میانمار: فوجی آمریت کے خلاف ملک گیر عوامی تحریک

|تحریر: فریڈ ویسٹن، ترجمہ: یار یوسفزئی|

فروری کے آغاز پر میانمار میں ہونے والے فوجی کُو کے خلاف 22 فروری کو پورے ملک کے گلی کوچوں میں عوامی غم و غصے اور مزاحمت کا طاقتور اظہار دیکھنے کو ملا جب ایک عام ہڑتال نے شمالی شہر مایت کینا سے لے کر چین کی سرحد کے ساتھ واقع بھامو اور وسط میں پاین مانا شہر تک پورے ملک کو مفلوج کرکے رکھ دیا۔

انگریزی میں پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

چار ہفتے پہلے ہونے والے کْو کے خلاف یہ اب تک کی سب سے بڑی احتجاجی ریلیاں تھیں، جو ملک کے متعدد شہروں تک پھیلی ہوئی تھیں۔ فوجی اشرافیہ کی جانب سے جان سے مار دینے کی دھمکیوں کو ہوا میں اڑاتے ہوئے کارخانوں کے مزدور کام چھوڑ کر اپنی ٹریڈ یونینوں کے بینروں تلے جلسوں میں شامل ہو گئے، سرکاری ملازمین کی ایک بڑی تعداد سڑکوں پر تھی، طلبہ بھی امڈ آئے، کو کے خلاف عام ہڑتال کے تسلسل میں دکانوں کے شٹر ڈاؤن رہے۔

ظالمانہ جبر کا بے جگری سے مقابلہ کرتے عوام

اس سے قبل 9 جنوری کو ایک جوان خاتون مایا تواٹے تواٹے کائنگ کو سر میں گولی مار کر قتل کیا گیا تھا، جس کے جنازے میں بڑے پیمانے پر لوگ شریک ہوئے۔ ایک روز قبل مندالے شہر کے اندر پولیس نے مظاہرین پر فائر کھول دیا جس کے نتیجے میں دو مظاہرین اپنی جان گنوا بیٹھے۔ اس دوران گرفتار افراد کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا، اور جاری کورونا وباء کی پرواہ کیے بغیر 80 ڈاکٹروں کو بھی گرفتار کیا جا چکا ہے۔

پچھلے ہفتے کے دوران عام ہڑتال کے بعد بھی بڑے پیمانے پر احتجاجوں کا سلسلہ شدت کے ساتھ جاری رہا۔ مگر اتوار کے دن (28 فروری) فوجی حکومت نے جبر کی انتہا کر دی اور ملک کے مختلف شہروں میں 18 مظاہرین کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ یہ فوجی آمریت کے رویے میں ایک معیاری تبدیلی تھی، جو تیزی کے ساتھ سماج سے کٹتی جا رہی ہے اور جن کے پاس عوامی حمایت نہ ہونے کے برابر ہے۔

پولیس نے فوج کے ساتھ مل کر براہِ راست ہجوم کو نشانہ بنا کر گولیاں چلائیں، جو فوج کے اقتدار میں آنے کے بعد سب سے خونی دن ثابت ہوا۔ ریاستی افواج اس لیے یہ درندگی اپنانے پر مجبور ہوئیں کیونکہ وہ اسٹن گرینیڈ، آنسو گیس اور ہوائی فائرنگ کے ذریعے مظاہرین کو منتشر کرنے میں ناکام رہے تھے۔

لوگوں کی اکثریت کو یہ تشویش لاحق ہے کہ فوج کی جانب سے 1988ء والا رویہ اپنایا جائے گا، جب سڑکوں کے اوپر ہزاروں افراد کا قتلِ عام کیا گیا تھا۔ اپنی جانوں کو لاحق سنجیدہ خطرے کے باوجود عوام کی جانب سے دکھائی جانے والی ثابت قدمی قابل تحسین ہے۔ عوام کو اس حکومت سے نفرت ہے اور انہوں نے ہر صورت میں اس کا تختہ الٹنے کا تہیّہ کر رکھا ہے۔ 2 مارچ کو بھی احتجاجوں کا سلسلہ جاری رہا اور شمال مغربی میانمار میں مظاہرین کو گولیوں کا نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں تین مظاہرین شدید زخمی ہوئے۔ 2 مارچ کو رنگون میدانِ جنگ کا منظر پیش کر رہا تھا، جہاں مظاہرین اور سیکیورٹی فورسز کے مابین مسلسل جھڑپیں جاری تھیں۔ (وڈیوز دیکھنے کیلئے یہاں کلک کریں)

اس عوامی سرکشی کا اظہار محض گلی محلوں میں ہونے والے مسلسل احتجاجوں میں ہی نہیں بلکہ ٹرانسپورٹ، بلدیہ، صحت، تعلیم، سرکاری ملازمین، عدالتی نظام سے وابستہ محنت کشوں، اور حتیٰ کہ میڈیا کی جانب سے منظم کی گئی ہڑتالوں میں بھی ہوا۔

