|تحریر: ایڈم بوتھ، ترجمہ: تسبیح خان|
جیسے جیسے افراتفری اور تباہی مشرقِ وسطیٰ کو اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے اور اس کے نتیجے میں عالمی معیشت بھی متاثر ہو رہی ہے، ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے پوری دنیا پاگل ہو گئی ہو۔
انگریزی میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں
خاص طور پر وہ لوگ سب سے زیادہ دیوانے اور حواس باختہ نظر آتے ہیں، جو (برائے نام) اقتدار میں ہیں۔
بوڑھے ’سلیپی جو بائیڈن‘ کی جگہ لیتے ہوئے، ٹرمپ وائٹ ہاؤس میں اس وعدے کے ساتھ واپس اقتدار میں آیا کہ وہ امریکہ کی ’ہمیشہ جاری رہنے والی جنگوں‘ کا خاتمہ کرے گا۔ تاہم، ایک لاپروا جوئے باز کی طرح، اس نے اب غرور میں آ کر امریکہ کو ایران کے ساتھ ایک ناقابلِ فتح جنگ میں جھونک دیا ہے۔
اور دلدل میں پھنسے ایک آدمی کی طرح، امریکی صدر جتنا زیادہ خود کو اس وجودی بحران سے نکالنے کی کوشش کرتا ہے، اتنا ہی تیزی سے اس میں مزید دھنس رہا ہے۔
تمام راستے تباہی کی طرف جاتے ہیں
ٹرمپ کے فیصلوں کی جنونیت میں یقیناً ایک ذاتی پہلو موجود ہے۔ امریکی صدر اپنی ناپائیداری اور بدلتے ہوئے غیر متوقع رویّے کے لیے بدنام ہے۔
تاہم، بالآخر یہ معروضی حالات اور تضادات ہی ہیں جو اس بظاہر پاگل پن کی وضاحت کرتے ہیں۔
ایک طرف ٹرمپ جیسے ڈانواڈول اور کم اندیش کردار ایک غیر مستحکم اور بوسیدہ نظام کی پیداوار ہیں۔
اٹھارہویں صدی کے سیاسی فلسفی جوزف دی میستر (Joseph de Maistre) کے بقول: ہر حکمران طبقہ ویسا ہی رہنما حاصل کرتا ہے جس کا وہ مستحق ہوتا ہے۔ اور اس لحاظ سے اوول آفس کا موجودہ مکین آج کی کوتاہ نظر، طفیلی اور زوال پذیر ارب پتی اشرافیہ کا بہترین نمائندہ ہے۔
دوسری طرف، موجودہ حالات میں کارفرما قوتوں اور دباؤ کے مجموعے کو دیکھتے ہوئے، اس مرحلے پر ٹرمپ جو بھی کرے گا، وہ غلط ہی ثابت ہو گا۔
اگر وہ پیچھے ہٹتا ہے اور مشرقِ وسطیٰ سے انخلاء کرتا ہے، تو یہ نہ صرف اس کی ساکھ بلکہ عالمی سطح پر امریکی سامراج کی پوزیشن کے لیے بھی ایک ذلت آمیز دھچکا ہو گا۔
اگر وہ اس پر مزید اصرار کرتا ہے، تو یہ صرف امریکی سرمایہ داری اور امریکی سامراج کے پہلے سے جاری زوال کو معاشی اور عسکری طور پر مزید تیز کرے گا۔
دوسرے الفاظ میں ٹرمپ اور امریکی سامراج دونوں کے لیے تمام راستے تباہی کی طرف جاتے ہیں۔
زوال پذیر نظام
ایک ایسی دنیا میں جو ہلچل اور انتشار سے دوچار ہو، ایک ایسے نظام میں جو بحرانوں سے بھرا ہوا ہو، ایسی غیر مستحکم صورتِ حال میں، جہاں واقعات کا نتیجہ تلوار کی دھار پر ٹکا ہو، اتفاقی عوامل ایک فیصلہ کن کردار ادا کر سکتے ہیں۔
اس میں کسی نہ کسی سیاسی شخصیت کے انفرادی اقدامات یا ذاتی خصوصیات بھی شامل ہیں، چاہے وہ ڈونلڈ ٹرمپ ہو، بنیامین نیتن یاہو یا برطانیہ کا وزیراعظم کیئر سٹارمر۔
