|تحریر: جارج مارٹن، ترجمہ: ولید خان|
ایران جنگ کا آغاز ٹرمپ کے لاپرواہ جوئے کا ایک حصہ تھا۔ لیکن اب یہ تیزی سے امریکی سامراج کے لیے تاریخی تزویراتی شکست میں تبدیل ہو رہا ہے جس کے عالمی معیشت، دنیا میں عالمی قوت کے طور پر امریکی سامراج کی حیثیت اور عمومی عالمی تعلقات پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔
انگریزی میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں
اس وقت ایران پر مسلط کردہ امریکی اسرائیلی جنگی جارحیت کو سات ہفتے گزر چکے ہیں۔ امریکہ اب تک اپنا کوئی ایک ہدف حاصل نہیں کر سکا ہے اور یہ واضح ہو چکا ہے کہ اس حوالے سے ناکامی ہی اس کا مقدر ہے۔
پہلے دن صدر ٹرمپ نے واشگاف الفاظ میں اس جنگ کے اہداف واضح کیے تھے؛ ایران کو جوہری افزودگی سے روکنا اور اس کے پاس موجود افزودہ جوہری مواد حاصل کرنا، بالسٹک میزائل پروگرام کا مکمل خاتمہ، خطے میں ایران نواز گروہوں اور قوتوں کی معاونت کا خاتمہ اور سب سے بڑھ کر حکومت کی مکمل تبدیلی۔ یعنی ایک مرتبہ پھر تہران میں امریکی ماتحت حکومت کا قیام۔ ٹرمپ نے خود اس کی وضاحت کی تھی۔ اس نے 5 مارچ کو ایکسیوز (Axios) میگزین کو بتایا کہ، ”میں اس تقرری میں براہ راست شامل ہوں گا جیسے وینزویلا میں ڈیلسی (راڈریگیز)“۔
27فروری سے اب تک امریکہ اور اسرائیل ایران میں عسکری، سویلین اور انفرسٹرکچر کل ملا کر 24 ہزار سے زائد اہداف کو نشانہ بنا چکے ہیں۔ لیکن وہ ایران کو اپنا جوہری افزودگی پروگرام ختم کرنے پر آمادہ نہیں کر سکے ہیں۔ آج بھی ایران میزائل اور ڈرون لانچ کر کے اسرائیل اور خلیجی ممالک میں کسی بھی ہدف کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ اس نے خطے میں اپنے اتحادیوں کے ساتھ قریبی تعلقات برقرار رکھے ہیں، بنیادی طور پر لبنان میں حزب اللہ اور عراق میں شیعہ ملیشیا۔ اس وقت حکومت قائم و دائم ہے اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جنگ سے پہلے کے مقابلے میں آج زیادہ مضبوط اور پائیدار عوامی حمایت حاصل کر چکی ہے۔
ایران نے ثابت کیا ہے کہ وہ ثابت قدم ہے اور دیوہیکل تکلیف برداشت کر سکتا ہے، تہران کے لیے یہ بقاء کی جنگ ہے بلکہ اس نے اپنے دشمنوں اور ان کے اتحادیوں کے عسکری اہداف اور انفرسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچانے کی صلاحیت کا عملی مظاہرہ بھی کر دکھایا ہے۔
جنگ کے ابتدائی دنوں میں اس نے خطے میں 2-3 ارب ڈالر مالیت کے کلیدی امریکی ریڈار تباہ و برباد کر دیے۔ کلی طور پر اس نے 50 سے زائد امریکی ہوائی جہاز تباہ یا خراب کر دیے ہیں (آدھے ڈرونز اور باقی عسکری جہاز اور ہیلی کاپٹرز) جن کی مالیت 41.4 ارب ڈالر بنتی ہے جبکہ خطے میں 13 امریکی عسکری اڈے ناقابل استعمال بن چکے ہیں۔
ایرانی تیل، گیس تنصیبات اور صنعتی انفراسٹرکچر پر حملوں کے نتیجے میں اس نے اسرائیل اور خلیجی ممالک کی تیل، گیس تنصیبات اور صنعتی انفراسٹرکچر پر حملے کر کے انہیں سنجیدہ نقصانات پہنچائے ہیں۔