عوام کی جانب سے آنے والی اس شدید مزاحمت نے فوجی اشرافیہ کو دو راہے پر لا کھڑا کیا ہے، اور جرنیلوں کو علم ہے کہ انہیں یا تو تحریک کو کچلنا پڑے گا یا پھر اقتدار چھوڑنا پڑے گا۔ مگر انہیں یہ بھی پتہ ہے کہ اگر وہ ایک قدم بھی پیچھے ہٹ گئے تو عوام اس کو کمزوری سمجھ کر مزید توانائی کے ساتھ وار کریں گے۔

ریاستی چینل ایم آر ٹی وی کے مطابق پولیس کی جانب سے ملک بھر میں کیے جانے والے کریک ڈاؤن میں محض ہفتے کے دن 5 سو لوگوں کو گرفتار کیا گیا۔ فوجی افسران اس تحریک کو تھکاوٹ کا شکار کرنے کی امید لگائے بیٹھے ہیں، جو لڑاکا قیادت کی عدم موجودگی کا فائدہ اٹھا رہے ہیں اور ساتھ ہی لوگوں میں خوف و ہراس پھیلانے کے لیے شدید جبر کا استعمال کر رہے ہیں۔

Myanmar 2

دی مرر میں ٹریڈ یونینز پر لگنے والی پابندی کا اعلان۔

ریاستی اخبار The Mirror کی ایک حالیہ اطلاع کے مطابق فوج نے اب ٹریڈ یونینز کو غیر قانونی قرار دے دیا ہے۔ فوج جانتی ہے کہ اس تحریک کی ریڑھ کی ہڈی منظم محنت کش طبقہ ہے، بالخصوص گارمنٹس، شعبہئ صحت، وزارتوں کے ملازمین، ٹرانسپورٹ اور تعلیم سے وابستہ محنت کش۔ فوج نے اس خطرے کو ختم کرنے کا ارادہ کر رکھا ہے مگر مسئلہ یہ ہے کہ پچھلی دہائی کے دوران محنت کشوں کی ایک نئی نسل پروان چڑھی ہے جو منظم ہو کر ہڑتال کرنے کے حق سے بخوبی واقف ہیں۔ کُو کے خلاف جنگ میں انہوں نے بڑے پیمانے پر اس طریقے کا استعمال کیا ہے۔

میانمار کے محنت کشوں اور نوجوانوں نے مل کر ظالمانہ فوجی مشینری کے مقابلے میں بے پناہ جرات کا مظاہرہ کیا ہے۔ کُو ہوئے ایک مہینہ گزر چکا ہے مگر وہ اب بھی بڑی تعداد میں احتجاج کے لیے نکل رہے ہیں۔ پیر کو ہونے والی عام ہڑتال عوامی طاقت کا ایک قوی اظہار تھا، جس نے میانمار کے محنت کشوں کی بے پناہ قوت کو واضح کر دیا۔ نیچے والی تصویر میں منڈالے شہر کے اندر عام ہڑتال کے دوران نکالی گئی ریلی میں عوام کا ایک جم غفیر دیکھا جا سکتا ہے۔

Myanmar 1

ہڑتال کے دوران بڑے بڑے عوامی اجتماعات منعقد کیے گئے۔ مونائیوا، جو تجارت اور کاروبار کا ایک بڑا مرکز ہے، ساگائنگ کے خطے کا سب سے بڑا شہر ہے، منڈالے کے شمال مغرب میں واقع ہے، اور میانمار کے بڑے صنعتی علاقوں میں سے ایک ہے، میں ہونے والے جلسے میں ہزاروں کی تعداد میں محنت کشوں اور عوام نے شرکت کی۔ اس جلسے میں عوامی حمایت کے ساتھ ایک ”عوامی انتظامی کمیٹی“ تشکیل دی گئی۔ اگلے روز جب پولیس نے مونائیوا کی عوام پر کریک ڈاؤن کرنے کی کوشش کی تو لوگوں نے ان کا گھیراؤ کر لیا اور رکاوٹیں کھڑی کر کے 33 ویں ڈویژن کو آگے بڑھنے سے روک دیا، جسے مظاہرین پر ظالمانہ کریک ڈاؤن کرنے کے لیے بھیجا گیا تھا۔

Myanmar 3

Myanmar 4
اس کے نتیجے میں حکومت ہزاروں کی تعداد میں فوج بھیجنے پر مجبور ہوئی، جس نے لوگوں کا گھیراؤ کر لیا۔ پولیس نے مار پیٹ کے لئے لمپن عناصر کا سہارا بھی لیا، جن کی زد میں مقامی جریدے مونائیوا گزٹ کا سی ای او بھی آگیا۔ فوج کے پہنچنے کے بعد سامنے آنے والی فوٹیج میں عوام کو منتشر کرنے کے لیے آتش گیر اسلحے کا استعمال واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔

Myanmar 6

Myanmar 5
Myanmar 7
میانمار کے عوام پوری قوت کے ساتھ لڑ رہے ہیں۔ انہوں نے یکے بعد دیگرے کئی ہڑتالیں منظم کی ہیں، جس کا نتیجہ پیر کو ہونے والی طاقتور عام ہڑتال کی صورت میں نکلا۔ انہوں نے کام کی جگہوں پر دھرنے دیے ہیں، اور کچھ علاقوں میں انہوں نے اپنی دفاع کے لیے منظم ہونے کی کوششیں بھی کی ہیں۔ انہوں نے گلی محلوں میں رات کو چوکیداری کے لیے جتھے بنائے ہیں تاکہ سیکیورٹی فورسز کی جانب سے کارکنان کی گرفتاری کے لیے رات کے وقت مارے جانے والے چھاپوں کو روکا جا سکے۔ ان میں سے کچھ کے مارے جانے کے دردناک واقعات بھی سامنے آئے ہیں کیونکہ وہ غیر مسلح ہیں۔