بطور بورژوا سیاست دان، ان رہنماؤں سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ سرمایہ دار طبقے اور اس کے نظام کے مفادات کی نمائندگی اور دفاع کریں۔ مگر جیسے جیسے بحران گہرا ہوتا جا رہا ہے اور معاشرے میں کشیدگی بڑھ رہی ہے، یہ حضرات ایسے فیصلے کرتے نظر آتے ہیں جو اس مقصد کے خلاف جاتے ہیں۔
ایران کے خلاف جنگ کا اعلان امریکی سامراج اور اس کے اتحادیوں، جن میں اسرائیل اور خلیجی ریاستیں شامل ہیں، کے لیے بری طرح الٹا ثابت ہوا ہے۔
دوسری طرف، اس جنگ سے خود کو دور رکھتے ہوئے، سٹارمر نے برطانیہ اور امریکہ کے درمیان نام نہاد ’خصوصی تعلق‘ کو نقصان پہنچایا ہے، شاید ناقابلِ تلافی نقصان، جو برطانوی سرمایہ داری اور برطانوی اسٹیبلشمنٹ کے معاشی، عسکری اور سیاسی مفادات کے لیے نہایت اہم ہے۔
ایک بار پھر، ایسی بظاہر غیر معقولیت دراصل سرمایہ داری کی انارکی کی عکاسی ہے اور اسی کے نتیجے میں اس ناممکن اور مایوس کن صورتِ حال کی بھی، جس کا سامنا اُن لوگوں کو ہے جو اس بکھرتے ہوئے نظام کو برقرار رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
جیسا کہ قدیم یونانی کہاوت ہے: دیوتا جنہیں تباہ کرنا چاہتے ہیں، پہلے انہیں پاگل بنا دیتے ہیں۔
پے در پے دھچکے
عالمی معیشت کو درپیش خطرات سب سے واضح طور پر یہ دکھاتے ہیں کہ حکمران طبقے کے پاس کوئی اچھے متبادل موجود نہیں ہیں۔
ایران کی جنگ کے اثرات، خاص طور پر آبنائے ہرمز کی بندش، دنیا بھر میں قیمتوں کو بڑھا رہے ہیں۔ یہ گزشتہ پانچ برسوں میں عالمی سپلائی چینز کے لیے تیسرا بڑا جھٹکا ہے، جو کرونا وبا اور یوکرین کے تنازعے کے بعد آیا ہے۔ یہ صورتِ حال مہنگائی میں اضافے کے دیگر عوامل کے ساتھ بھی جڑی ہوئی ہے، مثلاً تحفظ پسند معاشی پالیسیاں (protectionism) اور فوجی اخراجات میں اضافہ (militarism)، جو معیشت پر مزید دباؤ ڈالتے ہیں۔
اس حقیقت سے ہی یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ دنیا کس قدر غیر مستحکم اور خطرناک ہو چکی ہے، جہاں بے قابو بحران بار بار اور زیادہ شدت کے ساتھ جنم لے رہے ہیں۔ مزید یہ کہ جب ایسے حالات پیدا ہوتے ہیں تو سرمایہ دارانہ نظام کس قدر کمزور ثابت ہوتا ہے، کیونکہ اس کے اندر پہلے سے جمع شدہ مسائل اور تضادات ایسے ہیں جو ذرا سی چنگاری سے بھڑک اٹھنے کے لیے تیار رہتے ہیں۔
عام خاندانوں کے لیے افراطِ زر کی یہ تازہ لہر سپر مارکیٹ کی بڑھتی ہوئی قیمتوں، توانائی کے بلوں اور قرض لینے کی لاگت میں اضافے کی صورت میں محسوس ہو گی۔ جس کے نتیجے میں یہ لوگوں کی جیبوں پر اثر انداز ہو گی اور یوں صارفین کی طلب کی شرح کو کم کرے گی، جو ممکنہ طور پر عالمی معیشت کو ایک نئی کساد بازاری کی طرف دھکیل سکتی ہے۔
زندگی اور موت کی کشمکش
