ایران جنگ بندی اور ٹرمپ کی ذلت آمیز پسپائی

|تحریر: ویکٹر میوری ویڈسو، ترجمہ: عبدالحئی|

”اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ سو فیصد مکمل اور بھرپور فتح ہے۔“ ان الفاظ کے ساتھ ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ رات ایران کے ساتھ کیے گئے دو ہفتوں کے جنگ بندی کے معاہدے کو بیان کیا۔

یہ مضمون امریکہ اور ایران کے جنگ بندی کے مذاکرات کے پہلے 8 اپریل کو ہماری انٹرنیشنل ویب سائٹ marxist.com پہ لگا تھا۔ انگریزی زبان میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

اس سے صرف چند گھنٹے پہلے ہی ٹرمپ نے دھمکی دی تھی کہ ”ایک پوری تہذیب ختم ہو جائے گی“ جس پر امریکہ کے اتحادیوں کی جانب سے تنقید کا ایک لفظ بھی سامنے نہیں آیا۔ لیکن اپنی ہی مقرر کردہ ڈیڈ لائن ختم ہونے سے کچھ دیر پہلے ٹرمپ پوری دنیا کی نظروں کے سامنے پیچھے ہٹا۔ اب اس نے آخرکار پاکستان کی ثالثی میں پیش کیے گئے ایرانی دس نکاتی منصوبے کی بنیاد پر بات چیت پر رضامندی ظاہر کی ہے جو دشمنیوں کے مستقل خاتمے کی جانب پہلا قدم ہے۔

اگر آپ وائٹ ہاؤس کی سنیں تو جنگ بندی اس بات کا نتیجہ ہے کہ امریکہ نے اپنے تمام فوجی مقاصد کو حاصل کر لیا ہے بلکہ ان سے بھی آگے بڑھ گیا ہے۔ ٹرمپ اب یہ دعویٰ کر رہا ہے کہ ایک سنہرا دور مشرقِ وسطیٰ کا منتظر ہے۔ امریکی ترجمان کیرولائن لیویٹ (Karoline Leavitt) نے جھوٹ کا سہارا لیتے ہوئے یہ بات کی کہ ”ہمارے جنگجوؤں کی ناقابلِ یقین صلاحیتوں“ اور صدر ٹرمپ کی وجہ سے آبنائے ہرمز دوبارہ کھول دیا گیا ہے جو بظاہر اس جنگ کا بڑا انعام تھا، اس حقیقت کو نظرانداز کرتے ہوئے کہ 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملے سے پہلے یہ کھلی ہوئی تھی۔

جنگ بندی نہایت نازک ہے اور کسی بھی لمحے ٹوٹ سکتی ہے۔ یہ برقرار رہے یا نہ رہے لیکن یہ امریکہ اور خود ٹرمپ کے لیے ایک سنگین شکست ہے۔

اس جنگ کے گزشتہ ایک ماہ نے ٹرمپ کی بحری سفارت کاری کی حدود اور مجموعی طور پر امریکی سامراج کی محدودیت دونوں کو بے نقاب کر دیا ہے۔ اس جنگ نے عالمی معیشت کو شدید نقصان پہنچایا ہے اور منظم طور پر امریکہ کے اتحادیوں کو دور کر دیا ہے، ٹرمپ کی حمایتی بنیاد تقسیم ہو چکی ہے اور اب مشرقِ وسطیٰ میں امریکی اثر و رسوخ کے مستقبل پر ایک سوالیہ نشان منڈلا رہا ہے۔

معاہدے کا فن؟

ایرانی سرکاری میڈیا کی جانب سے شائع کیے گئے منصوبے کے اصل نکات پر نظر ڈالنے کے بعد ٹرمپ کے فاتحانہ بیانات سے بالکل مختلف تصویر سامنے آتی ہے۔ کمزوری کی پوزیشن سے امریکہ کے سامنے جھکنے کی بجائے ایران نے کم از کم کاغذی طور پر ایسی رعایتیں حاصل کر لی ہیں جنہیں جنگ شروع ہونے سے پہلے امریکہ کبھی دینے کا تصور بھی نہیں کر سکتا تھا۔