اقلیتیں بھی فوج کے خلاف چلنے والی تحریک میں شامل ہوچکی ہیں، آنگ سان سو چی اور این ایل ڈی کے حوالے سے پائے جانے والے اندیشوں اور شکوک و شبہات کے باوجود، وہ اس حقیقت سے بخوبی واقف ہیں کہ فوج کبھی میانمار کی اقلیتوں کی دوست نہیں ہو سکتی۔ کسان فوج کے خلاف ہیں اور دکاندار بھی تحریک میں شریک ہیں۔ صنعتی مزدوروں سے لے کر سرکاری ملازمین اور نوجوانوں تک، سماج کی یہ ساری پرتیں تحریک کا حصہ بن چکی ہیں۔

انقلابی قیادت کا فقدان

میانمار پچھلے ایک مہینے سے قبل از انقلاب کی صورتحال سے دوچار ہے، جس کو باآسانی انقلابی صورتحال میں بدلا جا سکتا تھا اگر عوام کے پاس یہ فریضہ سر انجام دینے کے لیے قیادت موجود ہوتی۔ مگر جیسا کہ ضرب المثل ہے، عوام کی مثال ان شیروں کی ہے جن کی قیادت گدھے کر رہے ہیں۔ عوام بے پناہ جرات کا مظاہرہ کر رہے ہیں مگر ان کی قیادت کون کر رہا ہے؟

سیاسی قیادت اب بھی این ایل ڈی (نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی) کے ہاتھوں میں ہے، جس کی سربراہی آنگ سان سو چی کر رہی ہے۔ اور یہ ”قائدین“ عوام کو کس چیز کی تلقین کرتے ہیں؟ ”پر امن مظاہرے“ اور ”عدم تشدد“ کی، جبکہ فوج سڑکوں پہ لوگوں پر گولیاں چلا رہی ہے اور رات کو انہیں سینکڑوں کی تعداد میں گرفتار کر کے مار پیٹ کا نشانہ بناتی ہے۔ لوگ اپنے دفاع کی خاطر رکاوٹیں کھڑی کرکے اور غیر مسلح دفاعی گروہوں کے ذریعے جو کچھ بن پڑے، کر رہے ہیں۔

اس بات کا کوئی اندازہ نہیں کہ بورژوا لبرلز عوامی تحریک کو مخصوص حدود میں مقید رکھنے کی کوششوں میں کس حد تک جائیں گے۔ یہاں تک کہ جب وہ خود گرفتار ہو کر قید کر دیے جاتے ہیں، وہ عوام سے اپیل کرتے ہیں کہ تحمل کا مظاہرہ کریں، ”پر امن“ طریقے سے مظاہرے کریں اور جدوجہد کے ”عدم تشدد“ والے طریقوں کو اپنائیں۔ جب این ایل ڈی اقتدار میں تھی اور فوج اقلیتوں کی سفاکانہ نسل کشی کر رہی تھی، اس وقت تو اس قسم کے عدم تشدد کی درخواستیں نظر نہیں آئی تھیں۔

ارے نہیں، جب ہزاروں روہنگیا کا قتلِ عام کر کے ان کے دیہات نذرِ آتش کیے جا رہے تھے، تو مہربان اور نرم مزاج آنگ سان سو چی نے دسمبر 2019ء میں عالمی عدالت کے اندر اپنی تقریر میں نسل کشی کے الزامات میں فوج کا دفاع کیا تھا۔ (یہاں دیکھئے)

چنانچہ جب قتل عام، ریپ اور لوگوں کے گھروں کو جلا کر انہیں ہزاروں کی تعداد میں ہجرت کرنے پر مجبور کیا جا رہا تھا، تو فوج کے تشدد کو جائز قرار دیا گیا تھا۔ مگر جب بورژوا ریاست کے ظالمانہ تشدد کے خلاف لوگوں نے اپنے جائز حق کو استعمال کرتے ہوئے اپنا دفاع کرنا شروع کیا، تب سے یہ لبرلز کچھ اور ہی راگ الاپنے لگے ہیں۔

آنگ سان سو چی جیسے بورژوا لبرلز کا کردار ایسا ہی ہے جیسا کسی دنبے کو قربانی کے لیے لے جانے والے کا ہوتا ہے، جو دنبے کے کانوں میں میٹھے میٹھے بول کی سرگوشیاں کرتا ہے اور اس کو سب کچھ ٹھیک ہونے کی یقین دہانی کراتا ہے، اور اسے کہتا ہے کہ جب تک وہ کوئی مزاحمت نہ دکھائے، اسے کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔ اس دوران قصاب اپنی چھری تیز کرتا رہتا ہے تاکہ نہتے دنبے کا گلا کاٹ سکے!