ابھی سے مبصرین 1970ء کی دہائی سے موازنہ کر رہے ہیں، جب تیل کے ایسے ہی ایک جھٹکے نے ’معاشی جمود‘ کے بحران کو جنم دیا تھا: معاشی جمود کے ساتھ ساتھ قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ ہوا تھا۔
تاہم آج فرق یہ ہے کہ ہمیں ’معاشی جمود‘ نہیں بلکہ ’معاشی زوال‘ کا سامنا ہو سکتا ہے، یعنی بلند افراطِ زر کے ساتھ ایک بڑا معاشی انہدام؛ ممکنہ طور پر یہاں تک کہ ایک ڈپریشن۔
مزید برآں، قرضوں کی سطح تاریخی بلندی پر ہونے اور سرکاری مالیات پہلے ہی حد سے زیادہ دباؤ میں ہونے کے باعث، دنیا بھر کی حکومتوں کے پاس اس نئے بحران کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنے ذخائر میں کوئی مؤثر ہتھیار باقی نہیں رہا۔
یہی اصل مخمصہ ہے۔ کیا سیاست دان اور پالیسی ساز شرحِ سود میں اضافہ کر کے، طلب کو کم کر کے اور یوں کساد بازاری کو جنم دے کر افراطِ زر کو قابو کرنے کی کوشش کریں؟
یا وہ کینیشن طریقوں (Keynesian means) کے ذریعے ترقی کو ابھارنے اور روزگار کو برقرار رکھنے کی کوشش کریں، جیسے کہ خسارے کی مالی اعانت اور کرنسی کی چھپائی، جو مزید افراطِ زر کو بھڑکائے گی اور بانڈ مارکیٹوں کی جانب سے ردِعمل کو جنم دے گی؟
سرمایہ داری اور اس کے نمائندوں کے لیے، مجموعی نتیجہ دونوں صورتوں میں ایک ہی ہے: بڑھتا ہوا عدم استحکام اور بحران۔ جبکہ محنت کش طبقے کے لیے پھانسی کا پھندا یا ہزار زخموں سے موت، ان میں کسی ایک کا انتخاب ہے۔
سرمایہ داری کا گھٹن زدہ حصار
’سر‘ کیئر سٹارمر، برطانیہ کے بدقسمت وزیراعظم کے سامنے یہ موجودہ کئی ناقابلِ حل مسائل میں سے صرف ایک ہے۔
برطانوی سرمایہ داری کی کمزور پوزیشن اور طویل مدتی زوال کو دیکھتے ہوئے، برطانیہ کا وزیراعظم کسی بھی بڑی عالمی معیشت، جیسے امریکہ، یورپی یونین اور چین کے ساتھ تجارتی تعلقات منقطع کرنے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ مگر بیک وقت واشنگٹن، برسلز اور بیجنگ کو راضی رکھنا بڑی سامراجی طاقتوں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دور میں نہایت مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
اسی سال کے آغاز میں گرین لینڈ کا بحران، جب ٹرمپ نے ڈنمارک کے آرکٹک جزیرے پر قبضہ کرنے کی کوشش کی، اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ جغرافیائی سیاسی پلیٹوں کی حرکت اور پرانے عالمی نظام کے ٹوٹنے کے ساتھ سٹارمر کو کس قدر کٹھن اور متضاد کوششیں کرنا پڑ رہی ہیں، جو دہائیوں پر محیط ٹرانس اٹلانٹک اتحاد (transatlantic alliance) کو چیر پھاڑ رہی ہیں۔
تاہم لیبر پارٹی کے رہنما کے لیے سب سے نازک توازن وہ ہے جسے وہ سرمائے اور عوام دونوں کی ضروریات کو پورا کرنے کی کوشش میں قائم کرنے کی سعی کر رہے ہیں۔
ایک کے بعد ایک مسئلے پر سٹارمر کی حکومت خود کو ایک طرف سرمایہ داری اور سامراج کی ہتھوڑی اور دوسری طرف محنت کش طبقے کی سندان (anvil) کے درمیان پستی ہوئی پاتی ہے۔