معاہدہ صرف ایران ہی نہیں بلکہ عراق، لبنان اور یمن میں بھی دشمنیوں کے مکمل اور مستقل خاتمے کا تقاضا کرتا ہے جس کا مطلب ہے کہ امریکہ کو نہ صرف اپنے عزائم بلکہ اسرائیل کے عزائم کو بھی محدود کرنا ہو گا۔ کسی بھی خلاف ورزی کی صورت میں ایران کو حملے دوبارہ شروع کرنے کا جائز جواز مل جائے گا، خواہ نیتن یاہو ایران کو نشانہ بنائے یا اس کے اتحادیوں کو۔ آبنائے ہرمز کو ایک متفقہ ’نیویگیشن سیکیورٹی پروٹوکول‘ کے تحت چلایا جائے گا، جس میں ایران عملاً ٹول وصول کرنے کا کردار ادا کرے گا اور محفوظ گزرگاہ کے بدلے معقول معاوضہ طلب کرے گا۔

معاہدہ صرف ایران ہی نہیں بلکہ عراق، لبنان اور یمن میں بھی دشمنیوں کے مکمل اور مستقل خاتمے کا تقاضا کرتا ہے۔

اقتصادی محاذ پر امریکہ کو ایران کو تعمیر نو کے تمام اخراجات کی مکمل ادائیگی کرنی ہو گی، تمام پابندیاں ختم کرنی ہوں گی اور ایران کے تمام منجمد اثاثے جاری کرنے ہوں گے۔ اس کے بدلے میں ایران صرف یہ وعدہ کرتا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرے گا جو وہ قبل از جنگ بھی کئی بار مان چکا ہے۔

ایران کے لیے فتح ہمیشہ صرف بقا کے طور پر ہی متعین ہوتی رہی ہے۔ بقا کے ذریعے اس نے امریکی فوجی حکمتِ عملی کی حدود کو بے نقاب کیا ہے یہ دکھاتے ہوئے کہ اسے غیر متناسب جنگی حکمتِ عملی اور اہم جغرافیائی اسٹریٹیجک گزرگاہوں کے کنٹرول کے ذریعے چیلنج کیا جا سکتا ہے۔ ایران کی میزائل اور ڈرون مہم نے کم از کم 11 امریکی اڈوں کو نقصان پہنچایا ہے جس کے نتیجے میں وہاں سے فوجی اہلکاروں کا انخلا کرنا پڑا تھا اور اسی طرح پورے خطے میں بے شمار توانائی کے تنصیبات متاثر ہوئیں۔ ساتھ ہی آبنائے ہرمز کو بند کر کے ایران نے عالمی معیشت کی توانائی کے کمزوری سے فائدہ اٹھایا ہے جس میں خود امریکہ بھی شامل ہے، جہاں فروری کے بعد اوسط پیٹرول کی قیمتیں 45 فیصد بڑھ گئی ہیں۔

ٹرمپ کی مسلسل پالیسی تبدیلیوں اور جنگی اہداف میں رد و بدل اور بار بار جلد فتح کے دعوے کرنے اور پھر تنازع کو مزید بڑھانے کے درمیان جھولنے نے اس کی پہلے ہی کمزور ہوتی ہوئی مقبولیت کو بڑا نقصان پہنچایا ہے۔ اس کی MAGA تحریک میں بھی دراڑ پڑ گئی ہے، اور اس کے پہلے چاہنے والے اب اس کے مواخذے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

فی الحال ’فتح‘ کا اعلان کر کے جنگ سے نکل جانا اس کے لیے سب سے کم نقصان دہ راستہ ہے۔

ایران کی بڑھتی ہوئی قوت

جبکہ ایران سر بلند ہو کر نکلتا ہے۔ ایران کی قومی سلامتی کونسل کے ایک تفصیلی بیان سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اس کی قیادت اسلام آباد میں مذاکرات کے لیے مضبوط پوزیشن کے ساتھ جا رہی ہے۔ اگر امریکہ 10 نکاتی منصوبے کی کسی بھی شکل کو قبول کر لیتا ہے، تو ایران کو وہ سیاسی اور معاشی گنجائش مل جائے گی جس کی اسے تعمیر نو کے لیے ضرورت ہے۔