سب سے بڑھ کر اس نے انتہائی اہم آبنائے ہرمز کو پہلے بند اور پھر بحری جہازوں کے گزر کو کنٹرول کرنے کی کامل صلاحیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے عالمی معیشت کو دیوہیکل تکلیف پہنچائی ہے۔ اس تنگ بحری راستے سے دنیا کا 20-30 فیصد تیل اور گیس گزرتا ہے۔ اس کے ساتھ یہ کھاد، دیگر تیل اور گیس سے بنی مصنوعات کی اہم گزرگاہ ہے جو عالمی سپلائی چینز میں ایک کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔
جہاں تک امریکہ اور اسرائیل کی ایران پر حملوں اور اپنا اور خلیجی ممالک کا کسی رد عمل سے دفاع کی صلاحیت کا تعلق ہے، تو وقت ایران کے ساتھ ہے جس کے پاس سستے ڈرونز اور پیچیدہ میزائلوں کا بے تحاشہ ذخیرہ موجود ہے۔ دفاعی میزائلوں میں کمی کی شرح نے اسرائیلی فضائی دفاع کی صلاحیت کو 95 فیصد سے 63 فیصد تک کم کر دیا ہے جس کا مطلب ہے کہ زیادہ سے زیادہ ایرانی میزائل اور ڈرونز اس کی حدود میں داخل ہو رہے ہیں۔
اگرچہ ایران زیادہ قیمت پر اپنا تیل بیچ رہا ہے لیکن ایشیاء سے شروع ہو کر یورپ اور امریکہ کی جانب بڑھتی ہوئی تیل، گیس کی قلت اور بے تحاشہ قیمتوں نے عالمی معیشت کو زخم خوردہ کر دیا ہے۔
اس کے نتیجے میں بلند تر توانائی اور کھاد کی قیمتوں اور ان کی قلت کا پوری دنیا پر قابل ذکر سیاسی اثر پڑ رہا ہے۔ ٹرمپ کی انتخابی مہم کا ایک کلیدی وعدہ افراط زر میں نمایاں کمی اور ”لامتناہی جنگوں“ کا مکمل خاتمہ تھا۔ ایران جنگ نے امریکہ میں اس سال نومبر میں منعقد ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے پہلے اس کی حمایت پر کاری ضرب لگائی ہے۔ اس کے ساتھ MAGA تحریک میں دیوہیکل دراڑیں پڑ چکی ہیں۔ یہ جنگ امریکہ میں کبھی بھی مقبول نہیں تھی۔ لیکن اب صرف 24 فیصد امریکی عوام کا خیال ہے کہ ایران جنگ ”ضروری تھی“۔
کوئی آپشن اچھا نہیں
ان تین عناصر کا مجموعہ؛ عسکری طریقہ کار سے جنگی اہداف کا حصول، عالمی معیشت پر اثرات اور اندرون اور بیرون ملک سیاسی اثرات، ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے وبال جان بن چکا ہے کیونکہ اب وہ جو قدم اٹھاتا ہے وہ غلط ہوتا ہے۔
اگر وہ شکست تسلیم کرتے ہوئے کسی ہدف کو حاصل کیے بغیر پسپائی اختیار کرتا ہے تو یہ ایک شرمناک شکست ہو گی۔ یہ ایک ایسی صورتحال ہے جو اسے کسی صورت قبول نہیں کیونکہ وہ ایک پاگل نرگسیت زدہ جاہ پرست ہے۔ لیکن اس کے ساتھ اس قدم کی اتنی بڑی سیاسی قیمت ہے کہ وہ اس کا بوجھ نہیں اٹھا سکتا۔ یہ بھی قابل ذکر ہے کہ امریکی حکمران طبقہ کے دونوں دھڑے، قدامت پرست اور لبرل، یہ سمجھتے ہیں کہ امریکہ دنیا کا سب سے بڑا اور قادر و مطلق سامراج ہے جس کا ہر اشارہ فوری تکمیل کا حکم ہے۔ وہ کوئی ایسی صورتحال سوچنے سے ہی عاری ہیں جس میں وہ فاتح نہیں ہیں، جس میں انہیں اپنی ہی شکست کے لیے مذاکرات کرنے پڑیں، کم از کم موجودہ صورتحال میں تو یہ خیال ہی ناممکن ہے۔