جارحانہ طبیعت والے ٹرمپ کو خوش رکھنا جبکہ خود کو ایک نئی عراق جنگ میں کھنچ جانے سے بچانا۔ امیگریشن جیسے ثقافتی جنگی مسائل پر دائیں بازو سے آگے نکلنا، جبکہ نوجوانوں، مسلمانوں اور نسلی اقلیتوں کی حمایت کو برقرار رکھنا۔ برطانیہ کے سرمایہ دار قرض دہندگان [وہ سرمایہ دار یا مالی ادارے جو حکومتوں، کمپنیوں یا افراد کو قرض دیتے ہیں اور اس کے بدلے سود اور واپسی کا مطالبہ کرتے ہیں، مترجم] کے مطالبات کے مطابق حملے کرنا، جبکہ فلاحی کٹوتیوں پر اپنی ہی جماعت کے ارکان کی بغاوتوں کو دبانا۔
ان سب اور مزید امور پر، سٹارمر اور اس کے وزراء خود کو ایک بڑھتے ہوئے تنگ دائرے میں جکڑا ہوا پاتے ہیں۔ اور جیسے جیسے زیک پولانسکی (Zack Polankski) کی گرین پارٹی کی حمایت میں اضافہ ہو رہا ہے، جو لیبر پارٹی کے بائیں بازو کے حمایتیوں کو اپنی طرف کھینچ رہی ہے، اور ممکنہ طور پر ٹریڈ یونینز کو بھی دور کر سکتی ہے، اس بحران زدہ حکومت پر دباؤ مزید شدت اختیار کریں گے۔
یہاں تک کہ ہودینی (Houdini) [ایسا شخص جو ناممکن لگنے والی صورتحال سے بچ نکلنے میں ماہر ہو] بھی اس شکنجے سے نہیں نکل سکتا تھا جس میں سٹارمر پھنس چکا ہے۔ اور یہی بات اس شخص پر بھی لاگو ہوتی ہے جو ڈاؤننگ سٹریٹ دس (10 Downing Street) میں اس کی جگہ لے گا۔
برطانیہ کا خاص بحران
اس کا کیئر سٹارمر کی ذاتی خصوصیات یا اس کی خامی سے کوئی تعلق نہیں ہے، بلکہ اس کا تعلق برطانوی سرمایہ داری کے خاص (اگرچہ اب زیادہ خاص نہیں رہا) بحران سے ہے۔
برطانیہ کی صنعتوں اور انفراسٹرکچر کا زوال؛ مالیاتی جوا بازی اور قیاس آرائی پر انحصار اور بیرونی سرمایہ کو متوجہ کرنے کی کوشش؛ سرمایہ داروں کی جانب سے مشینری اور جدید کاری میں سرمایہ کاری نہ کرنا اور اس کے نتیجے میں مقابلہ بازی کی کمی، یہ سب عوامل آج برطانیہ کی معیشت کو ایک خاص طور پر کمزور پوزیشن میں لا کھڑا کرتے ہیں۔
برطانیہ کے حکمرانوں کے پاس تدبیر یا حکمت عملی کی گنجائش اور بھی کم ہے۔ برطانوی حکومتیں بانڈ مارکیٹوں اور سرمائے کی آمریت کے ہاتھوں مزید یرغمال بنی ہوئی ہیں۔ ملک کی معیشت کے پاس اضافی وسائل کم ہیں اور اس کے سیاسی اداروں اور اسٹیبلشمنٹ کے پاس اختیار کے ذخائر مسلسل کم ہوتے جا رہے ہیں۔
اسی لیے ایران کی جنگ کے اثرات کے لحاظ سے، خاص طور پر شرحِ نمو اور افراطِ زر پر پڑنے والے اثرات کے حوالے سے، برطانیہ کی معیشت زیادہ شدت کے ساتھ متاثر ہونے والی ہے۔ اسی لیے برطانیہ خود کو اس وقت زیادہ شدت کے ساتھ کھنچا ہوا پاتا ہے جب پرانا جمود ٹوٹ رہا ہے اور جب باہم ٹکراتی سامراجی طاقتوں کے قدموں کی دھمک اسے زیادہ زور سے کچل رہی ہے۔
انقلابی نتائج
یہ ساری صورتحال بڑھتی ہوئی سماجی بے چینی اور سیاسی انتشار کی صورت میں سامنے آ رہی ہے۔