لبرلز کے کردار پر لینن کے خیالات

یہ افسوس کی بات ہے کہ آج کچھ پارٹیاں جو ”کمیونسٹ“ ہونے کا دعویٰ کرتی ہیں، آنگ سان سو چی جیسے لبرلز کے پلو سے چمٹی ہوئی ہیں اور ان کے ساتھ اتحاد کا درس دیتی ہیں۔ ان ”کمیونسٹوں“ کو یہ یاد دہانی کروانا ضروری ہے کہ لیننؔ نے اس قسم کے معاملات میں کیا مؤقف اپنایا تھا۔ 1914ء میں اس نے وضاحت کی تھی کہ:

”دنیا بھر کے سارے سرمایہ دارانہ ممالک میں محنت کش طبقے کی تحریک اور ان کی پارٹیوں کے خلاف جدوجہد میں بورژوازی دو طریقوں کا استعمال کرتی ہے۔ ایک تشدد، ظلم، پابندیوں اور جبر کا طریقہ ہے۔ یہ طریقہ اپنی اساس میں جاگیردارانہ سماج اور قرونِ وسطیٰ کی یاد دلاتا ہے۔ بورژوازی کے اندر ہر جگہ پر ایسے حصے اور گروہ پائے جاتے ہیں، ترقی یافتہ ممالک میں کم اور پسماندہ ممالک میں زیادہ، جو ان طریقوں کو ترجیح دیتے ہیں، اور اجرتی غلامی کے خلاف محنت کشوں کی جدوجہد کے بعض فیصلہ کن لمحات میں ساری بورژوازی اس قسم کے طریقوں کے استعمال پر متفق ہوتی ہے۔ تاریخ میں اس قسم کے لمحات کی مثال انگلستان میں چارٹزم کی تحریک، اور 1849ء اور 1871ء میں فرانس میں ملتی ہے۔

”تحریک کے خلاف دوسرا طریقہ جو بورژوازی استعمال کرتی ہے، وہ محنت کشوں کو تقسیم کرنے، ان میں انتشار پیدا کرنے، اور پرولتاریہ کے بعض نمائندگان اور گروہوں کو رشوت دے کر اپنے ساتھ ملانے کا ہوتا ہے۔ یہ جاگیردارانہ سماج کا نہیں بلکہ خالص بورژوا اور جدید طریقہ ہے، جو سرمایہ داری میں رائج مہذب روایات اور جمہوری نظام کا خاصہ ہے۔“

”کیونکہ جمہوری نظام بورژوا سماج کی خصوصیت ہے، سب سے خالص اور کامل بورژوا خصوصیت، جس کے اندر طبقاتی جدوجہد کی مکمل آزادی، دائرہ کار اور وضاحت کو بڑی چالاکی، فریب اور دھوکہ بازی کے ساتھ ملا دیا جاتا ہے، جس کا مقصد اجرتی غلاموں کے ذہنوں پر بورژوازی کے نظریات مسلط کرنا ہوتا ہے تاکہ انہیں اجرتی غلامی کے خلاف جدوجہد سے روکا جا سکے۔“ (وی آئی لینن، محنت کشوں کے خلاف بورژوا انٹیلی جنشیہ کے استعمال کیے جانے والے طریقے، جون 1914ء)

1908ء کے اندر اسی لینن نے خبردار کیا تھا کہ:

”۔۔۔یہ دھوکہ دینے والے بحث مباحثے، جن کو ظاہری طور پر مارکسی لفاظی کے غلاف میں لپیٹا جاتا ہے، ان کا مقصد پرولتاریہ کے طبقاتی شعور کو کمزور کر کے انہیں لبرل بورژوازی کے تابع کرنا ہوتا ہے(۔۔۔)

”ہمیں بورژوا پارٹیوں کے پروگرام، اجلاسوں اور پارلیمانوں کے اندر ہونے والی لبرل مفاد پرستوں کی تقاریر، اور لوگوں کی جدوجہد میں ان کی حقیقی شمولیت کے بیچ تفریق کرنے کی ضرورت ہے۔ ہر ایک پارلیمانی ملک میں سارے کے سارے بورژوا سیاستدان بظاہر تو جمہوریت کی حمایت کرتے ہیں مگر پیٹھ پیچھے اسے دھوکہ دیتے رہتے ہیں۔“ (وی آئی لینن، لوگوں کو دیا جانے والا لبرلز کا فریب، 1908ء)

Lenin1

جیسا کہ لینن تنبیہ کی تھی کہ لبرل بورژوازی سرمایہ دارانہ سٹیٹس کو کے ساتھ کحرے ہوں گے۔

بورژوا لبرلز ایسے ہتھکنڈے کیوں اپناتے ہیں؟ کیونکہ وہ ایسی کسی تحریک کے متحمل نہیں ہو سکتے جو سرمایہ دارانہ نظام کی حدود سے تجاوز کر جائے۔ وہ ذرائع پیداوار کی نجی ملکیت کا دفاع کرتے ہیں۔ فوجی افسران کے ساتھ ان کے اس حوالے سے چھوٹے موٹے اختلافات ہو سکتے ہیں کہ ان ذرائع پیداوار کا مالک کون ہوگا یا ان کا کتنا حصہ فوجی اشرافیہ کے پاس ہونا چاہیے اور کتنا حصہ غیر ملکی ملٹی نیشنل کارپوریشنوں کو بیچنا چاہیے، مگر کسی ”مالک“ کا ہونا ان کا اوڑھنا بچھونا ہے۔