اسرائیل میں ٹرمپ کی پسپائی کو پہلے ہی انتہا پسند صہیونیوں کی طرف سے غصے اور گھبراہٹ کے ساتھ دیکھا گیا ہے، جو ایران کے مکمل انہدام کے سوا کچھ نہیں چاہتے۔ یقیناً انہوں نے ٹرمپ کو اس بات پر اکسانے کی کوشش کی ہو گی کہ وہ کل کی نسل کشی کی دھمکیوں پر واقعی عمل کرے۔ لیکن ایران کے مطابق جنگ کا خاتمہ جس کی نمائندگی یہ جنگ بندی کرتی ہے ان کے لیے سب سے بدترین صورتحال ہو گی۔ اس سے ایران پہلے سے زیادہ مضبوط ہو کر نکلے گا اور اسرائیل کے خطے میں غالب طاقت بننے کے امکان کو کمزور کرے گا جس نے ایران کو کمزور کرنے کے لیے امریکہ کو اس تنازع میں گھسیٹا تھا اور یہ امریکہ کو خطے سے پیچھے ہٹنے پر مجبور کرے گا جس سے اسرائیل غیر محفوظ ہو جائے گا اور ایسے وقت میں وہ زندگی اور موت کے خطرے سے دوچار ہو گا جب وہ چھ محاذوں پر جنگ میں مصروف ہے۔

اسرائیلی اپوزیشن لیڈر یائر لیپڈ (Yair Lapid) نے جنگ بندی پر تبصرہ کرتے ہوئے کسی لگی لپٹی کے بغیر کہا:

”ہماری پوری تاریخ میں اس سے بڑا سیاسی سانحہ کبھی نہیں ہوا ہے۔ جب ہمارے قومی سلامتی کے بنیادی معاملات پر فیصلے کیے گئے تو اسرائیل کو میز پر بھی نہیں بٹھایا گیا۔ نیتن یاہو سیاسی اور اسٹریٹجک طور پر ناکام ہوا ہے اور اس نے اپنے مقرر کردہ اہداف میں سے ایک بھی حاصل نہیں کیا ہے۔ ہمیں اس نقصان کی تلافی میں برسوں لگیں گے جو اس نے تکبر غفلت اور اسٹریٹجک منصوبہ بندی کے نہ ہونے کے ذریعے پہنچایا ہے۔“

اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ یہ ایک سخت اور واضح بیان ہے جو اسرائیل کی موجودہ اور اس کی کمزور ہوتی ہوئی پوزیشن کو ظاہر کرتا ہے۔ نہ صرف انہیں ایران کی اس صلاحیت نے حیران کیا ہے کہ وہ اسرائیل بھر میں اہداف کو نشانہ بنا سکتا ہے، بلکہ حزب اللہ دوبارہ ایک مضبوط قوت کے طور پر ابھرا ہے جو حملہ آور اسرائیلی ڈیفنس فورسز (IDF) کو سنگین نقصانات پہنچا رہی ہے۔

نیتن یاہو اپنی پوری طاقت سے امریکہ کو دوبارہ اس تنازع میں گھسیٹنے کی کوشش کرے گا۔ قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ ایران کی 10 نکاتی تجویز میں لبنان کے خلاف اسرائیل کی جنگ کے خاتمے کی شرط بھی شامل ہے لیکن نیتن یاہو نے پہلے ہی اس شق کو مسترد کرتے ہوئے معاہدے کو کمزور کرنے کی کوشش کی ہے اور لبنان پر حملوں کی سب سے بڑی لہر شروع کر دی ہے، جس میں بیروت، بقاع وادی اور جنوبی لبنان میں مبینہ طور پر حزب اللہ کے 100 سے زائد ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ صرف آج صبح بیروت میں 300 افراد ہلاک ہوئے ہیں اور اسپتالوں نے ہنگامی طور پر خون کے عطیات کی اپیل کی ہے۔

جیسا کہ پچھلے سال 12 روزہ جنگ کے اختتام پر ہوا تھا اسرائیل اور ٹرمپ کے مختلف ہوتے ہوئے اہداف ایک بار پھر واضح ہو رہے ہیں۔ اسرائیل کے لیے کوئی بھی ایسا نتیجہ جس میں ایرانی حکومت قائم رہتی ہے ایک فیصلہ کن اور سخت شکست کے مترادف ہے۔