ویسٹ منسٹر (Westminster) میں ایک صدی سے زائد عرصے سے غالب دو جماعتی نظام اب ٹوٹ رہا ہے۔ بغاوتی ’پاپولسٹ‘ قوتیں ابھر رہی ہیں، دائیں بازو میں فراج کی ریفارم کے ساتھ اور بائیں بازو میں پولانسکی کی گرینز (Greens) پارٹی کے ساتھ۔ حکمران طبقہ خود کو تیزی سے ایسے قابلِ اعتماد نمائندوں سے محروم پاتا ہے جو اس کے مفادات کو آگے بڑھا سکیں۔
اسی دوران، سرمایہ داری کی حدود کے اندر، سیاسی رہنما صورتِ حال کو اپنے قابو سے باہر پاتے ہیں اور واقعات کے ہاتھوں شدت سے یرغمال بنتے جا رہے ہیں: وہ ’معقول‘ انداز میں، یعنی سرمایہ دار طبقے کے مفادات کے مطابق عمل کرنے کی بجائے ذاتی سیاسی مصلحت کے تحت خودغرضی اور کوتاہ نظری سے فیصلے کرتے ہیں۔
اس کے انقلابی نتائج ہیں۔ آخرکار، جیسا کہ لینن نے نشاندہی کی، انقلابات کا آغاز اوپر کی سطح پر دراڑوں اور بحرانوں سے ہوتا ہے: جب پرانا نظام پہلے کی طرح حکمرانی کرنے کے قابل نہیں رہتا اور عوام اپنی زندگیوں پر بڑھتے ہوئے دباؤ کو مزید برداشت نہیں کر سکتے۔
تعقل، غیر تعقل میں بدل جاتا ہے
چاہے وہ سٹارمر ہو، فراج ہو یا پولانسکی جو بھی اس بیمار نظام کی سربراہی کرے گا اسے محنت کش طبقے کو سخت کفایت شعاری پالیسی کی کڑوی دوا پلانے پر مجبور ہونا پڑے گا۔
ایک کے بعد ایک ضرب، یہ گہرا ہوتا ہوا بحران شعور میں تبدیلیاں برپا کر رہا ہے۔ سرمایہ داری کا پاگل پن لاکھوں لوگوں کے ذہنوں میں پورے نظام سے متعلق گہرے سوالات کو جنم دے رہا ہے، کیونکہ محنت کش اور نوجوان سامراجی جنگ اور نسل کشی، نسل پرستی اور رجعت کے ابھار، عالمی ایپسٹین سکینڈل اور اپنے اور حکمران طبقے کے درمیان بڑھتی ہوئی طبقاتی خلیج کے درمیان تعلق کو سمجھنے لگے ہیں۔
ان واقعات کی بنیاد پر، بڑھتی ہوئی پرتیں لڑاکا حتیٰ کہ بنیادی طور پر انقلابی نتائج اخذ کر رہی ہیں۔ ہیگل کے الفاظ میں، تعقل غیر تعقل میں تبدیل ہو رہا ہے۔
یہ صورتِ حال سماجی دھماکوں اور انقلابی ہلچل کے لیے زمین ہموار کر رہی ہے۔ اور برطانیہ، اس قسم کی افراتفری سے استثنیٰ کی بجائے، خود کو خاص طور پر شدید طبقاتی جدوجہد کے میدان کے طور پر پائے گا۔
لیون ٹراٹسکی نے بجا طور پر کہا تھا، ”برطانیہ کچھ نہیں بلکہ پاگل خانے کا آخری وارڈ ہے اور ممکن ہے کہ یہ خاص طور پر پُرتشدد مریضوں کا وارڈ ثابت ہو۔“
صرف ایک انقلاب، جو اس افراتفری پر مبنی نظام کو الٹ دے، ہی سرمایہ داری کی اس تباہی اور مصیبت کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ کر سکتا ہے۔
اگر تم ارب پتیوں اور جنگی مجرموں پر شدید غصے میں ہو تو اس غصے کو ایک منظم جدوجہد میں بدل دو اور ہمارے ساتھ اس لڑائی میں شامل ہو جاؤ۔ وقت تیزی سے گزر رہا ہے اور اسے ضائع کرنے کی کوئی گنجائش باقی نہیں ہے۔


















In defence of Marxism!
Marxist Archives
Progressive Youth Alliance