چنانچہ اگر آپ کا مقصد ایک ایسے سماج کی بقاء ہے جس میں آجر اور اجیر، استحصال کرنے والے اور استحصال سہنے والے، ذرائع پیداوار کے مالکان اور انہی ذرائع کو چلانے والے محنت کش دونوں موجود ہوں، اور اگر آپ مالکان کی صفوں میں شامل ہیں، تو آپ پسے ہوئے محنت کشوں کے ذہنوں میں اس خیال کے پائے جانے کے حق میں نہیں ہوں گے کہ کارخانے کس کی ملکیت میں ہونے چاہئیں اور ان کو کس طرح چلانا چاہیے۔

لبرل بورژوا اسی لیے تب تک جمہوریت اور انسانی حقوق کے بارے میں چیخ و پکار کریں گے، جب تک یہ عمل ایک ایسی عوامی تحریک کو جنم دینے کا باعث نہ بنے جو سرمایہ دارانہ حدود سے تجاوز کرتی ہو۔ یہی وجہ ہے کہ میانمار کے محنت کش اور نوجوان این ایل ڈی جیسی پارٹیوں سے بہتر زندگی کی امید نہیں لگاسکتے۔

اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ انہیں اس وقت جاری سفاکانہ جبر سے بچنے کے لیے ان لوگوں کے سہارے نہیں بیٹھنا چاہیے۔ مزدوروں، کسانوں اور نوجوانوں کو اپنی قسمت اپنے ہاتھوں میں لینے کی ضرورت ہے۔

خاص طور پر نوجوان بہت غصّے میں ہیں، جب وہ ملک کے مختلف شہروں کے اندر اپنے ساتھی مظاہرین کو بے رحم موت مرتے دیکھتے ہیں۔ وہ ماضی کے تلخ تجربات سے آگاہ ہیں، خاص کر 1988ء کے واقعات، کہ فوج کس حد تک ظلم پر اتر سکتی ہے، اور وہ واپس لڑ کر انہیں اقتدار سے ہٹانا چاہتے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسا کس طرح کِیا جائے؟

ایسے حالات میں یہ خطرہ درپیش ہوتا ہے کہ بہت سے ترقی پسند عناصر بھی غلط نتائج اخذ کر لیتے ہیں۔ محنت کش طبقہ ہی واحد طبقہ ہے جو فوج کے اقتدار کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ کر سکتا ہے۔ کیونکہ فوج کو اقتدار سے ہٹانے کا یہ مطلب نہیں کہ انہیں تب تک کے لیے بیرکوں میں واپس بھیج دیا جائے جب تک وہ اپنے مفاد کو خطرہ محسوس کر کے دوبارہ اٹھ کھڑے نہ ہوں۔ نہیں، ایسا ہرگز نہیں ہے، فوج کو اقتدار سے بے دخل کرنے کے لیے ان کی معاشی طاقت بھی چھیننا پڑے گی۔ فوجی اشرافیہ کو اقتدار سے ہٹانے کی جدوجہد کے لیے ایک اہم مطالبہ یہ ہے کہ ان تمام کمپنیوں کو اجتماعی ملکیت میں لیا جائے جن پر پچھلی کئی دہائیوں سے فوج نے قبضہ کیا ہوا ہے۔

اس مطالبے کو حقیقت کا روپ دینا، فوج کو للکارنے والے چند بہادروں کے ہاتھوں نہیں ہو سکتا۔ یہ فریضہ صرف محنت کش طبقہ ہی سر انجام دے سکتا ہے جو سماج میں اپنی حیثیت سے بخوبی واقف ہو، جس کے پاس اپنی ایک ایسی پارٹی ہو جسے مطلوبہ فرائض کا علم ہو۔ ماضی کے اندر کمیونسٹ پارٹی یہ کردار نبھا سکتی تھی، اور آج کی تحریک کے لیے برمی کمیونسٹوں کے تجربات سے کافی اسباق حاصل کیے جا سکتے ہیں۔

دوسری عالمی جنگ کے اختتام پر کمیونسٹ پارٹی نے آزادی کی جدوجہد میں اہم کردار ادا کیا تھا، مگر انہوں نے قیادت نومولود قومی بورژوازی کے ہاتھوں سونپ دی۔ چنانچہ انہوں نے بورژوازی کے ساتھ ایک پاپولر فرنٹ بنالیا۔ البتہ ایک دفعہ جب رسمی طور پر آزادی حاصل کر لی گئی تو برمی بورژوازی کو مزید کمیونسٹ قائدین کی خدمات درکار نہیں تھیں، اور 1953ء میں ان پر پابندی عائد کر دی گئی۔ یہ وہ وقت تھا جب ماؤاسٹ طریقہ کار کی نقل کی کوشش میں بر می کمیونسٹ گوریلا جدوجہد کے رستے پر چل پڑے اور شہروں کو چھوڑ کر دیہاتوں کا رخ کیا۔