اس کے علاوہ ایک ہی آپشن بچا ہے کہ جنگی شدت میں اضافہ کیا جائے۔ واضح طور پر موجودہ دو ہفتے کی جنگ بندی سے پہلے کئی ہفتوں اس معاملے پر بحث مباحثہ رہا ہے۔ ایسی باتیں منظر عام پر آتی رہیں کہ جزیرہ کھرگ پر فوج اتاری جائے گی یا آبنائے ہرمز کے شمالی ساحل کے ساتھ موجود کئی چھوٹے جزیروں پر قبضہ کر لیا جائے گا۔ ایک منصوبہ یہ بھی تھا کہ اسپیشل آپریشنز کے ماہر فوجیوں کو ایران میں اتار کر افزودہ یورینیم کو قبضے میں لے لیا جائے جو اس وقت زمین کی انجانی گہرائیوں میں دفن ہے۔
فی الحال یہ تمام آپشن مسترد ہو چکے ہیں۔ عسکری حکمت کاروں نے ٹرمپ کو بتایا ہو گا کہ شدید خطرات موجود ہیں اور امریکی افواج کو ناقابل برداشت اموات کا سامنا ہے۔ اگر امریکی عسکری برتری کی بنیاد پر ایک یا کئی جزیروں پر قبضہ ہو بھی جاتا ہے تو وہ ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کی موجودگی میں شکار کے لیے تیار مرغابیاں ہوں گے جس کا نتیجہ بہت بھیانک ہو گا۔

ان تین عناصر کا مجموعہ؛ عسکری طریقہ کار سے جنگی اہداف کا حصول، عالمی معیشت پر اثرات اور اندرون اور بیرون ملک سیاسی اثرات، ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے وبال جان بن چکا ہے کیونکہ اب وہ جو قدم اٹھاتا ہے وہ غلط ہوتا ہے۔
پھر ایران نے ایک F-15 لڑاکا طیارہ بھی تباہ کیا تھا جس کے دو پائلٹوں کو بچانے کے آپریشن نے بھی بہت ساری وضاحت کر دی ہو گی۔ ہمیں بتایا جا رہا ہے کہ آپریشن کے اختتام پر دونوں ہوا بازوں کو باحفاظت بازیاب کرا لیا گیا تھا۔ لیکن اس عمل میں، ایک ویک اینڈ کے دوران، امریکہ کو 12 ہوائی جہازوں سے ہاتھ دھونے پڑے۔
ایرانی قیاس آرائی کر رہے ہیں کہ کہیں اصل مقصد اس ریسکیو آپریشن کی آڑ میں نزدیک اصفہان میں موجود افزودہ یورینیم ہتھیانا تو نہیں تھا۔ امریکیوں نے ایک چھوٹے ایئر فیلڈ پر قبضہ کر لیا تھا اور کئی سو فوجی استعمال کیے تھے۔ کیا اس کا مقصد دوسرے ہوا باز کی بازیابی تھا یا اس آپریشن کے مزید کوئی مقاصد بھی تھے، اس حوالے سے شاید کبھی کوئی وضاحت سامنے نہ آئے۔
ایک معاملہ واضح ہے کہ اس آپریشن کے دوران کئی سو ملین ڈالر مالیت کے جہازوں کی تباہی و بربادی نے واشنگٹن میں شدید ترین جنگی جنون کی طبیعت بھی صاف کر دی ہو گی۔ کم از کم فی الحال تو یہی صورتحال ہے۔
انہوں نے ”ایران کو بمباری کر کے پتھر دھات کے زمانہ میں پہنچا دو“ کے خیال کو سویلین انفراسٹرکچر (پل، تیل کے ذخائر، پانی کے صفائی پلانٹ) پر دیوہیکل بمباری کر کے ترویج دینے کی کوشش کی ہے۔ یہ راستہ بھی ترک کر دیا گیا کیونکہ ایران نے ثابت کر دیا کہ وہ بھی جوابی کاروائی کرتے ہوئے خلیجی ممالک کی انہی تنصیبات کو تباہ و برباد کرنے کی پوری اہلیت رکھتا ہے۔
