں دیکھ رہے ہیں وہ ایک خوفناک پیمانے پر بربریت کے خاکے ہیں۔ مغربی سامراج اور سب سے بڑھ کر امریکی سامراج ذمہ دار ہے! دنیا کے مزدوروں اور نوجوانوں کو سامراجیت کا خاتمہ کرنا ہو گا اور عالمی سرمایہ داری کو دفن کرنا ہو گا، اس سے پہلے کہ یہ ہمیں دفن کر دے!

















In defence of Marxism!
Marxist Archives
Progressive Youth Alliance