انہوں نے شہروں کو ترک کرنے کا بہانہ مشکل حالات کو بنایا، مگر اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ جب شہروں کے اندر 1988ء کی عوامی تحریک ابھر کر سامنے آئی، تو شہروں میں کمیونسٹوں کے ایسے سرگرم کارکنان موجود نہ تھے جو اس تحریک میں اپنا کردار ادا کر پاتے۔ برمی کمیونسٹوں کی ان غلطیوں کے نتیجے میں بعد میں ابھرنے والی عوامی تحریک میں آنگ سان سو چی اور این ایل ڈی قیادت بن کر ابھرے۔ میانمار کے ماضی کے حوالے سے یہ ایک قیمتی سبق ہے، جس کو آج نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔

اس وقت جو چیز درکار ہے وہ محنت کشوں کی ایک آزادانہ پارٹی کی تعمیر ہے۔ ایسی پارٹی جو غیر معینہ مدت تک عام ہڑتال کی کال دے سکے۔ ایک روزہ عام ہڑتال موجودہ حکومت کو ہٹانے کے لیے ناکافی ہے۔ ایسی ہڑتال سے محنت کشوں کو اپنی قوت کا اندازہ تو ضرور ہوتا ہے، مگر پھر یہ سوال بھی سامنے آتا ہے؛ آگے کیا کِیا جائے؟

عام ہڑتال کی کامیابی کے بعد لڑائی کو اگلے مرحلے پر منتقل کرنے کی ضرورت ہے، جو غیر معینہ مدت تک عام ہڑتال کی صورت ہی ممکن ہے، جس کے ساتھ کارخانوں، بینکوں، یونیورسٹیوں اور سکولوں پر قبضے کرنے کی ضرورت ہے، اور سب کچھ ایسی ہڑتالی کمیٹیوں کے اختیار میں دینے کی ضرورت ہے جن کو محنت کش اور طلبہ خود منتخب کریں۔

اس کے لیے محلوں کی سطح پر کمیٹیوں کے انتخاب کی ضرورت پیش آئے گی، جو کام کی جگہوں پر بنائی گئی کمیٹیوں کے ساتھ مل کر کام کریں۔ ان کمیٹیوں کے اندر سے پھر اعلیٰ کمیٹیوں کے لیے نمائندگان منتخب کیے جا سکتے ہیں، جو شہر، خطے اور قومی سطح پر موجود ہوں گے، اور جو اس تحریک کی قیادت کر سکیں۔

جمہوری طور پر منتخب ہونے والی اس قسم کی کمیٹیاں کام کی جگہوں پر دفاعی دستے بھی تشکیل دے سکتی ہیں، تاکہ ہڑتال کرنے والے مزدوروں کا دفاع کریں اور محلوں میں سیکیورٹی فورسز کو آنے سے بھی روک سکیں۔

اس طریقہ کار سے ایک متبادل طاقت کو تخلیق کرنا ممکن ہے؛ منظم محنت کش طبقے کی طاقت، جو سماج کی دیگر پرتوں یعنی کسانوں اور شہر کے درمیانے طبقوں وغیرہ کی قیادت کرنے کی اہل ہو گی۔ اگر عوامی تحریک کو اس طریقے سے منظم کیا جائے تو پھر اس کا راستہ کوئی نہیں روک پائے گا۔
بورژوا لبرلز کو فوج سے زیادہ ایسا ہونے سے ڈر ہے۔ اگر عوام اپنے زورِ بازو پر ہی فوجی حکومت کا تختہ الٹ دے تو پھر وہ محض بورژوا جمہوریت کے مطالبے پر نہیں رکیں گے، اس کی بجائے وہ اپنی اس نئی قوت کے بلبوتے پر آگے کی جانب بڑھیں گے، اور وہ اپنے مستقبل کا تعین کرنے کے لیے ایک ایسی جدوجہد کے راستے پر گامزن ہوں گے جس کے نتیجے میں وہ معیشت کو چلانے کا کام اپنے ہاتھوں میں لے لیں گے۔

یہی وجہ ہے کہ، لینن کے الفاظ میں، لبرل بورژوازی ”محنت کشوں کو تقسیم کرنے، ان میں انتشار پیدا کرنے، اور پرولتاریہ کے بعض نمائندگان اور گروہوں کو رشوت دے کر اپنے ساتھ ملانے“ کی کوشش کرتے ہیں۔

اس بورژوازی کے پیچھے ٹریڈ یونین قائدین کی بڑی تعداد بھی قطار بنائے کھڑی نظر آتی ہے، جو تحریک کے مطالبات این ایل ڈی کو اقتدار دلانے تک محدود کردیتے ہیں۔ طلبہ لیڈران اور سابقہ قائدین کی بھی ایک ایسی پرت موجود ہے جو آنگ سان سو چی کی حمایت کرتے ہیں، جو ”عدم تشدد“ کا پرچار کرتے رہتے ہیں، اور جن پر این جی اوز کی غلاظت مسلط ہو چکی ہے، جس کے نتیجے میں وہ مغربی ممالک کی امداد پر چلنے والی این جی اوز کا استعمال کرتے ہوئے شعوری طور پر نوجوان انقلابی قیادت کو گمراہ کرتے ہیں اور انہیں طبقاتی مفاہمت کا درس دیتے ہیں۔