واشنگٹن نے پوری کوشش کی کہ کسی طرح بہلا پھسلا کر یورپی قوتوں کو بھی آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے عسکری طاقت کے استعمال پر آمادہ کر لیا جائے۔ یہاں بھی منہ کی کھانی پڑی۔ جرمنی اور فرانس کا کوئی پروگرام نہیں تھا کہ اس خود کش مشن کے لیے تیار ہوں اور وہ بھی خاص طور پر ایک ایسے ”اتحادی“ کے لیے جو چند مہینوں پہلے گرین لینڈ پر قبضہ کرنے کی دھمکیاں دیتے ہوئے انہیں شدید ذلیل کر رہا تھا۔ یہاں تک کہ عام طور پر شدید چاپلوس برطانوی وزیراعظم نے بھی کوئی ہاتھ نہیں پکڑایا۔
مذاکرات
موجودہ جنگ بندی اور اسلام آباد میں مذاکرات کے پہلے دور کی ناکامی کا پس منظر یہ ہے۔ جب ٹرمپ نے انتہائی پاگل پن میں ایرانی تہذیب کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی دھمکی دی تھی تو یقینا اس دوران پس پردہ مذاکرات کے آغاز کے لیے ہیجانی کوششیں جاری تھیں اور یہ دھمکیاں ایک بیانیہ تھیں کہ ”میری دھمکیوں سے ایرانی مذاکرات کرنے پر مجبور ہوئے ہیں“۔
سچ بہت کڑوا ہے اور اس کی مثال ایران کے مذاکرات کے لیے پیش کردہ مجوزہ دس نکات ہیں جنہیں ٹرمپ نے قبول کر لیا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ اس نے سوشل میڈیا پر اعلان کرنے سے پہلے ان دس نکات کو پڑھنے کی زحمت بھی نہ کی ہو۔ یہ جنگ بندی حاصل کرنے کے لیے ہیجان کا اظہار ہے، وہ بھی ایک ایسے وقت میں جب عسکری مہم شدید ناکام ثابت ہو رہی تھی۔
توقعات کے مطابق مذاکرات تقریباً 20 گھنٹوں کی مسلسل گرما گرم بحث مباحثے کے بعد ناکام ہو گئے۔ ایران کے دس نکات اور امریکہ کے پندرہ نکات میں کوئی ایک چیز مشترک نہیں ہے کیونکہ امریکی دستاویز میں سیدھا ایرانی غلامی کا مطالبہ ہے۔ امریکی سامراج میدان جنگ میں رسوا ہو رہا ہے لیکن مذاکرات کی میز پر بیٹھا ڈرامہ کر رہا ہے کہ وہ اپنے تمام اہداف حاصل کر چکا ہے۔
ٹرمپ کو جے ڈی وینس کو اسلام آباد بھیجنا پڑا اور یہ معنی خیز ہے۔ یہ ٹرمپ حکومت میں واحد شخص ہے جو جنگ پر کبھی متفق نہیں تھا اور جب سے جنگ شروع ہوئی ہے، یہ خاموشی سے کنارے پر بیٹھا ہے۔ ایرانیوں نے اشارہ دیا تھا کہ وہ ویٹکوف اور کشنر کو مسخرہ سمجھتے ہیں کیونکہ امریکی جارحیت سے پہلے ان کی کارکردگی سب کے سامنے موجود ہے، ایرانی ٹھیک کہہ رہے ہیں۔
واضح طور پر نتن یاہو جنگ بندی یا مذاکرات سے خوش نہیں ہے۔ یہ رپورٹ بھی موجود ہے کہ اسلام آباد مذاکرات کے دوران وینس مسلسل ٹرمپ اور نتن یاہو، دونوں کے ساتھ رابطے میں تھا۔ یقیناً نتن یاہو نے بے پناہ دباؤ ڈالا ہو گا کہ کسی طرح سے یہ مذاکرات ناکام ہو جائیں۔
جس دن جنگ بندی شروع ہوئی اس دن اسرائیل نے دس منٹ میں لبنان پر 160 بم گرائے۔ یقیناً یہ بھرپور کوشش تھی کہ جنگ بندی شروع ہونے سے پہلے ہی ناکام ہو جائے۔ لیکن فی الحال اسے ناکامی ہوئی ہے کیونکہ ایرانی جنگ بندی پر قائم ہیں اگرچہ اسرائیل اس وقت لبنان پر مسلسل بمباری کر رہا ہے۔