معاشی بحالی

بالآخر جس چیز نے ٹرمپ کا ہاتھ روکے رکھا ہے وہ جنگ کے معاشی نتائج تھے۔ آبنائے ہرمز کی 38 روزہ بندش نے عالمی معیشت میں افراتفری پیدا کر دی ہے جس سے تیل، گیس، کھاد اور تقریباً ہر صنعتی کیمیکل کی قیمتیں بڑھ گئیں ہیں۔ ترقی کی پیشگوئیاں کم ہو گئیں ہیں، مہنگائی میں اضافہ ہوا ہے اور مارکیٹیں شدید اتار چڑھاؤ کا شکار ہو گئیں ہیں۔

عام لوگ پہلے ہی دباؤ محسوس کر رہے ہیں۔ اوپر سے آبنائے ہرمز کی طویل بندش حالات کو مزید خراب کر رہی ہے کیونکہ جب ذخائر ختم ہونے لگتے ہیں تو حقیقی قلت اور مصنوعی مہنگائی شروع ہو جاتی ہے۔ تیل، گیس اور دیگر مصنوعات کی قیمتوں میں شدید اضافہ عالمی معیشت کو اس حد تک خطرے میں ڈال رہا ہے کہ وہ معاشی جمود (Stagflation) یا حتیٰ کہ کساد بازاری (depression) میں داخل ہو جائے گا جس سے صرف چند مہینوں میں معاشی ’بحالی‘ کے کئی سال ضائع ہو جائیں گے۔

اس کو مدنظر رکھتے ہوئے اور درمیانی مدت کے انتخابات قریب آتے دیکھ کر ٹرمپ نے فیصلہ کیا کہ وہ معاملہ ختم کر دے اور نقصان کو کم سے کم کرے۔ ہوسکتا ہے کہ آج مارکیٹوں کا ردعمل خوشگوار ہو لیکن جنگ کے اثرات آنے والے مہینوں بلکہ ممکنہ طور پر سالوں تک محسوس کیے جاتے رہیں گے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ دشمنیاں دوبارہ شروع ہوں۔

جہاز رانی کے تجزیہ کار پہلے ہی کہہ رہے ہیں کہ خلیجِ فارس سے کسی بڑے پیمانے پر انخلاء نہیں ہو گا اور ایک نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ جنگ بندی کے باوجود بھی ”جہازوں کو بنیادی طور پر ایران سے اجازت لینی ہو گی اور اصل بات ہی یہی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ کچھ نہیں بدلا، اجازت نہیں تو گزر نہیں۔“ توانائی کے مراکز اس جنگ کے دوران شدید نقصان کا شکار ہوئے ہیں اور ان کی مکمل مرمت کرنا ابھی انتہائی مشکل ہے۔ کچھ مراکز کے بارے میں توقع ہے کہ ان کی تعمیر نو میں برسوں لگ سکتے ہیں۔

اس لیے یہ کہا جا سکتا ہے کہ عالمی تجارت اور سپلائی چینز کی انتہائی کمزوری بے نقاب ہو گئی ہے جنہیں وہ ممالک بھی استعمال کر سکتے ہیں جو کاغذات پر امریکہ کے مقابلے میں کہیں زیادہ کمزور سمجھے جاتے ہیں۔ جنگ کے دوران آبنائے ہرمز کو معاشی دباؤ کے طور پر استعمال کرتے ہوئے ایران نے مؤثر طور پر امریکہ کے خلاف اقتصادی جنگ کا پلٹا وار کیا ہے اور اس عمل سے فائدہ بھی حاصل کیا ہے۔

امریکی زوال

تمام دعوؤں کے برعکس چند ہی ہفتوں میں ٹرمپ کی ایران کے حوالے سے خارجہ پالیسی کی ناکامی اس کے حافظے کی سب سے بڑی غلطی بن چکی ہے۔ وہ پوزیشن جو امریکہ نے کئی دہائیوں میں مشرقِ وسطیٰ میں قائم کی تھی، خلیجی ممالک میں فوجی اڈوں کے ساتھ جو بظاہر عالمی معیشت کے لیے اہم انفراسٹرکچر کی حفاظت کرتے تھے، وہ ایران کے میزائل ہتھیاروں کے مقابلے میں ناکام ثابت ہوئی ہے۔