محنت کشوں کی خود مختار پارٹی کی ضرورت

ضرورت اس امر کی ہے کہ این ایل ڈی سے الگ ہو کر محنت کش طبقے کی سیاسی آواز یعنی محنت کشوں کی ایک خود مختار پارٹی کو تعمیر کیا جائے۔ یہ ایک فوری ضرورت ہے، کیونکہ یہ بات واضح ہے کہ فوج نے این ایل ڈی قیادت سے تحریک کو پیچھے دھکیلنے کی توقعات لگارکھی ہیں، جبکہ اس دوران وہ عوام پر جارحانہ جبر جاری رکھ کر انہیں خوف اور تھکاوٹ کا شکار کرنے کی کوشش بھی کر رہے ہیں۔ فوج اس میں کامیاب ہو گی یا نہیں، اس کا انحصار عوام کی اپنی ثابت قدمی پر ہے۔ اگر ظالمانہ جبر کے باوجود وہ اپنے دباؤ میں اضافہ کرتے رہے تو حکومت ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو سکتی ہے۔

بعض پلے کارڈز پر اقوامِ متحدہ اور امریکی ریاست سے گزارشات دیکھنے میں آئی ہیں، اور ان سے میانمار میں مداخلت کر کے فوج کو روکنے کی درخواست کی گئی ہے۔ اس سے ایک ایسے سراب کا اظہار ہوتا ہے، جو سماج کی ان نا امید پرتوں میں جنم لے رہا ہے جنہیں یہ نہیں پتہ کہ آگے کیا کرنا چاہیے۔ مگر اقوامِ متحدہ کے پاس مداخلت کرنے کا کوئی اختیار نہیں؛ وہ کسی بھی قوم کے تنازعے حل نہیں کر سکتی اور وہ صرف وہی کرے گی جس پر تمام عالمی طاقتوں کا اتفاق ہو۔ امریکی ریاست سے اپیل کرنا بھی بیوقوفی کی انتہا ہے، کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی امریکی مفادات کو خطرہ لاحق ہوا، اس نے دنیا بھر میں فوجی آمریتوں کی حمایت کی اور ان کو پروان چڑھایا۔

میانمار میں اگر کوئی عالمی قوت اثر و رسوخ رکھتی ہے تو وہ چین ہے۔ یہ اب تک ملک کا سب سے بڑا تجارتی ساتھی ہے، بر آمدات اور در آمدات دونوں حوالے سے۔ میانمار، چین کی سرحد پر واقع ہے اور چینی حکومت اپنے پڑوسی کے ساتھ تجارت جاری رکھنے کے لیے استحکام چاہتی ہے۔ چین کو جمہوری حقوق کے دفاع کے دکھاوے کی بھی ضرورت نہیں۔ چین کے نام نہاد ”کمیونسٹ“، جو در حقیقت آمرانہ حکومت سے وابستہ افسر شاہی ہے، میانمار کے فوجی افسران سے کافی مماثلت رکھتے ہیں۔ انہوں نے جزوی نجکاری کے پروگرام کو بھی عملی جامہ پہنایا اور اس سے خوب مال بھی بنایا، اور انہوں نے حالیہ عرصے میں ہانگ کانگ کی تحریک کو بھی جبر کے ذریعے کچل ڈالا۔

Xi Jinping Image UN Flickr

میانمار کی عوام کے ساتھ کھڑے ہونے کی بجائے اس وقت چین کو استحکام اس لیے چاہئیے تا کہ میانمار کے ساتھ کاروبار جاری رہے۔

چینی حکومت میانمار کے اندر ایسی کسی بھی کامیاب تحریک سے خوفزدہ ہے جو نیچے سے حکومت کا تختہ الٹ دے، کیونکہ یہ خود ان کے لیے ایک بری مثال ثابت ہوگی۔ چینی حکومت کو صرف یہی فکر لاحق ہے کہ اپنے حلقہئ اثر میں استحکام رکھا جائے۔ وہ ایسا ماحول چاہتی ہے جو اچھے معاشی تعلقات کا ضامن ہو۔ انہیں نہ آنگ سان سو چی کے ساتھ ذاتی اختلاف ہے اور نہ ہی فوج کے ساتھ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ جب سوچی اقتدار میں تھی تو اس نے چین کی طاقت کو تسلیم کر کے بیجنگ کے کئی سرکاری دورے کیے تھے۔ مگر چینی حکومت کے لیے اہم سوال یہ ہے کہ کیا فوج استحکام کی ضمانت دے سکتی ہے؟

اگر میانمار کے اندر حالات قابو سے باہر ہو جاتے ہیں تو یہ چینی حکومت ہی ہوگی جو میانمار کی فوج کا این ایل ڈی کے سیاستدانوں کے ساتھ کسی قسم کا سمجھوتہ کرانے کی کوشش کرے گی۔ پہلے بھی ایسا ہو چکا ہے۔ 2007ء میں جب سو چی نظر بند تھی تو چین نے اس کے ساتھ مذاکرات شروع کرنے کے لیے فوج پر دباؤ ڈالا، کیونکہ سطح سے نیچے پنپتا غصہ انقلابی ممکنات سے لبریز ایک تحریک کو جنم دینے کا باعث بن سکتا تھا۔