ٹرمپ نے ناکہ بندی شروع کر دی
اگرچہ اسلام آباد میں براہ راست مذاکرات ناکام ہوئے ہیں لیکن پس پردہ پیغام رسانی ابھی بھی جاری ہے۔ ٹرمپ کا پاگل پن پر مبنی نیا منصوبہ یہ ہے کہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کی جائے تاکہ ایران اسے کھولنے پر مجبور ہو جائے! واجبی طور پر بھی یہ خیال انتہائی مضحکہ خیز ہے۔ ٹرمپ کی مجبوراً پسپائی کی ایک بنیادی وجہ آبنائے ہرمز کی بندش کے نتیجے میں عالمی معیشت کو پہنچنے والا شدید نقصان اور توانائی کی قیمتوں کی اڑان ہے۔ وہ اس میں اضافہ کیوں کرنا چاہتا ہے؟
ایک ایسی صورتحال بن رہی تھی کہ ایران گزرگاہ کو مرحلہ وار اپنے کنٹرول میں کھول رہا تھا اور ساتھ ٹال محصول حاصل کر رہا تھا، 2 ملین ڈالر فی بحری جہاز۔ کچھ ممالک کے ساتھ معاہدے ہو چکے تھے اور کئی ممالک جیسے انڈیا، چین وغیرہ کے ساتھ معاہدے مکمل ہونے کے قریب تھے۔ ظاہر ہے ایران حملہ آوروں اور ان کے اتحادیوں کو باور کرا رہا تھا کہ تمہیں یہاں سے گزرنے کی اجازت نہیں ہے لیکن دیگر کو ایرانی کنٹرول کے تحت ایک مخصوص فیس کی ادائیگی کے نتیجے میں آزادانہ گزرنے کی اجازت ہے۔ پھر یہ فیس چینی یوان میں ادا کی جا رہی تھی۔
ٹرمپ سوچ رہا ہے کہ اگر وہ آبنائے ہرمز پر ایرانی کنٹرول کا مقابلہ کرتا ہے تو ایران مذاکرات میں اپنے مطالبات سے پیچھے ہٹنے پر مجبور ہو جائے گا یا پھر چین اس پر دباؤ ڈالنے پر مجبور ہو جائے گا۔
ٹرمپ نے جنگ کے آغاز میں ایران پر امریکی پابندیاں ختم کی تھیں [تیل کی ترسیل اور فروخت سے متعلق۔ مترجم] تاکہ عالمی سپلائی میں اضافہ ہو اور قیمتوں میں کمی ہو۔ اب یہی شخص ان پابندیوں کو دوبارہ بحال کر چکا ہے۔ چین ایران کا سب سے بڑا گاہک ہے اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس ناکہ بندی کا کلیدی ہدف ہے۔ اس دوران چند دن پہلے روسی تیل پر پابندیوں کے حوالے سے چھوٹ بھی ختم ہو چکی ہے، یعنی اب یہ پابندیاں بھی بحال ہو جائیں گی۔
زیادہ امکانات یہی ہیں کہ یہ ہیجانی امریکی اقدامات نتیجہ خیز نہیں ہوں گے۔ روس پر پابندیاں پہلے ہی ناکام ہو چکی ہیں اور اگر امریکی چینی تیل روکتے ہیں تو وہ ایک مرتبہ پھر نایاب دھاتوں کی ترسیل روک دیں گے۔ یہ سب ایک ایسے وقت میں ہو گا جب امریکہ میں ہتھیاروں کا ذخیرہ بحال کرنے کے لیے ان دھاتوں کی مانگ عروج پر ہے۔
اگرچہ امریکی ناکہ بندی زیادہ تر کامیاب رہی ہے لیکن خبریں ہیں کہ یہ کامل نہیں ہے کیونکہ کئی بحری جہاز چوری چھپے نکل گئے ہیں۔ نظر یہی آ رہا ہے کہ عالمی معیشت پر پڑنے والے اثرات کے نتیجے میں پیدا ہونے والی تکلیف سے ٹرمپ اور امریکہ ایران سے پہلے پسپا ہو جائیں گے۔
اس دوران ایران کے پاس امریکہ کو تکلیف دینے کے لیے ابھی بھی ایسے اوزار موجود ہیں جو ایران نے استعمال نہیں کیے ہیں۔ مثلاً اگر یمن میں حوثی اس جنگ میں شریک ہو جاتے ہیں تو وہ بحر احمر میں داخلے کی گزرگاہ آبنائے باب مندب (Bab-el-Manded Strait) کو بند کر سکتے ہیں جو عالمی معیشت کا گلا گھوٹنے کا ایک اور اہم ذریعہ ہے۔