اس کے نتیجے میں امریکہ بے نقاب ہو گیا ہے۔ امریکہ کے خلیجی اتحادی جو مکمل طور پر اپنے دفاع کے لیے امریکہ پر انحصار کرتے ہیں، انہیں اپنی حفاظت خود کرنی پڑی تھی جبکہ امریکہ نے اپنی توجہ اسرائیل اور اپنے فوجی اڈوں کے تحفظ پر مرکوز رکھی تھی۔ اس صورتِ حال کو سمجھتے ہوئے، کئی خلیجی ریاستوں نے ٹرمپ پر یہاں تک دباؤ ڈالا کہ وہ جنگ جاری رکھیں تاکہ کام مکمل ہو سکے اور ایران کو ان کے مفادات کے لیے خطرے کے طور پر ختم کیا جا سکے۔ لیکن جنگ بندی کے ساتھ ہی ان کی امیدیں تاحال پوری نہیں ہو سکیں۔

خود ٹرمپ انتظامیہ کے اندر بھی اس بات پر مکمل اتفاق نہیں کہ ایران کے ساتھ تعلقات میں بہتری آگے کا راستہ ہے۔ قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ اسٹیو وٹکوف (Steve Witkoff) جو ٹرمپ کا اہم مذاکرات کار ہے، رپورٹس کے مطابق وہ ”شدید برہم“ ہے اور اس نے 10 نکاتی منصوبے کو ”ایک تباہی اور ایک المیہ“ قرار دیا ہے۔ وہ اب جے ڈی وینس (JD Vance) کے ساتھ اسلام آباد جائیں گے۔

ٹرمپ کا خارجہ پالیسی میں تیز رفتار معاہدوں اور ’سرجیکل‘ فوجی کاروائیوں کے ذریعے زبردستی اپنا راستہ نکالنے کا طریقہ دنیا بھر میں امریکی طاقت کی حقیقی حدود سے ٹکرا رہا ہے۔ ایک پوزیشن سے دوسری پوزیشن کی طرف جھولتے ہوئے وہ چین کی دکان میں بیل کی طرح برتاؤ کر رہا ہے اور اس عمل میں امریکہ اور عالمی معیشت کو غیر مستحکم کر رہا ہے۔

اگرچہ جنگ بندی واقعی برقرار رہتی ہے اور آنے والے ہفتوں میں کسی زیادہ دیرپا معاہدے کی شکل اختیار کرتی ہے یا نہیں، اس کا فیصلہ وقت ہی کرے گا۔ اب بھی بلاشبہ ایک اور 180 درجے کے یو ٹرن کا امکان موجود ہے۔

تنزلی کی جانب رواں دواں

ایران کی جنگ نے پہلے ہی امریکہ میں عوامی شعور پر گہرا اثر ڈالا ہے۔ ایران اب کم از کم عارضی فتح کا دعویٰ کر سکتا ہے، جس کے نتیجے میں حتیٰ کہ ٹرمپ کے سب سے وفادار حامیوں کی جانب سے بھی ایک ناگزیر سوال اٹھ رہا ہے کہ آخر یہ سب کچھ کس مقصد کے لیے حاصل کیا گیا تھا؟

MAGAکیمپ میں ایران کے خلاف جنگ نے شدید غصے کو جنم دیا ہے، جو ٹرمپ کی کسی بھی سابقہ پالیسی جیسا کہ نیکولاس مادورو کے مبینہ اغوا کے خلاف ہونے والے ردعمل سے زیادہ شدید ہے۔ معروف MAGA کے پیروکار جیسے کینڈیس اوونز (Candace Owens)، جو روگن (Joe Rogan) اور ٹکر کارلسن (Tucker Carlson) سب نے عوامی طور پر ٹرمپ کی جنگ میں شمولیت کے خلاف اس کا ساتھ چھوڑ دیا ہے۔ الیکس جونز (Alex Jones) نے کل کہا کہ ٹرمپ واقعی مارول فلم کے کسی جنونی سپر ولن کی طرح لگ رہا ہے۔ یہ وہ نہیں ہے جس کے لیے ہم نے ووٹ دیا تھا۔ تھیو وان (Theo Von) جس نے 2024ء کے انتخابات کے دوران اپنے پوڈکاسٹ میں ٹرمپ کی میزبانی کی تھی، اب اس جنگ میں امریکہ اور اسرائیل کو اصل دہشت گرد قرار دیتا ہے۔