خطے میں موجود دیگر حکومتیں ابھی سے اس قسم کی کوششوں میں لگی ہوئی ہیں۔ انڈونیشیا فوج اور این ایل ڈی کے بیچ ”مذاکرات“ پر زور دے رہا ہے۔ انڈونیشیا نے فوج سے ”غیر جانبدار انتخابات“ کرانے کی درخواست کی ہے، اس حقیقت کو نظر انداز کرتے ہوئے کہ عوام ایسا بالکل بھی نہیں چاہتے۔ در حقیقت، انڈونیشیا اس وقت فوجی حکومت کو جائز قرار دے رہی ہے، جبکہ میانمار کے عوام 2008ء میں لکھے گئے آئین کے خاتمے کا مطالبہ کر رہے ہیں، جس کی وجہ سے فوج کو خصوصی حیثیت حاصل ہے۔

حالیہ صورتحال کے پیشِ نظر جو مطالبہ سارے لوگوں کو تحرک میں لانے کی قوت رکھتا ہے، وہ حقیقی جمہوری پارلیمان کا قیام ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ایک ایسی انقلابی آئین ساز اسمبلی کا اجلاس بلایا جائے جو کسی بھی صورت مفاہمت کرنے، پارلیمان کے حالیہ ممبران کو شامل کرنے یا فوج کو خصوصی اختیارات دینے پر راضی نہ ہو۔ یہ ان جمہوری مطالبات کا ایک چھوٹا سا جزو ہوگا جس کے ذریعے آج میانمار کے عوام کی خواہشات کو پورا کیا جا سکتا ہے۔

جیسا کہ ہم نے دیکھا ہے، این ایل ڈی اس قسم کے مطالبات اپنانے کے لیے تیار نہیں ہے، اس کے برعکس اس نے فوج کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کی کوشش کی ہے اور طاقتور فوجی اشرافیہ سے خوفزدہ ہو کر محض چھوٹی اور تدریجی تبدیلیوں کے لیے کوشاں ہے۔ ہم دیکھ چکے ہیں کہ اس کا نتیجہ کیا نکلا۔ فوج کی طاقت کو چھوئے بغیر، اس کے پاس وہ مشینری موجود ہے جس سے وہ جب چاہے اقتدار پر قبضہ کر لے۔

میانمار وہ ملک ہے جہاں پرانی کمیونسٹ پارٹی کی سٹالنسٹ باقیات کا خاصا اثر موجود ہے۔ سٹالنسٹ خیالات کا ایک اہم حصہ یہ ہے کہ میانمار جیسا ملک سوشلزم کے لیے تیار نہیں ہے، یعنی یہ اتنا ترقی یافتہ نہیں ہے کہ اس میں محنت کش طبقے کی آزادانہ تحریک کو آگے بڑھایا جا سکے، اور اسی وجہ سے نام نہاد ”ترقی پسند بورژوازی“ کی حمایت کرنا ان کے خیالات کا ایک اہم جزو ہے۔ (جسے مرحلہ وار انقلاب یا ٹو سٹیج تھیوری کہا جاتا ہے۔مترجم)

یہ سچ ہے کہ میانمار کا ایک بڑا حصہ دیہات اور کاشتکاری پر مشتمل ہے۔ اس کے باوجود یہاں کی زراعت نسبتاً کم ترقی یافتہ ہے، جس سے محنت کشوں کی 70 فیصد آبادی منسلک ہے مگر اس کا جی ڈی پی میں حصہ صرف 24 فیصد بنتا ہے۔ بہرحال ایک مضبوط مزدور طبقہ بھی موجود ہے۔ صرف گارمنٹس کے مزدوروں کی تعداد 7 لاکھ ہے۔ رنگون جیسے بڑے شہر موجود ہیں جس کی آبادی 50 لاکھ ہے، اور مندالے جس کی آبادی 15 لاکھ ہے۔ شہری آبادی مجموعی آبادی کا 31 فیصد بنتی ہے۔ صنعتی پیداوار جی ڈی پی کا 35 فیصد حصہ فراہم کرتی ہے، اور خدمات کا شعبہ 40 فیصد۔

اگر آج کے میانمار کا 1917ء کے روس کے ساتھ موازنہ کیا جائے تو یہ معیاری لحاظ سے کہیں زیادہ ترقی یافتہ معلوم ہوتا ہے۔ اور حالیہ تحریک میں ہم نے بخوبی دیکھا ہے کہ میانمار کا شہری حصہ ہی قیادت کر رہا ہے۔ تحریک کا آغاز صنعتی علاقوں کے محنت کشوں سے ہوا تھا جو بعد میں دیگر شعبہ جات تک پھیل گیا۔ آج محنت کش طبقہ میانمار کے اندر وہی کردار نبھانے کا اہل ہے جو اس نے 1917ء میں روس کے اندر نبھایا تھا۔

میانمار میں جس چیز کا فقدان ہے، وہ محنت کش طبقہ نہیں۔ جس چیز کا فقدان ہے، وہ بالشویک طرز کی ایک ایسی پارٹی ہے جو صرف فوجی آمریت کا ہی نہیں بلکہ سارے بوسیدہ نظام کا تختہ الٹنے کے انقلابی پروگرام کے گرد محنت کش طبقے کو متحد کر سکے۔ ایک ایسی پارٹی تعمیر کرنے کی ضرورت ہے، جس کا پہلا قدم ایسے مارکسی رجحان کا قیام ہوگا جس کی جڑیں میانمار کے نوجوانوں اور محنت کشوں میں پیوست ہوں۔

Comments are closed.