آگے کیا ہو گا؟
اس وقت امریکہ خطے میں مزید افواج تعینات کر رہا ہے جن میں 6 ہزار فوجی ایئر کرافٹ کیریئر یو ایس ایس جارج بش اور اس کے اسٹرائیک گروپ میں ہیں اور 4 ہزار 200 باکسر ایمفیبیس ریڈی گروپ اور گیارہویں میرین ایکسپیڈیشنری یونٹ میں ہیں۔ یہ قابل ذکر ہے کہ یو ایس ایس بش کو سیوز کنال، جہاں حوثی اس پر ممکنہ حملہ کر سکتے ہیں، کی بجائے افریقہ کے گرد سے لمبا چکر لگوا کر تعینات کیا جا رہا ہے۔ ان اضافی افواج کی موجودگی میں بھی امریکہ کے پاس اتنی فوج موجود ہی نہیں ہے کہ ایک ٹھوس زمینی آپریشن لانچ کیا جا سکے۔
جلد یا بدیر یہ جنگ کسی معاہدے پر ہی ختم ہو گی، چاہے وہ دستخط شدہ معاہدہ ہو یا حقیقت کی بنیاد پر کوئی سمجھوتہ ہو۔
بہرحال یہ واضح ہو رہا ہے کہ نتیجہ جو بھی ہو گا، امریکہ سے زیادہ ایران کے مفاد میں ہو گا۔ جنگ سے پہلے ایران نے انتہائی مناسب تجاویز مذاکرات کے لیے پیش کی تھیں لیکن اب انہیں واپس لے لیا گیا ہے۔
ٹرمپ کی اس پہلی جنگ کے دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔ یہ ٹرمپ کے لیے ایک دیوہیکل شکست ہے جو عالمی سطح پر امریکی سامراج کی ساکھ اور اندرون ملک ٹرمپ کی سیاسی حیثیت کو شدید کمزور کرے گی۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اپنی سوشل میڈیا پوسٹوں پر زیادہ سے زیادہ پرانتشار، پریشان اور شدید غصے میں نظر آ رہا ہے، ہر روز کبھی MAGA کے بااثر افراد، کبھی پوپ، کبھی کسی اور پر مسلسل گرج برس۔
ٹرمپ کی نفسیاتی صحت کے حوالے سے بہت چہ مگوئیاں ہو رہی ہیں۔ لیکن ہمیں واضح ہونا چاہیے کہ ٹرمپ بے شک پاگل ہو گا لیکن وہ غیر معمول کے برعکس ایک علامت ہے، ایک بحران زدہ اور تاریخی انحطاط کے شکار نظام کا شدید اور متشدد اظہار۔ اس کی ذات یقیناً بحران کو گھمبیر کرتے ہوئے اس میں انتشار کا اضافہ کرتی ہے لیکن یہ بحران کی بنیاد نہیں ہے۔
ایران میں شکست کے فوری بعد ٹرمپ انتظامیہ ایک نئی جنگی مہم جوئی کھول سکتی ہے جہاں اسے یقین ہو کہ وسط مدتی انتخابات سے پہلے فوری فتح کے نتیجے میں عوام مشرق وسطیٰ کی شرمناک ہزیمت بھول جائیں گے۔ اس فہرست میں کیوبا سرفہرست ہے۔ یہ ایک اور دیوہیکل جوا ہے جس کی کوئی ضمانت نہیں کہ نتائج امریکی سامراج کے لیے سود مند ہوں گے۔
اس جنگ میں امریکہ کی شرمناک شکست کا مطلب ایران کی فتح ہے۔ اس کے نتیجے میں خطے میں اس کی حیثیت بحال ہو گی جو شام میں شکست کے بعد بہت زیادہ مجروح ہو چکی تھی۔