اس دوران ٹرمپ کی چاہنے والوں کی شرح اس کی حلف برداری کے بعد سے کم ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ جنگ کی حمایت بھی مسلسل کم رہی ہے جس میں 60 فیصد سے زائد افراد نے اس جنگ کی مخالفت کی ہے، جبکہ 69 فیصد امریکیوں کا کہنا ہے کہ پیٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتیں ان کے لیے سب سے بڑی تشویش ہیں۔ اسرائیل کے حوالے سے بھی صورتحال یہ ہے کہ نوجوان ریپبلکنز میں سے 57 فیصد جو چند سال پہلے تک اسرائیل کے قابلِ اعتماد حامی سمجھے جاتے تھے اب اس ملک کے بارے میں منفی رائے رکھتے ہیں۔

اس بات کی اہمیت کو کم نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ جیسا کہ ہم نے ٹرمپ کے دوبارہ اقتدار میں آنے سے پہلے نشاندہی کی تھی کہ اس کی سماجی بنیاد متضاد عناصر پر مشتمل ہے۔ محنت کش طبقے کا وہ حصہ جس نے ٹرمپ کو ووٹ دیا تھا اس نے یہ اس لیے نہیں دیا کہ وہ مشرقِ وسطیٰ میں نئی جنگیں شروع کرنا چاہتے تھے، بلکہ اس لیے دیا کہ ٹرمپ نے غیر ملکی جنگوں کے خاتمے اور عام امریکیوں کی زندگی بہتر بنانے کا وعدہ کیا تھا۔

ایران کی جنگ امریکا کے لیے ایک بہت بڑی غلطی ثابت ہوئی ہے۔ چاہے جنگ بندی برقرار رہے یا نہ رہے، 38 دن کی بلا امتیاز بمباری نے امریکی سرمایہ داری اور اس کے نظام کے لیے ایک بھاری قیمت چکائی ہے جسے اب بہت سے لوگ جنگی مجرم ایپسٹین کلاس کے نام سے جانتے ہیں اور وہ عام آبادی میں تیزی سے بے اعتمادی اور حتیٰ کہ نفرت کا شکار ہو رہے ہیں۔

جیسا کہ لینن نے نشاندہی کی تھی، سامراجی جنگ تمام تضادات کو تیز کر دیتی ہے اور شکست اسے مزید بڑھا دیتی ہے۔ مزدور اور نوجوان ان واقعات سے اہم نتائج اخذ کریں گے اور جنگ بندی کو اس کی اصل حقیقت کے طور پر دیکھیں گے۔ وہ نظریاتی استدلال سے نہیں بلکہ امریکہ کے زوال اور ٹرمپ ازم کے بند گلی میں پہنچنے کے تلخ تجربے سے ایک انقلابی راستہ تلاش کرنے کی طرف زیادہ مائل ہوں گے۔

امریکہ میں معیارِ زندگی کو سنگین طور پر نقصان پہنچ رہا ہے اور آنے والے عرصے میں ٹرمپ کو اس شخص کے طور پر نہیں دیکھا جائے گا جس نے محنت کش لوگوں کے مسائل حل کیے، بلکہ اس شخص کے طور پر دیکھا جائے گا جس نے ان مسائل کو مزید بڑھا دیا۔ اس کی تمام شور شرابے والی باتیں اور بلند و بانگ دعوے اپنی اصل حقیقت کے ساتھ سامنے آئیں گے۔ ایک ایسے صدر کی بڑبڑاہٹ جس کے پاس حقیقی مسائل کا کوئی جواب نہیں۔ امریکہ کو دوبارہ عظیم بنانے والے صدر کی بجائے، وہ اس شخص کے طور پر دیکھا جائے گا جس کی حکمرانی میں امریکہ کی طاقت میں مزید شدت کے ساتھ زوال آیا۔

مشرقِ وسطیٰ کے بحران نے یہ سب کچھ بہت واضح طور پر سامنے رکھ دیا ہے اور اس کا لاکھوں لوگوں کے شعور پر گہرا اثر پڑا ہے۔ اور جیسے جیسے ان قوتوں کا اتحاد جو ٹرمپ کو اقتدار میں لے کر آئی تھیں طبقاتی خطوط پر ٹوٹ رہا ہے، آنے والے عرصے کے لیے شدید طبقاتی جدوجہد کا امکان پیدا ہو رہا ہے۔

Comments are closed.