اس جنگ کے اختتام پر خطے میں اسرائیل کے عزائم کو بھی کاری ضرب لگے گی اور ہو سکتا ہے کہ اس کے ساتھ نتن یاہو کی سیاست کا بھی خاتمہ ہو جائے۔ پچھلی مرتبہ لبنان میں وہ اپنے اہداف حاصل نہیں کر سکا تھا اور اس مرتبہ بھی ایسے ہی ہوا ہے۔ اگر اسے اس جنگ کو ختم کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے تو وہ فلسطینیوں کے خلاف ایک نئی نسل کش جنگ کا آغاز کر سکتا ہے جس میں مغربی کنارے پر سرکاری قبضہ بھی شامل ہو سکتا ہے۔ وہ جو بھی کر لے، خطے میں قوتوں کے نئے توازن میں اسرائیل مزید کمزور ہو گا اور نتیجتاً اسرائیلی سماج میں موجود شدید تضادات اور زیادہ شدت کے ساتھ سطح پر اپنا اظہار کریں گے۔
پوری دنیا میں اسرائیل، اقوام اور پھر حکومتوں کی نظروں میں رسواء ہو چکا ہے۔ امریکہ میں 50 سال سے کم عمر مردوں میں اسرائیل کی مقبولیت 2022ء میں منفی 3 تھی جو 2024ء میں منفی 22 تک گر گئی اور اب حیران کن طور پر منفی 47 پر کھڑی ہے۔
خلیجی ممالک بھی غور و فکر کر رہے ہیں کہ اب کیا کرنا ہے کیونکہ امریکی اتحادی انہیں بہت مہنگا ثابت ہوا ہے۔ وہ روس اور چین سے تعلقات کو بڑھا رہے ہیں اور ایران کے ساتھ تعلقات کا از سر نو جائزہ اب مجبوری بن چکی ہے۔
اس کے نتیجے میں پوری دنیا میں روس اور چین کی ساکھ اور ایران کے ساتھ تعاون میں مزید اضافہ ہو گا۔ امریکی شکست کے نتیجے میں ممالک اس سے دور ہو کر اس کے حریفوں سے ہاتھ ملائیں گے۔ اس کے ابتدائی اشاریے ہسپانوی وزیراعظم کا دورہ چین، جنوبی کوریا کا اسرائیل کے حوالے سے شدید مذمتی بیان اور تائیوانی قائد حزب اختلاف کی چین میں آمد ہیں۔
اس جنگ نے امریکہ اور یورپ کے درمیان اختلافات میں معیاری اضافہ کیا ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے یورپی قائدین کا اب موڈ بن گیا ہے کہ ٹرمپ کے سامنے جھکنا نہیں ہے۔ ان سے جنگ کے حوالے سے کوئی صلح مشورہ نہیں کیا گیا۔ مختلف طریقوں سے انہوں نے براہ راست جنگ میں شامل ہونے سے انکار کیا اگرچہ کچھ نے اہم لاجسٹک مدد بھی کی۔ اب جب ٹرمپ کمزور ہو گیا ہے تو ان میں عزت نفس کے کچھ آثار بھی نظر آ رہے ہیں۔
یورپ اپنی راہ کتنی آزادانہ اور امریکی مخالفت میں استوار کر سکتا ہے، اس کی اپنی حدود موجود ہیں۔ سب سے پہلا مسئلہ یہ ہے کہ یورپی سرمایہ دارانہ قوتوں کے طویل بحران نے ان کی معیشتوں میں وہ طاقت ہی نہیں چھوڑی ہے کہ وہ آزاد حیثیت میں کچھ کر سکیں۔ برآمدات، درآمدات (اس میں ڈیٹا سنٹر اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس شامل ہیں)، سرمایہ منڈیاں اور عسکری ساز و سامان اور انٹیلی جنس؛ غرضیکہ ہر حوالے سے یورپ امریکہ سے منسلک ہے اور اس لیے اس پر منحصر بھی ہے۔
یورپی سرمایہ دار ممالک کی از سر نو مسلح ہونے کی کوششیں، بحر اوقیانوس پار دہائیوں پرانے سنیئر پارٹنر کی بے رخی اور اپنے براعظم پر ایک طاقتور فاتح روس کے ابھار کے نتیجے میں ناگزیر طور پر طبقاتی جدوجہد کو نئی مہمیز فراہم کریں گی۔ معاشی بحران کے دور میں عسکری اخراجات میں اضافے کا مطلب پینشن، صحت، تعلیم وغیرہ میں دیوہیکل کٹوتیاں ہیں جس کے نتیجے میں انتہائی طاقتور طبقاتی جنگیں جنم لیں گی۔
اس وقت برطانیہ کی سب سے مخدوش حالت ہے۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد یہ امریکہ کا جونیئر اور غلام بن گیا جس کا ایک ہی کردار تھا کہ وہ یورپ میں واشنگٹن کے مفادات کا تحفظ کرے گا۔ اب امریکہ اور یورپ مسلسل ایک دوسرے سے دور ہو رہے ہیں اور برطانیہ کو اپنے سامنے ایک اندھی کھائی نظر آ رہی ہے۔ برطانوی حکمران طبقے کی قابل ذکر پرتیں، وہ بھی جو چند مہینوں پہلے ٹرمپ کی جانب پر امید نگاہوں سے دیکھ رہے تھے، اب کہہ رہی ہیں کہ برطانیہ کے سامنے ایک ہی راستہ رہ گیا ہے کہ وہ واپس یورپی یونین کی جانب رجوع کرے۔
ایران میں ٹرمپ کی شکست کے نتیجے میں پورے یورپ اور دنیا میں دائیں بازو کی قوتیں کمزور ہوں گی جنہیں پچھلے دور میں ہمت و حوصلہ ملا تھا۔ ہنگری میں اوربان (Orban) کو شکست ہو چکی ہے۔ برطانیہ میں ریفارم پارٹی کی مقبولیت 30 فیصد تھی اور اب اس میں 5 فیصد کمی واقع ہو چکی ہے۔
لیکن ان کے ابھار کی بنیاد، لبرل اسٹیبلشمنٹ کا تاریخی بحران، لیفٹ سیاست میں ایک سنجیدہ متبادل کی کمی، محنت کش طبقے کی پرتوں میں مجتمع شدہ غم و غصہ، ٹرمپ نہیں تھا اور اس کے خاتمے کے ساتھ یہ ختم نہیں ہو جائے گی۔ ان رائٹ ونگ پاپولسٹ پارٹیوں اور افراد کو ٹرمپ کی حمایت کا از سر نو جائزہ لینا ہو گا اور ان کا مستقبل میں طریقہ کار زیادہ قوم پرستانہ ہو گا لیکن امریکہ کی طرح ایک مرتبہ برسر اقتدار ہو کر ناکام ہونے کے بعد ان کی ساکھ بھی ختم ہو جائے گی۔
سب سے اہم نکتہ یہ ہے کہ اگر آج ایران کا بحران حل ہو جاتا ہے، جس کے امکانات بہت کم ہیں، تو بھی معاشی اثرات طویل مدتی ہوں گے۔
آبنائے ہرمز کی بندش کا اثر اور عالمی منڈی سے کروڑوں بیرل تیل اور گیس کی قلت کے اثرات اب ایشیاء میں اپنا بھرپور اظہار کر رہے ہیں۔ چند ہفتوں میں یہ اثرات یورپ اور امریکہ میں بھی اپنا بھرپور اظہار کریں گے۔ کم از کم اس سال توانائی کی قیمتیں بے تحاشہ بڑھی رہیں گی۔ دسمبر میں برینٹ تیل ترسیل کے لیے جو قیمت لگائی گئی ہے وہ 80 ڈالر ہے جو جنگ سے پہلے کے مقابلے میں 15 ڈالر زیادہ ہے۔
فی الحال وثوق سے نہیں کہا جا سکتا کہ کیا یہ ایک دھچکا ہی عالمی معیشت کو کساد بازاری میں دھکیلے کے لیے کافی ہو گا۔ لیکن پیٹرول پمپوں پر بڑھی قیمتوں کے سیاسی اثرات ابھی سے رونما ہو رہے ہیں جس میں امریکہ میں ٹرمپ پر عوامی غصہ سے لے کر آئرلینڈ میں مال برداروں اور کسانوں کی بندشیں شامل ہیں۔
ٹرمپ نے وینزویلا میں فوری فتح کے بعد نشے میں دھت ہو کر ایک دیوہیکل جوا کھیلا جس میں نتن یاہو کی فوری، تین دنوں میں تاریخ ساز فتح کی ضمانت پر اندھا اعتماد بھی شامل تھا۔ بادی النظر میں اس تاریخی لمحے کو وہ نکتہ آغاز قرار دیا جائے گا جب ٹرمپ صدارت کی تباہی و بربادی کے آغاز کے ساتھ امریکی سامراج کے انحطاط میں ایک نئے مرحلے کا آغاز ہوا تھا۔

















In defence of Marxism!
Marxist Archives
Progressive Youth Alliance